بات شروع کرنے سے پہلے سلام کرنا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
آدا ب مجلس:
بات شروع کرنے سے پہلے سلام کرنا
مولانا محمد ابوبکر اوکاڑوی حفظہ اللہ
عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم : السَّلاَمُ قَبْلَ الْكَلاَمِ
(جامع الترمذی:حدیث نمبر2623)
ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سلام گفتگو کرنے سے پہلے ہے۔
تشریح: احادیث مبارکہ میں سلام کے چند اصول وآداب بیان ہوئے ہیں مثلاً پہلے سلام کون کرے ،کون سلام کا زیادہ حقدار ہے، سلام کا غائب لوگوں تک پہچانا وغیرہ۔ اب اس حدیث مبارک میں سلام کرنے کا وقت اورموقع بتایا گیا ہےکہ سلام بات چیت شروع کرنے سے پہلے کیا جائے گا، بعد میں دوسری باتیں ہوں گی۔ اسی طرح آج کل موبائل وغیرہ کا سلسلہ ہے تو اس پر بھی ہیلو سے بات شروع نہیں کرنی چاہیے ،یہ غیراسلامی طریقہ ہے۔ بلکہ اسلامی طریقہ یعنی ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“کہہ کر بات شروع کرنی چاہیے۔
اس وقت ہماری قوم یہود و نصاریٰ کی نقالی میں گڈمارننگ، صبح بخیر اور گڈنائٹ جیسے الفاظ استعمال کرتی ہے جن سے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا ہے اور اس کی جگہ السلام علیکم کہنے کا حکم دیا ہے۔لہذا ہمیں اس طریقہ کو رواج دینا چاہیے۔ اللہ ہمیں اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین