امام العصر علامہ محمدانور شاہ کشمیری رحمہ اللہ

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
 
امام العصر علامہ محمدانور شاہ کشمیری رحمہ اللہ
مولانا محمد عبداللہ معتصم حفظہ اللہ
مولد ونسب:
اللہ تعالیٰ نے دار العلوم دیوبند کو ایسا چشمۂفیض بنایا ہے کہ اقصاءِ عالم سے تشنگانِ علومِ اسلامیہ کشاں کشاں اس مرکزِ علمی کا رخ کرتے ہیں۔ اس مرکزعلمی سے متعلق جن نفوس قدسیہ کو اللہ تعالیٰ نے علوم وفنون میں اعلیٰ صلاحیتوں اور مہارت تامہ سے نوازا ہے ان میں امام العصر حضرت علامہ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ کی ذات گرامی سرفہرست ہے۔
آپ رحمہ اللہ 27شوال المکرم 1292ھ دو دھوال علاقہ کشمیر میں پیدا ہوئے۔آپ متبرک ومحترم خاندان سادات کے چشم وچراغ تھے۔سلسلہ نسب شیخ مسعود نروری تک جا پہنچتا ہے۔
تعلیم وتربیت:
علامہ کشمیری رحمہ اللہ نے 4سال کی عمر میں اپنے والد ماجد سے قرآن پاک شروع کیا اور 6برس کی عمر میں قرآن پاک بھی مکمل کیا ،ساتھ ساتھ فارسی کے متعدد رسائل بھی حفظ کر لیے۔اس کے بعد مولانا غلام محمد صاحب سے ابتدائی عربی تعلیم حاصل کی۔ابھی آپ رحمہ اللہ کی عمر 13سال تھی کہ شوق علم نے کشمیر کے مرغزاروں اور سبزہ زاروں کو چھوڑنے پر مجبور کردیا اور آپ ہزارہ(صوبہ سرحد)تشریف لائے۔ وہاں تین سال تک علوم عربیہ کی تکمیل فرماتے رہے۔علوم وفنون کی پیاس وہاں بھی بجھتی نظر نہ آئی تو تقریباً16سال کی عمر میں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔دیوبند میں آپ چار سال رہے۔ اس دوران آپ نے وہاں کے مشاہیر ِوقت،یکتائے روزگار علماء سے ظاہری وباطنی علوم کا استفادہ کیا۔20سال کی عمر میں آپ نے دارالعلوم سے سند فراغ حاصل کی۔جن علماء سے آپ کو شرف تلمذ رہا ہے ان میں سے بالخصوص مندرجہ ذیل حضرات قابل ذکر ہیں۔

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمہ اللہ

مرشد عالم حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ

حضرت مولانا محمد اسحاق امرتسری رحمہ اللہ

حضرت مولانا غلام رسول ہزاروی رحمہ اللہ
دیوبند سے فراغت کے بعد آپ قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کی خدمت میں تشریف لے گئے ان سے سند حدیث حاصل کی اور اصلاحِ باطن کی غرض سے بیعت بھی کی۔
عملی زندگی کا آغاز:
تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد آپ دہلی تشریف لے گئے ،وہاں مدرسہ امینیہ میں مدرس کی حیثیت سے آپ کا تقرر ہوا۔تقریباً4سال تک وہاں خلقِ خدا کو فیض یاب کرتے رہے۔ دہلی کے قیام کے بعد بعض ضرورتوں اور مجبوریوں کے باعث آپ کشمیر تشریف لے گئے۔1323ھ میں آپ بعض مشاہیر کشمیر کی رفاقت میں زیارتِ حرمین سے مشرف ہوئے۔سفر حجاز کے دوران طرابلس،شام ،مصر،بصرہ کے جلیل القدر علماء کرام سے آپ کی ملاقات ہوئی۔انہوں نے آپ کی خداداد وبےنظیر لیاقت دیکھ کرمختلف سندات حدیث عطا فرمائیں۔حرمین سے واپسی پر کشمیر کے خواجگان خصوصاًخواجہ عبدالصمد کے اصرار پر آپ نے قصبہ بارہ مولا میں مدرسہ فیض عام کی بنیاد ڈالی۔تین سال تک وہاں فیض قرآن وحدیث کو عام کرتے رہے۔اسی اثناء میں آپ کو دارالعلوم دیوبند کے جلسہ دستار بندی میں مدعو کیا گیا۔ جب آپ وہاں تشریف لے گئے تو انتظامیہ نے آپ کو دارالعلوم میں مدرس رکھنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔آپ نے بغیر کسی پس وپیش کے منظور فرمایا ،کیونکہ دارالعلوم کی حیثیت آپ کی مادرِ علمی کی تھی۔ وہاں سے آپ نے استفادہ علوم وفنون کیا تھا۔ پہلے سال ہی سے ابوداؤد اور صحیح مسلم کا درس آپ کے سپرد کیا گیا۔ سالہاسال تک آپ بغیر تنخواہ کے درس دیتے رہے۔حضرت شیخ الہند نےجب حجاز مقدس کے سفر کا قصد فرمایا تو ان کے تشریف لے جانے کے بعد حضرت شاہ صاحب نے صدر مدرس کی حیثیت سے صحیح بخاری اور جامع ترمذی کا درس سنبھال لیا۔ طلبا ء کو یہ محسوس تک نہ ہوا کہ وہ علم کے ایک بحرِ ذخار(حضرت شیخ الہند )سے محروم ہوگئے ہیں بلکہ حضرت شاہ صاحب کے درس میں بعض ایسی امتیازی خصوصیات تھیں جو عام طور پر دوسرے حلقوں میں نہیں تھیں۔آپ کا1345ھ میں دارالعلوم کی انتظامیہ کے ساتھ بعض اصلاحات کے سلسلہ میں اختلاف ہوا جس کی وجہ سے آپ نے دارالعلوم دیوبند سے قطع تعلق فرمایا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ،مولانا سید بدرعالم میرٹھی،مفتی عزیز الرحمن رحمہم اللہ اور دیگر علماء وطلباء سمیت آپ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لے گئے۔1351ھ تک آپ وہاں درسِ حدیث دیتے رہے۔
حضرت شاہ صاحب کے بارے میں معاصرین کی آراء:
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ: میرے نزدیک حقانیتِ اسلام کی دلیلوں میں ایک دلیل حضرت مولانا انور شاہ صاحب رحمہ اللہ کا امت مسلمہ میں وجود ہے۔
شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ: حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ،شیخ تقی الدین ،شیخ عز الدین اور شیخ انور شاہ کشمیری رحمہم اللہ کے درمیان فرق صرف زمانے کے تقدم وتاخر کا ہے۔مناقب ومحامد میں علامہ کشمیری رحمہ اللہ ان سے کم نہیں۔
مولانا عبدالقادر رائیپوری رحمہ اللہ: واقعی حضرت شاہ صاحب اللہ کی نشانیوں میں سے ایک واضح نشانی تھے۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ: مرحوم کی مثال اس سمندر جیسی ہے جس کے اوپر کی سطح ساکن ہو لیکن گہرائی موتیوں سے لبریز ہو۔
مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ: خدا کی قسم میں نے حضرت شاہ صاحب جیسا انسان ہرگز نہیں دیکھا۔
علامہ زاہد الکوثری رحمہ اللہ: احادث سے دقیق مسائل کے استنباط میں شیخ ابن ہمام صاحب فتح القدیر کے بعد حضرت کشمیری جیسا کوئی محدث وفقیہ نہیں گزرا۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ: اسلام کی ادھر کی پانچ سو سالہ تاریخ شاہ صاحب کی نظیر پیش کرنے سے عاجزہے۔
(جاری ہے)