نومبر

بچوں کو سلام کرنے کے بیان میں

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آداب معاشرت
بچوں کو سلام کرنے کے بیان میں
مولانا محمد ابوبکر اکاڑوی حفظہ اللہ
عَنْ سَيَّارٍ قَالَ:كُنْتُ أَمْشِيْ مَعَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيْ فَمَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ثَابِتٌ : كُنْتُ مَعَ أَنَسٍ فَمَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ أَنَسٌ: كُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهٖ وَ سَلَّمَ فَمَرَّ عَلٰى صِبْيَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ
جامع الترمذی رقم :2620
ترجمہ:حضرت سیار فرماتے ہیں کہ میں حضرت ثابت بنانی کے ہمراہ جارہاتھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ پھر حضرت ثابت نے بتایا کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا، وہ بچوں کے پاس سے گزرے تو بچوں کو سلام کیا
Read more ...

پنجہ آفتاب کا سفرِپنجاب

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
پنجہ آفتاب کا سفرِپنجاب
مولانا محمد عبد اللہ معتصم
متکلم اسلام،سفیر احناف حضرت مولانا محمد الیاس گھمن دامت فیوضہم نے پنجاب کے مختلف علاقوں کا مختصر تبلیغی دورہ کیا۔
اس دعوت ایمان واتقان کا آغاز درس قرآن سے ہوا جو 11 اکتوبر کو فیصل آباد میں ہوتا ہے۔ موقع کی مناسبت سے درس کا عنوان ’’فضائل ومسائل قربانی‘‘ تھا، اہل علم اور عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔رات قیام استاد جی کی تیسری اہلیہ کے گھر فیصل آباد تھا۔
12 اکتوبر کو ہم لاہور عازم سفر ہوئے وہاں حضرت الاستاذ انوار القرآن مرکزی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھائی خطبہ جمعہ میں تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے حضرت استاذ محترم نے مفصل گفتگوفرمائی۔بعداز جمعہ لاہور بیدیاں کے مقام پرواقع مسجد بلال کی افتتاحی تقریب میں شرکت فرمائی۔استاد جی نے کلمات تبریک ارشاد فرمائے اور مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے دعا فرمائی۔
Read more ...

نبوت کے مقاصد

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجلس الشیخ:
نبوت کے مقاصد
ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی حفظہ اللہ
4-اکتوبر2012ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں نبوت کے مقاصد پر مدلل اور دلنشین گفتگو فرمائی۔ افادۂ عام کے لیے اس بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
البقرۃ:129
[اے ہمارے رب!ان لوگوں میں خود اِنہی کی قوم سے ایک رسول بھیجیے ، جو انہیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے۔ بے شک آپ غالب اور حکمت والے ہے۔ ]
اللہ رب العزت نے جنات اور انسانوں کی ہدایت کے لیے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا، اس کا ظہور حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے کرہ ارض پر اپنی نبوت کا اعلان فرمایا۔ آدم علیہ السلام کے بعد انبیاء کا سلسلہ چلتا رہا اور کچھ انبیاء کے بعد حضرت نوح علیہ السلام وہ نبی ہیں کہ جب لوگوں نے ان کی بات کو نہیں مانا تو اللہ رب العزت نے کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ختم کیا سوائے ان کے جنہوں نے نوح علیہ السلام کی بات مانی۔اس لیے اگر یہ بات کہی جائے تو بے جا نہیں کہ قیامت تک آنے والی نسل حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
جس طرح ہمارے سب سے پہلے والد کا نام حضرت آدم علیہ السلام ہے تو کچھ وقفے کے بعد والد کا نام حضرت نوح علیہ السلام ہے۔ نوح علیہ السلام نے نبوت کا اظہار فرمایا پھر یہ سلسلہ نبوت حضرت ابراہیم علیہ السلام تک چلتا رہا۔ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے؛ ایک کا نام اسحاق،ایک کا نام اسماعیل۔حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں سے 4000انبیاء تشریف لائےاورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے صرف ایک نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں۔
بیت اللہ کی تعمیر:
جب کعبہ کی دیواروں کو کھڑا کیا جارہاتھاتوحضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ سے دعا مانگی۔کعبہ کی بنیاد تو آدم علیہ السلام کے دور سے ہے۔حوادث زمانہ کی وجہ سے کعبہ نظر نہیں آتا تھا، بنیاد آدم علیہ السلام نے رکھی ہے اس بنیاد پر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے دیواریں کھڑی کی ہیں۔حکیم الامت حضرت تھانوی
’’وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِد‘‘
[البقرۃ:127]
کا معنیٰ ’’بنیادیں‘‘ نہیں کرتے بلکہ ’’دیواریں‘‘ کرتے ہیں،حالانکہ قواعد ’’قاعدۃ‘‘کی جمع ہے اور قاعدہ بمعنیٰ ’’بنیاد‘‘ ہے ،لیکن حضرت کا ذوق دیکھیں!! اور خود فرماتے ہیں کہ
Read more ...

فتاویٰ عالمگیری

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تعارف کتب فقہ حصہ سوم
فتاویٰ عالمگیری
مفتی محمد یوسف حفظہ اللہ
ترتیب دینے کا طریق کار:
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہزاروں مسائل کا مجموعہ نہایت احتیاط اور کڑی نگرانی میں تیار ہوا۔ اس کی جامعیت اور حسن معیار کو چار چاند لگانے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع اور ضعف ونقص سے تحفظ کےلیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔بہت منظم انداز سے مسائل کو یکجا کرتے ہوئے قابل ستائش طریق عمل میں لایا گیا۔سہولت کے پیش نظر علماء کرام کی مختلف جماعتیں بنا کر کتاب کے مضامین ومباحث کو ان میں تقسیم کردیا گیا،جس کی وجہ سے ہر جماعت نہایت جانفشانی سے اپنے متعلقہ حصہ کی ترتیب میں کوشاں رہتی۔ہر جماعت کا ایک صدر ہوتا اور ان تمام جماعتوں کے نگران اعلیٰ شیخ نظام الدین رحمہ اللہ تھے جو فتاویٰ کی تیاری سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل وحالات براہ راست سلطان عالمگیر کے سامنے پیش کرتے۔
عالمگیر کا علمی ذوق اور فتاوی سے دلچسپی:
فتاویٰ کی تالیف میں عالمگیر نے بذات خود بے پناہ دلچسپی لی ہے
Read more ...

مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
تذکرہ اکابر
مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ
مولانا محمد عبد اللہ معتصم حفظہ اللہ
بیوہ کی طرح اجڑے اور مفلوج الحال ہندوستان میں جب انارکی کا دور دورہ تھا، سامراج گردی کے ہاتھوں مسلمانانِ ہند کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے، معاشی بدحالی سے روحانی زوال تک کوئی چارہ ساز نہ تھا،کوئی نہ تھا جو طوفانِ بلا خیز کے سامنے امتِ مسلمہ کی جانب سے کفایت کرتا کہ مالکِ روزِ جزا ءنے اپنے دین متین کی حفاظت کے لیے ایک شخص کو چنا جسے دنیا ’’مفتی کفایت اللہ ‘‘کے نام سے یاد کرتی ہے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ و اسعۃ
مولد ونسب:
ابو حنیفہ ہند حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی 1292 ہجری کو شاہ جہاں پور محلہ سب زئ میں پیداہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب شیخ جمال یمنی سے جا ملتا ہے جنہوں نے جزیرۂ عر ب کے ساحلی خطے یمن سے ہجرت کرکے ہندوستا ن میں سکونت اختیار کی تھی
Read more ...