مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ

User Rating: 3 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar InactiveStar Inactive
 

تذکرۃ الاکابر:

دوسرا حصہ
مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ
مولانا محمدعبد اللہ معتصم حفظہ اللہ
خانگی زندگی:
آپ کا پہلا نکاح مدرسہ’’عین العلم‘‘ میں تدریس کے دوران ہوا۔اس زوجہ محترمہ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے لیکن دونوں بچپن ہی میں فوت ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد رفیقہ حیات بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔بعد ازاں دوسرا عقد جناب شرف الدین کی صاحبزادی سے کیا، ان کے بطن سے سات بچے ہوئے جن میں سے دو لڑکے اور دو لڑکیاں بقید حیات رہیں۔
دینی خدمات:
حضرت مفتی صاحب نے اپنی زندگی اسلام اور اہل اسلام کےلیے وقف کردی تھی۔تشنگان علوم دینیہ کی سیرابی اور اسلام ومسلمانوں کی خدمت کے لیے آپ نے اپنا عیش وآرام قربان کر دیا۔ اسی کے ساتھ آپ نے اپنے خدا داد فقہی ذوق کے ذریعے اسلام کی جو خدمت انجام دی وہ رہتی دنیا تک یاد رہے گی۔’’مدرسہ عین العلم‘‘ کی تدریس کے دوران ہی آپ نے فتوی نویسی کا عظیم کام جاری فرمادیا تھا۔آپ کا سب سے پہلا فتویٰ جو بہت مدلل ومبسوط تھا، اسے شاہجہانپور کے تمام علماء اور خاص کر آپ کے استاذ مولانا عبیدالحق صاحب نے بہت سراہا۔دہلی منتقل ہونے کے بعد دہلی کی تمام عدالتوں میں آپ کے فتویٰ کو معتبر سمجھا جانے لگا اور آپ کی صاف اور واضح تحریر سے عدالتوں کو کافی آسانی ہوئی۔خود فرماتے تھے کہ حصولِ تعلیم کے زمانہ میں میں نے اگرچہ بہت کم محنت کی مگر افتاء کے معاملے میں بڑی احتیاط سے کام لیاکرتاتھا۔
فرق باطلہ کا تعاقب:
حضرت مفتی صاحب اسلام بالخصوص دیوبندی مکتبہ فکر کے عظیم ترجمان تھے۔تحریک خلافت کے بعد۱۹۲۲ء میں جب سوامی شردہانند نے شدھی کی تحریک شروع کی اور ہزاروں مسلمانوں کو مرتد بنایا تو آپ نے بحیثیت صدر جمعیت علماء ہند اس کی روک تھام کے لیے کوشش شروع کی، تبلیغی وفود بھیجے گئے اور جلسے جلوس کے ذریعے رائے عامہ کو منظم وبیدار کیا۔صرف اس پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ خود بھی ایک وفدلے کر بمقام اچھیز پہنچے اور وہاں کے مسلمانوں کو مرتد ہونے سے بچایا۔
رد عیسائیت:
شدھی تحریک کی طرح آپ نے دوسری باطل تحریکوں اور فتنوں کی سرکوبی میں بھی کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ عیسائی مشینریاں جو حکومت کی سرپرستی میں پورے ملک خاص کر مسلمانوں کو مرتد بنانا چاہتی تھیں، حضرت مفتی صاحب نے ان سے مقابلہ کرکے نہ صرف انھیں پسپائی پر مجبور کیا بلکہ انہیں ملک بدر ہونا پڑا۔
انگریزی سامراج نے برصغیر میں اپنی حکومت کی زندگی بڑھانے اور عیسائیت کی نشر واشاعت کے لیے صرف ان تحریکوں کا سہارا نہیں لیا بلکہ بعض ایسے قانونی اقدامات بھی کئے جو اس کی پالیسی میں مددگار ثابت ہوسکتے تھے۔ساردا ایکٹ ۱۹۲۹ء [مخلوط شادیوں کا ایکٹ] ایسے قانون ہیں جو مثال میں پیش کئے جاسکتے ہیں۔حضرت مفتی صاحب نے اس قانون کی مخالفت اور مسلمانوں کے دین وایمان کے تحفظ کے لیے ۱۹۲۹ء میں ’’مجلس تحفظ ناموس شریعت‘‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور عام ایجی ٹیشن اور قانون شکنی کا اعلان کیا۔ خود بھی اس قانون شکنی میں شریک ہوئے، ساردابل پر آپ کی معرکۃ الآراء تنقید کو اہل علم حلقوں میں زبردست پزیرائی حاصل ہوئی اور آپ کی یہ تحریک پورے طور پر کامیاب ہوئی۔
رد قادیانیت:
جب شاہجہان پور میں فتنہ قادیانیت نے ایک تاجر حاجی عبدالقدیر، حافظ سید علی اور حافظ مختار احمد کے ذریعے ہاتھ پاؤں پھیلانے شروع کیے تو مولوی محمد اکرام اللہ خان مرحوم نے ان کے رد میں مضامین لکھے۔حضرت مفتی صاحب نے اس کو ناکافی سمجھ کر خود ایک رسالہ ’’البرہان‘‘ جاری کیا، جس کے مدیر آپ خود تھے۔ اس کا پہلا شمارہ شعبان۱۳۲۱ھ میں شائع ہوا جس کی برکت سے دنیا پر قادیانیت کا حقیقی چہرہ اور پس پردہ کارفرما عناصر کے مقاصد ظاہر ہوگئے۔ نتیجتاًقادیانیت کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
تصانیف:
حضرت مفتی صاحب کے اوقات بہت مصروف رہتے تھے۔ تدریسی اور سیاسی سرگرمیاں، فتویٰ نویسی کا کام اور مختلف اداروں کی سرپرستی کی وجہ سے ہر وقت مشاغل میں گھرے رہتے لیکن اس کے باوجود تصنیف کے میدان کو بھی خالی نہیں چھوڑا۔آپ کی مشہور ومعروف تالیف ’’تعلیم الاسلام‘‘ ہے جس کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوچکے ہیں۔ آپ کے جمع شدہ فتاویٰ بھی تصنیف وتالیف کے میدان میں ایک علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے شیخ الہند رحمہ اللہ کے حالات پر ایک رسالہ تحریر فرمایا۔ ماہنامہ’’البرہان‘‘میں آپ کے شائع شدہ مضامین ومقالات اور خطبات ومکتوبات کا بہت بڑا ذخیرہ اس کے علاوہ ہے۔
سیاسی خدمات:
حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کی سیاسی بصیرت پر دنیا ناز کرتی ہے۔ آپ کی سیاسی بصیرت مسلم تھی۔ اسی وجہ سے جب شیخ الہند رحمہ اللہ سے ان کےایک شاگرد نے ہر سیاسی مسئلہ کے بارے میں مفتی صاحب سے مشورہ کرنے کی وجہ پوچھی تو شیخ الہند رحمہ اللہ نے آپ کی شان میں کیا خوب فرمایا تھا:
’’بے شک تم لوگ سیاستدان ہو لیکن مولوی کفایت اللہ کا دماغ سیاست ساز ہے‘‘۔
جب مسلمانوں کی ترجمانی کے لیے علماءِ ہند نے جمع ہو کر ’’جمعیت علماء ہند‘‘ کی بنیاد رکھی تو سب سے پہلے حضرت مفتی صاحب کو جمعیت علماءِ ہند کا صدر منتخب کیا گیا۔ جمعیت کا پہلا دفتر ’’مدرسہ امینیہ دہلی‘‘ میں آپ کے کمرہ میں قائم ہوا۔ اس وقت کوئی محرر اور خادم نہیں تھا بلکہ آپ خود اور مولانا احمد سعید صاحب[ناظم اعلیٰ جمعیت علماء ہند]اپنے ہاتھوں سے تمام کام کیا کرتے تھے۔
تقریباً بیس سال آپ جمعیت علماء ہند کے صدر رہے مگر عاجزی وانکساری اتنی تھی کہ اس طویل عرصہ تک کبھی سالانہ کانفرنس کی صدارت نہیں فرمائی۔قومی امورمیں حتی الامکان اپنی جیب سے خرچ فرماتے تھے۔
۱۹۲۸ ھ میں پشاور میں منعقد ہونے والے جمعیت علماء ہندکے اجلاس میں آپ کے صاحبزادے آپ کے ساتھ تھے۔ استقبالیہ کمیٹی کے بےحد اصرار کے باوجود آپ نے صاحبزادے کا سفر خرچ لینے سے یہ فرماکر انکار کیا:’’یہ صدر کا بچہ ضرور ہے مگر جمعیت کا رکن نہیں۔‘‘
۱۹۳۰ء کی تحریک سول نافرمانی میں آپ کو بے انتہاء باغیانہ اور خطرناک تقریریں کرنے کے جرم میں۱۱۔اکتوبر۱۹۳۰ء بمطابق ۱۷۔جمادی الاولیٰ۱۳۴۹ھ میں اپنے دولت خانہ واقع ’’کوچہ چیلان‘‘ سے رات ۴بجے گرفتار کیا گیا۔۶ماہ قید بامشقت کی سزا سنائی گئی اور اے کلاس دی گئی۔
دوسری گول میز کانفرنس ۱۹۳۱ء کی ناکامی کے بعد دوبارہ سول نافرمانی شروع ہوگئی۔ اس موقع پر جمعیت علماء ہند نے سول نافرمانی کا ڈکٹیٹر مفتی صاحب کو مقرر کیا اور دفعہ۱۱۴کی خلاف ورزی کے لیے ۱۱۔مارچ۱۹۳۲ء بروز جمعہ جمعیت علماء کی طرف سے جلسہ وجلوس کا اعلان کیا گیا۔
سٹیج پر طوفانی تقریر کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور مفتی صاحب کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا اور ادھر عدالت قائم کرکے ۱۸۔ماہ قید بامشقت سزا سنائی گئی لیکن مفتی صاحب جیل میں بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔
مولانا سعید احمد لکھتے ہیں: قیدیوں کے پھٹے ہوئے کپڑے عام طور پر مفتی صاحب سیا کرتے تھے اور قیدیوں سے کام لینے کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ لوگ بھی ہماری طرح قیدی ہیں، ان سے ہم خدمت کس طرح لے سکتے ہیں؟!‘‘[جاری]