وراثت کے متعلق چند مسائل

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
فقہ المسائل
وراثت کے متعلق چند مسائل
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن
سوال: ایک شخص کا بیٹا نافرمان ہے۔ کئی بار والد سے جھگڑنے کی نوبت بھی آ چکی ہے۔نماز روزہ کا بھی پابند نہیں، ہر وقت بری صحبت میں رہتا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر باپ نے اپنے اس بیٹے کو اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے محروم کر دیا ہے اور اخبار میں بھی عاق نامہ کا اشتہار دے دیا ہے۔
آیا اس طرح والد کا اپنی اولاد کو محروم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ بعید نہیں کہ والد کا ترکہ ملنے پر وہ مزید بے راہ روی اور ناجائز امور و افعال کا مرتکب ہو۔
جواب: وراثت ایک اضطراری حق ہے، والد کے ختم یا زائل کرنے سے ختم نہیں ہو گا۔ اس لیے اس شخص کا بیٹے کو محروم کرنا شرعاً لائقِ اعتبار نہیں بلکہ بیٹا جائیداد کا بدستور وارث ہو گا۔
بیٹا جب بے راہ روی کا شکار ہےاور والدین کا بھی نافرمان ہےتو وہ اپنی آخرت تباہ کر رہا ہےجس کا وبال ممکن ہے اسے اس دنیا میں بھی ملے اور آخرت میں تو یقیناً بد اعمالی کی سزا ملے گی، لیکن والدین کو اجازت نہیں کہ اسے محروم کر دیں ورنہ وہ خود اپنی آخرت برباد کر بیٹھیں گے۔
کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة
(مشکوۃ المصابیح:3078)
و فی تکملۃ رد المحتار: الارث جبری لا یسقط بالاسقاط
( ج2: ص116:)
سوال: میرے والد صاحب کو فوت ہوئے چار سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ والد صاحب نےترکہ میں دو مکان، ایک دکان اور پانچ ایکڑ زمین چھوڑی ہے۔ ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں اور والدہ صاحبہ بھی حیات ہیں۔ یہ ترکہ ہمارے درمیان کیسے تقسیم ہو گا؟
جواب: مرحوم کے ترکہ میں سے تجہیز و تکفین ، قرضہ کی ادائیگی اور وصیت کی نفاذ کے بعد جو رقم بچے اسےاٹھاسی (۸۸)حصوں پر تقسیم کیا جائےگا۔ ان میں سے گیارہ (۱۱) حصے بیوہ کو،چودہ چودہ (۱۴،۱۴) لڑکوں کو اورسات سات (۷،۷) لڑکیوں کو دیے جائیں گے۔ نقشہ یہ ہے:
بیوہ
بیٹا
بیٹا
بیٹا
بیٹا
بیٹی
بیٹی
بیٹی
11
14
14
14
14
7
7
7
سوال: ہمارے ہاں عام طور پر بیٹی کا نکاح کرتے وقت جہیز کے نام پراسے کچھ سامان دیا جاتاہے۔ جب تقسیم میراث کا وقت آتا ہے تواسے ترکہ میں سے کچھ نہیں دیا جاتا بلکہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہم نے جہیز کی شکل میں اسے اس کا حصہ دے دیا تھاشرعاً اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا جہیز دینے سے اس لڑکی کا ورثہ میں سے حصہ ختم ہو جاتا ہے؟
جواب: یہ موقف اختیار کرتے ہوئےکہ" ہم نے جہیز کی شکل میں اسے اس کا حصہ دے دیا تھا" بیٹیوں کو جائیداد سے محروم کرنا چند وجوہ سے غلط ہے۔
1: ترکہ کا حصہ والدین کی جائیداد کا ایک متعین حصہ ہوتا ہے۔ جہیز کے نام پر جو چیزیں والدین نے دی ہیں ان کی مالیت متعین نہیں ہوتی بلکہ وہ حسب توفیق دیتے ہیں۔ تو ایک متعین حصہ ایک غیر متعین حصہ کے قائم مقام کیسے ہو سکتا ہے؟
2: ورثہ والدین کی وفات کے بعدہوتا ہے، حیات میں نہیں۔
3: ایک چیز کا دوسری چیز کے بدلے لینا دینا یہ معاملہ ہے جو دو فریقوں کے درمیان طے پاتا ہے۔ تو کیا والدین نے بیٹی کے ساتھ طے کیا تھا کہ یہ جہیز ہم تمھیں ورثہ کے بدلے دے رہے ہیں؟
خلاصہ یہ کہ اس طرح جہیز کے نام پر اپنی بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا سنگین جرم اور گناہ ہے۔ اس سے یکسر اجتناب کیا جائےاور بیٹیوں کو شرعاً جو ان کا حصہ بنتا ہے دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب