شیخ العرب و العجم سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تذکرہ اکابر
شیخ العرب و العجم سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ
مولانا عبد اللہ معتصم
ولادت با سعادت :
علم وعرفان کی دنیا میں عظیم الشان شخصیات کے ناموں کے ساتھ خصائص وکمالات کی تصویریں ذہن کے پر دے پر نمایاں ہو تی ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ ایسی جامع الاوصاف شخصیت تھے کہ جب ان کا نام زبان پر آتا ہے تو ایک کامل درجے کی اسلامی زندگی اپنے ذہن و فکر ، علم و عمل اور سیرت و اخلاق کے تمام محاسن و محامد کے ساتھ تصویریں ابھر کر ذہن کے پر دوں پر نقش ہو جاتی ہے۔ آپ کی و لادت با سعادت 19 شوال1296 ھ بمطابق 6 اکتو بر 1879 ء کو قصبہ با نگر موضع اناء میں ہو ئی۔ آپ کا سلسلہ نسب شہید کر بلا حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ حسینی سادات کا یہ خاندان جس کے چشم و چراغ اس دور میں حضرت مولانا تھے ،انیس پشت قبل ہندوستان میں آباد ہو اتھا۔ آپ کے والد ماجد مولانا حبیب اللہ ( خلیفہ مجاز مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادی ) بڑے پایا کے بزرگ ، ذاکر و شاغل اور باخد انسان تھے۔ والد ہ بھی بڑی صابر و قانع، رابعۂ وقت اور پابندِ شریعت خاتون تھیں ، جن کے اکثر اوقات ذکر و شغل اور عبادت ِالہٰی میں صَرف ہو تے تھے۔
تعلیم و تربیت :
حضرت رحمہ اللہ نے ناظرہ قرآن اور ابتدائی فارسی کی کتا بیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں۔1309ھ میں جب آپ کی عمر تیرہ سال تھی آپ کو دار العلوم دیو بند بھیج دیا گیا۔ یہاں آپ کی خوشی نصیبی سے شیخ الہند مولانا محمودحسن دیو بند ی جیسے شفیق و رفیق استاذ ملے ، جنہوں نے آپ میں سعادت و خو شی بختی کے آثار دیکھ کر آپ کی تعلیم و تربیت پہ خصوصی تو جہ دینا شروع کی۔ حضرت شیخ فارغ اوقات میں آپ کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھتے۔ اس معمر معلم کو اپنے نو جوان متعلم سے اتنا تعلقِ خاطر تھا جیسا کسی شفیق باپ کو اپنی اولاد کے ساتھ ہو تا ہے۔ حضرت مدنی نےبھی انتہائی نیاز مندی کے ساتھ اپنے معزز استاد کی خدمت کی اورنہایت ذی استعداد اور لائق و فائق ہو نے کے باو جود استاد کی شخصیت میں اپنی ذات کو فنا کردیا۔یہ استاد کی خدمت ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ چند سالوں میں کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ بر صغیر پا ک وہند اور دیگر دنیا ءِ اسلام میں حضرت کو جو مقام و مر تبہ حاصل ہے اس کا سبب بے پناہ منکسر المزاجی اور اسا تذہ کی خدمت ہے۔
سفر حجاز:
1316 ھ میں آپ کے والد بزرگوار بمع اہل وعیال ہجرت کر کے حجاز مقدس تشریف لے گئے اور مد ینہ منورہ میں اقامت اختیار کر لی۔ اس وقت مد ینہ منورہ میں دو کتب خانے غیر معمو لی اہمیت رکھتے تھے؛ ایک" کتب خانہ شیخ الاسلام" اور"دوسرا مکتبہ محمو دیہ"۔ ان دونوں کتب خانوں میں مختلف علوم وفنون پر مشتمل کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ مو جود تھا جن سے حضرت مد نی رحمہ اللہ کو استفادہ کا پورا پو را مو قع ملا۔ اس کے علاوہ مد ینہ منورہ اقامت کے دوران آپ نے نامور ادیب حضرت العلامہ الشیخ آقند عبد الجلیل سے اد بیات کی تکمیل فرمائی جو علماءِ حجاز میں علم الادب کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔
حضرت مدنی رحمہ اللہ کو اپنے وقت کے یگانہ روزگار اساتذہ سے شرف ِتلمذ حاصل ہوا۔ مر جع العلوم حضرت شیخ الہند مولانا محمو دحسن دیوبندی ، حضرت مولانا عبد العلی محدث دھلوی ، شیخ الحدیث حضرت خلیل احمد سہانپوری ، حضرت مفتی عزیز الرحمن ، مولانا حبیب الرحمن عثمانی رحمھم اللہ ہند وستان میں ساڑھے چھ سال کی مدت میں آپ نے 17 فنون کی 67 کتابیں پڑھیں۔ تعلیم کے دوران آپ تمام ہم سبقوں میں لائق و فائق رہے اور ہمیشہ اعلی ٰ نمبر لے کر پاس ہو تے رہے۔
تدریس :
مدینہ منورہ میں تکمیل علوم کے ساتھ آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع فرمادیا تھا۔1318 ھ تک آپ کا درس ابتدائی پیمانہ پر رہا ، لیکن دو تین سال بعد حلقہ درس نہایت وسیع ہو گیا۔ طلباء کا ایک جم ِغفیر آپ کے گرد جمع ہو گیا۔ عجمی ہو نے کے با وجود حجاز مقدس کے عرب علماء کی بنسبت آپ کے حلقۂ درس کی مقبولیت زیادہ تھی اور مدینہ منورہ کے علاوہ مشرق وسطی ، شین ، جزائر تک کے تشنگان علم آپ کی طرف کھنچے چلے آتے رہے۔
قدرت نے آپ کو ذہانت و فطانت کا وہ اعلیٰ مقام عطاء فرمایا تھا جس کی نظیر آپ خود تھے۔ درس ِنظامی کی اکثر کتابیں از بر تھیں ، اس کے باوجود بھی آپ کو ئی بھی کتاب بغیر مطالعہ کے نہیں پڑھا تے تھے۔ دن رات کے 24 گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے آرام فرماتے اور بقیہ وقت درس و مطالعہ اور ذکر و اوراد میں گزارتے۔ آپ روزانہ چودہ پندرہ اسباق کا درس و مطالعہ کرتے تھے جن میں کتبِ عالیہ ، حدیث و تفسیر اور عقائد و اصول شامل ہوتی تھیں ان وجوہ کی بنا ء پر آپ کی پورے حجاز میں دھاک بیٹھ گئی اور یہ صرف مطالعہ اور تعلیم و تدریس کی بناء پر نہ تھا بلکہ ساتھ مجاہدہ و ریاضت بھی جاری تھا اور بفحوائے حدیث"من عمل بما علم علمہ اللہ بما لا یعلم "[جو پڑھے ہو ئے پر عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے خزانۂخاص سے اس کو ایسے علوم عطاء فرماتے ہیں جو پڑھنے سے نہیں آتے ]آپ کو علم لدنی عطا ء ہوا تھا۔
سلوک و تزکیہ نفس :
1898ء میں جب حضرت مدنی درس نظامی کی تکمیل سے فارغ ہو ئے تو تزکیۂ نفس کی غرض سے قطب الاقطاب حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کے آستانۂعالیہ پر حاضر ہو ئے اور آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہو نے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت نے بلا چوں چرا درخواست قبول فرما کر سلاسلِ اربعہ میں بیعت کر لیا۔ ان دنوں مولانا مدنی نے ہجرت ِحجاز کا قصد کر لیا۔ ہجرت کرتے وقت آپ کے مرشد قطب الارشاد حضرت گنگوہی نے فرمایا: " چونکہ تم مکہ معظمہ جارہے ہو ،وہاں قطب العالم حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے در گاہ معرفت پر ضرور حاضر ی دینا "۔ مکہ معظمہ پہنچ کر حسبِ ارشادِ مرشد آپ حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور آپ کے حلقۂ مر یدین میں داخل ہو گئے۔ مولانا چند ماہ حضرت حاجی صاحب کی فیض و بر کات سے بہرہ اندوز ہوئے۔1318 ھ میں حضرت گنگوہی نے آپ کو ہند وستان طلب فرمایا اور خرقۂ خلافت سے نوازا۔
سیاسی جد وجہد اور اسارت مالٹا :
1338 ھ میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ حج کرنے کی نیت سے حجاز مقدس تشریف لے گئے۔ حج سے فارغ ہو نے کے بعد آپ نے مدینہ منورہ میں حاضری دی۔ اسی سال خلافت عثمانیہ کے سر براہان جما ل پا شا اور انور پاشا بھی حج کے لئے تشریف لائے۔ شیخ الہند اور حضرت مدنی نے ان دونوں حضرات کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا منشا ہند وستان پر انگریزوں کی غاصبانہ حکومت کے خلاف علمِ جہاد بلند کر نا تھا۔ حالات یہ پیش آئے کہ والئ مکہ شریف حسین نے برطانوی حکومت کی خوشنودی کے لئے اپنے ملک کے علماءِ سُوء سے خلافت ِ عثمانیہ کے خلاف علم ِبغاوت بلند کرنے کے جواز کا فتویٰ تیار کر الیا اور یہ چاہا کہ شیخ الہند رحمہ اللہ بھی اس پر دستخط فرمائیں۔
حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس انکار کی پاداش میں اور کچھ بر طانوی حکومت کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے جیسی اغراض کے لئے 23 صفر 1330 ھ کو شیخ الہند رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء حضرت مدنی اور مولانا عزیر گل کو گرفتار کر کے جزیرہ مالٹا میں بھیج دیا گیا۔ یہ حضرات وہاں تقریباً ساڑھے چار سال مقید رہے۔ ا نہی ایام میں مولانا مدنی کے والد ماجد اور برادر محترم مولانا محمد صدیق کو بھی غلط اطلاعات کی بناء پر نظر بندی کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں اور ایامِ نظر بندی ہی میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مو لانا کی ا ہلیہ محترمہ اور لختِ جگر بھی جو مدینہ طیبہ میں رہ گئے تھے دورِ انقلاب کے مصائب و آلام کے شکنجے میں پھنس کر جا ں بحق ہو ئے۔
حضرت مدنی نے زمانہ اسارت میں قرآن پا ک حفظ کر لیا۔ ان ایام میں اپنے استاد کی وہ خدمت کی جس کی نظیر و مثال نا ممکن ہے۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ معمر اور مریض تھے۔ ٹھنڈا پا نے استعمال کر نے سے تکلیف ہو تی تھی اور مالٹا میں بلا کی سردی تھی۔ استاد محترم کو گرم پا نی مہیا کرنے کے لئے حضرت مدنی عشاء کی نماز اور ضروریا ت سے فارغ ہو نے کے بعد بر تن میں پا نی ڈال کر پیٹ سے لگا کر ساری رات بیٹھے رہتے ا ور تہجد کے وقت کمال ادب و احترام کے ساتھ خدمت میں پیش کر تے۔
23 جمادی الثانی 1919 ء کو ان کی رہائی کے احکامات صادر ہو گئے یہ وہ روز تھا کہ ہندوستان میں تحریک خلافت اور تحریک استخلاص و حق کا آغاز ہو چکا تھا لہذا مو لانا بھی اپنے استاد محترم کے ہمراہ ہندوستان میں تشریف لائے۔