تعلیماتِ رحمتِ دو عالم ﷺکےعملی تقاضے

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تعلیماتِ رحمتِ دو عالم ﷺکےعملی تقاضے
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین۔
اے میرے محبوب میں نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
یہ اس رب کا فرمان ہے جو خود رحمان اور رحیم ہے ، رحم و کرم فرماتا بھی ہے، اس کا حکم بھی دیتا ہے ، اور رحم و کرم کرنے والوں سے پیار بھی فرماتا ہے ، انسانیت کو رحم و کرم کرنے کی تلقین کرنے کے لیے نبی وہ بھیجا جو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے، کتاب وہ نازل فرمائی جس میں رحم و کرم کے مبادی اور اساسی اصول جمع ہیں ، آپس میں صلہ رحمی کا حکم دیا۔ جبکہ قطع رحمی کو جرم قرار دیا۔
رب کریم کا انسانیت پر مزید رحمت اور احسان کا یہ معاملہ بھی ہوا کہ رؤف رحیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مومنین میں مبعوث فرمایا۔ جس نے ایک صالح اور پر امن معاشرہ ترتیب دیا ، اور ایسے خطوط مقرر فرمائے کہ تا قیامت اگر انہی خطوط پر چلا جائے تو امن و آشتی اور سکون و راحت ہر شخص کا مقدر بن سکتا ہے۔
صحیح ابن حبان کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: کیا میں تمہیں قیامت کے روز اللہ کے محبوب بندے کی نشانی بتلاؤں جو اس روز میرے بھی بہت قریب ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا : ضرور اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے فرمایا : کہ جو تم میں سے اخلاق حسنہ کا خوگر ہوگا۔ وہ روز قیامت اللہ کا محبوب بندہ ہوگا اور میرے قریب تر ہوگا۔
اخلاق حسنہ اپنانا اس قدر آسان ہے اور اس کے اتنے فوائد ہیں جو بیان سے باہر ہیں : اخلاق حسنہ کی ایک جھلک یوں دیکھی جا سکتی ہے کہ
والدین سے حسن سلوک ، بہن ، بھائی ، بیٹی ، بیوی اور شوہر سے حسن سلوک ، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ، عام انسانوں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا ،کسی کی غلطی پر عفو و درگزر سے کام لینا ،نیک باتوں کی تلقین کرنا اور برے امور سے روکنا ، اپنے آپ کو کسی کے حسد ، کینہ ، بغض ، عداوت ، دشمنی، نفرت وغیرہ سے پاک رکھنا ، اپنی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورتوں کو ترجیح دینا ، ایثار ، ہمدردی اور جانثاری کا جذبہ رکھنا، دل کو غیراللہ کی محبت ، حرص ، ہوس ، لالچ ، طمع ، تکبر ، غرور اور خود پسندی کے امراض سے دور رکھنا ، اپنی زبان کو حرام کھانے اور پینے سے پاک رکھنا ،جھوٹ ، ایذارسانی ، غیبت ، ناحق تہمت ، چغل خوری اور فضول گوئی سے باز رکھنا ،جھوٹی وکالت سے خود کو روکنا ، اپنی آنکھوں کو نامحرم مرد اور عورت کے دیکھنے سے روکے رکھنا ، فحش اور بے ہودہ مناظر سے بچانا، حرام اور ناجائز امور سے اس کی حفاظت کرنا ، اپنے کانوں کو گانا ،موسیقی ، غیبت ،چغلی وغیرہ سننے سے بچائے رکھنا۔ اپنے ہاتھوں سے کسی کو ناحق تکلیف دینا ، مارنا ، لڑائی جھگڑا کرنا ، قتل وغارت گری ، ناحق فیصلے لکھنا ، حرام اور ناجائز امور میں ان کو استعمال کرنے سے رکے رہنا۔ وغیرہ وغیرہ۔
معاشرے کو بدامنی ، انارکی ،سفاکی ،قتل وغارت گری ، فریب کاری ، دھوکہ دہی ، لوٹ مار، فراڈ سے پاک کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنے آپ کو نیک خصلتوں کا خوگر بنانا ہوگا ، ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی عادات بد سے باز بھی نہ آئیں اور ہم پر سکون زندگی بھی گزاریں۔ ؟ رحمت دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ صدیاں قبل ان تمام امور کی نشاندہی فرما دی تھی جو فتنہ و فساد کا باعث ہیں اور ان تمام امور کی بھی جن سے ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ اس لیے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے عملی تقاضے پورے کرنے کا وقت ہے۔ اللہ ہم سب کو اطاعت نبوی کی کامل توفیق عطا فرمائے۔