دسمبر

مصافحہ؛ مغفرت کا ذریعہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
آداب معاشرت
مصافحہ؛ مغفرت کا ذریعہ
مولانا محمد ابوبکر اوکاڑوی حفظہ اللہ
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا
جامع الترمذی: رقم2651
ترجمہ:حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بھی دو مسلمان ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے الگ ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔
تشریح: ’’مصافحہ‘‘ آپس میں پیار و محبت اور امن و آتشی کو فروغ دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جب ایک مسلمان اللہ کی رضا کی خاطر دوسرے مسلمان بھائی سے مصافحہ کرتا ہے تو خدائی فرمان’’ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ ‘‘ کی تصویر پیش کر رہا ہوتا ہے
Read more ...

زندگی گزارنے کا طریقہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
مجلس الشیخ:
زندگی گزارنے کا طریقہ
ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی حفظہ اللہ
یکم نومبر2012ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں زندگی گزارنے کےطریقہ پر دلنشین گفتگو فرمائی۔ افادۂ عام کے لیے اس بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔:Īتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ؀ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُĨ
سورۃ الملک:1،2
میں نے آپ حضرات کی خدمت میں سورت ملک کے شروع کا حصہ تلاوت کیا ہے۔ حدیث مبارک میں سورت ملک پڑھنے کے بہت زیادہ فضائل آئے ہیں اور ترغیب بھی دی گئی ہے کہ رات کو سونے سے قبل اس سورت کو پڑھ لیا جائے۔
Read more ...

فتاویٰ عالمگیری

User Rating: 4 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Inactive
تعارف کتب فقہ
حصہ چہارم
فتاویٰ عالمگیری
مولانا محمد یوسف حفظہ اللہ
مدت تالیف :
فتاویٰ عالمگیری کی تدوین کا کام اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کی تخت نشینی کے چار سال بعد ایک شاہی فرمان کے ذریعہ 1073ھ بمطابق 1663ء میں شروع ہوا اور 8سال کے طویل عرصہ میں 1081ھ کو مکمل ہوا۔
مضامین و مشمولات :
فتاوی ہندیہ کا اندازنہایت دلچسپ ہے ،ا س سے نفع اٹھانا بہت آسان ہے۔ عنوانات کی ترتیب اس قدر شاندار اور بہترین ہے کہ کسی بھی موضوع سےمتعلق کوئی مسئلہ تلاش کرنے میں دقت کاسامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ذرا سی دیر میں مطلوبہ مسئلہ سامنے ہوتاہے۔ اس میں تمام عنوانات ’’کتاب‘‘کے لفظ سے بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً کتاب الطہارۃ ،کتاب الصلوٰۃ،کتاب النکاح ،کتاب البیوع ، کتاب الصید اور کتاب الفرائض ………ان میں سوائے کتاب اللقیط ،کتاب اللقطۃ،کتاب الاباق اور کتاب المفقود کے باقی سب عنوانات میں الگ الگ باب مقرر کیے گئے ہیں۔اور اکثر عنوانات میں ہر ’’باب‘‘کےتحت ’’فصل‘‘کا عنوان قائم کرکے مسئلہ زیر بحث سے متعلق بہت سے ضمنی مسائل کی وضاحت کی گئی ہے۔
Read more ...

مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive

تذکرۃ الاکابر:

دوسرا حصہ
مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ
مولانا محمدعبد اللہ معتصم حفظہ اللہ
خانگی زندگی:
آپ کا پہلا نکاح مدرسہ’’عین العلم‘‘ میں تدریس کے دوران ہوا۔اس زوجہ محترمہ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے لیکن دونوں بچپن ہی میں فوت ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد رفیقہ حیات بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔بعد ازاں دوسرا عقد جناب شرف الدین کی صاحبزادی سے کیا، ان کے بطن سے سات بچے ہوئے جن میں سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں بقید حیات رہیں۔
دینی خدمات:
حضرت مفتی صاحب نے اپنی زندگی اسلام اور اہل اسلام کےلیے وقف کردی تھی۔تشنگان علوم دینیہ کی سیرابی اور اسلام ومسلمانوں کی خدمت کے لیے آپ نے اپنا عیش وآرام قربان کر دیا۔ اسی کے ساتھ آپ نے اپنے خدا داد فقہی ذوق کے ذریعے اسلام کی جو خدمت انجام دی
Read more ...

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
تذکرۃ المحدثین:
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما
مولانا محمد اکمل راجنپوری حفظہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ابوعبدالرحمان رضی اللہ عنہما کا شمار صحابہ کرام کی اس جماعت میں ہوتا ہے جو علم وفضل اور عبادت وریاضت کے لحاظ سے خاص امتیاز رکھتے تھے۔
آپ کا علمی ذوق:
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو علم کی تلاش اور جستجو بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے آپ نے اپنی مادری زبان کے علاوہ عبرانی زبان میں بھی اچھی خاصی مہارت حاصل کر لی تھی۔ دربار نبوی میں اکثر حاضر رہتے، جو کچھ زبان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے اس کو زیب قرطاس کرلیتے تھے۔اسی ذوق اور جستجو کی بناءپر جس قدر احادیث نبوی کا ذخیرہ آپ کے پاس تھااس کا اندازہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فرمان سے لگایا جا سکتا ہے، فرماتے ہیں :
Read more ...