آ نکھ کا فی نہیں ہے، نظر چا ہئے

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
آ نکھ کا فی نہیں ہے، نظر چا ہئے
حضرت مولانا محمد رضوان عزیز حفظہ اللہ
یہ بھی کیا نیرنگئی زمانہ ہے کہ اعترا ف عظمت کےلئے تو معترف کا با عظمت ہونا ضروری ہے۔ لیکن کسی با عظمت پر اعترا ض کر نے کے لئے معترض کی اخلا قی حدود متعین نہیں ہے کہ وہ بھی اور نہ سہی تو کم از کم عقل تو رکھتا ہو۔ ہر طرح کی اخلاقی پا بندیو ں سے آزاد انسانوں کا ریوڑ جسے ایک قوم کہنا تو ٹھیک نہیں ہو گا۔ کیو نکہ قومیں تو بعض قواعد وضوابط کی پا بندی سے بنتی ہیں اور جو اس پا بندی کا پٹہ اپنے گلے سے اتا رکر آوارہ ہو جا ئے، پھر جو کہے سنا جا ئے گا۔ جو کرے دیکھا جائے گا۔بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔
یہی حال ہمارے ان کرم فر ما ؤں نے قر آ ن وحدیث کی شاندار تشریح، فقہی ذخیرہ کے ساتھ کیا ہے اور مزاج فقہاء سے عدم واقفیت کے سبب فقہ کے بعض مسائل کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔اگرچہ یہ ناقدین فقہ، بوءِ فقہ سے بھی نا آشنا تھے جبکہ فقہی مسائل کی دقیقہ کاریوں،نکینہ سنجیوں اور سخن آرائیوں کو سمجھنے کے لئے صرف آنکھ کا فی نہیں ہے نظر چا ہئے۔
وہ مظلوم مسائل جو ان کی چیرہ دستیوں سے مجرو ح ہو ئے ان میں سے ایک مسئلہ ذِمی کے امان کے متعلق ہے۔ جسے صاحب ہدا یہ نے ان الفا ظ میں نقل کیا ہے " ومن امتنع من الجزیۃ او قتل مسلماً او سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم او زنی بمسلمۃ لم ینتض عہدہ "یعنی اگر ذمی جز یہ دینے سے رک جا ئے یا کسی مسلمان کو قتل کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گا لی دے یا کسی مسلما ن عورت سے زنا کر ے تو اس کا عہد نہیں ٹوٹے گا۔ اب اس مسئلہ کی حقیقت کو سمجھے بغیر بعض نام نہاد عا ملینِ حدیث نے فقہ کےخلا ف پرو پگنڈا شروع کر دیا۔
حا لا نکہ اس کی وضا حت کہ عہد کیوں نہیں ٹوٹتا وہ اگلی عبا رت میں موجود ہے۔
" لان الغا یۃ التی ینتہی بھا القتا ل التزام الجزیۃ لا اداء ھا والالتزام باق "۔
کہ وہ علت جس کی بنیاد پر اس سے قتا ل کو روکا گیا ہے۔ وہ جزیہ کا التزام ہے کہ یہ بحیثیت ذمی جزیہ دے کر قتال سے امن پا چکا۔ تو قتال رو کنے کا سبب جزیہ کا التزام ہے نہ کہ اس کی ادائیگی۔ اور جب تک التزام با قی ہے عہد با قی رہے گا۔ یہاں تک تو با ت تھی ادا ئے جزیہ سے رکنے کے باعث اس کا عہد کیوں ختم نہیں ہوتا اس کی وضا حت کردی گئی۔
رہا یہ مسئلہ جس کو انتہائی جارحا نہ انداز میں عوامی جذبات کو بھڑ کاکر پیش کیا جاتا ہے کہ ذِمی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دےدے تو کیا اس کا ذمہ با قی رہے گا یا ٹوٹ جائے گا۔ تواس سلسلہ میں چو نکہ مختلف احادیث وارد ہیں اس لئے فقہاء کا اختلاف ایک فطری امر ہے۔ مثلاً ابو داؤد شریف میں حدیث مبا رکہ ہے جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نقل فرمایا ہے "ان یہودیۃ کا نت تشتم ان النبی وتقع فیہ فخنقہا رجل حتی ما تت فا بطل رسول اللہ دمہا"
)ابو داؤد شریف رقم الحدیث 4362)
کہ ایک یہو دی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے با رے میں بد زبا نی کرتی تھی ایک آدمی نے اسے گلا گھو نٹ کر ہلاک کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو باطل قرار دیا۔ اور اس کے بر عکس دوسری حدیث مبا رکہ جو صحیح بخا ری میں ہے۔ اس پر امام بخا ری نے ان الفا ظ میں باب با ندھا ہے
"اذا عرض الذمی وغیرہ بسب النبی ولم یصرح نحوہ قولہ السام علیک "
کہ جب ذمی یا اس کا غیر بلا تصریح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گا لی دے جیسے" السام علیکم" کہے تو اس کا کیا حل ہے۔ وہ اس مندرجہ ذیل میں مذکور ہے "عن انس بن مالک یقول مر یہودی برسول اللہ فقال السام علیک فقال رسول اللہ وعلیک فقا ل اتدرو ن ما یقول قال السام علیک قالوا یا رسول اللہ الا نقتلہ قال لا اذا سلم علیکم اہل الکتا ب فقولوا وعلیکم "
(الصحیح البخاری لابی عبد اللہ البخا ری م 256ھ رقم الحدیث 6414 )
ایک یہودی نے گذرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو" السام علیک "کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب" وعلیک" سے دینے کے بعد صحا بہ کرا م رضی اللہ عنہم سے پو چھا کہ آپ جا نتے ہو اس نے کیا کہا اس نے مجھے "السام علیک"(گالی دی ہے ) کہا صحا بہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ کیا ہم اسے قتل نہ کردیں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا اور فر مایا جب اہل کتا ب تم کو سلام کریں تو تم "وعلیکم" کہہ دیا کرو۔ اب دونو ں روایات کو سامنے رکھ کر فقہاء کرا م نے انتہائی دقت نظر سے ذمی کے مسائل کا حل نکالا کہ عہد کا نہ ٹو ٹنا اور ہے ااور اس کا قتل کر نا ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ مثلاً عہد کیو ں نہیں ٹو ٹا ؟
تو امام ابو حنیفہ فر ما تے ہیں :
"ولنا ان سب النبی(صلی اللہ علیہ وسلم ) کفرمنہ والکفر مقارن لا یمنعہ فا الطار ﺊ لا یرفعہ "۔
(بحوالہ ہدا یہ)
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گا لی دینا کفر ہے اور ذمی نے جزیہ دے کر پہلے اسلام کا مطیع ہو نا قبول کیاہے اور کافر ہو نے کے باوجود بسبب جزیہ اس کی جا ن ومال کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
"والکفر المقارن لا یمنعہ "
کہ جب کفر قدیم کے با وجود اس کا ذمہ ختم نہیں ہو تا تو "فالطارﺊ لا یرفعہ " کفر جدید یعنی سب النبی کے با عث بھی عقد ذمیت پر اثر نہیں گا۔ لیکن باوجود اس کے کہ اس کا ذمہ ختم نہیں ہوتا۔ مگر تعزیراً اس کے قتل کر دینے کے امام صاحب رحمہ اللہ بھی قائل ہیں۔ چنانچہ ردالمحتا ر میں علامہ خیر الدین رملی رحمہ اللہ سے منقول ہے
"لا یلزم من عدم النقض عدم القتل وقدصر حوا بانہ یعزر علی ذلک ویودب وھو یدل علی جواز القتل زجراً لغیرہ اذن یجوز الترقی فی التعزیر الی القتل "
حاصل کلام یہ ہے کہ ذمی کا عہد نہ ٹوٹنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا قتل کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے حا لا نکہ تمام مشائخ عظا م نے اس بات کی تصریح کی ہےکہ گا لی دینے والاذمی تعزیر کیا جا ئے گا اور یہ اس بات پردلالت کرتا ہے کہ تعزیر میں قتل کردینا بھی جائز ہے دوسروں کی تنبیہ کے لئے۔
اور یہ رعایتی پیکج بھی اسی وقت تک ہے جب تک وہ پوشیدہ ایک یا دو دفعہ گا لی دینے کا مرتکب ہوا ہو۔ لیکن اگر وہ اپنی فطرت خبیثہ کے باعث اعلانیہ اس حرا م کا ری میں ملوث ہو تو امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک اسے قتل کردیا جا ئے گا۔ چنانچہ حاشیہ ردالمحتار میں مذکور ہے
"مطلب فی حکم سب الذمی النبی ای اذا لم یعلن فلو اعلن بشتمہ او اعتادہ قتل و لو امرءۃ وبہ یفتی الیوم"
یعنی ذمی کے قتل میں اختلاف کا مسئلہ اس وقت تک ہے جب اس کا یہ جرم پوشیدہ ہو۔لیکن جب وہ اعلانیہ بے غیرتی پر اتر آ ئے تو اسے قتل کردیا جا ئےگا چا ہے وہ عورت ہی کیوں نہ اسی پر فتوی ہے۔
اب اس مسئلہ کو بنیاد بنا کر اگر کو ئی احنا ف پر زبان طعن دراز کرے تو یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ اس شخص کو خدا کے حضور پیشی کا کوئی خو ف نہیں۔ اسے اس دن سے ڈرنا چا ہئے جس دن سب راز کھل جا ئیں گے۔
وما علینا الا البلاغ المبین