حبرالامۃ سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تذکرۃ الفقہاء
حبرالامۃ سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
مولانا محمد عاطف معاویہ حفظہ اللہ
نام ونسب:
عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف القرشی الہاشمی۔آپ رضی اللہ عنہما حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔
(الاصابہ ج2ص1074رقم4783،اسد الغابہ ج3ص96رقم3038)
ولادت:
ہجرت سے تین سال قبل (جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم شعب ابی طالب میں تھے)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ولادت باسعادت ہوئی۔
(الاستیعاب ص465،466رقم1610)
علمی ذوق:
آپ بچپن ہی سے علمی ذوق رکھنے والے تھے۔ آپ اکثر اوقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت ابی حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت دیکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے تھے۔اسی صحبت کی برکت سے آپ نے اپنے وقت کے مروجہ تمام علوم میں مہارت تامہ حاصل کر لی تھی۔خصوصاً علم التفسیر اور علم فقہ میں آپ رضی اللہ عنہما کوجو مہارت تھی وہ اپنی مثال آپ ہے۔شاید اس کی وجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والی وہ دعا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہما کے حق میں فرمائی تھی۔
آپ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:
"کنت فی بیت میمونۃ بنت الحارث فوضعت لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہورا فقال من وضع ہذا؟قالت میمونۃ عبداللہ فقال صلی اللہ علیہ وسلم اللہم فقہہ فی الدین وعلمہ التاویل۔
(صحیح ابن حبان ص1885رقم الحدیث 7055)
کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا۔[حضور صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو]میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی رکھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : یہ پانی کس نے رکھا ہے؟حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ عبداللہ نے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! اسے دین کی سمجھ عطاء فرما اور تاویل (تفسیر)کا علم سکھا۔اسی دعا کی برکت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دونوں علوم[علم فقہ اور علم تفسیر] میں وافر حصہ عطاء فرمایا تھا۔
تفسیر قرآن:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تفسیر میں مہارت کی وجہ سے مفسر قرآن اور ترجمان القرآن کے لقب سے یاد کیا جاتاہے۔ہم یہاں آپ رضی اللہ عنہما سے مروی چند تفاسیر کو نقل کرتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف عقائد ومسائل میں قرآن سے موید ہے۔
1: قرآن کریم میں بہت سارے مقامات پر اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ید،عین،وجہ،ساق وغیرہ استعمال کیے گئے ہیں ان الفاظ کے بارے میں متاخرین اہل السنۃ کا موقف یہ ہے کہ ان الفاظ کا حقیقی معنیٰ اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہے ہم ان کے معانی میں درجہ ظن میں تاویل کرتے ہیں یعنی ضرورت کے وقت ان الفاظ میں تاویل ہوسکتی ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ان الفاظ میں تاویل منقول ہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہما قرآن کریم کی آیت یوم یکشف عن ساق،میں"ساق"کا معنی ٰشدت فرماتے ہیں اور آیت والسماء بنینٰہا باید میں "اید "کا معنیٰ قوت فرماتے ہیں
(فتح الباری ج8ص846،تفسیر جامع البیان للقرطبی ج13ص8034)
2: اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہ کہ مسائل اجتہادیہ میں مجتہدین اور فقہاء کی اتباع وتقلید کرنی ضروری ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
یا ایہا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم الایہ
(نساء:59)
اس آیت میں اولی الامر سے مراد فقہاء ہیں چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں
قولہ واولی الامر منکم یعنی اہل الفقہ والدین واہل طاعۃ اللہ الذین یعلمون الناس معانی دینہم یامرونہم بالمعروف وینہونہم عن المنکر فاوجب اللہ سبحانہ طاعتہم علی العباد
(تفسیر ابن ابی حاتم رازی ج3ص69)
یعنی اس آیت میں اولی الامر سے مراد اطاعت خدا کرنے والے وہ لوگ اور فقہاء ہیں جو لوگوں کو دین سکھاتے ہیں اچھی باتوں کا حکم کرتے ہیں بری باتوں سے منع کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فقہاء کی اطاعت کو واجب قرار دیاہے۔
3: اہل السنۃ والجماعۃ احناف کا موقف یہ ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے قرآن کی تلاوت نہ کرے اور قرآن کی آیت واذا قرء القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا،اس موقف کی تائید کرتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیت مقتدی کو امام کے پیچھے قرآن پڑھنے سے روکنے کےلیے نازل ہوئی ہے۔
۱: عن علی ابن ابی طلحۃ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما فی قولہ واذا قرء القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا یعنی فی الصلوۃ المفروضۃ
(کتاب القراءۃ للبیہقی ص259رقم222)
یعنی فرض نماز میں جب امام قرآن پڑھے تو مقتدی خاموش رہیں اور غور سے سنیں۔
۲: عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرء فی الصلوۃ فقرء اصحابہ وراءہ فخلطوا علیہ فنزل واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا فہذہ فی المکتوبۃ ثم قال ابن عباس وان کنا لانستمع لمن یقرء ان اذا لاجفیٰ عن الحمیر۔
( کتاب القراءۃ للبیہقی ص259رقم223)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں قرآن کی تلاوت کی تو صحابہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تلاوت کی جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام پر قراءت خلط ملط ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا،یہ حکم فرض نماز میں ہے اس کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر ہم امام کی قراءت نہ سنیں تو پھر ہم گدھے سے بھی سخت ہوئے۔