2015

فکری یلغار

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
فکری یلغار
شمس تبریز قاسمی
جنگ و جدال اور قتل وقتال کی تاریخ کا سلسلہ روزاول سے جاری ہے۔ دنیا کی پہلی جنگ دنیاکے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کی دو اولاد ہابیل اور قابیل کے درمیان واقع ہوئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک میدان کارزار مسلسل سر گرم ہے۔دنیاکی مختلف قومیں ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکارہیں۔ اپنی مملکت کے رقبہ کو سعت دینے، دوسروں کی دیناتنگ کرنے ، مذہبی بنیاد پر انسانیت کی ناکہ بندی کرنے کا یہ کھیل آئے دن بڑھتا جارہا ہے۔
دنیا کی ترقی کے ساتھ حقوق انسانی کوپامال کرنے والی یہ جنگیں بھی ہرروز ایک نئی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ عصر حاضر کی سب سے بڑی جنگ اب فکری یلغاربن چکی ہے۔ جسمانی طاقت وقوت ، ہتھیارو کی افزودگی اور ایٹمی توانائی کے فروغ کے ساتھ فکری جنگ بھی اپنے عروج پرہے اور آج کی دنیا میں فکری جنگ لڑنے والے ہی فاتح ہیں۔ جسمانی طاقت و قوت کے سہارے میدان کارزار سجانے والے اوراپنی تلواروں کا جوہر دکھانے والے آج اپنی بے بسی کا رونا رورہے ہیں۔
Read more ...

حرام چیزوں کے انسانی جسم پر اثرات اور شرعی احکامات

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
حرام چیزوں کے انسانی جسم پر
اثرات اور شرعی احکامات
امیر افضل اعوان
نیرنگی گردوں کے باعث جہاں معاشرہ میں اخلاقی اقدار بدلتی جارہی ہیں وہیں معاشرتی انداز و اطوار میں بھی تبدیلی رونماہونے لگی ہے، یہاں تک کہ ہمارے رہن سہن کے ساتھ ساتھ قیام و طعام کے طور طریقے بھی یکسر مختلف شکل میں سامنے آرہے ہیں، کل تک دیسی کھانوں کو مرغوب سمجھا جاتا تھا مگر کچھ عرصہ قبل ملک میں آنے والے برگر کلچر کی بدولت آج حالات مکمل طور پر تبدیل ہوچکے ہیں، بچوں سے بڑوں تک ہر شخص فاسٹ فوڈ کا دلدادہ نظر آتا ہے، اس تبدیلی کے نتیجے میں پیزا، شوارما اور دیگر اشیائے خورونوش نے ماحول کے بعد ذہنوں میں بھی اس قدر جگہ بنالی ہے کہ آج اگر کسی ناسمجھ بچے سے بھی کھانے کی بابت دریافت کیا جائے تو وہ فاسٹ فوڈ آٹیم کا نام ہی لیتا ہے۔
اس بات سے قطع نظر کہ ان بازاری اشیاءکے مضر اثرات کس حد تک ہیں ہم خود اپنے بچوں کو ان اشیاءکی طرف راغب کرتے ہیں جو کہ ہماری صحت اور ایمان کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں،
Read more ...

قرض کی ادائیگی

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
قرض کی ادائیگی
……… طارق نعمان گڑنگی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا جس نے بنی اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار قرض مانگا۔ قرض دینے والے نے کہا کہ پہلے ایسے گواہ لا جن کی گواہی پر مجھے اعتبار ہو۔ قرض مانگنے والے نے کہا کہ گواہ کی حیثیت سے تو بس اللہ تعالی کافی ہے۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا کوئی ضامن (گارنٹی دینے والا)لے آ۔ قرض مانگنے والے نے کہا کہ ضامن کی حیثیت سے بھی بس اللہ تعالی ہی کافی ہے۔ قرض دینے والے نے کہا تم نے سچی بات کہی اور وہ اللہ تعالی کی گواہی اور ضمانت پر تیار ہوگیا، چنانچہ ایک متعین مدت کے لئے انہیں قرض دے دیا۔ یہ صاحب قرض لے کر دریائی سفر پر روانہ ہوئے اور پھر اپنی ضرورت پوری کرکے کسی سواری (کشتی وغیرہ )کی تلاش کی تاکہ اس سے دریا پارکرکے اس متعینہ مدت تک قرض دینے والے کے پاس پہنچ سکیں جو ان سے طے ہوئی تھی،
Read more ...

ایک سے زیادہ شوہروں کی ممانعت کیوں؟

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
ایک سے زیادہ شوہروں کی ممانعت کیوں؟
اہلیہ مفتی شبیر احمد حنفی
اگر اسلام ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دیتا ہے تو وہ ایک عورت کو ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا؟‘‘بہت سے لوگ جن میں بعض مسلمان بھی شامل ہیں اس امر کی دلیل مانگتے ہیں کہ جب ایک مسلمان مرد کو ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت ہے تو یہی ’’حق‘‘ عورت کو کیوں نہیں دیا گیا؟سب سے پہلے میں یہ کہوں گی کہ اسلامی معاشرے کی بنیاد عدل اور مساوات ہے۔ اللہ نے مرد اور عورت کو برابر پیدا کیا ہے لیکن مختلف صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کے ساتھ۔ مرد اور عورت جسمانی اور نفسیاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے کہ ان کے کردار اور ذمہ داریاں بھی مختلف ہیں۔ مرد اور عورت اسلام میں برابر ہیں لیکن ہو بہو ایک جیسے نہیں۔سورۃ نساء کی آیات 22 تا 24 میں ان عورتوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے مسلمان مرد شادیاں نہیں کر سکتے، مزید برآں آخری آیت 24 کے مطابق ان عورتوں سے بھی شادی ممنوع ہے جو’’ شادی شدہ ‘‘ہوں۔ مندرجہ ذیل نکات یہ حقیقت واضح کرتے ہیں
Read more ...

صدیقہ و زہرا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
صدیقہ و زہرا
نصر اللہ ، بلوچستانی
ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا بیٹھیں باتیں کر رہی تھیں ،اگرچہ ماں کا رتبہ بیٹی سے زیادہ ہوتا ہے لیکن چونکہ عمروں میں زیادہ فرق نہ ہونے کی وجہ سے آپس میں محبت پیار اور دل لگی بھی ہوا کرتی تھی، ہنسی مزاح بھی ہوتا تھا۔
ایک دن یوں ہوا کہ خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر مسکرائیں۔ ماں نے پوچھا بیٹی !کیا بات ہے؟سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے دل میں یہ بات آرہی ہے کہ آپ کی والد تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں، جبکہ میرے والد خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بیٹی کی اس بات کو سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نےنبی علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریفیں شروع کردیں۔
Read more ...