احسان کا بندہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
احسان کا بندہ
………کاشف الرحمان﷾
دنیا کو اللہ رب العزت نے اپنی دست قدرت سے پیدا فرمایاہے۔ اللہ رب العزت ہم سب سے ایک سوال کرتا ہے :ام خلقوا من غیر شی ء تمہارا کوئی بنانے والا نہیں ہے خود ہی بن گئے ہو، تمہاری کوئی منزل نہیں آوارہ بادل ہو جدھر جس کا منہ آیا ادھر چل دیا ام ھم الخالقون کیا تم نے اپنے آپ کو خود بنایا ہے؟ پہلا سوال کیا تم سب خودبن گئےہو ؟ دوسرا سوال یا اپنے آپ کو تم نے خود بنایا ہے؟ ام خلق السمٰوٰت والارض یہ آسمان اور زمین کس نے بنائے؟ مسلمانو! ہمیں پیدا کرنے والی ایک ذات ہے وہ اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: اے میرے بندے ایک تیری چاہت ایک میری چاہت ہے۔ اگر تو نے اپنی چاہت کو میری چاہت پر قربان کر دیا تو تیری چاہت بھی پوری ہوگی، اگر تو نے اپنی چاہت کو میری چاہت پر قربان نہیں کیا تو تیری چاہت کہیں پوری نہیں ہوگی اور پھر بھی تجھے میری چاہت پوری کرنا ہوگی۔
جب اللہ رب العزت نے ہمیں پیدا کیا، ہمیں بنا دیا ، ہمیں کھلاتا ہے ،پلاتا ہے اور اللہ رب العزت نے ہمیں اچھی شکل وصورت دی ہے ، مال دیا ، عزت دی، دنیا کی کروڑوں کی نعمتیں ہم استعمال کرتے ہیں تو اس کے بدلے میں کیا کچھ دینا ضروری ہے کہ نہیں؟ عربی کا مقولہ ہے الانسان عبد الاحسان۔ انسان احسان کا بندہ ہے۔
دنیا کی مثال: ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی احسان کرے تو پوری عمر اس کی تعریفیں کرتا ہے ، اس کی اچھائی بیان کرتا ہے ایک احسان کی وجہ سے۔ تو جب اللہ رب العزت کے ہم پر اتنے احسانات ہیں تو ہمیں بھی چاہیے اللہ رب العزت کی محبت کو دل میں بساکر اپنی زندگی گزاریں، پھر دیکھیں کیسے یہ مسلمان ذلت سے عزت میں آتا ہے۔ کیسے یہ مسلمان گناہوں کی نحوست کو چھوڑ کر نیکوں کی طرف آتا ہے۔
آج مسلمان کیوں غیروں کے قدموں میں جھکے ہوئے ہیں کیا وجہ ہے کہ مسلمان آج اتنا پستی میں دھنس گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہوں کے دلدل میں ہم دھنس گئے ہیں ہم نکلنے کی جتنی بھی کوشش کریں گے نیچے کی طرف جائیں گے ہم اپنے دلوں کو گناہوں کی نحوست کی وجہ سے پہلے کالا کر دیا، بلکہ بعض دل تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ دنیا کی محبت ہے۔
دنیا کی حقیقت:
دنیا کی حقیقت کیاہے ؟حدیث میں ہے کہ دنیا مردار ہے، اس کا حاصل کرنے والا کتا ہے۔دوسری حدیث میں ہے : رزیل دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ آگے فرماتے ہیں: دنیا ملعون ہے اور جو اس کے اندر ہ وہ بھی ملعون ہے۔
دنیا میں کیسے رہنا چاہیے ؟:
تو جب دنیا کی یہ حقیقت ہے تو ہمیں اس کے ساتھ محبت کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ دنیا میں کس طرح رہنا چاہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : دنیا میں اس طرح رہو جس طرح راہ چلتا مسافر ہوتا ہے۔
تو ہم اگر پرسکون ،عزت والی شرافت والی ، اعمال والی، پاکیزگی والی ، آرام والی، راحت والی، خوشحالی والی، زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہم کو اپنے دلوں میں اللہ محبت کو پیدا کرنا ہوگا۔ اگر انسان کے دل میں اللہ رب العزت کی محبت آگئی تو دونوں جہانوں کی کامیابی حاصل ہو جائے گی۔