ربیع الاول اور ہم

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

div class="mainheading">ربیع الاول اور ہم

……محمد جنید حنفی
محرم الحرام کا مہینہ ختم ہوتا ہے صفر کا مہینہ چل پڑتا ہے کچھ مخصوص لوگ حضرت حسین ؓ کی مناسبت سے چہلم کی روایات ادا کرنے کو ہوتے ہیں کہ ربیع الاول کی رسومات کی تیاری شروع ہو جاتی ہیں ہر طرف ہرے جھنڈے ہی جھنڈے ہوتے ہیں۔
ربیع الاو ل میں آپ ﷺ کی پیدائش جس کو مبتدعین نے عید میلاد النبی ﷺ کا نام دیا ہے مناتے ہیں جس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں، پھر یہ کہ ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو منائی جاتی ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آپ ﷺ کی تاریخ پیدائش راجح قول کے مطابق آٹھ ربیع الاول بنتی ہے۔
(زرقانی ج ۱ ص۱۳۱(
ہاں آپ ﷺ کی تاریخ وفات میں کوئی اختلاف نہیں جو کہ ۱۲ ربیع الاول ہے۔اب ایک قاعدہ سمجھ لیں کہ پیدائش کی تاریخ اختلافی مگر راجح ۸ ہے اور وفات کی تاریخ۱۲ ہے جس میں اختلاف نہیں۔ پیدائش پہلے اور وفات بعد میں ہوتی ہے۔
وفات کا دکھ یاد رہتا ہے پھر بھی عجیب سوچ ہے کہ تاریخ کے تعین اور پیدائش ووفات کے تقدم و تاخر کے بعد بھی مبتدعین کی ایجاد کردہ بدعت میں مبتلا ہوکر کون سا ثواب سمیٹنے کی تگ ودو کرتے ہیں۔
ربیع الاو ل اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے اور دیگر مہینوں کی طرح یہ مہینہ بھی مسلمانوں کے لئے برکت والا مہینہ ہے بشرطیکہ نیکی اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ ہو،کیونکہ مہینوں میں سردار اور افضل مہینہ رمضان جس میں برکات ہی برکات ہیں اس میں بھی اگر بندہ خدا غافل رہا خدا کی بندگی نہ کی تو حدیث کے بموجب وہ شخص برباد و ہلاک ہوگیا۔
اگر تقویٰ و پرہیزگاری ہو تو مسلمان کیلئے ہر مہینہ باعث برکت ہے، یہ مسلمان کی شان نہیں اور اسلام کا طریقہ نہیں کہ ایک مہینہ اعمال ہوں پھر پورا سال پامال ہو یا ایک مہینہ عقیدت و محبت ہوپھر پورا سال غفلت ہو، لہٰذاربیع الاول ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ بحیثیت مسلمان زندگی کے ہر موڑ، ہر لمحے ایسے رہو جیسے اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتے ہیں۔
بدعات و خرافات کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اس لئے یہ جھنڈے گاڑنا،چراغا ں کرنااورعید کا نام دینا اس میں نئی نئی طرز کی مجالس منعقد کرنا کھانوں کا اہتمام کرنا وگیرہ اس سے اجتناب کرنا از حد ضروری ہے۔
اتحاد ہم آہنگی کے یہ معنیٰ نہیں کہ ایسے انور میں شامل حال ہوکر ان کو تقویت دیں بلکہ ان جیسے امور سے بچ کر انتہائی حکمت کے ساتھ ایسے غلط رسومات سے معاشرے کو صاف کیا جائے جو دین کے اصل حلیہ کو بگاڑتا ہو،دین کے نام پر خلاف اسلام کام کو وسعت دینا اچھی سوچ نہیں بلکہ بربادی کا سامان ہے۔
آپ ﷺ کی ولادت باسعادت کا ذکر خیر انتہائی برکت والا ہے لیکن اس کے لئے ربیع الاول ہی کامہینہ اور ان جیسے امور کے ساتھ جس طرح بیان کیا گیا اچھا نہیں بلکہ کسی بھی مہینے بغیر کسی مخصوص اہتمام کے بیان کرسکتے ہیں۔
اس کے لئے میڈیا پر اعلانات ضروری نہیں کہ فلاں مہینہ فلاں تاریخ کو ملک بھر یا دنیا بھر میں ایسی مجالس منعقد ہوں گی بلکہ کوئی بھی کسی بھی علاقے کسی بھی وقت بیان کرسکتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صحیح راستے کی سمجھ عطا فرمائیں۔ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم۔