امام العصر علامہ انور شاہ محدث کشمیری رحمہ اللہ

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

تذکرۃ الاکابر

حصہ دوم
امام العصر علامہ انور شاہ محدث کشمیری رحمہ اللہ
مولانا محمد عبداللہ معتصم
تبحر علمی:
علامہ کشمیری کے علمی وعملی کمالات میں سے جو چیز آپ کو اقران واعیان میں ممتاز کرتی ہے وہ آپ کی جامعیت اور تبحر علمی ہے۔عقلی اور شرعی علوم میں آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔اور شاید یہ کہنا بے جانہ ہوگاکہ علماء متقدمین میں سے ہر حیثیت سے ایسی جامع شخصیت شاذ ونادر ہی ملتی ہے۔آپ سینکڑوں علماء وفضلاء کے مجمع میں بیٹھ کر ہر ایک علم وفن کے مسائل پر ایسی گفتگو فرماتے تھے گویا کہ تمام مسائل فن آپ کو مستحضر اور ازبر ہیں۔حتیٰ کہ بعض دفعہ خیال ہوتا تھا کہ اپنے ارادہ سے کلام نہیں فرمارہے بلکہ واردات والہامات سے ارشاد فرمارہے ہیں۔جب کسی مسئلہ میں کوئی دقت پیش آتی تو وہ حضرت علامہ سے مراجعت فرماتے تھے۔امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ حضرت کشمیری کے حالات پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایا:”میرے جیسا کم علم ان کے حالات کیا بیان کرسکتاہے البتہ صرف اتنا کہہ سکتا ہوں صحابہ کا قافلہ جارہاتھا یہ پیچھے رہ گئے“
علامہ علی مصری حنبلی حافظ الحدیث ایک مرتبہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے آئے اور حضرت شاہ صاحب کےدرس بخاری شریف میں بیٹھ گئے۔حضرت شاہ صاحب نے علامہ کی رعایت کرتے ہوئے بلیغ عربی میں تقریر فرمائی۔علامہ نے سوالات کئے، ادھر سے جوابات دئیے گئے درس ختم ہوا تو علامہ صاحب نے سینکڑوں طلباء کے ہجوم میں فرمایا:میں نے عرب ممالک کا سفر کیا اکابر علماء سے ملاقتیں کیں خود مصر میں سالہاسال درس حدیث دے آیا ہوں میں نے شام سے لے کر مصر تک اس شان کا کوئی محدث اور عالم نہیں پایا۔میں نے ان کو خاموش کرنے کی ہر طرح سے کوشش کی لیکن ان کے استحضار،حفظ و اتقان،ذکاوت وذہانت اور وسعت نظر سے حیران رہ گیا اور آخر میں کہا: لوحلفت انہ اعلم بابی حنیفۃ لما حنثت۔[اگر میں قسم کھاؤں کہہ علامہ کشمیری امام ابوحنیفہ کو سب سے زیادہ جانتے ہیں تو میں اس دعویٰ میں جھوٹا نہ ہوں گا۔]ہندوستانی علماء کو اعجام قرار دینے والے علامہ مصری کا یہ اعتراف اور تاثر حضرت شاہ صاحب کی علوِشان،جامعیت اور تبحر علمی کی ایک مضبوط شہادت ہے۔
(بیس بڑے مسلمان)
حافظہ،ذکاوت،ذہانت:
حضرت علامہ کو قدرت نے بےنظیر حافظہ عطا فرمایا تھا،کسی ایک فن کے متعلق کسی کتاب کا مطالعہ فرماتے اور سالہاسال بعد اس کے متعلق کوئی بحث چِھڑجاتی تو اس کے مضمون کو مِن وعن اسی طرح نقل فرماتے جس طرح اصل کتاب کا ہوتا۔شیخ الاسلام مولانا مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحب فرماتے تھے:”جب میں کسی کتاب کا سرسری نظر سے مطالعہ کرتا ہوں اور اس کے مباحث کو محفوظ رکھنے کا ارادہ بھی نہیں ہوتا تب بھی 15سال تک اس کے مضامین مجھے محفوظ ہوجاتے ہیں“
آپ کے قوت حافظہ کے متعلق مناظر احسن گیلانی کی یہ تحقیق قابل ذکر ہے:”مجموعی طور پر حضرت شاہ صاحب کو کم سے کم40،50ہزار عربی اشعار یاد تھے، جس وقت چاہتے ان میں سے سنا سکتے“
آپ کا قوتِ حافظہ گویا ان منکرین حدیث کا جواب تھا جو محدثین کے حافظہ پر اعتماد نہیں کرتے اور ذخیرۂ احادیث کو مشتبہ قرار دیتے ہیں۔
فقہ حنفی اور حضرت شاہ صاحب:
حضرت مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ درسِ حدیث میں حضرت شاہ صاحب فرماتے تھے: میں نے اپنی زندگی کے 30سال اس مقصد کے لیے صرف کیے ہیں کہ فقہ حنفی کے موافق حدیث کے بارے میں اطمینان حاصل کیا جائے۔ الحمد للہ اپنی محنت اور تحقیق کے بعد میں اس بارے میں مطمئن ہوں کہ فقہ حنفی حدیث کے مخالف نہیں ،جس مسئلہ میں مخالفین ِاحناف جس درجے کی حدیث سے استناد کرتے ہیں کم از کم اسی درجہ کی حدیث اس مسئلہ کے متعلق حنفی مسلک کی تائید میں ضرور موجود ہے اور جس مسئلہ میں حنفیہ کے پاس حدیث نہیں اجتہاد پر عمل کرتے ہیں وہاں دوسروں کے پاس بھی حدیث نہیں۔
تحریک ختم نبوت اور علامہ کشمیری رحمہ اللہ:
جس طرح ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے:
إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً
[النحل:120]
کہ ابراہیم علیہ السلام ذات کے لحاظ سے تو ایک فرد تھے لیکن کام کے اعتبار سے ایک امت کے برابر کام کیا۔ اسی طرح وارثِ انبیاء حضرت شاہ صاحب کی شخصیت تھی، انہوں نے بیک وقت مختلف محاذوں پر کام کیا۔ اپنے نورِ معرفت سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں پھیلی تاریکیوں کو اجالوں سے بدل دیا۔اُس دور کا سب سے بڑا فتنہ دجالِ قادیان کی جھوٹی نبوت کا فتنہ تھا جس کےجال میں اسلامیانِ ہند کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی تھی۔حضرت شاہ صاب نے ہر محاذ پر اس فتنے کی سرکوبی کے لیے تگ ودو کی۔ علمی میدان میں آپ نے علماء کے لیے عربی، اردو، فارسی رسائل لکھے جو ردِ مرزائیت میں اصولی طور پر حرف آخر ہیں ،عوامی سطح پر کام کرنے کے لیے مجلس احرار کو متوجہ کیا اور اس بارے میں لاہور انجمن خدام الدین کے جلسہ میں مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور انہیں ”امیرشریعت“ کے خطاب سے نوازا۔ دنیا جانتی ہے کہ مجلس احرار اسلام نے امیر شریعت کی قیادت میں ردمرزائیت پر جو کام کیا وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔علامہ اقبال رحمہ اللہ نے مرزائیت کے خلاف جتنی جد وجہد کی وہ حضرت شاہ صاحب کی توجہ کا اثر تھا۔مرزائی مبلغ گلی گلی، قریہ قریہ پھیلے ہوئے تھے اور آئے دن اہلِ اسلام کو مناظروں کے چیلنج کرتے پھرتے تھے۔حضرت شاہ صاحب نے پورے ملک میں جلسے کرائے اور مرزائیو ں کو للکارا۔ اس مردِ آہن کی للکار سے مرزائی اپنے بلوں میں ایسے گھس گئے کہ پھر کبھی چہرہ نہ دکھایا۔ ردِمرزائیت کے حوالے سے شاہ صاحب کے 2معرکے مشہور ہیں۔ ایک فیروز پور کے مناظرے کا ایمان افروز منظر ہے جس سے مرزائیت پس منظر چلی گئی۔ بہت سے لوگ جو قادیانی دجل کا شکار ہوچکے تھے، دوبارہ مشرف باسلام ہوگئےاور دوسرا بہاولپور کا مقدمہ، جس میں حضرت نے عدالت میں قادیانیوں کے ارتداد پر عقلی ونقلی دلائل کا انبار لگا دیا،نتیجتاً مرزائیت نواز جج بھی مرزائیوں کو مرتد قرار دینے پر مجبور ہوگیا۔(اس مناظرہ کی مفصل کاروائی” حیات انور“ میں موجود ہے)
تصانیف:
تدریس اورتحریکی مصروفیات کی وجہ سے حضرت شاہ صاحب نے تصنیف و تالیف کی طرف بہت کم توجہ دی، اس کے باوجود علمی اور دینی تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئےبےنظیر رسائل تحریر فرمائے جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں:

1.

عقیدۃ الاسلام فی حیاۃ عیسیٰ علیہ السلام

2.

التصریح بما تواتر فی نزول المسیح

3.

اکفار الملحدین فی ضروریات الدین

4.

کشف الستر عن صلوۃ الوتر

5.

ضرب الخاتم علی حدوث العالم

6.

فصل الخطاب فی مسئلۃ ام الکتاب

7.

بسط الیدین لنیل الفرقدین

8.

مرقاۃ الطارم لحدوث العالم

9.

ازالۃ الریب فی الذب عن قرۃ العینین
وفات حسرت آیات:
29مئی1933ء کو علم وعمل کا بےتاج بادشاہ ( علامہ کشمیری رحمہ اللہ ) خاک کی چادر اوڑھ کر سو گیا۔انا للہ وانا الیہ رجعون
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم!
تو نے وہ گنج ہائے نمایاں تھے، کیا کیے ؟