حقوقِ مسلم

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
آداب معاشرت
حقوقِ مسلم
مولانا محمد ابوبکر اوکاڑوی حفظہ اللہ
عن أَبي هريرة۔ رضي الله عنه۔ أنَّ رَسُول الله۔ صلى الله عليه وسلم۔ قَالَ : حَقُّ المُسْلِم عَلَى المُسْلِم خَمْسٌ : رَدُّ السَّلامِ۔ وَعِيَادَةُ المَريض۔ وَاتِّبَاعُ الجَنَائِزِ۔ وَإجَابَةُ الدَّعْوَة وتَشْميتُ العَاطِسِ۔ ( مُتَّفَقٌ عَلَيهِ )
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں۔سلام کا جواب دینا،بیمار کی عیادت کرنا ،جنازے کے ساتھ جانا،دعوت کو قبول کرنا،اور چھینک مارنے والے کا جواب دینا۔
تشریح:
اسلام ایک عالمگیر مذہب ہونے کی بنا پر باہمی اخوت اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسی کی مثال پیش کی جارہی ہے کہ جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق بیان فرمائے ہیں۔ان حقوق کی ادائیگی۔ سے مسلمانوں کا باہمی تعلق بہت مضبوط ہوگا،اس لیے ان چیزوں کا خاص طور پر اہتمام کرنا چاہیے۔بعض مقامات پر ان کے علاوہ اور حقوق کا بھی ذکر فرمایا گیا،مقصد ان کے بیان فرمانے کا یہی ہے کہ وہ انسان جو دور جاہلیت میں ایک دوسرے کی جان ومال اور عزت کا دشمن تھا وہی انسان اسلام کی دولت سے مالا مال ہونے کے بعد ایک دوسرے کی ان چیزوں کا محافظ بن جائے