2012

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
تذکرۃ المحدثین:
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما
مولانا محمد اکمل راجنپوری حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ابوعبدالرحمان رضی اللہ عنہما کا شمار صحابہ کرام کی اس جماعت میں ہوتا ہے جو علم وفضل اور عبادت وریاضت کے لحاظ سے خاص امتیاز رکھتے تھے۔
آپ کا علمی ذوق:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو علم کی تلاش اور جستجو بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے آپ نے اپنی مادری زبان کے علاوہ عبرانی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کر لی تھی۔ دربار نبوی میں اکثر حاضر رہتے، جو کچھ زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے اس کو زیب قرطاس کرلیتے تھے۔اسی ذوق اور جستجو کی بناءپر جس قدر احادیث نبوی کا ذخیرہ آپ کے پاس تھااس کا اندازہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فرمان سے لگایا جا سکتا ہے، فرماتے ہیں :
Read more ...

نماز اہل السنت والجماعت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
قسط نمبر 11
نماز اہل السنت والجماعت
متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
کیفیت اشارہ:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَاقَعَدَ فِی التَّشَھُّدِ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُسْریٰ عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْریٰ وَوَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی وَعَقَدَ ثَلاَ ثاً وَّخَمْسِیْنَ وَاَشَارَبِالسَّبَّابَۃِ۔
(صحیح مسلم ج1 ص216 باب صفۃ الجلوس فی الصلوٰۃ )
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اوردایاں ہاتھ دائیں گھنٹے پر رکھتے تھے اور دائیں ہاتھ سے(۵۳) کے عدد کی شکل بناتے اور کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرتے۔ ‘‘
اشارہ کے وقت انگلی کو بار بار حرکت نہ دینا:
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُشِیْرُبِاِصْبَعِہٖ اِذَادَعَا وَ لاَ یُحَرِّکُھَا۔
(سنن النسائی ج 1ص187 باب بسط الیسری علی الرکبۃ،سنن ابی داؤد ج1 ص149 باب الاشارۃ فی التشہد )
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔ ‘‘
شہادت والی انگلی کوآخر نماز تک بلا حرکت بچھائے رکھنا:
عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَیُصَلِّیْ وَقَدْوَضَعَ یَدَہٗ الْیُسْریٰ عَلٰی فَخِذِہٖ الْیُسْریٰ وَوَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہٖ الْیُمْنٰی وَقَبَضَ اَصَابِعَہٗ وَبَسَطَ السَّبَّابَۃَ وَھُوَ یَقُوْلُ یَامُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔
(جامع الترمذی ج 2ص199 ابواب الدعوات باب بلا ترجمۃ)
ترجمہ: حضرت عاصم بن کلیب اپنے باپ کلیب سے وہ اپنے باپ حضرت شہاب بن مجنون رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :
’’ شہاب بن مجنون فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا ہوا تھا اوردایاں ہاتھ دائیں ران پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلمہ کی انگلی کو بچھایا ہوا تھا اور یہ دعا پڑھ رہے تھے۔
نوٹ : ( دعامذکورہ کا ترجمہ یہ ہے ) اے دلوں کو پھیرنے والی ذات میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم فرما!
فائدہ : دعا ء تشہد میں درود شریف کے بھی بعد سلام کے قریب مانگی جاتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی انگلی کو بچھا کر اسی حالت پر برقرار رکھے ہوئے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انگلی کو آخر نماز تک بچھائے رکھنا چاہئے۔ چنانچہ حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
’’قُلْتُ فِیْہِ اِدَامَۃُ اِشَارَۃِ التَّشَھُّدِاِلٰی اٰخِرِالصَّلٰوۃِ۔‘‘
(الثواب الحلی علی جامع الترمذی للتھا نوی ج2 ص199 )
ترجمہ: میں(مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ( کہتا ہوں کہ اس حدیث میں یہ ثابت ہے کہ اشارہ آخر نماز تک برقرار رکھنا چاہیے۔
تشہد میں نظریں شہادت کی انگلی سے آگے نہ بڑھیں:
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا۔
Read more ...

فقیہ ابن فقیہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تذکرۃ الفقہاء:
حصہ دوم
فقیہ ابن فقیہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
مولانا محمد عاطف معاویہ حفظہ اللہ
فقہ میں آپ رضی اللہ عنہما کا مقام:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا شمار کبار فقہاء صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔فقہ میں ان کی جلالت شان کو بیان کرتے ہوئےمیمون بن مہران فرماتے ہیں:
مارأیت افقہ من ابن عمر۔
(اعلام الموقعین ج1ص18)
میں نے میں ابن عمر سے بڑا فقیہ کہیں نہیں دیکھا۔
امت کے ایک بہت بڑے طبقہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہماسے اس نعمت عظمیٰ(فقاہت)کو حاصل کیا امام ذہبی رحمہ اللہ نے آپ رضی اللہ عنہماکے شاگردوں کی تعداد220سے کچھ اوپر بتائی ہے۔
(سیراعلام النبلاء ج4ص109،110)
ان شاگردوں نے فقہ والی دولت آپ سے لے کہ آگے امت میں پھیلائی۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شاگردوں سے امت کو علم و فقہ والی دولت ملی ہے اس میں بہت بڑا حصہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں کا ہے۔
(اعلام الموقعین ج1ص21)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماباکمال،فقیہ ہونے کے باوجود کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کی اتباع کو پسند کرتے تھے اور ان کی مخالفت کو درست نہ سمجھتے تھے آپ رضی اللہ عنہما اکثر فرمایا کرتے تھے میں نے اپنے رفقاء کو ایک متعین راستے پر چلتے دیکھا ہے اگر میں اس راہ سے ہٹ کر کوئی اور راستہ اختیار کروں تو خطرہ ہے کہ میں ان کے ساتھ نہ مل سکوں۔
(فقہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ص39،40)
مجتہد کو اللہ پاک کئی ایک خصوصیات سے نوازتے ہیں۔

مسائل غیرمنصوصہ کو منصوصہ پر قیاس کرنا۔

حدیث نبوی سے مراد پیغمبر کو سمجھنا۔

جن مسائل کے متعلق احادیث دو قسم کی ہیں ان میں کسی ایک کو ترجیح دینا وغیرہ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اللہ تعالیٰ نے تینوں خوبیوں سے نوازا تھا۔
اگر ایک آدمی نے کسی عورت کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ زنا کا ارادہ کرچکا تھا تو صرف ارادہ زنا سے اس پر حد نہیں لگائی جائے گی آپ رضی اللہ عنہما نے اس پر دوسرا مسئلہ قیاس کیا کہ اگر ایک شخص نے کسی کا سامان چوری کیا مگر اس کو گھر سے باہر نہیں نکالا تھا تو اس کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔
Read more ...

بیویوں سے حسن سلوک کا ایک عنوان جدید

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
خزائن السنن:
بیویوں سے حسن سلوک کا ایک عنوان جدید
مفتی شبیر احمد حنفی
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیویوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ خاوند اگر اس حکم پر عمل پیرا ہو تو اس کی زندگی بھی خوش و خرم گزرے کی اور باری تعالیٰ کا حکم بھی پورا ہو جائے گا۔ اس مضمون کو عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے اپنے عالی ذوق کے مطابق نہایت عمدگی سے سمجھایا ہے۔ افادہ کی غرض سے ہدیہ قارئین ہے۔
عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا:
’’رات جنوبی افریقہ سے ایک میاں بیوی کا فون آیا کہ ہم دونوں میں شدید اختلاف ہے۔ بیوی نے کہا کہ جب میرا شوہر گھر آتا ہے تو میں بجائے خوشی کے خوف سے کانپنے لگتی ہوں کہ جیسے کوئی جلاَّد آرہاہے۔ اللہ تعالیٰ نے میری زبان سے ایسا مضمون بیان کرادیا جس سے دونوں شیر وشکر ہوگئے
Read more ...

الموافقہ بین الحدیث والفقہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آثار التشریع
الموافقہ بین الحدیث والفقہ
ٍعلامہ خالد محمود
پی- ایچ- ڈی لندن
اس کی تفصیل ہمارا اس وقت کا موضوع نہیں۔حضرت امام شافعی اپنے رسالہ میں اس موضوع کی ایک حدیث پر نہایت مفید بات کہہ گئے ہیں:
دَلَّ عَلٰی اَنَّہٗ قَدْ یَحْمِلُ الْفِقْہَ غَیْرُ فَقِیْہٍ، یَکُوْنُ لَہُ حَافِظًا وَلَایَکُوْنُ فِیْہٖ فَقِیْہًا
[الرسالۃ ص55]
ترجمہ: اس حدیث سے پتہ چلا کہ کبھی حامل فقہ (حدیث روایت کرنے والا)ایسا بھی ہوتا ہے جو خود فقیہ نہ ہو، وہ حافظ حدیث تو ہوسکتا ہے لیکن وہ فقیہ کے مرتبے کو نہیں پہنچتا۔
حق یہ ہے کہ کیا محدثین اور کیا فقہاء مسلمانوں کو دونوں کی ضرورت ہے؟ اگر محدثین اسلام کا علمی سرمایہ ہیں فقہاء اسلام کی علمی شاہراہ ہیں اور ظاہر ہے کہ شاہراہ کے بغیر کسی راہ پر چلا نہیں جاسکتا۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے ایک جگہ تفقہ اور استنباط کے توافق پر ایک نہایت مفید نوٹ تحریر کیا ہے:
Read more ...