نماز اہل السنت والجماعت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
قسط نمبر:5
نماز اہل السنت والجماعت
مولانا محمد الیاس گھمن
شروع نماز میں رفع یدین کرنا
:1 عَنِ ابْنِ عُمَرَوَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ …فِیْ اِفْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ۔
(شرح معانی الٓاثار ج1 ص416 باب رفع الیدین عند رویت البیت )
ترجمہ:
حضرت ابن عمراور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سات مقامات پر ہاتھوں کو اٹھایا جاتا ہے (ان میں سے ایک) شروع نماز میں۔ ( یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت)
:2 عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ
(سنن ابی داؤد ج1 ص112 باب تفریع استفتاح الصلوۃ )
ترجمہ :
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب نماز شروع کی تورفع یدین کیا۔
رفع یدین کی کیفیت:
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاکَبَّرَ لِلصَّلٰوۃِ نَشَرَاَصَابِعَہٗ۔
(جامع الترمذی ج 1ص 56باب نشر الاصابع عند التکبیر ،صحیح ابن خزیمہ ج 1ص263 باب نشر الاصابع عند رفع الیدین..۔ رقم الحدیث 458)
ترجمہ :
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نمازکے لئے تکبیر کہتے تو اپنی انگلیوں کو کھلا رکھتے۔
تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھائے جائیں ؟
:1 عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ اِنَّہٗ رَاَیٔ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتیّٰ تَکَادَ اِبْھَامَاہُ تُحَاذِیْ شَحْمَۃَ اُذُنَیْہِ۔
(سنن النسائی ج 1ص141 باب موضع الابھامین عند الرفع ،سنن ابی داؤد ج 1ص 112باب تفریع استفتاح الصلوٰۃ ،مصنف ابن ابی شیبہ ج 2ص406باب الی این یبلغ بیدہ،رقم الحدیث 2425 )
ترجمہ :
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کی لو کے برابر ہو جاتے۔
:2 عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ اِذَا کَبَّرَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتیّٰ حَاذٰی بِھِمَا اُذُنَیْہِ… وَفِیْ رِوَایَۃٍ… حَتیّٰ یُحَاذِیَ بِھِمَا فُرُوْعَ اُذُنَیْہِ۔
(المحلی بالآثارلابن حزم ج2 ص264 تحت مسئلہ 35،مصنف ابن ابی شیبہ ج2 ص407 باب الی این یبلغ بیدہ، رقم الحدیث2427 )
ترجمہ:
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر کہتے تھے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے یہاں تک کہ انہیں کانوں کے قریب کر لیتے ایک روایت میں ہے کہ اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے تھے۔ ‘‘
رفع یدین میں ہتھیلیوں کا قبلہ رخ ہونا:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَااسْتَفْتَحَ اَحَدُکُمْ (الصَّلٰوۃَ)فَلْیَرْفَعْ یَدَیْہِ وَلْیَسْتَقْبِلْ بِبَاطِنِھِمَا الْقِبْلَۃَ فَاِنَّ اللّٰہَ اَمَامَہٗ۔
(المعجم الاوسط للطبرانی ج 6ص9 رقم الحدیث 7801،السنن الکبری للبیہقی ج2 ص27 باب کیفیۃ رفع الیدین ،مجمع الزوائد ج 2ص 270باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ)
ترجمہ :
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز شروع کرے تو دونوں ہاتھوں کو اٹھائے اور ہتھیلیوں کو قبلہ رخ کرے کیونکہ اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے۔
دائیں ہاتھ سے بائیں کو پکڑنا:
عَنِ ابْنِ عَبَّاس رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّا مَعْشَرَالْاَنْبِیَاءِ اُمِرْنَااَنْ نُؤَخِّرَسُحُوْرَنَا وَنُعَجِّلَ فِطْرَنَاوَاَنْ نُمْسِکَ بِاَیْمَانِنَاعَلٰی شَمَائِلِنَا فِیْ صَلٰوتِنَا۔
(صحیح ابن حبان ص 555.554ذکر الاخبار عما یستحب للمرئ، رقم الحدیث 1770، المعجم الکبیر للطبرانی ج 5ص233 رقم الحدیث 10693،المعجم الاوسط ج 3ص 179)
ترجمہ :
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم انبیاء علیہم السلام کی جماعت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ سحری تاخیر سے کریں، افطار جلدی کریں اور نماز میں اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر رکھ کر پکڑیں۔
دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے گٹے (کلائی )پر رکھنا:
:1 عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : لَاَ نْظُرَنَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَیْفَ یُصَلِّیْ؟ قَالَ فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ قَامَ فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی حَاذَتَا اُذُنَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہٗ الْیُمْنٰی عَلٰی ظَھْرِکَفِّہِ الْیُسْریٰ وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ۔
(صحیح ابن حبان ص 577ذکر ما یستحب للمصلی رفع الیدین ،سنن النسائی ج1 ص141 باب موضع الیمین من الشمال فی الصلوٰۃ ،سنن ابی داؤد ج 1ص112 باب تفریع استفتاح الصلوٰۃ )
ترجمہ :
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں نے کہا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے ہیں ؟
تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نما زکے لئے کھڑے ہوئے ، تکبیر کہی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ کانوں کے قریب کر لئے پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی پشت ، گٹے اور کلائی پر رکھا۔
:2 عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ اَنْ یَّضَعَ الرَّجُلُ الْیَدَ الْیُمْنٰی عَلٰی ذِرَاعِہِ الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ۔
(صحیح البخاری ج 1ص 102باب وضع الیمنی علی الیسریٰ)
ترجمہ :
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں (یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ کو حکم دیا جاتا کہ نمازکے وقت آدمی اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں کلائی پر رکھے۔
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا:
:1 عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلَی شِمَالِہٖ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج3 ص321،322، وضع الیمین علی الشمال،رقم الحدیث 3959 )
ترجمہ :
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھے ہوئے تھے
:2 عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ مِنَ السُّنَّۃِ فِی الصَّلٰوۃِ وَضْعَ الْاَکُفِّ عَلَی الْاَکُفِّ تَحْتَ السُّرُّۃِ۔
(الاحادیث المختارہ للمقدسی ج2 ص387 رقم الحدیث 771,مصنف ابن ابی شیبۃ ج 3ص324 ،وضع الیمین علی الشمال، رقم الحدیث 3966 )
ترجمہ :
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ اپنے (دائیں)ہاتھ کو (بائیں) ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے۔
:3 عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ ثَلاَثٌ مِّنْ اَخْلَاقِ النُّبُوَّۃِ تَعْجِیْلُ الْاِفْطَارِ وَ تَاخِیْرُ السُّحُوْرِ وَوَضْعُ الْیَدِالْیُمْنٰی عَلَی الْیُسْریٰ فِی الصَّلٰوۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔
(الجوہر النقی علی البیہقی ج2 ص32 باب وضع الیدین علی الصدر فی الصلوۃ )
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین چیزیں نبوت کے اخلاق میں سے ہیں۔
:1روزہ جلدی افطار کرنا۔
:2سحری دیر سے کھانا۔
:3نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں پر ناف کے نیچے رکھنا۔
ثناء سبحانک اللھم پڑھنا:
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ قَالَ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمَدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔
( سنن النسائی ج 1ص143 باب نوع آخر من الذکر )
ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمَدِکَ آخر تک پڑھتے تھے۔
ترجمۂِ ثناء: اے اللہ! تو( شریکوں سے) پاک ہے،تیری تعریف کرتا ہوں، تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان سب سے او نچی ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
:2 عَنْ عَبْدَۃَ اَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کَانَ یَجْھَرُبِھٰؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمَدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ۔
(صحیح مسلم ج1 ص172 باب حجۃ من قال لا یجھر بالبسملۃ )
ترجمہ : حضرت عبدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کو بلند آواز سے کہتے تھے سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمَدِکَ آخر تک۔ (غالباً یہ تعلیم کے لئے ہوگا)
ثناء آہستہ پڑھنا:
عَنْ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ اَرْبَعٌ یُخَافِتُ بِھِنَّ الْاِمَامُ …سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمَدِکَ۔
(کتاب الآثار لابی حنیفۃ ج 1ص 108رقم الحدیث83 باب الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم ،مصنف عبد الرزاق ج2 ص57 باب ما یخفی الامام، رقم الحدیث 2599 )
ترجمہ : حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ چار چیزیں ہیں جنہیں امام آہستہ پڑھے ان میں پہلی سَبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ ہے۔
اعوذ باللہ پڑھنا:
اللہ تعالی کا فرمان ہے
: وَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
(سورۃ النحل :98)
ترجمہ: جب آپ قرآن کی تلاوت کیا کریں تو شیطان مردود سے بچاؤ کے لئے اللہ کی پناہ مانگ لیا کریں۔ (یعنی اعوذ باللہ پڑھا کریں)
:2 عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ قَبْلَ الْقِرَائَۃِ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
(مصنف عبد الرزاق ج 2ص 56 باب متی یستعیذ، رقم الحدیث 2599)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرات سے قبل اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھتے تھے۔