انبیاء علیھم السلام کی زندگی پر بنائی گئی فلموں کا حکم

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
انبیاء علیھم السلام کی زندگی پر بنائی گئی فلموں کا حکم
مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
سوال : چند سالو ں سے بعض نجی ٹی وی چینلز اور کیبل آپریٹرحضرات عمومی طور پر انبیاء علیہم السلام کی زندگی پر بنائی گئی فلموں کی نمائش کررہے ہیں۔ ’’دی میسج‘‘ (The Message) نامی فلم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس زمانہ کے واقعات پر مشتمل ہے۔صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر کو چھوڑ کر اس فلم میں تقریبا تمام صحابہ کرام کے نام سے کرداروں کو پیش کیا ہے۔۳۱۳ بدری صحابہ کرامؓ بھی بدر کی جنگ میں دکھا ئے گئے ہیں صحابہ کرام کے ناموں پر کردار اداکاروں نے ادا کئے۔
آج کل ’’پیغام پروڈکشن ‘‘نامی ادارے نے انبیاء علیہم السلام کی زندگی پر فلمائی گئی فلموں کا اردو زبان میں ترجمہ کرکے پھیلانا شروع کررکھا ہے۔ان فلموں میں حضرت آدم علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت مریم علیہا السلام کے فرضی کردار پیش کئے گئے ہیں۔ان فلموں میں کئی مقامات پر نبی کا فرضی کردار کرنے والے کو اے نبی، اے یوسف، اے ابراہیم، اے پیغمبر کہہ کر پکارا جاتا ہے۔اسی طرح یہ فرضی کرداربھی کئی مقامات پر اپنے ڈائیلاگ سے خود کو اللہ کا پیغمبر کہتے ہیں۔ ان فلموں میں انبیاء علیہم السلام کے ناموں سے جن کرداروں کو دکھایا گیا ہے۔ ان کو بار بار اس طرح پکارا جاتا ہے جیسے کسی عام آدمی کو پکاراجاتا ہے۔ ایک انسان کو حضرت جبرائیل ؑ کے نام سے کردار دیا گیا ہے جو کئی بار وحی لاتا دکھائی دیتا ہے۔ نعوذباللہ
اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے نام سے بنائے گئے کرداروں پر ٹھٹھہ، پاگل،مجنون کہنا وغیرہ بھی فلمایا گیاہے۔ایسی ہی کئی توہین پر مبنی مثالیں ان فلموں میں حد سے زیادہ موجود ہیں۔ آپ سے مندرجہ ذیل سوالات شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب طلب ہیں۔

1.

کیا اسلام میں اس بات کی گنجائش ہے کہ انبیاء ؑ اور صحابہ ؓ پر فلمیں یا ڈرامے تیار کئے جائیں ان فلموں کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ کیا یہ ناجائز ہیں اور ان کا گناہ کس درجے کا ہے؟کیا ایسی فلموں کو بنانے والے یا ان کا کسی بھی زبان میں ترجمہ کرنے والے اسلام کے مجرم ہیں؟اور شریعت ان پر کیا تعزیر یا گرفت کرتی ہے؟کیا ایسے لوگوں کو صرف توبہ کرنی چاہیے یا ان کے لئے کوئی سزا مقرر ہے؟

2.

فلم بنانے والوں کا یہ دعویٰ کرنا کہ اس فلم کی تمام دستاویز کی بڑی عرق ریزی سے قرآن، احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مستند تالیفی حوالہ جات سے تیار کی گئی ہے۔ایسی صورت میں کیا فلم کو بنانے، نشر کرنے، فروخت کرنے،یا دیکھنے کی کوئی گنجائش ہے

3.

کسی بھی شخص کو چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو فرضی طور پر نبی یا صحابی بنانا اور پھر دیگر فلموں کے کرداروں کی طرح اس شخص سے صحابی کے طور پر ایکٹنگ کرنے اور کروانے کے فعل کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟

4.

وہ شخص جو اس فلم میں باربار خود کو نبی یا صحابی کہہ رہا ہے اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

5.

وہ لوگ یا ادارے جو ان فلموں کی نمائش کررہے ہیں ان کا کیا حکم ہے۔ان فلموں کا کاروبار لین دین کسی بھی درجے میں کیسا ہے؟

6.

ان فلموں کو دیکھنے والے چاہے وہ اسلامی معلومات کے حصول کی نیت سے دیکھیں یا نیکی اور دینی جذبے کے ساتھ دیکھیں ان کا کیا حکم ہے؟

7.

کیا حکومت وقت کو ایسی فلموں پر پابندی لگانی چاہیے؟

8.

جو لوگ اس فتنہ کی شدت سے آگاہ ہیں بالخصوص دینی طبقہ سے منسلک ذمہ داران ان کو اس سلسلہ میں کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟ اور جانتے بوجھتے آنکھیں بند کرنے والے اور اس گناہ پر خاموشی اختیار کرنے والوں کے بارے میں کیا رائے ہے۔
جواب عنایت فرما کر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ والسلام محمد ہاشم جاوید لاہور
لجواب باسم ملہم الصواب!
انبیاء علیہم السلام کی مقدس زندگیوں پر بنائی گئی فلموں میں ان کی توہین اور بے ادبی کا پہلو نکلتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کی ادنیٰ سے ادنیٰ توہین کرنا بھی کفر ہے۔امام محمد بن سحنون المالکی ؒنے اس پر اجماع نقل کیا ہے:
’’اجمع العلماء علی ان شاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم والمنقص لہ کافر۔۔۔و حکمہ عند الامۃ القتل۔‘‘
(الصارم المسلول لابن تیمیہ ص7، رد المحتار لابن عابدین ج6ص370)
ترجمہ: علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا اور آپ کی توہین کرنے والا کافر ہے، امت کے ہاں اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
حتی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کی توہین کی تب بھی کافر ہو جائے گا۔ فتاوی قاضی خان میں ہے:
’’و من عاب النبی علیہ السلام بشعر من شعراتہ فقد کفر۔‘‘
(فتاوی قاضی خان ج4ص468)
ترجمہ: جس نے نبی علیہ السلام کے بال مبارک کی توہین کی وہ کافر ہو گیا۔
نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں پر بھی بنائی گئی فلموں میں ان کی توہین ہے اور یہ موجب کفر و ضلال ہے۔ان فلموںمیں بعض امور ایسے ہیں جو بلا شبہ کفر ہیں اور بعض موجب فسق و فجور ہیں،لہٰذا ان فلموں کو بنانا اور تشہیر کرنا گمراہی ہے۔
آپ کے سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں:

1.

اسلام میں اس بات کی قطعاً گنجائش نہیں کہ انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں پر فلمیں تیار کی جائیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کی مبارک زندگیوں پر فلم بنانااشد حرام اور موجب کفر ہے۔بنانے والے اگرمسلمان ہیں تو اس فعل کی وجہ سےمرتد ہو چکے ہیں،ان کا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ان پر توبہ و استغفار اور تجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں پر فلمیں بنانا بھی موجب کفرو گناہ ہے کیونکہ کسی کو صحابی کہنا یا کسی کا اپنے آپ کو صحابی کہنا گویا اجراء نبوت کا قول کرنا ہے۔ دوسری زبانوں میں ترجمہ کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔

2.

ان کے اس دعوے کی بھی کوئی حیثیت نہیں، لہٰذا ایسی فلموں کو بنانا، تشہیر کرنا اور فروخت کرنا سب حرام ہے۔

3.

ان فلموں میں مسلمان کا اپنے آپ کو نبی کہنا یا کسی دوسرے کو نبی بناناتوہین بنی کی وجہ سے کفرہے،یہ مسلمان مرتد ہو چکا ہے، اس کا ایمان اور نکاح ختم ہو چکا ہے۔ان پر توبہ و استغفار اور تجدید ایمان و نکاح لازم ہے، اور جو شخص اپنے آپ کو صحابی یا دوسرے کو صحابی کہتا ہے وہ بھی فاسق و فاجر اور مرتد ہو گیا ہے کیونکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استہزاء کیا ہے کہ غیر نبی کو نبی کہ کر اپنے آپ کو صحابی کہا یا دوسرے کو صحابی بنایا۔اس پر بھی توبہ و استغفار کے ساتھ تجدید ایمان و نکاح لازم ہے۔

4.

اس کا جواب نمبر3کے تحت گزر چکا ہے کہ اپنے آپ کو نبی کہنے والابوجہ توہین نبوت مرتد ہو چکا ہے اور صحابی کہنے والا بھی مرتدہو چکا ہے۔

5.

ان اداروں کا کاروبار ناجائز ہے،آمدن حرامِ محض ہے۔

6.

ان فلمو ں کو اسلامی معلومات کے لیے دیکھنا عوام کے لیے جائز نہیں، محقق علماء کے لیے بغرض تحقیق دیکھنے کی گنجائش ہے۔ البتہ ثواب کی نیت سے دیکھنا قطعاً حرام ہے۔

7.

حکومتِ وقت کو ان فلموں پر پابندی لگانی چاہیے اور ایسی فلمیں بنانے والوں اور ان کے نشر کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے
تاکہ آئندہ کوئی بھی اس توہین و گستاخی کی جرأت نہ کر سکے۔

8.

مذہبی و غیر مذہبی ہر فرد و تحریک کا فریضہ ہے کہ وہ ان فلموں کے بنانے اورنشر کیے جانے کے خلاف تحریک چلائیں اور حکومت وقت سے اس کے انسداد کے لیے پرزور مطالبہ کریں۔ و اللہ تعالی اعلم!