نماز اہل السنت والجماعت

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
قسط نمبر4:
نماز اہل السنت والجماعت
مولانا محمد الیاس گھمن
فرض نمازوں کی تعداد رکعات:
فجر ……………………………………………………………………….دو رکعات
ظہر……………………………………………………………………….چار رکعات
عصر……………………………………………………………………….چار رکعات
مغرب………………………………………………………………….تین رکعات
عشاء……………………………………………………………………….چار رکعات
فرائض کی مندرجہ بالا تعدادِ رکعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے اب تک امت کے تواتر عملی سے ثابت ہے۔ علاوہ ازیں کتب حدیث میں یہ تعداد مفصلاًمذکور ہے۔ اس بارے میں ایک حدیث نقل کی جاتی ہے:
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِنِ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ جَائَ جِبْرَائِیْلُ اِلَی النَّبیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ وَذٰلِکَ دُلُوْکُ الشَّمْسِ حِیْنَ مَالَتْ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی الظُّھْرَ اَرْبَعاً ثُمَّ اَتَاہُ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہٗ مِثْلَہٗ فَقَالَ قُمْ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ اَرْبَعاً ثُمَّ اَتَاہُ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ لَہٗ قُمْ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثَلَاثاً ثُمَّ اَتَاہٗ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ فَقَالَ لَہٗ قُمْ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ الاْٰخِرَۃَاَرْبَعاً ثُمَّ اَتَاہُ حِیْنَ بَرَقَ الْفَجْرُ فَقَالَ لَہٗ قُمْ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّی الصُّبْحَ رَکْعَتَیْنِ
(مسند اسحاق بن راھویہ بحوالہ نصب الرایۃ ج1 ص223 باب المواقیت،المعجم الکبیر للطبرانی ج7 ص129 رقم14143،السنن الکبریٰ للبیہقی ج1 ص 361باب عدد رکعات الصلوات الخمس)
ترجمہ: حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں۔ یہ سورج کے ڈھلنے کا وقت تھا ،جبکہ سورج ڈھل گیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ظہر کی چاررکعات پڑھیں پھر ان کے پاس حضرت جبرئیل آئے ،جبکہ سایہ ایک مثل کے برابر ہو گیا تھا۔ تو انہوں نے کہا کہ کھڑے ہوں اور نماز ادا کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی چار رکعات پڑھیں پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت آئے جب سورج غروب ہو گیا تھا توانہوں نے کہا کہ کھڑے ہوں اور نمازپڑھیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی تین رکعات پڑھیں حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی تھی اور کہا نماز پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی چار رکعات پڑھیں پھر جبرائیل علیہ السلام اس وقت آئے جب صبح طلوع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ نماز ادا کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی دو رکعت پڑھیں
سنن مؤ کدہ کی بارہ رکعتیں ہیں
2رکعات فجر سے پہلے 4 رکعات ظہر سے پہلے اور 2رکعات ظہر کے بعد
2 رکعات مغرب کے بعد 2 رکعات عشاء کے بعد
عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی فِیْ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ ثِنَتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً بُنِیَ لَہٗ بَیْتٌ فِی الْجَنَّۃِ اَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَائِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ۔
(جامع الترمذی ج1 ص94 باب ماجاء فی من صلی فی یوم ولیلۃ ثنتی عشرۃ رکعۃ رواہ مسلم مختصراً فی صحیحہ ج۱ ص۲۵۱ باب فضل السنن الراتبۃ قبل الفرائض)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے گا اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جائے گا چار ظہر سے پہلے ،دو ظہر کے بعد ،دو مغرب کے بعد ،دو عشاء کے بعد اور دو فجر سے پہلے۔
فجر کی رکعات: 2 سنت (مؤ کدہ) اور 2 فرض
1: عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی شَیْئٍ مِنَ النَّوَافِلِ اَشَدَّ تَعَاھُدًا مِنْہُ عَلٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ۔
(صحیح البخاری ج1 ص156 باب تعاھد رکعتی الفجر،صحیح مسلم ج1 ص 251 باب استحباب رکعتی الفجر والحث علیھاالخ)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نفل کی اتنی زیادہ پابندی نہیں فرماتے تھے جتنی فجر کی دو رکعتوں کی کرتے تھے۔
2: عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاتَدَعُوْھُمَا وَاِنْ طَرَدَتْکُمُ الْخَیْلُ۔
(سنن ابی داؤد ج1 ص186 باب فی تخفیفھما رکعتی الفجر،شرح معانی الآثار ج1 ص209 باب القرأۃ فی رکعتی الفجر)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فجر کی دو رکعتوں کو نہ چھوڑو خواہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں۔
ظہر کی رکعات : 4 سنت (مؤ کدہ) 4 فرض 2 سنت (مؤ کدہ) 2 نفل
1: عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ لَایَدَعُ اَرْبَعًا قَبْلَ الظُّھْرِوَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ۔
(صحیح البخاری ج1 ص 157 باب الرکعتین قبل الظھر)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔
2: عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی قَبْلَ الظُّھْرِ اَرْبَعًا وَبَعْدَھَا اَرْبَعًاحَرَّمَہٗ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَی النَّارِ۔
(جامع الترمذی ج1 ص98 باب اٰخر من سنن الظھر)
ترجمہ : حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ظہر سے پہلے چار اور بعدمیں چار رکعات پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام فرمادیں گے
فائدہ: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی گزشتہ روایت میں دو رکعت سنت مؤ کدہ کا ثبوت ملتا ہے اور اس روایت میں ظہر کے بعد چار رکعت کا تذکرہ ہے۔ تو دو رکعت سنت مؤ کدہ کے علاوہ یہ دو نفل ہیں۔
عصر کی رکعات: 4 سنت (غیر مؤ کدہ) 4 فرض
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللّٰہُ امْرَأً صَلّٰی قَبْلَ الْعَصْرِاَرْبَعًا۔
(جامع الترمذی ج1 ص98 باب ما جاء فی الاربع قبل العصر )
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعت پڑھتا ہے۔
مغرب کی رکعات:
3رکعات فرض 2 سنت (مؤ کدہ) 2 نفل
1: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ مَنْ رَکَعَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ کَانَ کَالْمُعَقِّبِ غَزْوَۃً بَعْدَغَزْوَۃٍ۔
(مصنف عبدالرزاق ج2 ص415 باب الصلاۃ فیمابین المغرب والعشائ، رقم الحدیث 4740)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے مغرب کی نماز کے بعدچار رکعت پڑھیں تو وہ ایسا ہے جیسے ایک غزوے کے بعد دوسرا غزوہ کرنے والا۔
2: عَنْ اَبِیْ مَعْمَرٍعَبْدِاللّٰہِ بْنِ سَنْجَرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ بَعْدَ الْمَغْرِبِ۔
(مختصر قیام اللیل للمروزی ص85 باب یصلی بین المغرب والعشاء اربع رکعات)
ترجمہ: حضرت ابو معمر عبداللہ بن سنجرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’’حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مغرب کے بعد چارکعت پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
عشاء کی رکعات: 4سنت(غیر مؤ کدہ)،4 فرض،2سنت (مؤ کدہ)،2 نفل،3 وتر، 2 نفل
1: عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ رَحِمَہُ اللہُ کَانُوْا یَسْتَحِبُّوْنَ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ قَبْلَ الْعِشَائِ الْاٰخِرَۃِ۔
(مختصر قیام اللیل للمروزی ص85 یصلی بین المغرب والعشاء اربع رکعات)
ترجمہ: حضرت سعید بن جبیررحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز سے پہلے چار رکعت پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔
2: عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ اَوْفٰی رَحِمَہُ اللہُ اَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سُئِلَتْ عَنْ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَقَالَتْ کَانَ یُصَلِّیْ صَلٰوۃَ الْعِشَائِ فِیْ جَمَاعَۃٍ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی اَھْلِہٖ فَیَرْکَعُ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ ثُمَّ یَأوِیْ اِلٰی فِرَاشِہٖ۔
(سنن ابی داؤد ج1ص 197 باب فی صلوۃ اللیل)
ترجمہ: حضرت زرارہ بن اوفیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درمیانِ رات والی نماز کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کر گھر تشریف لاتے تو چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آرام فرماتے۔
3: عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُؤْتِرُبِثَلَاثٍ یَقْرَئُ فِیْ اَوَّلِ رَکْعَۃٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی وَفِی الثَّانِیَۃِ قُلْ یَااَیُّھَاالْکَافِرُوْنَ وَفِی الثَّالِثَۃِ قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ وَالْمُعَوَّذَتَیْنِ۔
(شرح معانی الآثار ج 1ص200 باب الوتر ،صحیح ابن حبان ص718 ،مصنف عبد الرزاق ج 2ص404)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وتر تین رکعت پڑھتے تھے پہلی رکعت میں’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ‘‘ پڑھتے ، دوسری رکعت میں ’’ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ‘‘اور تیسری رکعت میں ’’قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ ‘‘ اور معوذتین پڑھتے تھے۔۔
4: عَنْ اَبِیْ سَلْمَۃَرَحِمَہُ اللہُ قَالَ سَاَلْتُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَاعَنْ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ یُصَلِّیْ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّیْ ثَمَانَ رَکْعَاتٍ ثُمَّ یُوْتِرُ ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔
(صحیح مسلم ج1ص254 باب صلوۃ اللیل و عدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل،صحیح البخاری ج1ص155 باب المداومۃ علی رکعتی الفجر)
تر جمہ: حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے ،فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پہلے آٹھ رکعت (تہجد)پڑھتے ،پھر وتر پڑھتے ،پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔
5: عَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ بَعْدَ الْوِتْرِ رَکْعَتَیْنِ۔
(جامع الترمذی ج1 ص 108 باب ماجاء لا وتران فی لیلۃ،سنن ابن ماجۃ ج1ص 83 باب ما جاء فی الرکعتین بعد الوتر جالساً)
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ )جاری ہے (