اکتوبر

سلام پہنچانے کے بیان میں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آداب مجلس:
سلام پہنچانے کے بیان میں
مولانا محمد ابوبکر اوکاڑوی حفظہ اللہ
عن ابی سلمۃ ان عائشۃ حدثتہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لہا: ان جبرئیل یقرئک السلام قالت وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
جامع الترمذی:رقم2317
ترجمہ: ابوسلمہ فرماتے ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بات بتائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:جبرئیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا :
Read more ...

شوال کے چھ روزے اور امام اعظم رحمہ اللہ کا موقف

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
شوال کے چھ روزے اور امام اعظم رحمہ اللہ کا موقف
مولانا محمد عادل منصور
باطل نے ہر دور میں عوام کو اہلِ حق سے دور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے؛تقریروتحریر کے ذریعے اہلِ حق کی عبارات کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال کر عوام کو بدظن کرنے کی کوشش کی۔
ان دنوں موبائل کے ذریعہ ایک میسج عام کیا جارہا ہےکہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ اس کی ایک مثال یوں دی کہ حدیث مبارکہ میں ہے: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو اس کو سال بھر روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔دوسری طرف فتاویٰ عالمگیریہ کے ایک مسئلہ سے تقابل کیا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنا مکروہ ہے۔حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ فقہ حنفی کی معتبر کتب یہاں تک کہ اسی فتاویٰ عالمگیریہ میں بھی شوال کے 6روزوں کو مستحب کہا گیا۔باقی جہاں ان کو مکروہ کہا گیا ہے وہ مطلق نہیں بلکہ یہ حکم خاص صورتوں کے متعلق ہے۔ جیسےاگر کوئی شخص ایک روزہ عید کے دن رکھے اور پانچ بعد میں تو یہ مکروہ ہے۔اسی طرح جو شخص ان روزوں کو رمضان کی طرح فرض سمجھے
Read more ...

اللہ کی نعمتیں اور ان پر شکر کی اہمیت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجلس الشیخ:
اللہ کی نعمتیں اور ان پر شکر کی اہمیت
ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی حفظہ اللہ
6 ستمبر 2012ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں اور ان پر شکرکرنے کی اہمیت و ضرورت پر دلنشین گفتگو فرمائی۔ افادۂ عام کے لیے اس بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
خطبہ مسنونہ:
قال اللہ تعالیٰ: Īمَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاĨ [النساء:147]
اللہ رب العزت نے انسان کو اس قدر نعمتیں عطا فرمائی ہیں کہ ساری کائنات مل کر اس کو شمار کرنا چاہے تو شمار نہیں کر سکتی۔یہ بات اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں خود فرمائی ہے:
Īوَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَاĨ
[ابراہیم:34]
اگر اللہ کی نعمتوں کو تم شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کر سکتے۔
پہلی نعمت: ایمان
اللہ تعالیٰ نے جو ہمارے نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں
Read more ...

امام العصر علامہ انور شاہ محدث کشمیری رحمہ اللہ

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active

تذکرۃ الاکابر

حصہ دوم
امام العصر علامہ انور شاہ محدث کشمیری رحمہ اللہ
مولانا محمد عبداللہ معتصم
تبحر علمی:
علامہ کشمیری کے علمی وعملی کمالات میں سے جو چیز آپ کو اقران واعیان میں ممتاز کرتی ہے وہ آپ کی جامعیت اور تبحر علمی ہے۔عقلی اور شرعی علوم میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔اور شاید یہ کہنا بے جانہ ہوگاکہ علماء متقدمین میں سے ہر حیثیت سے ایسی جامع شخصیت شاذ ونادر ہی ملتی ہے۔آپ سینکڑوں علماء وفضلاء کے مجمع میں بیٹھ کر ہر ایک علم وفن کے مسائل پر ایسی گفتگو فرماتے تھے گویا کہ تمام مسائل فن آپ کو مستحضر اور ازبر ہیں۔حتیٰ کہ بعض دفعہ خیال ہوتا تھا کہ اپنے ارادہ سے کلام نہیں فرمارہے بلکہ واردات والہامات سے ارشاد فرمارہے ہیں۔جب کسی مسئلہ میں کوئی دقت پیش آتی تو وہ حضرت علامہ سے مراجعت فرماتے تھے۔امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ حضرت کشمیری کے حالات پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایا:”میرے جیسا کم علم ان کے حالات کیا بیان کرسکتاہے البتہ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں صحابہ کا قافلہ جارہاتھا یہ پیچھے رہ گئے“
Read more ...

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ
مولانا محمد اکمل راجنپوری
حضرت ابوسعید سعدبن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہما کا شمار ان اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے جو اپنے زمانے کے جبال علم سمجھے جاتے تھے اور انہی کے چشمہ فیض سے متلاشیانِ علوم نبوت نے اپنی پیاس بجھائی۔
غربت اور زمانہ طالبعلمی:
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ابتداءً مالی اعتبار سے کمزور اصحاب رسول کی صف میں شامل تھے، کیونکہ آپ کے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شہید ہوئے تو پیچھے کوئی جائیداد نہیں چھوڑی ،جس کی وجہ سے آپ پر فاقہ اور پیٹ پر پتھر باندھنے کی نوبت آپڑی لیکن تھوڑے دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے علومِ دین کے ساتھ ساتھ مال ودولت سے بھی نواز دیا۔
اپنے زمانہ طالبعلمی کی حالت بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید کی کلاس تھی،قاری صاحب قراءت کررہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ ہم مالی اعتبار سے کمزور تھے---کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی آڑ میں چھپ چھپ کر بیٹھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ کیا
Read more ...