نماز اہل السنت۔ والجماعت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
قسط نمبر :5
نماز اہل السنت والجماعت
مولانا محمد الیاس گھمن
طریقہ نماز
نیت کرنا :

1.

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

2.

وَمَااُمِرُوْااِلاَّ لِیَعْبُدُوْااللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ حُنَفَآئَ۔
(سورۃ البینۃ: 5)
ترجمہ: انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالی کی عبادت کریں اُس کے لئے اپنے دین کو خالص کرکے یکسو ہو کر۔

3.

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطِّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔
(۲)(مسند ابی حنیفۃ بروایت الحارثی ج1 ص250 رقم الحدیث264 ،صحیح البخاری ج 1ص 2باب کیف بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )
ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے ۔
استقبال قبلہ :

1.

اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْاوُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ۔
(سورۃ البقرۃ: 144)
ترجمہ : اور تم جہاں کہیں بھی ہو تو پھیر دو اپنے چہروں کو اسی کی طرف۔

2.

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاسْبِغِ الْوُضُوْئَ ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ۔
(صحیح بخاری ج 2ص286 باب اذا حنث ناسیا فی الایمان،صحیح مسلم ج 1ص170 باب وجوب قراء الفاتحۃ فی کل رکعۃ )
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو اچھی طرح وضو کر اور پھر قبلہ کی طرف منہ کر۔
استقبال قبلہ کے و قت چہرہ قبلہ کی طرف ہونا:
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ بَیْنَ النَّاسِ بِقُبَآئٍ فِیْ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ اِذْ جَآئَ ہُمْ آتٍ فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اللَّیْلَۃَ قُرْاٰنٌ وَقَدْاُمِرَاَنْ یَّسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ فَاسْتَقْبِلُوْھَاوَکَانَتْ وُجُوْھُھُمْ اِلَی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْااِلَی الْکَعْبَۃِ۔
(صحیح البخاری ج1 ص58 باب ما جا ء فی القبلۃ ،صحیح مسلم ج 1ص200 باب تحویل القبلۃ۔۔)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) مسجد قبا میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس رات قرآن نازل ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کر لیں، تم بھی کعبہ کی طرف منہ کر لو۔ پہلے ان کے چہرے شام (بیت المقدس ) کی طرف تھے تو وہ (نماز ہی میں) کعبہ کی طرف پھر گئے ۔
تکبیر کہتے ہوئے استقبال قبلہ کرنا:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرمایا:
ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ۔
( صحیح بخاری ج 2ص986 باب اذا حنث ناسیا فی الایمان ،صحیح مسلم ج 1ص170 باب تحویل القبلۃ )
ترجمہ: پھر قبلہ کی طرف منہ کر۔
قیام کرنا:

1.

اللہ تعالی کا فرمان ہے۔

2.

وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ۔
(سورۃ البقرۃ : 238)
ترجمہ : اور اللہ کے حضور عاجزی کے ساتھ کھڑے رہا کرو۔

3.

عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:فَسَئَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ صَلِّ قَائِماً
(صحیح البخاری ج 1ص150 با ب اذا لم یطق قاعدا ،سنن ابی داؤد ج 1ص144 باب فی صلوۃ القاعد )
ترجمہ :۔ حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھڑے ہو کر پڑھو۔ ‘‘
قیام میں نگاہیں سجدے کی جگہ رکھنا:

4.

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَااَنَسُ: اِجْعَلْ بَصَرَکَ حَیْثُ تَسْجُدُ۔
(السنن الکبری للبیہقی ج 2ص284۔ باب لایجاوز بصرہ موضع السجود ،مشکوۃ المصابیح ج 1ص91 باب ما لا یجوز من العمل فی الصلوۃ)
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انس ! اپنی نظر سجدے کی جگہ پر رکھو۔

1.

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَااسْتَفْتَحَ الصَّلٰوۃَ ۔۔۔۔۔۔وَیَشْخَصُ بِبَصَرِہٖ اِلٰی مَوْضِعِ سُجُوْدِہٖ۔
(الترغیب والترھیب للاصبھانی ج2 ص421 فصل فی الترھیب من الالتفات فی الصلوۃ )
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنی نگاہوں کو سجدہ کی جگہ پر جمالیتے ۔ ‘‘
تکبیر تحریمہ کہنا:

1.

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

2.

وَذَکَرَاسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی۔
(سورۃ الاعلیٰ: 15)
ترجمہ : اور اپنے رب کانام لیا پھر نماز پڑھی ۔

3.

عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِفْتَاحُ الصَّلٰوۃِ الطُّھُوْرُ وَتَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ وَتَحْلِیْلُھَاالتَّسْلِیْمُ۔
(سنن ابی داؤد ج 1ص98 باب فی تحریم الصلوۃ ،جامع الترمذی ج 1ص6 باب ما جاء فی مفتاح الصلوۃ الطھور )
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نما زکی کنجی طہارت ہے ۔ اس کی تحریم’’ اللہ اکبر‘‘ کہنا ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے۔
الفاظ تکبیر:

1.

اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔

2.

وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ۔
(سورۃ المدثر: 3)
ترجمہ : اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے۔

3.

عَنْ مُحَمَّدِبْنِ مَسْلَمَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا قَامَ یُصَلِّیْ تَطَوُّعاً قَالَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ۔
(سنن النسائی ج 1ص143 باب نوع آخر من الذکر والدعا الخ،المعجم الکبیر للطبرانی ج8 ص226 رقم الحدیث 15857)
ترجمہ : حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ۔ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ’’اللہ اکبر‘‘ کہتے ۔
امام کا جہراً تکبیر کہنا:
عَنْ سَعِیْدِبْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اِشْتَکیٰ اَبُوْھُرَیْرَۃَ۔ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَوْغَابَ فَصَلّٰی اَبُوْسَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَجَھَرَ بِالتَّکْبِیْرِحِیْنَ اِفْتَتَحَ وَحِیْنَ رَکَعَ
(السنن الکبری للبیہقی ج 2ص 18باب جہر الامام بالتکبیر ،صحیح البخاری ج 1ص114 باب یکبر وھو ینحض من السجدتین )
ترجمہ: حضرت سعید بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے:
’’ایک بار حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے یا کہیں گئے ہوئے تھے ( اس میں راوی کو شک ہے )توحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو تکبیر کو بلند آواز سے کہا جب نماز شروع کی اور جب رکوع کیا۔
مقتدی و منفرد کا سراً تکبیر کہنا:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُھَادِیْ بَیْنَ رَجُلَیْنِ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ یَخُطُّ بِرِجْلَیْہِ الْاَرْضَ فَلَمَّارَاٰہُ اَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ذَھَبَ یَتَاَخَّرُفَاَشَارَاِلَیْہِ اَنْ صَلِّ فَتَاَخَّرَاَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَقَعَدَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی جَنْبِہٖ وَاَبُوْبَکْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ یُسْمِعُ النَّاسَ التَکْبِیْرَ۔
(صحیح بخاری ج1 ص98۔99 باب من اسمع الناس تکبیر الامام )
ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے بیچ میں سہارا لیتے ہوئے باہر تشریف لے گئے گویا میں اِس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ آپ۔ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پیر زمین پر گھسٹتے جاتے ہیں ۔
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔ نے ان کو فرمایا کہ پڑھو چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ۔ کچھ پیچھے ہٹنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو تکبیر سناتے جاتے تھے
چار رکعت نمازمیں بائیسں تکبیریں ہیں :

1.

عَنْ عِکْرَمَۃَ قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ شَیْخٍ بِمَکَۃَ فَکَبَّرَ ثِنَتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً۔
( صحیح البخاری ج1 ص108 باب التکبیر اذا قام من السجود )
ترجمہ: حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں ایک شیخ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں۔
فائدہ :
’’شیخ‘‘سے مراد حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ سنن طحاوی ج1 ص161 پر تصریح موجود ہے۔

2.1.

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے ایک بار لوگوں کو جمع کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز سکھایا:اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں:
’’ثُمَّ صَلّٰی بِھِمُ الظُّھْرَ فَکَبَّرَفِیْھِمَا ثِنَتَیْنِ۔ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً‘‘
(مصنف عبد الرزاق ج2 ص40 باب التکبیر،رقم الحدیث 2509 )
ترجمہ: ۔ ۔ آپ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی اور اس میں بائیس تکبیریں کہیں۔