چند احادیث کی تشریح

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
خزائن السنن
چند احادیث کی تشریح
مفتی شبیر احمد حنفی
خزائن السنن کے عنوان سے عارف باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم کے ملفوظات کو پیش کیا جاتاہے۔ حضرت دامت برکاتہم نے اپنے علمی ذوق کے مطابق چند احادیث کی بڑی دلنشین تشریح فرمائی ہے ،۔ جسے ہدیہ قارئین کیاجاتا ہے۔۔۔

:

حدیث"اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَاىَ الخ" کی تشریح
عارف۔باللہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا:
ایک مرتبہ مجھے بخاری شریف پڑھاتے ہوئے میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حدیث پڑھی:
اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي مِنْ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنْ الدَّنَسِ
(المشکوۃ،کتاب الدعوات باب الاستعاذۃ)
اے اللہ!میرے گناہوں کو دھو دے برف کے پانی سے اور اولے کے پانی سے۔
ڈاکٹر عبدالحی صاحب بھی موجود تھے۔انہوں نے حضرت سے سوال کیا کہ حضرت یہ برف کے پانی سے اور اولے کے پانی سے گناہوں کو دھونے میں کیا راز ہے؟حدیث میں یہ مثالیں کیوں دی گئی ہیں؟حضرت نے فوراًآنکھیں بند کرلیں،سر جھکالیا اور مشکل سے چند سیکنڈ گزرے ہوں گے کہ فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب! جواب آگیا۔آہ!ایسے بزرگ ہیں جن کی صحبت اللہ نے اختر کو عطاء فرمائی ،جن کو آسمان سے علوم عطاء ہوتے تھے،حالانکہ ہمارا کوئی استحقاق نہیں تھا،بغیراستحقاق کے اس کریم رب نے مجھے اپنے مقبول بندہ کی صحبت نصیب فرمائی جو حضرت گنگوہی رحمہ اللہ شاگرد تھےاور اللہ پاک نے ایسی صحبتیں ایک دو دن نہیں پندرہ سال عطاء فرمائیں۔
مثنوی مولانا روم کی جو شرح میں نے کی ہے وہ حضرت ہی کے فیض کا صدقہ ہے ورنہ مثنوی کی شرح کرنا آسان تھوڑی ہے۔تو ڈاکٹر صاحب کے سوال کا حضرت نے جواب دیا کہ گناہ سے دو چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک گرمی اور دوسرے ظلمت یعنی اندھیرا۔یہ ہر گناہ کی خاصیت ہے۔ اس لیے آپ گنہگار کی پیشانی پر ہاتھ رکھیں تو گرم ہوگا۔گندلے خیالات سے بھی آدمی کا بدن گرم ہوجاتا ہے۔غرض ہر معصیت کے لیے حرارت اور ظلمت ضروری ہے۔ لہذا برف کے پانی سے تو حرارت ختم کرادی اور اندھیرا اوے کے پانی سے ختم ہوگیا۔ چونکہ اولے کا پانی سفید اور چمکدار ہوتا ہے۔اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گناہوں کی حرارت کو تو برف سے زائل کیا اور اولے کے پانی سے اس۔ کی ظلمت اور اندھیرا ختم کیا۔اس لیے کہتا ہوں کہ علم کی برکت اہل اللہ کی صحبت پر موقوف ہے۔
(معارف ربانی ص230،231)
حدیث " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الخ "کی تشریح
فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ
(مسند احمد ج1ص80)
یہ حدیث میں نے آج اس لیے پڑھی ہے کہ ری یونین جیسے علاقوں میں جہاں رات دن بے پردگی،عریانیوں اور فحاشیوں کی آندھیاں چل رہی ہیں ایسی جگہ تو شیطان دل توڑدے گا کہ ہم سب تو جہنم میں ہی۔ جائیں گے۔اس لیے آج اس حدیث کا انتخاب کیا تاکہ شیطان ہمیں مایوس نہ۔ کرسکے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محبوب رکھتے ہیں اس عبد کو جو مومن ہے یعنی عبدیت کاملہ بھی ہے،ایمان بھی ہے لیکن مفتن بھی ہے یعنی کبھی کبھی اس سے خطا ہو جاتی ہے،فتنہ میں مبتلاء ہوجاتاہے اور یہاں فتنہ سے مراد ''فتنہ معصیت'' ہے ،لیکن وہ تواب بھی ہے،بہت زیادہ توبہ کرنے والا ہے۔ اس لیے عنداللہ یہ بھی محبوب ہے اور اس کی توابیت کس مقام کی ہے؟محدث عظیم ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ۔ فرماتے ہیں کہ توابیت کے جو تین درجے ہیں یہ ان تینوں کو حاصل کرلیتاہے۔
الرجوع من المعصیۃ الی الطاعۃ:
کبھی نافرمانی ہوگئی تو جلدی سے اللہ سے معافی مانگ لی اور عبادت میں لگ گیا۔نافرمانی کو چھوڑ دینا اللہ کے راستہ کا پہلا قدم ہے۔
الرجوع من الغفلۃ الی الذکر:
کبھی اس سے ذکر چھوٹ گیا،تلاوت چھوٹ گئی،اللہ کو بھول گیا تو غفلت کی زندگی سے توبہ کرکے پھراللہ میاں کو یاد کرنا شروع کردیتاہے۔اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے وظیفے،تلاوت،دورد شریف اور دیگر معمولات کو شروع کردیتا ہے۔پہلی توبہ عوام کی ہے اور دوسری توبہ خواص کی ہے اور تیسری توبہ جو آگے مذکور ہے اخص الخواص کی ہے۔
الرجوع من الغیبۃ الی الحضور:
اپنے دل کو کسی وقت خدا سے غائب۔ نہیں ہونے دیتا، دل کو ہر وقت اللہ کے حضور میں رکھتا ہے۔ آپ اندازہ۔ کیجیے کہ یہ کتنا بڑا شخص ہے جو توبہ کی تینوں قسموں کا حامل ہے۔ توبۃ العوام بھی اس کے پاس ہے،توبۃ الخواص بھی اور توبۃ اخص الخواص۔ بھی ہے ،یعنی اولیا اللہ کا مقام اس کو حاصل ہے کہ اپنے قلب کو کسی وقت اللہ سے غافل نہیں ہونے دیتا۔جب دل ذرا سا غافل ہوا فوراًاللہ کو یاد کرتاہے کہ تجھ کو اللہ دیکھ رہا ہے اور تو کہاں دیکھ رہاہے؟
مثال کے طور پر میں یہاں اپنے کسی دوست کو دیکھ رہا ہوں اور وہ کہیں اور دیکھ رہا ہو تو بتائیے یہ ناقدری ہے یا نہیں؟تو بندے کو اللہ تعالیٰ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اور وہ بندہ نالائق ہے جو کہیں اور دیکھ رہا ہے۔ میرا اردو شعر ہے۔
میری۔ نظر۔ پہ۔۔ ان۔۔ کی۔۔ نظر۔۔ پاسباں۔۔ رہی
افسوس اس احساس سے کیوں بےخبر تھے۔ ہم

<divclass="text">ہماری نظر پر اللہ کی نظر محاسب ہے۔ہر وقت،ہرلمحہ،ہرسانس اللہ محتسب ہے کہ میرا بندہ کہا دیکھتا ہے؟مجھ کو دیکھتا ہے یا مخلوق میں پھنستا ہے اور مخلوق کو نافرمانی۔ کی راہ سے دیکھتاہے یا ہماری وجہ سے دیکھتا ہے ؟مثلاً کسی حسین لڑکے کو دیکھ رہا ہے تو میری نافرمانی کی راہ اختیار کررہاہے،کسی اللہ والے کو دیکھ رہا ہے تو فرماں برداری کی راہ اختیار کررہا ہے۔ کیونکہ"النظر الی وجہ العالم عبادۃ " کسی عالم کو عقیدت اور محبت سے دیکھنا عبادت میں داخل ہے۔والدین کو ایک نظر محبت سے دیکھ لینا ایک حجِ مقبول کا ثواب ہے۔

(معارف ربانی ص114تا116)