بنات اہلسنت

حقوق العباد

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
حقوق العباد
مولانا عاشق الہی بلند شہری
بندوں کے حقوق کے بارے میں تاکید:
جب آدمی دنیا میں آتا ہے تو چاہے مرد ہویا عورت اسے دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر رہنا پڑتا ہے اور شریعت کا حکم ہے کہ سب کے حقوق کا دھیان کروجو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بتائے ہیں ایک د وسرے کی حق تلفی کرنے سے اور آگے یا پیچھے بے آبروکرنے سے یا کسی کا پیسہ رکھ لینے سے قیامت میں بڑی مصیبت کاسامناہوگا۔
حضرت رسول مقبول ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کررکھا ہوا کہ اس کی بے آبروئی کی ہو یا کسی اور قسم کی حق تلفی کی ہوتوآج ہی اس روز سے پہلے جب کہ نہ اشرفی پاس ہوگی نہ روپیہ پاس ہوگا(حق ادا کرکے یا معافی مانگ کر)اس سے اپنی جان چھڑالیوے(یہاں صفائی نہ کی تو)اگر نیک عمل ہوں گے
Read more ...

مجاہد یا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجاہد یا۔۔۔
حمیر انور'لاہور
اسلامیا ت کی مس جیسے ہی کلاس میں داخل ہوئیں تمام لڑکیاں اپنی نشستوں پر چلی گئیں۔
”السلام علیکم ورحمة اللہ“ مس نے آتے ہی سلام کیا۔ سب لڑکیوں نے سلام کا جواب دیااور مس کے اشارہ کرتے ہی بیٹھ گئیں۔
” آج ہمارا موضوع ِبحث اچھے اخلاق ہے۔“ مس نے یہ بتاکر سب کو کتابیں کھولنے کاحکم دیا سب بچیاں کتابیں کھول کر مس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
”دیکھو بیٹا اللہ تعالی نے ہمیں کیا اور ہمیں مسلمان بنا کر ہم پر احسان عظیم کیاہے
Read more ...

تین سوال

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تین سوال
خدیجہ جمشید'گوجرانوالہ
ایک کافر نے کسی بزرگ سے کہا: اگر تم میرے تین سوالوں کا جواب دے دے تو میں مسلمان ہوجاوں گا۔
جب ہر کام خدا کی مرضی سے ہوتا ہے تو تم لوگ انسان کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتے ہو؟
جب شیطان آگ کا بنا ہوا ہو تو دوزخ میں اس پر آگ کیسے اثر کرے گی؟
جب تمہیں خدا نظر نہیں آتا تو اسے کیوں مانتے ہو؟
Read more ...

ایک کہانی بڑی پرانی

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
ایک کہانی بڑی پرانی
ام محمد رانا
آسیہ بیگم روز روز کے بلی چوہے کے کھیل سے تنگ آچکی تھی ایک دن وہ خود ہی ایک رشتہ دیکھنے گئی اور ہاں کر آئی اور اپنی بات پر ڈٹ گئی کہ بس میں نے وہیں نمرہ کا رشتہ کرنا ہے۔ ویسے تو بھابیاں نہ مانتیں پر جب انھوں نے دیکھا کہ نمرہ کا ہونے والا سسرال بالکل متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ہے گھر بار بھی گزارہ میں ہے لہذا ہر لحاظ سے نمرہ ان سے نیچے ہی رہے گی توحامی بھر دی۔ مہینے کے اندر اندر نمرہ کی شادی کردی گئی اور یہ کہ کر نمرہ کو جہیز کے نام پر کوئی چیز نہ دی گئی کہ وہ ابھی وہ گھر اس قابل نہیں کہ ہمارے سٹینڈرڈ کا دیا ہوا جہیز وہاں رکھا جاسکے۔
ادھر نمرہ کاشوہر انتہائی نفیس طبیعت کا مالک تھا وہ ایک معمولی دکاندار کا بیٹا تھا جس نے خود اپنی محنت سے پڑھ کر اپنا مقام بنایا تھا
Read more ...

ظہیرالدین محمد بابر

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
ظہیرالدین محمد بابر
امان اللہ کاظم'لیہ
وہ دیکھ رہا تھا کہ آئے دن اس کا باپ اپنے بھائیوں سے نبرد آزما رہتا تھا کبھی تو وہ کامیابی سے ہم کنار ہوتا تھا اور کبھی اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ جب کبھی اسے فراغت کے لمحات میسر آتے توہ اندر جان کے پہلو میں واقع پہاڑی پر چلا جاتا تھا جہاںپر اس نے بہت سے کبوتر پال رکھے تھے۔ اسے غٹر غوں کرتے کبوتروں کے درمیان رہنا اچھا لگتا تھا اس نے سینکڑوں کی تعداد میں موجود ان کبوتروں کے لیے بڑے بڑے لکڑی کے ڈربے بنوا رکھے تھے اور ان کبوتروں کی نگہداشت اور ان کی خاطر تواضع کے لیے کئی کئی نوکر بھی متعین کر رکھے تھے وہ پہاڑی پر پہنچ کر ان کبوتروں کو ہو امیں اڑاتا رہتاتھا
Read more ...