سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
بستان المحدثین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ
مولانا محمد اکمل راجن پوری حفظہ اللہ
نام ونسب:
انس بن مالک بن النضر بن ضمضم بن زیدمحدث مفتی ابوحمزہ انصاری ،خزاعی، مدنی ،خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(اسد الغابۃ ج1ص177،الاستیعاب ص90،سیر اعلام النبلاء ج4ص202)
خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم :
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس وقت میں دس سال کا تھا۔سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو اس وقت میری عمر 8برس تھی تو میری ماں (ام سلیم رضی اللہ عنہ ) مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کی:یارسول اللہ! انصار کے مردوں اور عورتوں نے آپ کو تحائف پیش کیے اور میرےپاس میرے اس بچے کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی جو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ کے پیش کرتی میرے اس بچے کو قبول فرما لیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت۔ کیاکرےگا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
فخدمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشرین سنین لم یضربنی ولم یسبنی ولا یعبس فی وجہی،
( سیر اعلام النبلاء ج4ص204،تہذیب الکمال للمزی ج1ص579)
یعنی 10برس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی اس پورے عرصے میں کبھی بھی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مارا نہ گالی دی اور نہ اپنے چہرے میں شکم لے آئے(تیوری چڑھائی)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا:
حضرت سیدنا انس رضی اللہ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا مجھے میری ماں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا چھوٹاسا خادم ہے اس۔ کے لیے دعا کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی
(اللہم اکثر مالہ وولدہ وادخلہ الجنۃ)
اے اللہ !انس کے مال میں اور اولاد میں برکت دیں اور اس کو جنت میں داخل کرنا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کثرت مال اور اولاد کی دعا تو پوری ہوگئی۔کہ میرا باغ سال میں دو مرتبہ پھل لاتا ہے اور میری اولاد
(وان ولدی لصلبی مأۃوستۃ وفی روایۃ ثمانون ولدا منہم ثمانیۃ وسبعون ذکرا وابنتان)
106اور دوسری روایت میں78بیٹے اور 2بیٹیاں اور تیسری دعا کے پورا ہونے کی امید کرتا ہوں۔
(البدایہ ج5ص109،الاستیعاب ص91)
ایک اور روایت میں "واطل حیاتہ" کے الفاظ بھی آئے ہیں۔آپ نے فرمایا اے اللہ اس کی عمر بھی لمبی اور دراز فرما تو اللہ تعالیٰ نے ان کی عمر میں برکت دی کہ 103برس۔ میں وفات ہوئی۔
(سیر اعلام النبلاء ج4ص204،اسدالغابۃ ج1ص179)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نظر میں:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مارایت احدا اشبہ صلاۃ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ابن ام سلیم یعنی انساً۔،
کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ نماز پڑھنے والا ام سلیم کے بیٹے انس کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔
(تہذیب الکمال للمزی ج1ص578)
ہر رات زیارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
حضرت مثنیٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا :
"مامن لیلۃ الا وانا اری فیہا ،حبیبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم یبکی"
(البدایہ ج5ص109،سیراعلام النبلاء ج4ص206)
کوئی ایسی رات نہیں گزری جس میں میں نے اپنے محبوب مدنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہو۔پھر رونے لگے۔تعجب ہے ان لوگوں پر جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں تک لکھ مارا کہ یہ عقیدہ تو آیات قرآنی کا صریح کفر کرتا ہے۔
(تلاش حق ارشاد اللہ مان نظر ثانی مبشر ربانی ص656)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے حدیث کے سننے کے متعلق سوال اور آپ کا جواب:
حضرت حمید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان فرمائی تو ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟تو آپ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کی قسم! ہم تو تمہیں وہ باتیں بیان کرتے ہیں جن کو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
(تہذیب الکمال للمزی ج1ص579)
تعداد روایات:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مفتی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے زمانے کے بہت بڑے محدث بھی تھے ان کا شمار کثیر الروایات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے۔جیسا کہ امام ابن الاثیر جزری رحمہ اللہ نے آپ کے کثیر الروایات ہونے کی طرف اشارہ اپنی کتاب اسد الغابہ میں ان الفاظ (وہو من المکثرین فی الروایۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ) میں کیا ہے۔
(اسد الغابۃ ج1ص178)
اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء میں آپ کے متعلق کثیر الروایات ہونے کی تصریح ان۔ الفاظ
(الفان ومائتان وستۃ وثمانون)
سے کی ہے۔یعنی 2286روایات حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ان میں سے 180احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کا اتفاق۔ ہےیعنی دونوں نے ان کو اپنی اپنی کتاب میں درج کیا ہے اور 80احادیث ان کے علاوہ امام بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری اور 90احادیث امام مسلم رحمہ اللہ اپنی کتاب صحیح مسلم میں لائے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء ج4ص207)
آپ رضی اللہ عنہ کی روایات میں سے چند کا تذکرہ:
حیات انبیاء علیہم السلام فی القبرکے متعلق۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں۔
الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون،(
(مسند ابی یعلیٰ موصلی ص658رقم 3425)
کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔
سماع موتیٰ کے متعلق حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العبد اذا وضع فی قبرہ وتولیٰ وذہب اصحابہ حتی انہ یسمع قرع نعالہم اتاہ ملکان
(الحدیث صحیح بخاری ج1ص178)
کہ بندہ جب قبرمیں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے چلے جاتے ہیں ابھی وہ ان جانے والوں کی جوتیوں کی کھٹکھٹاہٹ۔ ہی سن رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں۔
نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے متعلق حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ثلاث من اخلاق النبوۃ تعجیل الافطار وتاخیر السحور ووضع الید الیمنیٰ علی الیسریٰ فی الصلوۃ تحت السرۃ،
(الجوہر النقی ج2ص32)
کہ تین چیزیں نبوۃ کے اخلاق میں سے ہیں۔(1)روزہ جلدی افطار کرنا(2)سحری دیر سے کھانا(3)نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھنا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ۔ امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان نقل فرماتے ہیں:
صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أقبل بوجهه فقال أتقرؤن والإمام يقرأفسكتوا فسألهم ثلاثا فقالوا إنا لنفعل قال فلا تفعلوا
(سنن الطحاوی ج1 ص159)
کہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھائی اور پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم قراءت کرتے ہو اور امام بھی قراءت کرتا ہے؟ پس وہ [صحابہ کرام] خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے تین مرتبہ پوچھا انھوں نے کہا کہ ہم قراءت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم (امام کے پیچھے قراءت) نہ کیا کرو۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ نماز وتر کی تین رکعتوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں:
اوتر بثلاث یسلم فی آخرہن
(کنز العمال ج8ص67 رقم الحدیث21902)
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وترکے آخر میں سلام پھیرتے۔
سن اور مقام وفات:
خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس رضی اللہ عنہ وہ چراغ علم ہیں جن سے دنیا والے 93برس اپنے علم کی شمع جلاتے اور تاریکیوں کو روشنی سے بدلتے رہے ان کے۔ دنیا ئے فانی کو خیر باد کہنے کے سن کے متعلق 3قول ہیں۔(۱)91ھ(2)92ھ(3)93ھ آخری قول مشہور ہے اور یہی جمہور کا قول ہے اس حساب سے آپ کی کل عمر 103برس بنتی ہے۔
آپ۔ کی وفات پر امام مورق رحمہ اللہ۔ نےفرمایا:
ذہب الیوم نصف العلم
،کہ آج آدھا علم رخصت ہوگیا۔
(تہذیب الکمال للمزی ج1ص582،البدایہ ج5ص112)
خادم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا انس رضی اللہ کی نماز جنازہ:
آپ رضی اللہ عنہ کی نماز حضرت قطن بن مدرک الکلابی رحمہ اللہ نے پڑھائی ،وصلی علیہ قطن بن مدرک الکلابی
،(اسد الغابہ ج1ص129،الاستیعاب ص91)