2012

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ
مولانا محمد اکمل راجنپوری
حضرت ابوسعید سعدبن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہما کا شمار ان اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے جو اپنے زمانے کے جبال علم سمجھے جاتے تھے اور انہی کے چشمہ فیض سے متلاشیانِ علوم نبوت نے اپنی پیاس بجھائی۔
غربت اور زمانہ طالبعلمی:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ابتداءً مالی اعتبار سے کمزور اصحاب رسول کی صف میں شامل تھے، کیونکہ آپ کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے تو پیچھے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی ،جس کی وجہ سے آپ پر فاقہ اور پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت آپڑی لیکن تھوڑے دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے علومِ دین کے ساتھ ساتھ مال ودولت سے بھی نواز دیا۔
اپنے زمانہ طالبعلمی کی حالت بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی کلاس تھی،قاری صاحب قراءت کررہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ہم مالی اعتبار سے کمزور تھے---کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی آڑ میں چھپ چھپ کر بیٹھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ کیا
Read more ...

نماز اہل السنت والجماعت

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
قسط نمبر 9
نماز اہل السنت والجماعت
مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنے ، پھر ہاتھ، پھر پیشانی کو زمین پررکھنا:
:1 عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَضَعُ رُکْبَتَیْہِ قَبْلَ یَدَیْہِ اِذَاسَجَدَ۔
(صحیح ابن خزیمۃ ج 1ص342 باب البدء بوضع الرکبتین علی الارض قبل الیدین۔۔،رقم الحدیث 626)
ترجمہ: حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھتے تھے۔
:2 عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَبَّرَفَحَاذٰی بِاِبْھَامَیْہِ اُذُنَیْہِ ثُمَّ رَکَعَ حَتّٰی اسْتَقَرَّکُلُّ مَفْصَلٍ مِّنْہُ وَانْحَطَّ بِالتَّکْبِیْرِحَتّٰی سَبَقَتْ رُکْبَتَاہُ یَدَیْہِ۔
(المستدرک للحاکم ج 1ص 3()(49۔ باب التامین، رقم الحدیث 822)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے تکبیر کہی اور اپنے دونوں انگوٹھے کانوں کے برابر کر لیے پھر رکوع فرمایا
Read more ...

فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں ادا کرنا

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active

>

فجر کی جماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں ادا کرنا
مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
سوال: میرے ایک دوست نے جو اپنے آپ کو اہلحدیث کہتے ہیں، ایک دن مجھے کہا: آپ لوگ جو فجر کی جماعت کھڑی ہونےکے وقت سنتیں ادا کرنے لگتے ہو یہ حدیث کے خلاف ہے، کیونکہ حدیث میں آتا ہے:
اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ
(جب اقامت ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی صلاۃ جائز نہیں)۔ نیز اس نے یہ بھی کہا : اس حدیث کے آخر میں ”الا رکعتی الفجر“ کا جھوٹا اضافہ کر کے آپ لوگ فجر کی سنتوں کو مستثنیٰ قرار دیتے ہو جو محض ضد وتعصب کا نتیجہ ہے۔اقامت کے بعد اور تکبیر تحریمہ کے بعد مسجد میں جلدی جلدی ٹکریں مارنے کا قطعاً کوئی جواز نہیں،جھوٹے اضافہ پر ضد چھوڑیں اور صحیح حدیث پر عمل کریں۔
براہِ کرم اس مسئلہ کو واضح فرمائیں۔
السائل
محمد سعود میمن
کلفٹن۔ کراچی
جواب: حامداً و مصلیاً
اہل السنۃ و الجماعۃ احناف کا موقف یہ ہےکہ اگر کسی شخص کو اطمینان ہےکہ وہ سنتیں ادا کرنے کے بعد جماعت کی دوسری رکعت (بلکہ تشہد میں) مل جائے گاتو اسے چاہیے
Read more ...

فقہ کی اہمیت محدثین کی نظر میں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آثار التشریع:
فقہ کی اہمیت محدثین کی نظر میں
حضرت مولانا خالد محمود حفظہ اللہ
پی ایچ ڈی لندن
8: حضرت امام احمد رحمہ اللہ (م241ھ)
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
عن الامام احمد قال:اذا کان عندالرجل الکتب المصنفۃ ،فیہا قول الرسول صلی اللہ علیہ وسلم واختلاف الصحابۃ والتابعین فلا یجور ان یعمل بماشاء و یتخیر فیقضی بہ و یعمل بہ حتی یسئل اھل العلم ما یوخذ بہ فیکون یعمل علی امر صحیح۔
اعلام الموقعین جلد 1صفحہ44
ترجمہ : امام احمد سے مروی ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس حدیث کی کتابیں ہوں تو اس کے لئے جائز نہیں کہ جس پر چاہے عمل کر لے اور جو قول چاہے اختیارکرلے اور اس کے مطابق فیصلہ دے جب تک علماء سے نہ پوچھ لے کہ کون سی بات اختیار کرنی ہے۔ اس صورت میں اس کا عمل صحیح طریق پر ہوسکے گا۔
یہاں” اہل علم“ سے کون لوگ مراد ہیں، محمد عوامہ لکھتے ہیں :
Read more ...

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرعی حکم

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرعی حکم
مولانا محمد ارشد سجاد
مکہ مکرمہ کی حاضری اور حج کے ارکان ادا کرنے کے سے حج مکمل ہوجاتا ہے مکہ مکرمہ کی حاضری کے ساتھ ساتھ اگر مدینہ منورہ حاضری نہ ہو تو گویا یہ سفر نا تمام اور نامکمل رہتا ہے۔ کیونکہ مکہ مکرمہ کی حاضری سے عبادت کی تکمیل جبکہ مدینہ منورہ کی حاضری سے عشق ومحبت کی تکمیل ہوتی ہے۔ حج کے ا بتدائی دنوں میں جانے والے حجاج کرام کو اکثر وبیشتر پہلےمدینہ طیبہ بھیج دیا جاتا ہے۔ایسے حجاج کرام کے لئے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میرے نزدیک اور علماء کے ایک گروہ کے نزدیک پہلے مدینہ منورہ جانا افضل ہے :
وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا۔
ہمارے آقانامدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت بلکہ تمام عالم کے لئے رحمت ہیں۔آپ کے پاس حاضری د ے کر عرض کرو: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم حاضر ہوئے ہیں۔ ہمارے لئے حج کی قبولیت کی دعا فرمائیے، شفاعت فرمائیے۔
Read more ...