فتاویٰ عالمگیری

User Rating: 2 / 5

Star ActiveStar ActiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
تعارف کتب فقہ
حصہ چہارم
فتاویٰ عالمگیری
مولانا محمد یوسف حفظہ اللہ
مدت تالیف :
فتاویٰ عالمگیری کی تدوین کا کام اورنگ زیب عالمگیر رحمہ اللہ کی تخت نشینی کے چار سال بعد ایک شاہی فرمان کے ذریعہ 1073ھ بمطابق 1663ء میں شروع ہوا اور 8سال کے طویل عرصہ میں 1081ھ کو مکمل ہوا۔
مضامین و مشمولات :
فتاوی ہندیہ کا اندازنہایت دلچسپ ہے ،ا س سے نفع اٹھانا بہت آسان ہے۔ عنوانات کی ترتیب اس قدر شاندار اور بہترین ہے کہ کسی بھی موضوع سےمتعلق کوئی مسئلہ تلاش کرنے میں دقت کاسامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ذرا سی دیر میں مطلوبہ مسئلہ سامنے ہوتاہے۔ اس میں تمام عنوانات ’’کتاب‘‘کے لفظ سے بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً کتاب الطہارۃ ،کتاب الصلوٰۃ،کتاب النکاح ،کتاب البیوع ، کتاب الصید اور کتاب الفرائض ………ان میں سوائے کتاب اللقیط ،کتاب اللقطۃ،کتاب الاباق اور کتاب المفقود کے باقی سب عنوانات میں الگ الگ باب مقرر کیے گئے ہیں۔اور اکثر عنوانات میں ہر ’’باب‘‘کےتحت ’’فصل‘‘کا عنوان قائم کرکے مسئلہ زیر بحث سے متعلق بہت سے ضمنی مسائل کی وضاحت کی گئی ہے۔
کچھ مقامات ایسے بھی ہیں جہاں ’’باب‘‘ کا عنوان تو موجود ہے مگر ان کے تحت ’’فصل‘‘ کالفظ یا تو بالکل نہیں یا بہت کم ہے۔ایسے عنوانات بھی اس کتاب کاحصہ ہیں جن میں صر ف’’فصول‘‘ ہیں’’باب‘‘ ایک بھی نہیں۔مثال کے طور پر کتاب الطہارۃ سات ابواب پر مشتمل ہے جنہیں باب ِاوّل ،بابِ ثانی ،بابِ ثالث اور بابِ رابع ………کے الفاظ سے بیان کیاگیا ہے۔ پھر ہر باب کے تحت کچھ ’’فصول ‘‘ ہیں جنہیں فصل ِاوّل،فصل ثانی اور فصل ثالث کے عنوان سے لکھاگیا ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں یوں سمجھیے :
باب اول :۔۔۔۔ وضو کے بیان میں
فصل اول :۔۔۔۔ وضوکے فرائض کے بیان میں
فصل دوم :۔۔۔۔ وضو کی سنتوں کے بیان میں
فصل سوم:۔۔۔۔ وضو کے مستحبات کے بیان میں
باب دوم :۔۔۔۔ غسل کے بیان میں
فصل اول :۔۔۔۔ غسل کے فرضوں میں
فصل دوم :۔۔۔۔ غسل کی سنتوں میں
فصل سوم:۔۔۔۔ ان چیزوں کے بیان میں جن میں غسل واجب ہوتاہے۔
اور کتا ب الذبائح کا انداز یہ ہے:
پہلاباب:۔۔۔۔ ذبح کے رکن ،شرائط ،حکم اوراس کی اقسام کے بیان میں
دوسراباب :۔۔۔۔ ان جانوروں کے بیان میں جن کاگوشت کھایاجاتاہے اورجن کاگوشت نہیں کھایاجاتا۔
تیسراباب :۔۔۔۔ متفرق مسائل کے بارے میں
اس کے علاوہ ’’کتاب الشروط اور کتاب الحیل‘‘صرف فصول پر مشتمل ہیں ان میں باب کاایک عنوان بھی نہیں۔
فتاویٰ میں عربی کے علاوہ بعض مقامات پر ضمناً فارسی زبان کا استعمال بھی کیاگیاہے اورسہولت کے پیش نظر نمبر لگاکر اسی صفحہ کے نیچے اس عبارت کاعربی میں ترجمہ کردیا گیا ہے۔ مثلاًباب فی احکام المرتدین پر یہ مسئلہ موجود ہے کہ ایک آدمی نے گواہوں کی عدم موجودگی میں کسی عورت سے نکاح کیا پھر اس نے فارسی زبان میں یہ کلمات کہے :’’خدا یرا ورسول راگواہ کردم ‘‘ او قال: خدا ی را وفرشتگان را گواہ کردم‘‘کفر۔
ج2ص288
ترجمہ:میں نے اللہ اوررسول کو گواہ بنایا یاکہا:میں نے اللہ اورفرشتوں کو گواہ بنایا تو یہ کلمات کہنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوجائےگا۔
فتاوی کی فقہی اہمیت:
فقہی اعتبار سے فتاویٰ عالمگیری کو بڑی اہمیت حاصل ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس میں جو مسائل بیان کیے گئے ہیں وہ یا تو فقہ حنفی کی رو سے راجح اور مفتیٰ بہ ہیں یا ظاہر الروایت کے ہیں یعنی فقہ کی ان چھ معروف کتابوں سے ماخوذ ہیں جو امام محمد رحمہ اللہ کی تصانیف ہیں فقہ حنفی میں ان کتابوں کو نہایت اہمیت حاصل ہےوہ یہ ہیں۔ جامع الکبیر،جامع الصغیر،المبسوط،الزیادات،السیر الکبیر اور السیر الصغیر ، اور فقہی اہمیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ فقہ کی تمام اہم اور قابل ذکر کتابوں کا نچوڑ ہے،اس کے ماخذ ومراجع فقہ حنفیہ میں بڑی وقعت رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فرقہ اہل حدیث کے ایک عالم محمد اسحاق بھٹی باوجود تعصب رکھنے کے فتاویٰ ہندیہ کی اہمیت وضرورت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے فتاویٰ عالمگیری کو ایک بے مثال کارنامہ اور بہت بڑی علمی خدمت قرار دیا ہے۔چنانچہ موصوف لکھتے ہیں "واقعہ یہ ہے کہ اسلامی ہند میں فتاوی عالمگیری کی ترتیب وتالیف بہت بڑی علمی خدمت ہے۔اس اہم کام کا جس انداز سے آغاز ہوا،جس نہج سے یہ مختلف منازل سے گزرا اور پھر جس اسلوب سے یہ تکمیل پذیر ہوا اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے۔یہ ایک گلستان فقہ ہے،جس میں عبادات اور معاملات دونوں پہلوؤں کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور ہر مسئلہ کے گوشے کو کتب فقہ کے حوالوں سے منقح [صاف ستھرا ،مزین]کیا گیا ہے۔تشنگی کسی حصے میں بھی حتی الامکان باقی نہیں رہنے دی گئی۔
[برصغیر میں علم فقہ ص273]
فتاویٰ کی نمایاں خصوصیات:
1:اس کی پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ یہ صرف کسی ایک شخص یا دو چار علماء کی علمی محنت کا نتیجہ نہیں۔بلکہ یہ فقہائے کرام کی بڑی جماعت کی بھرپور کاوشوں کا نچوڑ ہے۔بادشاہ وقت عالمگیر اورنگ زیب رحمہ اللہ نے جن علمائے کرام کو اس کی ترتیب وتالیف کے لیے منتخب کیا تھا وہ نہ صرف علمی میدان میں اپنا حریف رکھتےنہ تھے بلکہ زہد وتقویٰ، پرہیز گاری وپارسائی میں بھی ان کا مقام بلند تھا اس لیے فقہی اعتبار سے اس میں غلطی کا امکان نہایت کم ہے۔
2: اس کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی ہندوستان میں علم فقہ کی یہ پہلی مفصل ومبسوط کتاب ہے کئی بار یہ کتابت و طباعت کی منزلوں سے گزری،فارسی اور اردو میں اس کے تراجم کیے گئے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں اس سے پہلے فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں فتاوی عالمگیری ان تمام پر فوقیت لے گیا اور علمی دنیا میں اسے ایک منفرد مقام ملا۔
3: اس کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فقط حصہ عبادات ہی کو اہمیت نہیں دی گئی اس کا حصہ معاملات بھی ضروری تفصیلات وجزئیات پر مشتمل اور اہم مسائل پر محیط ہے۔
4: فتاویٰ کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تقریبا ہر کتاب کے شروع میں مسئلہ متعلقہ کے معنیٰ ومطلب کی وضاحت کی گئی ہے۔مثلا کتاب الحوالہ ،کتاب الشہادات یا کتاب الوکالۃ وغیرہ سب کے آغاز میں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ حوالہ کے کیا معنی ہیں شہادت کا کیا مطلب ہے اور وکالۃ کسے کہتے ہیں؟
5: فتاوی کی پانچویں اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ ہر مسئلے کے ماخذ کا حوالہ دیا گیا ہے اور اگر اصل کتاب دستیاب نہ تھی اور مسئلہ دوسری کتاب سے نقل کیا گیا ہے تو’’ناقلا عن فلان‘‘ کا لفظ لکھ کر اصل ماخذ کا ذکر کردیا گیاہے۔
(جاری ہے)