محدث کبیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
محدث کبیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
مولانا محمد اکمل حفظہ اللہ
حدیث اور محدثین کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بعثت انبیاء علیہم السلام کی تاریخ َ۔امم سابقہ کو انبیا ء علیہم السلام کے ذریعے سے آسمانی کتب ملتی رہیں اور اس امت کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے قرآن ملا۔ قرآن وحدیث جمع ہوئے تو تعلیمات اسلامی کا آغاز ہوگیا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اول ’’ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ‘‘ غارِحراء میں آئی تو آپ نے اس کی خبر ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو دی۔ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خبر وحدیث کو ورقہ بن نوفل کے سامنے بیان کیا تو یہیں سے امت محمدیہ میں حدیث اور محدثین کا آغاز ہوا۔امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کا آغاز اسی باب
’’کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘
سے کیا کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا آغاز کیسے ہوا؟
یہ وحی کا پہلا دن تھا اور یہیں سے حدیث اور محدثین کا بھی آغاز ہوا۔ یہ بات بالکل صحیح اور تاریخی ہے کہ حدیث ومحدثین اور بعثت نبوی کی تاریخ ایک ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں روایت حدیث کی تاکید ’’فیبلغ الشاہد الغائب‘‘کے الفاظ سےفرمائی۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جو رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک حکم پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردیتے تھے، فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنتے ہی پوری محنت، خلوص، شوق محبت اور انتہائی احتیاط کے ساتھ اس علمِ نبوی کو دوسروں تک پہنچانا شروع کردیا۔ان پاکیزہ شخصیات اور محتاط محدثین میں سے ایک شخصیت صاحب السواک والنعلین، خادم رسول، فقیہ الامت، قاری و مفسر قرآن محدث کبیر امام ربانی سیدنا عبداللہ بن مسعود الہذلی المکی، المہاجری، البدری،الکوفی رضی اللہ عنہ کی ہے جن کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔
نام و نسب:
نام عبداللہ، کنیت ابوعبدالرحمن اور قبیلہ ہذیل سے تعلق رکھتے تھے۔
پورا نسب یوں ہے: عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمع بن فار ابن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن الحارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ابو عبدالرحمٰن الہذلی۔
( اسد الغابہ لابن الاثیر الجزری ج۳ ص ۱۶۷، الاصابہ لابن حجر عسقلانی ج۲ ص ۱۱۲۲،سیر اعلام النبلاء للذہبی ج۳ ص ۲۰۴)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں۔بعض روایات کے مطابق چھٹے فرد ہیں جو حلقہ اسلام میں داخل ہوئے
(اسد الغابہ ج۳ ص ۱۶۷،الاصابہ ج۲ ص۱۱۲۳،سیر اعلام النبلاء ج۳ ص۲۰۶)
ایک اور روایت کے مطابق آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا۔
(سیر اعلام النبلاء للذہبی ج۳ ص ۲۰۷)
اسلام لانے کا سبب:
امام ابن العماد الحنبلی ابن الاثیری جزری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے آپ کے اسلام لانے کا سبب یہ بیان کیاہے کہ آپ عقبہ بن معیط کی بکریاں چرایاں کرتے تھے۔ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ آپ بکریاں چرارہےتھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے غلام! کیا تمہارے پاس دودھ والی بکری ہے؟‘‘عرض کیا: ’’ جی ہاں، لیکن مجھے اجازت نہیں۔ یہ بکریاں امانت ہیں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی ایسی بکری لے آؤ جو دودھ نہ دیتی ہو۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ایسی بکری لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شیردان پہ ہاتھ پھیرا اور دعا کی تو دودھ اتر آیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک پتھر لائے، اس میں دودھ نکالا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو دودھ پینے کا فرمایا، پھر خود پیا اورعبد اللہ بن مسعود کو بھی پلایا۔ عبداللہ بن مسعود آپ کا یہ معجزہ دیکھ کر بول پڑے کہ مجھے بھی یہ بات یا اس قرآن سے سکھا دیجئے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر کو مسلا اور فرمایا ’’ انک غلام معلم‘‘) تو ایسا نوجوان ہے جو سیکھنے کے لائق ہے۔ )
قبول اسلام کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کلام اللہ اور کلام رسول اللہ کو ایسا سیکھا کہ امت کے امام بن گئے۔
خود فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ستر سورتیں سیکھی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے والے سب سے پہلے شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود ہیں۔
(اسد الغابہ ج۳ ص ۱۶۷،سیر اعلام النبلاء ج۳ ص ۲۰۸)
حلیہ مبارک:
حضرت عبداللہ بن مسعود چھوٹے قد، گندمی رنگ،باریک پنڈلیوں، کمزور اور لطیف جسم والے لیکن علم کے کوہ گراں تھے۔ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو پھل لانے کے لئے درخت پر چڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود درخت پر چڑھے۔ صحابہ کرام ان کی پنڈلیاں دیکھ کرہنس پڑے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ عبداللہ کی ٹانگ قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی‘‘
(مجمع الزوائد ج۹ ص ۷۳ حدیث :۱۵۵۶۱کتاب المناقب)
حضرت عبداللہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’وما حدثکم ابن مسعود فصدقوہ‘‘
(جامع الترمذی ج۲ ص۲۲۰ مناقب عمار بن یاسر)
ترجمہ: کہ عبداللہ بن مسعود تمھیں جو بیان کریں اس کی تصدیق کرو۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’
’تمسکوا بعھد ابن مسعود‘‘
(جامع الترمذی ج ۲ ص ۷۰۱مناقب عبداللہ بن مسعود)
ترجمہ: کہ عبداللہ بن مسعود کے پختہ عزم کو تھام لو۔
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اقرؤا القرآن من اربعۃ نفر من ابن ام عبد فبدأ بہ‘‘۔
(صحیح مسلم ج۲ ص ۲۹۳،جامع الترمذی ج۲ ص ۷۰۱)
کہ قرآن چار آدمیوں سے پڑھو، ان چار میں سےپہلا نام حضرت عبداللہ بن مسعود کا لیا۔
حضرت عمار بن یاسر سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’من احب ان یقرأ القراٰن غضا کما انزل فلیقرء علی قراء ۃ ابن ام عبد ‘‘
(مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۷۱ حدیث ۱۵۵۵۶،مستدرک حاکم ج۴ص۳۷۹حدیث :۵۴۴۱)
کہ جس شخص کو پسند ہو کہ وہ قرآن اس لہجے میں پڑھے جس لہجے میں نازل ہوا تو وہ عبداللہ بن مسعود کی قرأت کے مطابق پڑھے۔حضرت علی المرتضیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لوکنت مؤمرا احدا من غیرمشورۃ لامرت ابن ام عبد۔

">

(جامع الترمذی ج۲ ص۷۰۱)
ترجمہ: اگر میں کسی کو بغیر مشورہ کے امیر بناتا تو عبداللہ بن مسعود کوبناتا