تذکرۃ الفقہاء

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تذکرۃ الفقہاء
فقہاء امت
مولانا محمد عاطف معاویہ حفظہ اللہ
ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تمام اوصاف کے جامع ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی جماعت عطاء فرمائی جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر صفت کو محفوظ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز کی اہمیت کو بیان فرمایا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے اس کو اپنا محبوب مشغلہ بنا لیا۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث نقل کرنے والے کو دعا دیتے ہوئے فرمایا :
نضراللہ امرأ سمع مقالتی فبلغھا، فرب حامل فقہ غیرفقیہ ورب حامل فقہ الیٰ من ھو افقہ منہ۔
(سنن ابن ماجہ ص 21باب من بلغ علما)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھیں جس نے حدیث کو سنا پھر اس کو محفوظ کرکے آگے پہنچایا۔ کیونکہ بسا اوقات الفاظ حدیث کو لینے والا فقیہ نہیں ہوتا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ حدیث کسی ایسے آدمی تک پہنچ جائے جو فقیہ ہے۔
اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت روایتِ حدیث میں زیادہ مشغول ہوگئی۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی فضیلت اور اہمیت بھی بیان فرمائی جو دین میں تفقہ حاصل کرے مثلاً:
1: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :
من یرداللہ بہ خیرا یفقہ فی الدین۔
(صحیح بخاری ج 1ص 16 )
یعنی جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس کو دین کی سمجھ عطافرمادیتے ہیں۔
2: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:
الناس معادن خیارھم فی الجاھلیۃ خیارھم فی الاسلام اذا فقھوا۔
(صحیح البخاری ج۱ ص ۴۹۶ باب المناقب)
یعنی لوگ کانیں ہیں، جو اسلام لانے سے پہلے اچھے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی اچھے ہیں جب کہ وہ فقہ جانیں (فقاہت حاصل کریں)
3: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے:
فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد۔
(جامع الترمذی ج۲ ص ۹۷ باب فی فضل الفقہ علی العبادۃ )
یعنی شیطان کو ایک ہزار عبادت گزاروں کی عبادت سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی ایک فقیہ سے ہوتی ہے۔
اسی طرح حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاں فقہ کی جو اہمیت تھی اسے اہل علم بخوبی جانتے ہیں۔ حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فتنوں کا ذکرفرمایا تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ کس وقت ہوگا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:سنن دارمی ج۱ ص ۷۶ باب تغیرالزمان وما یحدث فیہ کے تحت موجود ہے؛جب علماء دنیا سے چلے جائیں گے اور جاہل زیادہ ہوجائیں گے، الفاظ قرآن کو پڑھنے والے بہت ہونگے مگر فقہاء (مسائل نکالنے والے) کم ہونگےتو یہ زمانہ فتنوں کا ہوگا۔
گویا کہ ان کے نزدیک فقہاء کا نہ ہونا یا ان کے وجود کا کم ہونا یہ ایک قسم کافتنہ ہے اور فقہاء کا موجودہونا یہ زمانہ کے مبارک ہونے کی علامت ہے۔اسی طرح ہر دور کے اہل علم نے جو فقہ اور فقہاء کی عظمت وضرورت بیان کی ہے وہ بالکل واضح ہے۔چنانچہ امام ابن قیمؒ فقہاء کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فقہاء کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان کے ستارے ہیں۔ جوشخص گمراہی کی تاریکی میں حیران و پریشان ہو اس کو فقہاءکے ذریعے ہدایت نصیب ہوتی ہے۔ جس طرح انسان کو زندہ رہنے کے لئے کھانے پینے کی ضرورت ہوتی ہے اس سے بڑھ کر انسان کو فقہاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ نص قرآنی کی وجہ سے فقہاء کی اطاعت والدین کی اطاعت سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے ایمان والو!اللہ، اس کے رسول اور فقہاءکی اطاعت کرو۔ اگر کسی چیز میں تمہارا جھگڑا ہو جائے تو اس کو اللہ اور اس کے رسعل کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔
(اعلام الموقعین ج۱ ص ۹ فصل المنزلۃ العظمیٰ لفقہاءالاسلام )
لسان نبوت سے جب فقہ اور فقہاء کی عظمت بیان ہوئی تو صحابہ کرام کی ایک بہت بڑی جماعت تفقہ فی الدین میں مصروف ہوگئی۔ انہوں نے یہ ملکہ حاصل کیا، پھر آگے فتاویٰ جات دے کر امت کی رہنمائی فرمائی۔ بقول امام ابن قیم فقہاء صحابہ کرام جو فتویٰ دیتے تھے، کی تعداد ایک سو تیس سے کچھ اوپر ہے۔ یہ حضرات فتویٰ دیتے اور باقی حضرات ان کے فتاویٰ جات پر عمل کرتے۔ گویا صحابہ کرام کی جماعت میں دو طرح کے لوگ تھے۔
۱: فقہاء ۲: ان کے فتویٰ پر عمل کرنے والے۔
پھر ان فقہاء صحابہ میں تین طرح کے حضرات تھے:
۱: جن کے فتاویٰ جات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
۲: جن کے فتاویٰ جات کی تعداد پہلی قسم کی بنسبت کم ہے۔
۳: جن کے فتاویٰ جات کی تعدادبہت ہی کم ہے۔
جن صحابہ کے فتاویٰ کی تعداد زیادہ ہے وہ سات ہیں:
حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم۔وہ حضرات جن کے فتاویٰ کی تعداد درمیانی ہےان میں سے چند کے نام یہ ہیں:
حضرت ابوبکر صدیق،حضرت انس بن مالک،حضرت ابوسعید خدری، حضرت عثمان غنی، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم۔
وہ صحابہ جن کے فتاویٰ قلیل تعداد میں منقول ہیں ان میں سے چند حضرات یہ ہیں:
حضرت ابودردا ء،حضرت حسن بن علی، حضرت حسین بن علی،حضرت ابی بن کعب، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم۔
قارئین کرام! صحابہ کرام میں سے یہ چند فقہاء صحابہ کے نام ہیں جو اپنے دور میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اس تفصیل سے ان لوگوں کی غلط فہمی دور ہوجانی چاہیئے جو کہتے ہیں کہ’’فقہ قرآن وحدیث سے الگ چیز ہے اورفقہا ءقرآن و سنت کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘
حا۴لانکہ حقیقت یہ ہے کہ فقہ قرآن وحدیث کو سمجھنے اورشریعت پر عمل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ مکمل شریعت پر عمل کرنے کے لئے روز مرہ میں پیش آنے والے جزوی مسائل کا حل کرنا ضروری ہے جن کے حل کرنے کے لئے گہری بصیرت کا ہونا ضروری ہے۔ جوشخص اس صلاحیت کا حامل ہو اسے ’’مجتہد اور فقیہ‘‘ کہتے ہیں۔فقہاء کرام نصوص میں غور کرکے جزوی مسائل حل کرتے ہیں۔
ہم ان شاء اللہ ’’تذکرۃ الفقہاء‘‘ کے عنوان کے تحت ہر شمارہ میں ایک فقیہ کا تعارف پیش کریں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو مشہور فقہاء ہیں سب سے پہلے ان کا تعارف پیش کیا جائے گا... ان شاء اللہ