متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن کا دورہ جنوبی پنجاب

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
یک زمانہ صحبتے بااولیاء
متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن کا دورہ جنوبی پنجاب
مولانا محمد کلیم اللہ
پنجاب؛ پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جو کہ 36 اضلاع اور 122 تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ اس میں چاروں موسم گرما،سرما ،بہار اور خزاں آتے ہیں۔ یہاں کے باسیوں کی تعلیم و تعلم ، صنعت وتجارت ،محنت ومزدوری اور کاشتکاری وغیرہ پہچان ہے۔ یہاں کےلوگ نرم خو ہیں۔ پاکستان کا یہ واحد صوبہ ہے جہاں پانچ دریا بہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے فروغ اور دفاع میں میں پنجاب کی علمی شخصیات کی قابل قدر خدمات ہیں۔
اس وقت اپنی زندگی کے ایک ہفتے کاورق آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں جس میں راقم الحروف کو عالم اسلام کی عظیم مذہبی وروحانی شخصیت سفیر احناف متکلم ِاسلام حضرت الا ستاذ مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ کی ہمراہی معیت اور صحبت نصیب ہوئی۔
حضرت الا ستاذ مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ کسی تعارف کے محتاج نہیں اللہ کریم نے آپ کو تحریکی ، تربیتی ،تعلیمی ، تدریسی، تعمیری، تنظیمی تحقیقی، تصنیفی ، تقریری ،تبلیغی، تجدیدی، اور جہادی ذوق جیسی نعمتوں سے خوب خوب نوازا ہے۔ اس ہمہ جہتی کے باوجود سادگی اورتواضع کے آثار آپ میں بہت نمایاں ہیں۔حضرت الاستاذ کی مسلکی محنت، عقائد ونظریات، اساسیاتِ اسلامیہ کا تحفظ حرمت قرآن، سنت اور اس کی پاسداری ، ختم نبوت ، صحابہ و اہل بیت کرام رضوان علیہم اجمعین کا دفاع، فقہاء ملت خصوصاًحضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی پاسبانی، اکابرین امت خصوصاً علمائے دیوبند علم و دیانت کی پہرے داری اور مسلک اہل السنت والجماعت کے فروغ، اشاعت اور نفاذ کی کوششیں ان کی زندگی کا مقصد اور حرزِ جان ہیں۔ اس سلسلے میں قید وقفس کی صعوبتیں ، ایام اسارت کی مشکلات، قاتلانہ حملے میں اہل باطل کے منفی پرو پیگنڈے اور اپنے چند نا سمجھ دوستوں کی نادانیاں سب کچھ برداشت کرکے صرف ملک پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے اکثر خطوں میں اسلام کی ترجمانی کا فریضہ بڑی حکمت عملی جوانمردی اور دینی بصیرت سے انجام دے رہے ہیں۔ اللہ حاسدین کے حسد اور شریروں کے شر سے بچائے اور ان کے طفیل ہمیں بھی مسلک اہل السنۃ کا سپاہی بنائے۔
یہ سفر مورخہ9 مارچ بروزہفتہ شروع ہوا۔ سفر کی رفاقتیں حاصل کرنے والے خدام کے نام یہ ہیں۔

1

مولانا محمد عاطف معاویہ؛ موصوف مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا میں شعبہ تخصص فی التحقیق والدعوۃ کے استاد ہیں اور مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔

2

مولا محمد فیاض؛ موصوف مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا کے ابتدائی خوشہ چینوں میں ہیں اور دنیا پور سے تعلق رکھتے ہیں۔

3

مولانا محمد رمضان؛ موصوف دارالعلوم کبیر والا سے فارغ التحصیل اور مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا کے متخصص ہیں۔ حضرت الاستاذ کے سیکورٹی انچارج ہیں۔ ان کا ضلع خانیوال سے تعلق ہے۔

4

مولانا ابوبکر جھنگوی؛ موصوف مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا کے متخصص ہیں۔ حضرت الاستاذ کے خدام میں سے ہیں۔ حضرت الاستاذ کی پابندی وقت میں ان کی ڈرائیونگ کا خاصا دخل ہے۔ ان کا تعلق ضلع جھنگ سے ہے۔

5

مولانا عرفان جمیل؛ موصوف مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا کے موجودہ سال کے متخصص ہیں، گوجر خان سے تعلق رکھتے ہیں۔

6

بھائی محمد عارف؛ موصوف حضرت الاستاذ کے خادم خاص مولانا محمد رمضان کے بڑے بھائی ہیں ، ان کا تعلق بھی ضلع خانیوال سے ہے۔

7

بھائی عظمت اللہ گھمن؛ موصوف حضرت الاستاذ کی برادری کے ہیں اور آپ کے قریبی قصبہ 88 جنوبی سرگودھا سے تعلق رکھتے ہیں۔

8

)مولانا( محمد کلیم اللہ؛ راقم الحروف بھی مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا سے متخصص ہے ، تعلق ضلع لیہ سے اور موجودہ تشکیل احناف میڈیا سروس میں چیف پروڈیوسر کے طور پر ہے۔
9مارچ بروز ہفتہ : حضرت الاستاذ تقریباً صبح 7:30 بجے مولانا ابو ایوب قادری مسوؤل شعبہ مناظرہ اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ کی رہائش پر تشریف لے گئے۔ مولانا قادری کے ہمراہ مولانا سعید منصوری صاحب بھی موجود تھے۔ تھوڑی دیر قیام کے دروان چند علمی مضامین بھی زیرِ بحث آئے۔ مولانا قادری کا رضا خانیت ، بریلویت پر کافی مطالعہ ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ کی مناظرانہ گرفت بہت مضبوط ہے۔ علم میں رسوخ اور تقویٰ و للہیت کے حصول کے لیے حضرت الاستاذ متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن سے باضابطہ بیعت ہیں۔ حضرت الاستاذ کی توجہات کی بدولت اللہ تعالیٰ ان سے دین کی حفاظت کاخوب کام لے رہے ہیں۔ اللہ نظر بد سے محفوظ فرمائے۔
خیر مولانا قادری سے ملاقات کے بعد یہ قافلہ چوپرہٹہ ضلع خانیوال جا رُکا۔ چوپرہٹہ چونکہ حضرت الاستاد کے خادم خاص مولانا محمد رمضان کا علاقہ ہے اس لیے مذکورہ مقام پر حضرت الاستاد کو ملنے کےلیے چند عقیدت مند جمع تھے ، یہ تقریباً 9:30 کا وقت تھا۔ سلام دعا کے بعد ملتان میں جناب شاہد سلیمی صاحب کے ہاں ملاقات تھی۔ دعائے برکت کے بعد تقریباً 12:00 بجے خان گڑھ میں مولانا عمران نواز کے ہا ں حضرت الاستاد نے قیلولہ کیا بعد ازاں ظہرانے کا بندوبست تھا۔
تھوڑی دیر سستانے کے بعد خان گڑھ کے معروف ادارے دینی درسگاہ میں مولانا عبدالرشید بلال کے پاس جا پہنچے ، علاقے کی صورتحال اور اہل علاقہ کی فرمائش پر عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اساسی پہلو پر چند نکات علمیہ اور اس عقیدے کی افادیت ، اہمیت بیان کرنے کے بعد منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غلط فہمیوں ،شبہات ، وساوس ، ہفوات اور ان کے منفی پروپیگنڈے کا مفصل ،مدلل اورمبرہن رد کیا اور با دلائل یہ ثابت کیا کی منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم خودکو دیو بندی اور سنی بھی کہلوانے کے حقدار نہیں۔ اہل السنۃ والجماعۃ سے تعلق رکھنے والے غیور نوجوان اپنے سینوں میں محبت نبوی کا جذبہ موجزن کیے اطاعت رسول کےلیے مستعد نظر آ رہے تھے۔ کیونکہ
محمد کی غلامی دین حق کی شرط اول

ہے

جو ہو اس میں کچھ کمی تو سب کچھ

نامکمل ہے

فتنہ بریلویت:
امت مرحو مہ میں افتراق و انتشار پیدا کرنے ، با ہمی نفرتیں پھیلانے اور آپس میں تفرقہ بازی کو ہوا دے کر امت کے اجتماعی شیرازے کو بکھیرنے بلکہ تار تار کرنے کے لیے انگریز کے ا شارہ ابرو پر چلنے والے احمد رضا خان نے جب تکفیری مہم شروع کی تو کذب و افتراء دجل وخیا نت اور بد دیانتی پر مشتمل ایک کتاب حسام الحرمین لکھی اور اس میں شاطرانہ بلکہ عیارانہ چال یہ چلی کی چند منکرین ختم نبوت کے نام لکھ کر حضرت قاسم العلوم و الخیرات حجۃ اللہ فی الارض تحریک آزدی کے سرخیل مو لانا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند کی شہرہ آفاق علمی تصنیف” تحذیر الناس من انکار اثر ابن عباس “ سے بے ربط بلکہ قطع وبرید پر مشتمل محرفانہ جرم کا ارتکاب کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مولانا نانوتوی رحمہ اللہ بھی عقیدۂ ختم نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ (العیاذ باللہ) جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس کھڑی احمد رضاخان ”خائن“ کو دیکھ کر شرم دلا رہی تھی۔
تحذیر الناس کافی علمی حیثیت کی کتاب ہے اس میں عقیدہ ختم نبوت کو زمانی ، مکانی اور رتبی کے طور پر عقلی ونقلی دلائل سے روز روشن کی طرح واضح کیا گیا ہے راقم کے خیال میں احمد رضا ……… خائن ………کا اس میں قصور نہیں اس لیے کہ خائن صاحب اس میدان علم کے آدمی نہیں ان بیچارے کو علم وحکمت اور اسرار و رموز سے کیا سروکار؟ انہیں تو بس غرض ہے اس سے”اعزہ سے اگر بطیب خاطر ممکن ہو تو فاتحہ ہفتہ میں دو تین بار ان اشیاء سے بھی کچھ بھیج دیا کریں، دودھ کا برف خانہ ساز اگر بھینس کا دودھ ہو، مرغ کی بریانی، مرغ پلاؤ خواہ بکری کا ہو، شامی کباب، پراٹھے بالائی فیرنی، اردکی پھریری دال مع ادرک و لوازم، گوشت بھری کچوریاں، سیب کا پانی، انار کا پانی، سوڈے کی بوتل، دودھ کا برف۔
وصایا شریف ص 8
اس وصیت پر مولانا ظفر علی خان نے یہ شعر کہا ہے:
تربت احمد رضا

خاں پرچڑھاوا ہے فضول

جب تک اس

میں ماش کی دال اور بالائی نہ ہو

خیر !اس فلسفہ کو سمجھانے اور انہی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے عصر کے بعدجامعہ امدادیہ حبیب المدارس میں پروفیسر محمد مکی صاحب کے ہاں بیان تھا۔ حضرت الاستاذ نے تحذیر الناس اور ختم نبوت کے عنوان پر جب اصل حقائق کو آشکارا کیا تو عوام الناس کے ہونٹوں پر خود بخود اکابر دیوبند کی صداقت کے ترانے مچلنے لگے۔
بیان کے فورا ًبعد ہمارا رخ جامعہ حسینیہ علی پور کی طرف تھا۔ یہاں مولانا اجود حقانی؛ میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے نماز مغرب یہاں ادا کی اور بعد میں مکی مسجد کی طرف چل دیے۔ قاری عبد الجبار قاسمی کے ہمراہ علاقے بھر کے علماء نے حضرت الاستاذ کا والہانہ استقبال کیا جلد ہی اسٹیج پر حضرت الاستاذ رونق افروز ہوئے۔ ہم ” اہل السنت “ کیوں ہیں؟” والجماعت “ کیوں ہیں ؟ حنفی دیوبندی کیوں کہلاتے ہیں؟ الغرض اپنا تعارف پیش کرنے کے بعد بہاولپور جا پہنچے۔
10مارچ بروز اتوار : اپنے معمولات سے فراغت کے بعد سلسلہ مذکور پیہم شروع ہوگیا صبح 11:00 بجے کے قریب مرکز عثمان وعلی مسجد الصادق میں مفتی عبدا لرؤف و دیگر علماء کرام سے ملاقات تھی۔
اس وقت میرا سفر سعادت کا پہلا زینہ چڑھ رہا تھا یعنی مرکز عثمان وعلی میں حضرت الاستاذ کے ساتھ جا ملا۔
12:00 بجے کے قریب جامعہ مدنیہ بہاولپور میں چند منٹ کےلیے تشریف لےگئے جہاں پہلے سے علماء طلباء مشتاق دیدار تھے جامعہ کے حضرت مفتی صاحب سے خصوصی بات چیت اور اپنے کام کی کار گزاری کا تبادلۂ خیال کر کے ” جامعہ صدیقیہ بہاولپور “ جا پہنچے۔ کمرہ خاص میں فضیلۃ الشیخ مولا نا عبد الحفیظ مکی خلیفۂ مجاز قطب العصر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ سے خصوصی میٹنگ اور باہم مشاورت کے بعد نماز ظہر کی اداکی بعد ازاں اسلامی تصوف کی ضرورت واہمیت، تزکیۂ باطن ، تصفیۂ قلوب ، روحانی ترقی ، معرفت الہیہ ، اتباعِ رسول اورحیاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم موضوعات پر جامع خطاب کیا۔ سامعین کے دل و دماغ؛ عظمت مصطفیٰ، محبت اولیاء اور اتباع سنت سے لبریز ایک عجیب کیفیت کے حصار میں تھے ، اس کےبعد حضرت الاستاذ نے دعا کرائی۔ اللہ ہو اللہ دعا میں آنکھوں نے بھی ساتھ دیا اشک ہائے ندامت احساس جرم وعصیاں کی ترجمانی کر رہے تھے جبکہ زبان شاید دریائے رحمت میں غوطہ زن تھی اس لیے مسلسل مصروف دعا تھی۔
جامعہ صدیقیہ میں پہنچنے سے تھوڑی دیر قبل خانقاہ فاروقیہ بہاولپور میں پیر طریقت مولانا رب نواز عباسی سے ملاقات کی موصوف حضرت الاستاذ کے ہم عصر بلکہ ہم سبق علماء میں سے ہیں۔
قارئین کرام! حضرت الاستاذ ہمارے سے آگے والی گاڑی میں تھے۔ گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی تیزی سے منزل کی طرف گامزن تھی میں سوچ رہاتھا کہ آخر کون سی تڑپ ہے جو اس مرد قلندر کو تھکاوٹ کا احساس نہیں ہونے دیتی؟ کون سی لگن ہے جس نے اس درویش خدا مست کو ہر وقت ”مسافر “ بنا رکھا ہے۔ اشاعت ، تحفظ ِدین اور اہل السنۃ والجماعۃ کے فروغ اور فقۂ حنفی کی تحریک کو احیاء بخشنے کےلیے شب وروز کی انتھک محنتیں ان کے اخلاص کا پتہ دیتی ہیں۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ ہم ”مبارک پور“ جا پہنچے۔
جامع مسجد سناراں مبارک پور میں تبلیغی احباب کا جوڑتھا اس موقع پر حضرت الاستاذ نے تبلیغی احباب کی دینی کاوشوں کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ دین کے دو مقدس فریضے ہیں: تبلیغِ دین حفاظتِ دین
بے نمازی کو نماز پر لانا تبلیغ دین ہے اور آئے ہوئے نمازی کو واپس نہ جانے دینا حفاظت دین ہے۔ تبلیغ کی محنت سے ہم نے بے نمازی کو نمازی بنانا ہے اور اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ کی محنت سے ہم نے نمازی کو واپس نہیں جانے دینا تبلیغ کی محنت سے۔ تبلیغ کی محنت کا میدان فضائل والا ہے اور اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ کی محنت کا میدان دلائل والا ہے۔ فضائل سے لانا ہے اور دلائل سے بچانا ہے۔ اس کے بعد چند مسائل اختلافیہ کو ذکر کرنے کے بعد اپنے موقف پر دلائل ذکر فرمائے۔ سامعین سے کہا کہ آپ لوگوں کی محنت سے باطل بو کھلا اٹھا ہے اس لیے وہ تبلیغی نصاب پر ، طریقہ تبلیغ پر، تبلیغ کے انتظامی امور پر وساوس و شبہات پیش کرتا ہے۔ اس کے لیے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دلائل کے میدان میں ہم آپ کو مطمئن رکھیں گے ان شاء اللہ روئے زمین پر کسی بھی باطل میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ ہماری اس عظیم جماعت ………تبلیغی جماعت……… پر اعتراض کرے اور ہم اس کا جواب نہ دے سکیں۔
نماز عشاء ہم نے مسجد ابوبکر صدیق مبارک پور میں باجماعت اد ا کی اور بہاولپور گھلواں کی طرف چل دیے ”مدرسہ نظامیہ “ میں مولانا نظام الدین سے ملاقات کے بعد مجمع عام سے ولولہ انگیز خطاب کیا۔ خطاب کے دوران نبی کے معصوم ، صحابی کے محفوظ، اور مجتہد کے ماجور ہونے پر دلائل ذکر فرمائے۔ تقریباً ایک گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل اس بیان میں اسلامی عقائد و نظریات اور سلف صالحین کے منہج کو خوب واضح کر کے سمجھایا گیا۔
بیانات کو سماعت کرنے کے بعد راقم کے لاشعور کو ایک بات بار بار متاثر کر رہی تھی اور اب وہ شعور پر حاوی ہوگئی ہے کہ حضرت الاستاذ کے علم وتقویٰ کو دیکھ کر جب اپنے گریبان میں نگاہ جاتی تو سوائے لاعلمی اور بد عملی کے کچھ نظر نہ آتا۔ خطاب لا جواب سے فراغت کے بعد ہم لوگ جامع مسجد انوارِ مدینہ ”احمد پور شرقیہ “جا پہنچے۔
11 مارچ بروز سوموار: صبح نماز فجر کے بعد مسجد میں درس قرآن ارشاد فرمایا قرآن پاک کی آیت کریمہ سے اعمال کی قبولیت کی شرائط ذکر فرمائیں۔ اصلاح عقائد اور اصلاح اعمال کی فکر اور تڑپ سامعین کے قلوب و اذہان میں پیوست کی۔ انوار مدینہ میں میزبانی کا شرف مولانا اللہ نواز کو حاصل ہوا۔ ناشتہ سے فارغ ہونے کے بعد ہماری بریک ترنڈہ محمد پناہ ( ضلع رحیم یار خان) پر جالگی۔
سادگی اور بے نفسی سے سرشار ایک سن رسیدہ بزرگ مولانا نور محمد تونسوی قادری سے ملاقات تھی مولانا تونسوی مدظلہ نے ایک زبان دراز منکر حیات النبی مولوی جسے لوگ ”واہیات “ کہتے ہیں کی کتاب اکابر کا باغی کون ؟ پر جواب اور چند دیگر دستاویزات بھی حضرت الاستاذ کو دکھلائیں ، آپ نے پسند فرمایا جو ہمارے جریدے قافلہ حق اور دیگر رسائل میں قسط وار شائع ہورہا ہے۔ مولانا قادری کئی ضخیم تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اکابر دیوبند سے آپ کی والہانہ محبت قابل رشک بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔ یہاں سے فارغ ہوکر ہم سیدھا ”جامعہ حمیرا للبنات “ رحیم یار خان جا پہنچے۔ مولانا عبد الغنی طارق سے ملاقات کے بعد تھوڑی دیر قیلولہ کیا ، اسی اثناء میں ضلع رحیم یار خان کے اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ کے امیر مولانا عبد اللہ فاروق متخصص مرکز اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا بھی تشریف لائے۔ موصوف فاضل نوجوان ہیں اوراپنے علاقے میں مسلکی خدمات کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ عقائد اہل السنت والجماعت کے تحفظ کا مسئلہ ہو یا اکابرِ ملت کے دامن سے منفی اور جھوٹے الزامات اتہمات کو صاف کرنا ہو موصوف کی علمی وعملی کاوشیں اس کےلیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
ظہرانے کی ترتیب رائل ہاک سپر سٹور میں تھی جہان پُر تکلف دعوت کا اہتمام تھا۔ نماز ظہر کی ادائیگی جامعہ اسلامیہ للبنات کے متصل مسجد میں تھی ادائیگی صلوٰۃ کے فریضے سے سبکدوشی کے بعد جامعہ انوار القرآن میں ایک تربیتی ورکشاپ سے حضرت الاستاذ نے اساسیات اسلام کے عنوان پر خظاب کیا۔ اس کے بعد رحیم یار خان کے معروف عظیم الشان دینی ادارے ”جامعہ شمس العلوم تفسیریہ“ پہنچے۔ شیخ الحدیث مولانا حبیب اللہ اور مولانا خلیل اللہ سے خصوصی گفتگو فرمائی۔ مدرسہ تفسیریہ کی طرز دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ دنیا کی بے ثباتی پر نوشتہ دیوار عربی اشعار یہاں کے مکینوں کے قلوب کی غمازی کرتے ہیں۔
ایک شعر باذوق قارئین کی نذر:
ھذہ الغرفات للعرفاء والصلحاء
ھذا من فضل ربی ، ھذاالخفش للفقراء
یہاں سے سیدھا جامعہ رحیمیہ فتحیہ آنا ہوا۔ جہاں مولانا محمد عمران اور مولانا محمد عامر سے ان کے والد گرامی قاری عمر فاروق عباسی کی تعزیت کی۔ مرحو م علاقے بھر میں دین متین کی اشاعت کی کوششوں میں مصروف ہوتے تھے۔ اللہ مرحوم کو غریق رحمت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی دولت عطا فرمائے۔
تقریباً عصر کی نماز کا وقت تھا جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے دفتر جا پہنچے یہاں کے ذمہ دار بھائی مفتی محمد ارشد مدنی ہیں۔ مرزائیت کے سد باب کےلیے علمی و عملی طور پر ہروقت مستعد نوجوان ہیں حضرت الاستاذ کے معتقد ہیں میں نے ان کی مسند پر حضرت الاستاذ کی کافی کتب دیکھیں۔ مولانا عبد الغنی طارق کے کوئی عزیز جنہوں نے پچھلے دنوں گاڑیوں کے شورروم یونائٹیڈ موٹرز کا افتتاح کیا وہاں پر حضرت الاستاذ کو دعائے برکت کےلیے بلایا گیا چندمنٹ دعا کرا کے چل دیے۔
ظاہر پیر شہر میں داخل ہونے سے تقریباًچندکلومیڑ پہلے لہلہاتے کھیتوں میں ایک بھٹی نما ایک ہیکل ہے۔ ہماری گاڑیوں کا رخ اس طرف ہوتا چلا گیا۔ میں اس بھٹہ نما عمارت کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ قریب جا کر ہم اترے تو معلوم ہوا یہ حافظ عبد الرشید کی خانقاہ ہے داخلی دروازے پر فکر آخرت کے بارے اقوال ، بے نمازی کا عبرتناک انجام وغیرہ تحریر تھے۔ خانقاہ کا اندرونی حصہ اتنا سادہ کہ بس چھوڑیے !
راقم کی ملاقات پیر صاحب سے ہوئی ہم نے ان سے درخواست کی ہمیں اپنی اس بھٹہ نما ہیکل کے بارے میں کچھ بتائیے۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ ہم اس میں شریر جنات شیاطین کو جلاتے ہیں ، راقم نے موصوف پر فوراً سوال داغا کہ جنات تو خود آگ کی پیدا وار ہیں ان کو آگ کیسے جلاتی ہے ؟ پیر صاحب نے ہماری دلچسپی کو محسوس کر لیا فر مانے لگے میاں آخرت میں دوزخ میں آگ ہوگی ؟ ہم نے کہا جی بالکل پھر پوچھنے لگے کی کفار اور مشرک ، شریر جنات کو آگ میں ڈالا جائے گا یا نہیں ؟ ہم نے جواباً اثبات میں سر ہلادیے کہنے لگے تو پھر یہاں بھی ان کو جلایا جا سکتا ہے۔
آج کل نئی تعلیم یافتہ ….. قوم؛ جنات جادو وغیرہ کو نہیں مانتے بلکہ جنگلی اور وحشی انسانوں کو جو پوری پوری تمدنی حالت میں نہ ہوں جن قرار دیتے ہیں۔ جنات کو الگ سے مخلوق تسلیم نہیں کرتے ، جیسا کہ سرسید احمد خان نے اپنی تفسیر القرآن میں لکھا اور ان کی فکر سے متاثر چند مسلمان جو قرآن و حدیث کے علم سے محروم ہیں وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ”جن “ الگ سے کوئی مخلوق نہیں ہے۔ حالانکہ قرآن کریم اور احادیث شریفہ بلکہ یہود و نصاریٰ کی مذہبی کتب میں جنات کے وجود کا ذکر بکثرت ملتا ہے۔
قرآن کریم میں جنات کا ثبوت :
سورۃ الحجر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون والجآن خلقنٰہ من قبل من نار السموم۔
ترجمہ : ہم نے انسان کو پکی ہوئی مٹی کے سوکھے ہوئے گارے سے پیدا کیا اور اس سے پہلے جنات کو آگ کی لو سے پیدا کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جنات نے حضرت انسان سے بھی پہلے پیدا کیا۔ سورۃ الرحمٰن میں ہے۔
وخلق الجآن من مارج من نار
اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔
بلکہ قرآن کریم کی ایک مکمل سورۃ اسی نام سے ہے سورۃ الجن یہ انتیسویں پارے کے درمیان میں ہے۔
حدیث شریف سے ثبوت :
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
خلقت الملآئکۃ من نور وخلق الجآن من النار وخلق آدم مما وصف لکم۔
فرشتوں کو نور سے ، جنات کو آگ سے اور آدم علیہ السلام کو اس چیز سے پیدا کیا گیا جو تمہیں بتلادی گئی ہے۔
ان تصریحات کے بعد کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اسلامی تعلیمات کے ہوتے ہوئے اپنی عقل بلکہ غیروں کی غلامانہ سوچ پر ان حقائق سے آنکھیں چرائیں۔
خیر!نماز مغرب اسی خانقاہ میں اد ا کی اور یہاں سے سیدھا مولانا قاضی محمد رفیق کے مدرسے جامعہ مدینۃ العلوم پہنچے۔ حضرت الاستاذ نے حیات شہداء اور حیات انبیاء علیہم السلام کے عنوان پر پر مغز تقریر کی جلسہ چونکہ شیخ الحدیث مولانا حبیب الرحمٰن درخواستی کے زیر صدارت تھا اس لیے پابندئ وقت اور نظم و نسق کا خاصا خیال رکھا گیا تھا، حضرت الاستاذ نے مقتول فی سبیل اللہ اور مقتول فی اللہ پر نِکاتِ علمیہ پیش فرمائے تو علماء اس پر عش عش کر اٹھے۔
یہاں سے فراغت کے بعد اگلی منزل مدرسہ احیاء العلوم ظاہر پیر تھی۔ رات کو چمن میں کافی دیر چہل قدمی کرتے رہے ، مولانا منظور احمد نعمانی کے صاحبزادگان سے بات چیت کی مجلس بھی ہوئی۔ رات گئے کو آرام کیا اور نیند کی آغوش میں جا کر سو گئے۔ نماز فجر کے فوراً بعد مولانا منظور احمد نعمانی نے حضرت الاستاذ کو خطاب کےلیے دعوت ان الفاظ میں دی :مولانا {محمد الیاس گھمن} عمر میں تو میر ے بیٹوں جیسے ہیں لیکن علم میں ، میں ان کو اپنا ”آقا“ سمجھتا ہوں۔ سونے کی قدر سنار کو ہے۔ علم کی قدر علم والوں کو ہے۔ چونکہ سامعین کی اکثریت علماء اور طلباء کرام کی تھی اس لیے خالص علمی بیان کیا۔ موت اور نیند میں مماثلت موت کا مفہوم ، قبر شرعی مفہوم وغیرہ عنوانات زیر بحث لاتے رہے۔
اس کے بعد سفر کا رخ ”مدرسہ راشدیہ دین پور شریف “ کی طرف تھا جہاں خانوادۂ ولایت دین پور کے جانشین میاں مسعود احمد دین پوری سے ملاقات کی۔ عقیدہ ختم نبوت پر چند لمحوں کی گفتگو کے بعد ہم احاطہ خاص خانقاہ دین پور میں گئے۔ اس لیے احاطہ خاص میں جلیل قدر اولیاء کرام مدفون ہیں۔

1)

قدوۃ الصلحاء مولانا عبد الہادی دین پوری رحمہ اللہ

2)

بطل حریت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ

3)

حافظ الحدیث مولانا عبدا للہ درخواستی رحمہ اللہ

4)

شیخ التفسیرمولانا شفیق الرحمٰن درخواستی رحمہ اللہ

5)

مجاہدِ ختم نبوت مولانا لعل حسین اختر رحمہ اللہ

6)

خطیب بے بدل مولانا محمد لقمان علی پوری رحمہ اللہ

7)

میاں احسان احمد شہید کمانڈر حرکت الجہاد الاسلامی رحمہ اللہ

8)

پروردہ ولایت میاں غلام محمد دین پوری رحمہ اللہ

9)

سرچشمہ طریقت میاں خلیل احمد رحمہ اللہ

10)

امام السالکین مولانا عبدالرزاق رحمہ اللہ
اس کےعلاوہ بھی چند دیگرعظیم المرتبت اولیاء کرام کی قبور ہیں۔
امام الہدیٰ مولانااحمد علی لاہوری نے اس احاطۂ خاص کو کشفی حالت میں دیکھ کر فرمایا کہ مجھے یہ جنت کا ٹکڑا محسوس ہوتا ہے۔ حضرت الاستاذ نے مسنون فاتحہ خوانی کی اور ہم باہر نکل آئے۔ قبرستان کے باہر خانقاہ دین پور شریف کی طرف سے ایک سائن بورڈ آویزاں کیا گیا ہے جہاں درج ذیل عبارت درج ہے :
ضروری اعلان:
اس قبرستان میں کسی قسم کی رسوم وبدعات کی قطعاً اجازت نہیں ہے خواہ محرم الحرام کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو۔ نیز : عورتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔
منجانب :جماعت دین پور شریف
خانقاہ سے حاضری کے بعد اب ہم رحیم یار خان کے معروف دینی ادارے ”جامعہ مخزن العلوم“ میں پہنچ آئے تھے یہ حضرت درخواستی رحمہ اللہ کا گلشن ہے جہاں علم و حکمت کے گلہائے رنگا رنگ فضا کو معطر کیے ہوئے ہیں۔ روحانیت اور قلبی سکون روح میں جاگزیں ہو نے لگا تھا۔ حضرات اساتذہ اور طلباء دورہ حدیث کے اصرار پر دار الحدیث میں حضرت الاستاذ تشریف لائے۔ لیکن حضرت الاستاذ کے پروانے جم غفیر کی شکل اختیار کر گئے اس لیے دارالحدیث کی بجائے مسجد میں بیان کرنا پڑا۔ یہاں حضرت الاستاذ نے علماء اور طلباء کی مسلکی تربیت کے عنوان پر بیان کیا۔ اسی دروان کام کرنے کا طریقہ کار خود کو ٹکراؤ سے بچا کر مسلک کی اشاعت اور حفاظت کی ضرورت کے تجرباتی اصول اور نوجوانان علم و حکمت کی ذہن سازی کی۔ بیان میں شیخ الحدیث مولانا خلیل الرحمٰن ڈاہر اور دیگر اساتذہ بھی تشریف فرماتھے۔
طالب علم ہمارے قیمتی اثاثے اور سرمائے ہیں ان کی حفاظت ، ذہن سازی بھی بہت ضروری ہے۔ جب حضرت الاستاذ ان کی ذہن سازی کر رہے تھے تو مجھے اہل باطل کی طرف سے پھیلائے گئے منفی پروپیگنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے یاد آنے لگے کہ باطل اپنی محنت میں ہے اور حق اپنی محنت کررہاہے۔ باطل؛ بد ظنی،نفرت اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کر رہا ہے جبکہ حق؛ حسن ظن ، محبت اور اعتماد کی فضا بنا رہا ہے۔ بے ساختہ میری زبان سے جاری ہونے لگا۔
جاؤ! جا کے مہرتاباں سے کہو اپنی کرنیں سنبھال رکھے
میں اپنی زمیں کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا

ہوں

یہ خطیب ِ نکتہ دان، خطیب ِ پاکستان ثانئ دین پوری مولانا عبد الکریم ندیم کامدرسہ ہے۔ جامعہ امدادالعلوم۔ موصوف ملک پاکستان کے نامور سحر انگیز خطبا ء میں سے ہیں۔ حضرت الاستاذ اور موصوف عبدالکریم ندیم کا کافی دوستانہ ہے۔ حضرت الاستاذ نے یہاں سے مولانا ندیم کو اعزازاً اپنی گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگئے۔ تھوڑی مسافت طے کرنے کے بعد ہم ”جامعہ عبد اللہ بن مسعود“ خان پور میں پہنچ چکے ہیں۔ شیخ الحدیث مولانا حبیب الرحمٰن درخواستی اور دیگر علماء کرام حضرت الاستاذ کے استقبال کےلیے انتظار میں کھڑے تھے۔
عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فلسفۂ نانوتوی کی روشنی میں وضاحت اور نفسِ مسئلہ کی تنقیح۔ یہاں انشراح و انبساط کے ساتھ خطابت میں روانی کی جولانی قابل دید تھی جیسے خود زبان حال سے کہہ رہے ہوں کہ
مقرر ہوں نہ واعظ ہوں نہ ساحر ہوں میں لفظوں کا
زبان بس ساتھ دیتی ہے میں باتیں دل سے کرتا ہوں
سنت قیلولہ کے بعد تقریباً 3:00 بجے کے قریب ہم یہاں سے چل دیے۔ راستے میں ڈیرہ یاسر رانجھا میں تقریباً 20 منٹ رکے ملاقات اور دعائے برکت کے بعد وہاں سے جامعہ فاطمۃ الزاہرا احمد پور شرقیہ اڈا 42 ہزار میں نماز مغرب ادا کی۔ جامع مسجد عبد اللہ بن عباس 42 ہزار میں ذات ِ نبوت ، باتِ نبوت،اور جماعتِ نبوت کے عنوان پر الہامی خطاب ارشاد فرمایا۔ آپ کی سلالت لسانی اور لہجے کی پختگی ، علم میں رسوخ ، دل میں اخلاص سامع کو اپنی طرف موڑ دیتا ہے۔ سامعین ایسے مسحور ہوکر بیٹھتے ہیں کہ جیسے بالکل جامد و ساکت۔
بہاولپور میں رات آرام کیا اور علی الصبح کہروڑ پکا کی طرف رخت سفر باندھ لیا ملک کی عظیم علمی آما جگا ہ” باب العلوم کہروڑپکا“ میں امیر اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ مولانا منیر احمد منور دامت برکاتہم کی رہائش پر پہنچ چکے ہیں۔ حضرت الاستاذ ، امیر محترم کو پورے ملک میں ہونے والی مسلکی کار گزاریاں سناتے رہے محفل ظرافت بھی جمی ، اس کے بعد حضرت الاستاذ نے شیخ الحدیث امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مولانا عبد المجید لدھیانوی کے درس بخاری میں شرکت فرمائی۔ مجھے اچھی طرح یادہے کہ حضرت الاستاذ کی معیت میں راقم نے بھی
بخاری باب اذا کان بین الامام وبین القوم حائط او سترۃ
بخاری جلد اول صفحہ نمبر 101سے تین احادیث کا سبق پڑھا۔ اس کے بعد موصوف شیخ الحدیث نے حضرت الاستاذ کو اپنے پاس بلا لیا اور بیان کرنے کو کہا۔
اس موقع پر عجیب مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے۔ شیخ الحدیث صاحب کے پہلو میں حضرت الاستاذ ختم نبوت کے موضوع پر ایک حدیث کی متکلمانہ شرح ارشاد فرما رہے تھے۔ اس کے بعد خصوصی نشست ہوئی جس میں حضرت شیخ الحدیث مولانا لدھیانوی، مولانا منیر احمد منور، حضرت الاستاذ مولانا محمد الیاس گھمن اور راقم موجود تھے۔ عالمی حالات میں میڈیا کی ضرورت پر بات چیت چلتی رہی۔ حضرت الاستاذ نے شیخ الحدیث مولانا لدھیانوی کو اس بابت اپنی اور اپنی ٹیم کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ ان سے اجازت پاکر ہم نے ملتان کا رخ کیا۔
ملتان میں سب سے پہلے مدرسہ ” عمر بن خطاب“ میں تقریباً 1:00بجے کے قریب ہم پہنچ چکے تھے۔ شہر ملتان کی بزرگ شخصیت شیخ الحدیث مولانا کریم بخش سے ملاقات ہوئی اور عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر علمی مجلس بھی لگی۔ چونکہ ملتان و مضافات کے اکثر مدارس میں امتحانات کے باعث تعطیلات تھیں اس لیے یہاں بیانات کا سلسلہ نہ ہو سکا۔ ان سے دعائیں لے کر ہم ”جامعہ قادریہ حنفیہ“ پہنچے شیخ الحدیث مولانا محمد نواز سیال زیدہ مجدہ سے حضرت الاستاذ کی خصوصی نشست ہوئی چند اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد حضرت الاستاذ نے شیخ الحدیث مولانا محمد نواز سیال کو اعزازاً اپنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا یا اور خود گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ”جامعہ اسلامیہ قمر النساء“ قاری خضر حیات صاحب کے ہاں پہنچے یہاں ایک تربیتی پروگرام تھا۔
قاری صاحب موصوف کافی خوش اخلاق ، نرم مزاج دینی تڑپ رکھنے والے باصلاحیت نوجوان ہیں۔ بیان سے تھوڑی دیر پہلے علماء کی ایک مجلس لگی جس میں حضرت الاستاذ،شیخ الحدیث مولانا محمد نواز سیال، قاری طاسین ، مفتی سعید ارشد الحسینی وغیرہ شریک تھے۔ دین خصوصیاتِ نبوت اپنانے کا نام ہے؟یا ادائے نبوت اپنانے کا ؟ اس پر رموز و اسرار اور علم و حکمت سے لبریز جذبات کو جلا بخشنے والا لطیف نکات پر مشتمل یہ بیان تقریباً پون گھنٹہ ہوا۔ موسم کی انگڑائیاں برسات کی شکل میں ظاہر ہونے لگیں اور موسلادھار بارش رم جھم رم جھم شردع۔ غالباً مغرب سے 10 منٹ قبل ہم ”خانقاہ جلیلیہ جامعۃ الناسکات“ میں پہنچ چکے تھے۔ بھائی شاہد اقبال بھٹہ نے اسلامک اسکو ل سسٹم شروع کر رکھا تھا اپنا نصاب تعلیم حضرت الاستاذ کے سامنے پیش کیا۔ باہمی مشاورت سے اور چند قیمتی نصائح کے بعد یہاں سے رخصت ہوکر ”جمال المدارس “ ملتان میں قاری فخر الدین رازی کے ہاں پہنچے۔ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد حضرت الاستاذ نے تھوڑا سا آرام فرمایا اور نماز عشاء کے بعد عظمتِ جمال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر لا جواب خطاب ارشاد فرمایا۔
یاد ِایامِ جفا:
شرارتی لوگوں کی شرارتیں اپنا کام کر رہی تھیں حضرت الاستاذ کے بارے اہل باطل مخالفین کی مخالفت عروج پرتھی ملتان انتظامیہ کو حضرت الاستاذ کے بارے غلط بریف کیا گیا جس کی وجہ سے بیان کے بعد پولیس کی نفری وہاں پہنچ گئی۔ چونکہ ڈور کہیں اور سے ہلائی جا رہی تھی اس لیے یہ کہا جانے لگا کہ آپ کو ہمارے ساتھ تھانے چلنا ہوگا۔ حضرت الاستاذ کا موقف یہ تھا کہ جب میں کسی کالعدم تحریک کا قائد نہیں ہو ں میرے اوپر کوئی پرچہ نہیں ہے میں کسی کیس میں مطلوب نہیں ہوں بلا جواز میں خود تھانے کے چکر کیوں کا ٹوں ؟ آپ کو میرے بارے بالکل غلط انفارمیشن دی گئی ہے تقریباً رات دو بجے حضرت الاستاذ کو گاڑی میں بٹھا کر تھانہ صدر ملتان لے گئے۔ دوسرے دن دوپہر 3:00بجے سیشن کورٹ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی وکلاء کے بیانات سننے کےبعد جج کی طرف سے ویٹنگ فار آرڈر کا حکم صادر ہوا کہ کل فیصلہ سنایا جائے گا۔ بالآخر کل فیصلہ سنایا گیا ملزَم محمد الیاس گھمن کے بارے میں گورنمنٹ کو اطلاعات غلط دی گئیں تھیں۔ اس لیے ان کو باعزت طور پر بری کیا جاتا ہے چنانچہ ہم تھانے سے جامعہ حنفیہ قادریہ پہنچے۔ یہاں سے ہم سیدھا سرگودھا مرکز اہل السنۃ والجماعۃ پہنچ گئے۔ قارئین! اس مختصر دورانیے میں علم ، عمل، اصلاحِ عقائد ، اصلاحِ اعمال کی جو دولتیں میسر ہوئیں شاید ہزاروں کتابیں چھان کر بھی نہ مل سکیں گی یقیناً اہل دل اولیاء اللہ کی صحبت انسان کی زندگی میں انقلاب لاتی ہیں۔
نہ کتابوں سے نہ و عظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
اب میرے دماغ میں حضرت لاہوری رحمہ اللہ کے وہ الفاظ گردش کر رہے ہیں جب خاتم المحدثین علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کو ریل گاڑی میں بٹھا کر ساتھ تھوڑی دیر چلتے رہے کسی نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ؟ فرمانے لگے اے کاش تمہیں اولیاء اللہ کی صحبت کی قدر وقیمت معلوم ہوتی تو تم یہ سوال ہی نہ کرتے بخدا اولیاء کرام کی صحبت اور معیت بہت بڑی خدا کی نعمت ہے۔ سچ ہےکہ
یک زمانہ صحبتے بااولیا ء………..بہتر از صد سالہ طاعت بےریا
مجلس الشیخ:

ولی اللہ بننے کا نسخہ ترتیب و عنوانات: مفتی شبیر احمد حنفی

4 - اپریل2013ء بروز جمعرات حضرت الشیخ متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے خانقاہ اشرفیہ اختریہ مرکز اہل السنۃ و الجماعۃ 87 جنوبی سرگودھا میں منعقدہ ماہانہ مجلسِ ذکر سے خطاب فرمایا، جس میں ’’ولی اللہ بننے کا نسخہ‘‘ کے عنوان پر پُر اثرگفتگو فرمائی۔ بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
الحمدللہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سئیات اعمالنا من یہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلاہادی لہ ونشہد ان لا الہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ ونشہد ان سیدنا ومولانا محمدا عبدہ ورسولہ،امابعد فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ: قُلْ يَآ عِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوْا عَلٰى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ
الزمر:53
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
مقصدِ تخلیق:
اللہ رب العزت نے ہمیں دنیا میں بھیجا ہے امتحان کے لیے کہ کون اللہ کا بندہ بن کر رہتاہے اور کون اللہ کا بندہ بن کے نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت دنیا کے بھی خالق ہیں،اللہ رب العزت جنت اور جہنم کے بھی خالق ہیں، دنیا میں اگر کوئی انسان اپنے ہاتھ سے کوئی چیز بنائے تو اس چیز کو برباد اور ضائع کرنے سے خوش نہیں ہوتا۔اللہ رب العزت جس انسان کو اپنے دست قدرت سے بناتے ہیں اس کو مٹا کر اللہ بھی خوش نہیں ہوتے۔لیکن بسا اوقات ایک مکان کو بنایا جاتاہے پھر اس مکان کو گرایا جاتاہے، اس مکان کو گرانے کا مقصد اس کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس سے بہتر بنانا ہوتاہے۔ اللہ رب العزت انسان کو بناتے ہیں پھر انسان کو فنا کرتے ہیں، اس کا مقصد انسان کو ختم کرنا نہیں بلکہ بہتر انسان بنانا ہے۔
جسمِ انسانی؛ قدرت کا شاہکار
اللہ رب العزت نےجو انسان کو وجود دیا ہے اپنی قدرت کاملہ سے دیا ہے، کچھ چیزیں خالق نے انسان کے وجود میں ایسی رکھی ہیں کہ ان جیسی چیزیں دنیا پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اللہ رب العزت کی قدرت کا شاہکار انسان کا وجود ہے۔ اسے حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ یوں فرماتے ہیں کہ ایک عالم اصغر ہے اور ایک عالم اکبر ہے، ایک چھوٹا جہاں ہے اور ایک بڑا جہاں۔ بڑا جہاں جو سامنے نظر آتاہے اس میں زمین ہے، زمین میں نہریں ہیں، باغات ہیں اور مختلف چیزیں ہیں اور ایک جہاں اصغر ہے یعنی چھوٹا جہاں، وہ خود انسان کا وجود ہے۔ دنیا میں جتنی چیزیں آپ دیکھتے ہیں ان سب کا اشارہ انسان کے وجود کے اندر موجود ہے۔ آپ کو تعجب ہوگا کہ ایک ہی وقت میں زمین پر کسی علاقے کا موسم گرم ہے اور کسی علاقے کا موسم ٹھنڈا ہے، کہیں موسم گرما ہے اور کہیں موسم سرما ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک ملک میں اگر ٹھنڈ ہے تو دوسرے ملک میں گرمی ہے۔ آپ انسان کے وجود کو دیکھ لیں کہ ایک حصہ گرم ہوتاہے اور ایک حصہ ٹھنڈا ہوتاہے۔ یہ سارے نقشے اللہ نے انسان کے وجود کے اندر رکھے ہیں۔ زمین میں کتنے دریا ہیں، پھر دریاؤں سے نہریں ،نہروں سے نالیاں نکلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ آپ انسان کے جسم کے اندر گیس دیکھیں، رگوں میں دوڑنے والا خون دیکھیں، یہ سارا نظام خود انسان کے وجود میں آپ کو نظر آئے گا۔اسی طرح زمین کے اندر کئی قسم کی جگہیں ہیں، بعض جگہوں کو آپ دیکھیں گے وہاں سبزہ اُگ ہی نہیں سکتا اور بعض جگہیں ایسی ہیں کہ وہاں سبزہ اگتاہے بڑھتا نہیں اور بعض جگہیں ایسی ہیں کہ سبزہ اگتا ہے تو کاٹنا پڑتا ہے۔آپ انسان کے جسم کو دیکھیں بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں بال نہیں اور بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں بال ہیں لیکن بڑھتے نہیں اور بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں بالوں کو کاٹنا پڑتاہے۔تو جو جو نقشے زمین کے اندر ہیں وہ سارے نقشے اللہ نے انسان کے وجود کے اندر رکھے ہیں۔کوئی کمی اللہ نے انسان کے وجود میں چھوڑی نہیں ہے۔
انسان سب سے خوبصورت مخلوق:
بعض احادیث مبارکہ میں ہے لیکن وہ احادیث چونکہ متشابہات میں سے ہیں اس کو بندہ سمجھ نہیں سکتا، اس لیے عوام کے مجمع میں ان احادیث کو بیان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ رب العزت نے انسان کو جو شکل عطا فرمائی ہے وہ شکل اللہ نے کیسے عطا فرمائی ہے۔ بس خلاصہ یہ ذہن میں رکھ لیں: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍدنیا میں جتنی شکلیں موجود ہیں ان میں سب سے خوب صورت شکل اللہ نے انسان کو عطا فرمائی ہے،سب سے احسن شکل اللہ نے انسان کو عطا فرمائی ہے۔
وزیر اور اس کی بیگم کا واقعہ:
اس پر مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے معارف القرآن میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جو بڑا معروف ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ چاندنی رات تھی اور بادشاہ کا وزیر اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وزیر نے اپنی بیگم کو کہا: انت طالق ثلاثا ان لم تکونی احسن من القمر، اگر تم چاند سے زیادہ خوبصورت نہیں تو تمہیں تین طلاقیں ہیں۔یہ لفظ کہہ دیا۔
خیر بادشاہ کے وزیر نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تو چاند سے خوبصورت نہیں تو تجھے تین طلاقیں۔ اب وزیر پریشان ہوگیا۔ کیوں؟کیونکہ بادشاہ بھی سمجھتا تھا کہ تین طلاق دو تو تین ہوتی ہیں ،وزیر بھی سمجھتا تھا کہ تین طلاق دو تو تین ہوتی ہیں،مرد، عورتیں بھی سمجھتی تھیں کہ تین طلاق دو تو تین ہی ہوتی ہیں۔ یہ جملہ کہہ تو دیا لیکن بعد میں بہت پریشان ہوا، لیکن زمانہ خیر کا تھا، بیوی اٹھ کر پردے میں چلی گئی کہ اب میں تمہاری بیوی نہیں ہوں۔اب مجھے طلاق ہوگئی بعد میں جب مسائل پوچھنا شروع کیےکہ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟ تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ایک شاگردنے کہا کہ انسان کے سامنے چاند کی کیا حیثیت ہے؟! اللہ قرآن کریم میں فرماتاہے:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ،اللہ نے انسان کو کائنات کی ساری چیزوں سے خوبصورت بنایا ہے۔اس لیے تمہاری بیوی چاند سے زیادہ خوبصورت ہے،اس لیے طلاق بھی نہیں ہوئی۔
تین طلاقیں تین شمار ہوتی ہیں:
آدمی جب یہ لفظ کہتاہے تو پریشان نہیں ہوتالیکن تھوڑی دیر کے بعد پریشانی شروع ہوجاتی ہے۔جب پریشانی ہوتی ہے تو اس کے ایسے حیلے اختیار کرتاہے جو حیلے بنتے بھی نہیں۔ہمارے ہاں عام طور پر لفظ کہاجاتاہے کہ غصہ میں آکر طلاق دی تھی۔غصہ میں آدمی اگر کسی کو گولی ماردے اور عدالت میں جج کو کہہ دے کہ اس کو معاف کردو، اس نے غصہ میں آکر گولی ماری تھی!اگر ایسا ہوتا تو دنیا میں کسی کو سزاء موت نہ ہو،نہ دیت ہو، نہ قصاص ہو۔ آپ کسی پر غصہ میں آکر گاڑی چڑھا دیں اور جب پرچہ کٹے پھر کہیں: جی میں نے غصہ میں آکر گاڑی چلا دی تھی،طیش میں آگیا تھا اور میں قابو میں نہیں رہا تو جج معاف تھوڑی ہی کرتاہے! لیکن طلاق کا معاملہ اتنا خطرناک ہے کہ الامان و الحفیظ!! لوگ تین طلاق دے دیں گے، جو اختیار شریعت نے دیا تھا وہ ختم کردیں گے، بعد میں کہیں گے کہ” میں غصے میں آگیا تھا، غصہ میں تین طلاقیں دی تھیں اس لیے ایک ہے“۔ اگر یہی بات ہے توغصے میں اگر تین طلاقیں دی ہیں تو ایسی طلاق شمار ہی نہ کرو، یہ تو نہیں کہ ان تین کو ایک سمجھ لو اور دو کو ختم کر لو،کتنی حماقت اور بیوقوفی کی بات ہے،اور پھر ہمارے ہاں تماشہ یہ ہے کہ بیوی کو نکاح سے نکالنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور خود کو ایمان سے نکال لیتے ہیں۔مذہب اپنا بدل دیں گے نکاح ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
منکرین فقہ سے بائیکاٹ کریں:
بھائی! ایمان سب سے قیمتی چیز ہے۔اگر کسی نے یہ جرم کرلیا، اگر ایسا کوئی کیس پیش آجائے کہ خاندان میں اگر شوہر بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو بیوی شوہر پر حرام ہوجاتی ہے، اب شوہر اور بیوی کا تعلق ختم کرنا واجب ہے۔ اگر کوئی تین طلاقیں دے اور ان تین طلاقوں کو ایک کہے تو ان سے بائیکاٹ کریں، کیونکہ اگر کوئی مرد کسی نامحرم عورت کو گھر میں لاکر زنا کرے اتنا سخت گناہ نہیں ہے جتنا تین طلاق کے بعد بیوی کو اپنے پاس رکھنے میں ہے۔اس لیے کہ زانی تو یہ کہتاہے کہ میں زنا کرتا ہوں، لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زنا کرتاہے، لیکن یہ تین طلاقوں کو ایک کہنے والا تو زنا کو نکاح کا نام دے کر بالآخر کفر تک پہنچتاہے۔اس لیے ایسے معاملات سے بہت زیادہ بچیں۔ ہمارے پاکستان میں منکرین فقہ نے یہ چور دروازہ کھولا ہوا ہے کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے اب اللہ اس کو کہے حرام،نبی کہے حرام،پوری امت کہے حرام،لیکن ہم [غیرمقلدین] اس کو حرام نہیں کہتے، بس پھر ہمارا مذہب اختیار کر لو۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے، اللہ ہمیں ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔[آمین]
اطاعت و فرمانبرداری کا نتیجہ:
میں بتا یہ رہا تھا کہ مکان بنا کر گرایا جاتاہے، ختم کرنے کے لیے نہیں مزید اچھا بنانے کے لیے۔ اللہ اس بندہ کو موت دیتے ہیں مٹانے اور فنا کرنے کے لیے نہیں بلکہ جنت میں اچھی شکل وصورت دینے کے لیے۔ اب یہ ہماری مرضی ہے کہ اللہ کی مان کے چلیں تو جنت والی شکل حاصل کریں اور اللہ کی مان کر نہ چلیں تو جہنم کا ایندھن بننے کے لیے تیار رہیں۔اب انسان اگر اللہ کے احکام کو مان کے چلے گا تو یہ ملائکہ کی جگہ میں جائے گا جو کہ جنت ہے اور اگر اللہ کے احکام کو مان کر نہیں جائے گا تو یہ زمین میں جائے گا جو جانوروں کی جگہ ہے۔جہنم اللہ نے نیچے بنائی اور جنت اللہ نے اوپر بنائی ہےجو ملائکہ کی جگہ ہے، ملائکہ اوپر رہتے ہیں اور مٹی جانوروں کی جگہ ہے۔قرآن کریم میں آتاہے۔
وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرَابًا۔
[(قیامت کے دن) کافر کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا]
سورۃ النباء:40
قیامت کے دن اللہ ایسی بکری پیدا فرمائیں گے جس کے دنیا میں سینگ نہیں تھے اور وہ بکری پیدا فرمائیں گے جس دنیا میں سینگ تھے،سینگ والی بکری نے بغیر سینگ والی بکری کو مارا ہوگا تو بغیر سینگ والی بکری اس سینگ والی بکری سے بدلا لے گی قیامت کےد ن اور پھر دونوں اللہ کے حکم سے مٹی ہوجائیں گی۔یہ دیکھ کر کافر کہے گا :يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا،اے کاش! میں مٹی ہوتا۔
میں بتا رہا تھا کہ یہ جانور مٹی سے بنے ہیں اور جہنم بھی یہیں ہے۔اللہ رب العزت نہیں چاہتے کہ بندہ جہنم کا ایندھن بنے، اللہ رب العزت چاہتے ہیں کہ بندہ جنت میں جائے۔
یہ جو میں بات کہتاہوں کہ ”اللہ رب العزت چاہتے ہیں“ اس لفظ کو ذرا سمجھیں۔ قرآن مجید میں ہے۔
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ،
سورۃ یٰسین:82
اللہ کے چاہنے کا نام وجود ہے، جب اللہ چاہتے ہیں کہ بندہ جنت میں جائے تو بندہ جہنم میں جا ہی نہیں سکتا،اللہ کے چاہنے کا نام وجود ہے۔اللہ چاہیں گے کہ بندہ جنت میں جائے تو بندہ جہنم میں جا ہی نہیں سکتا۔
اللہ کی چاہت کا معنی:
اللہ کی چاہت کا معنی سمجھیں۔ اللہ کی چاہت کا معنی یہ ہے کہ اللہ دو چیزوں کا اختیار عطا فرمائے اور اختیار میں سے بندہ اگر یہ کام کرے تو جنت میں جائے یہ کام کرے تو جہنم میں جائے۔اللہ رب العزت بندے کے سامنے دو راستے رکھتے ہیں، گناہ کرو گے تو جہنم میں جاؤ گے،نیکی کرو گے تو جنت میں جاؤ گے، مجھے گناہ پسند نہیں ہے، مجھے نیکی پسند ہے لیکن میں نے اختیار دونوں کا دیا ہے۔ جیسے اعمال کرو گے میں اس کے مطابق تمھیں بدلہ عطا کروں گا۔ تو جو راستے اللہ نے دکھائے ہیں ایک ان میں سے شرعاً اللہ کا پسندیدہ ہے اور دوسرا شرعاً اللہ کا نا پسندیدہ ہے۔ اگر پسندیدہ راستے پر چلو گے تو پسندیدہ مقام جنت میں جاؤ گے، اور اگر ناپسندیدہ راستے پر چلو گے تو ناپسندیدہ مقام جہنم میں جاؤ گے۔ تو یہ معنی ہے اللہ کے چاہنے کا۔ اوریہ پسند ناپسند تکوینی باتیں نہیں ہیں بلکہ تشریعی باتیں ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
ولایت کا مدار؛ ایمان و تقویٰ
اللہ جنت میں اس کو بھیجے گا جو اللہ کا دوست ہو، اسے جنت میں نہیں بھیجتے جو اللہ کا دوست نہ ہو۔اس کو آپ اس طرح سمجھیں کہ آپ نے ایک اچھا مکان بنایا، آپ اس کو بلائیں گے جو آپ کا دوست ہو، اسے نہیں بلائیں گے جو آپ کا دوست نہ ہو۔اللہ ”ولی“ کو جنت میں جگہ دیتے ہیں اور جو ”ولی“ نہ ہو اسے جنت میں جگہ نہیں دیتے اور ولایت کے لیے دو چیزیں بنیادی ہیں جسے کو ہم کہتے ہیں: ”ولایت کا میٹریل“ ولی کیسے بنتاہے؟: (1)ایمان ہو، (2)تقویٰ ہو۔قرآن کے الفاظ پر غور کریں، اللہ خود فرماتے ہیں۔
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
سورۃ یونس:62
کہ ولی پر نہ خوف ہے آئندہ آنے والے حالات کا، اور نہ اس کوغم ہے گزشتہ کسی نقصان کا۔ لیکن ولی ہوتا کون ہے؟
الَّذِينَ آمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ
جوایمان لائیں اور ڈرتےبھی رہیں۔تو ولایت کا مدار دو چیزوں پر ہے۔1:ایمان،2:تقویٰ
یقینِ محکم، عمل پیہم:
قرآن کریم کے الفاظ پر غور کریں۔ اللہ نے لفظ ”آمَنُوْا“ فعل ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور
”كَانُوْا يَتَّقُوْنَ “
ماضی کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا بلکہ”يَتَّقُوْنَ“ فعل مضارع ہے اور مضارع پر ”كَانُوْا“ داخل ہے۔علماء جانتے ہیں عربیت اور گرائمر کا قاعدہ یہ ہے کہ مضارع پر جب ”کَانَ“ آتا ہے تو اس میں استمرار آجاتاہے۔ یہ قاعدہ عموماً ہے۔ اب”آمَنُوْا“ میں استمرار نہیں ہے، ”كَانُوْا يَتَّقُوْنَ“ میں استمرار ہے۔ یعنی ایمان آدمی باربار نہیں لاتا،ایک بار لاتاہے اور عمل باربار کیا جاتاہے، ایک بار کر کے چھوڑا نہیں جاتا۔ گویا اللہ فرماتے ہیں: ولی بننا چاہتے ہو تو تم ایک بار ایمان لے آؤ، پھر تم نے نماز مسلسل پڑھنی ہے۔ایمان لے آؤ پھر روزہ مسلسل رکھنا ہے، ایمان لے آؤ پھر تمہارے ذمہ اعمال مسلسل ہیں۔
ایک سوال اور حکیم الامت کا جواب:
حکیم الامت رحمہ اللہ نے ایک سوال کا بڑا پیارا جواب دیا ہے۔اگر کوئی آدمی دنیا میں ستر سال رہتاہے اور وہ کفر کرتاہے تو وہ ابدی جہنم میں جائے گا اور ایک آدمی ستر سال اچھے اعمال کرتاہے وہ جنت میں جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کفر ستر سال کا اور سزا اس کی ابدی جہنم اور اچھے اعمال ستر سال کے اور جزاء اس کی ابدی جنت، تو یہ عقل کے خلاف ہے۔حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ بہت پیارا جواب ارشاد فرماتے ہیں، فرمایا کہ اس کافر کو ابدی جہنم اس کے ستر سال کفر کی وجہ سے نہیں ملی بلکہ یہ کافر جب تک دنیا میں رہتا وہ کفر کرتا اور یہ مسلمان جب تک دنیا میں رہتا یہ اچھے اعمال کرتا، اُس کی نیت ہمیشہ کفر کی تھی اور اِس کی نیت ہمیشہ ایمان کی تھی۔اس سے سے زیادہ ایمان اس کو نہیں مل سکتا اور اس سے زیادہ کفر اسے نہیں مل سکتا۔ تو جو جس کےبس میں تھا اس نےاسے اختیار کرلیا، نیت چونکہ دائمی تھی اس لیے دائمی جنت ملی اور دائمی جہنم ملی ہے۔
متقی کیسے بنیں؟
تو میں بتا یہ رہا تھا کہ ولایت کے لیے بنیادی دو چیزیں ہیں:[1]ایمان [2]تقویٰ۔تقویٰ کا معنی کیا ہے؟انسان گناہ سے بچے اور اگر گناہ ہوجائے تو فوراً توبہ کرلے۔ باربار توبہ کرے باربار توبہ کرے۔آدمی دل چھوٹا نہ کرے۔ لیکن یہ نعمت ملتی کیسے ہے؟حکیم الامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دیکھو! جو چیز جہاں ہو وہاں سے ملتی ہے، سونا چاہتے ہو تو سونے کی دکان میں ملے گا، کپڑا بازار سے ملے گا۔ توجہاں جو چیز ملتی ہے وہاں جاؤ اور اگر تقویٰ چاہتے ہو تو تم اس جگہ جاو جہاں متقین ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَكُونُوْا مَعَ الصَّادِقِينَ
سورۃ التوبہ:119
اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔
ولایت کا مقام تو دو چیزوں پر ہے، ایک ایمان اور دوسرا تقویٰ پر۔اب ایک شخص کہتاہے میں نے ایمان تو قبول کرلیا ہے اب میں تقویٰ کے لیے کہا جاؤں؟ تو فرمایا: اولیاء کی مجلس میں بیٹھو، وہاں آپ کو تقویٰ ملے گا۔مجلس میں بیان سننا شرط نہیں ہے بلکہ صرف جاکر بیٹھ جاؤ۔ ہمارے شیخ حکیم اختر صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں: دیکھو !جب آپ خانقاہ آؤ، آپ کچھ بھی نہ کرو اپنے معمولات چھوڑ دو اور اپنے شیخ کے تجاویز کردہ معمولات کو اختیار کرو، دیکھنا خدا تمہاری کیفیت بدلتاکیسے ہے؟
حق ادا نہ ہوا!!!…….
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ اولاً تو شیخ کی مجلس میں بیٹھتے نہیں اور اگر کبھی بیٹھ بھی جائیں تو بیٹھنے کا حق ادا نہیں کرتے۔ ایک عالم ہیں مولانا محمد نواز صاحب ،ملتان میں ہوتے ہیں، جامعہ قادریہ کے مہتمم بھی ہیں۔بڑے عالم ہیں اور بڑے شیخ بھی ہیں۔ ہم بیٹھے ہوئے تھے ملتان میں تو مجھے بہت عجیب بات فرمانے لگے کہ بعض لوگ بہت عجیب ہوتے ہیں۔ میں نے کہا: کیا مطلب؟فرمانے لگے: میرے پاس چار آدمی آئے اور کہنے لگے کہ ہمیں آپ سے کام ہے ہمیں کچھ وقت دو۔میں نے وقت دیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اب ایک کا فون آیا وہ فون سننے کے لیے باہر چلاگیا، دوسرے کا فون آیا وہ باہر چلاگیا، تیسرے کا فون آیا وہ فون سننے کے لیے باہر چلاگیا، اسی طرح چوتھا بھی چلا گیا۔ تو آئے وہ میرے لیے ہیں اور باہر فون سن رہے ہیں۔ انہوں نے فون کے لیے مجھے قربان کر دیا لیکن فون کو میرے لیے قربان نہیں کیا،اب بتاؤ نفع کیسے ہو گا ؟
یہی بات میں کہتاہوں کہ اس طرح نفع نہیں ہوتا، ہم وہاں جاکر اپنی خواہشات ترک نہیں کرتے۔ میرے شیخ نے بہت عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرید اپنے پیر کے پاس آیا اور اچانک وہاں نواب بھی آیا،مرید نے پیر صاحب کو چھوڑ کر نواب صاحب سے گپیں ہانکنا شروع کردیں۔اب اس کو کیا نفع ہوگا۔
حکیم الامت رحمہ اللہ کا ذوق:
حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کا ذوق سماعت فرمائیں،اور ان کے مزاج کو ملاحظہ فرمائیں، فرماتے ہیں: اگر میں اپنے شیخ کی مجلس میں بیٹھا ہوں- حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تھے اور اس مجلس میں جنید بغدادی آجائیں،حسن بصری رحمہ اللہ آجائیں،پیر عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ آجائیں میں ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھوں گا کیوں کہ مجھے جو کچھ ملا ہے اپنے شیخ سے ملا ہے۔یہ تھا حکیم الامت رحمہ اللہ کا مزاج۔ اس طرح آدمی کو فیض بھی ملتا ہے۔
فیض اپنے شیخ ہی سے ملے گا:
ہمارے شیخ حکیم محمد اختر دامت برکاتہم عجیب مثال دیتے ہیں کہ نکاح سے قبل عورت کو اختیار ہوتاہے کہ وہ اپنے شوہر کو دیکھے لیکن نکاح جب ہوگیا تو اب وہ کہے: میں بہت خوبصورت ہوں اور میرا شوہر بدصورت ہے اور میں کسی اور سے نکاح کرنا چاہتی ہوں تو کیا اس کو اختیار ہے؟! فرمایا: نہیں،اب جو اس کو اولاد ملنی ہے اسی شوہر سے ملنی ہے جو رنگ کا کالا ہے، اسے اگر فیض ملنا ہے اسی سے ملنا ہے جو رنگ کا بدصورت ہے۔حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ پہلے بیعت نہ کرو، پہلے اپنا شیخ تلاش کرواور جب شیخ بنا لو تو پھر یہ ذہن بنا لو کہ مجھے فیض اسی شیخ سے ملے گا۔ اگر یہ ذہن بنا لو گے تو تمھیں فیض ملنا شروع ہو جائے گا، اور اس فیض کو ”تقویٰ“ کہتے ہیں اور یہ فیض کب ملتاہے جب آدمی اپنے آپ کو شیخ کے وجود میں فنا کرتاہے، اور یہ فیض رکتا کب ہے جب آدمی شیخ میں فنا ہونے کی بجائے اپنے آپ کو گناہوں میں لت پت کر لیتا ہے۔
معصیت؛ فیض شیخ میں رکاوٹ ہے :
میں جب حکیم صاحب کی خدمت میں 1999ء میں کراچی تھا، حضرت خانقاہ میں تھے۔ ہم بیٹھے تھے مسجد کے صحن میں، حضرت نے کہا: چلو اوپر چلتے ہیں جامعہ کی چھت پر،وہاں گئےتو فوراًہمیں ہوالگنے لگی۔ حضرت فرمانے لگے: دیکھو ہوا نیچے بھی تھی لیکن دیوار کی آڑ میں ہوا ہمیں نہیں لگ رہی تھی اور یہاں لگ رہی ہے، اسی طرح شیخ کا فیض جاری ہوتاہے لیکن کبیرہ گناہ شیخ کے فیض کو روک دیتا ہےاور گناہ نہ ہو تو شیخ کا فیض جاری رہتاہے، مرید اپنے کرتوت جاری رکھتا ہے اور شیخ سے تذکرہ نہیں کرتا ، بتاتا نہیں کہ میں یہ گناہ کر رہا ہوں اور پھر کہتا ہے کہ مزاج میں تبدیلی نہیں آئی ، نفع نہیں ہوا، اب اس کی خواہش ہوتی ہے کہ میں خانقاہ بدل لوں،پیر بدل لوں،شیخ بدل لوں،ان کو نہ بدل اپنے مزاج کو بدل،اپنی خلوت کو بدل۔
مجلس شیخ؛ اکتساب فیض کا ذریعہ:
میں بتا یہ رہا تھا کہ ولایت نام ہے ایمان اور تقویٰ کا، اور تقویٰ یہ ہے کہ گناہ نہ کرو اور اگر گناہ ہو جائے تو توبہ کرو اور تقویٰ ملے گا کیسے؟شیخ کی مجلس سے،شیخ کی صحبت سے،اس سے اللہ تعالیٰ تقویٰ عطا فرماتے ہیں اور یہ شیخ کی مجلس صرف مردوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خواتین کے لیے بھی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ خواتین مردوں کے ساتھ آ کربیٹھیں، اور یہ مطلب بھی نہیں کہ خواتین شیخ کو دیکھیں اور شیخ خواتین کو دیکھے۔دیکھو! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مرد اور صحابیات عورتیں تھیں۔ اب وہ جو صحابیات تھیں وہ حالت ایمان میں آئی ہیں، پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں بیٹھی ہیں اسی وجہ سے صحابیات بنی ہیں۔ تو جس طرح صحابیات بننے کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کو دیکھنا یا ان کا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا شرط نہیں بلکہ حالت ایمان میں پیغمبر کی مجلس میں آ جانا صحابیہ بننے کے لیے کافی ہے، بالکل اسی طرح شیخ کی مجلس میں عورت کا آ جانا اور بیانات کو سننا کافی ہے اکتساب فیض کے لیے۔ میں یہ اس لیے کہہ رہاہوں کہ جب ہم یہ ماحول ومزاج نہیں بنائیں گے تو گھر کا ماحول نہیں بدلے گا، معاشرے کا ماحول نہیں بدلے گا۔
فیضِ شیخ کی برکت:
حضرت حکیم صاحب نے دو عورتوں کا واقعہ لکھا ہے، شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے دور میں بیعت ہوگئیں۔مالدار عورتیں تھیں، ان کی زندگی بدل گئی۔ان دنوں حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےجہاد کا فیصلہ کیا۔ جب وہاں سے نکلنےلگے توان عورتوں نے بھی پیغام بھیجا کہ ہمیں بھی ساتھلے چلیں،آپ نے پوچھا: تمہیں ساتھ لے کر کیاکروں گا ؟ انہوں نے کہا: ہم مجاہدین کے لیے چنے پیسا کریں گی،مجاہدین کے لیے چکی میں آٹا پیسا کریں گیں۔ چنانچہ وہ ساتھ چلی گئیں،پہاڑی علاقوں میں سفر کیا،مالدار خاندان کی عورتیں تھیں،پہلے نوکرانیاں کام کرتیں تھی،اب اپنے ہاتھوں سے مجاہدین کے دانے پیستی تھیں جن کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے۔ان سے پوچھا گیا: تمہیں کون سی زندگی پسند ہے؟ کہنے لگیں: حضرت شاہ اسماعیل کی برکت سے اللہ نے جو ایمان کی دولت نصیب کی ہے ہمارے قلب سے اگر ان پہاڑوں کو دھو دو شاید یہ بھی برداشت نہیں کرسکیں،اس لیے ہم اُس زندگی پر اِس زندگی کو ترجیح دیتی ہیں۔
قرب قیامت کا زمانہ ہے فتنوں کا دور ہے بے حیائی،فحاشی سے اپنے آپ کو بچانا یہ واقعۃًبڑا مشکل کام ہے۔لیکن اگر آدمی اپنے آپ کو بچانا چاہے تو کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر چھوٹا بچہ اکیلے سڑک پر جائے گا تو گاڑی کے ایکسیڈنٹ کا خطرہ ہے لیکن اگر اپنا ہاتھ اپنے ابو کے ہاتھ میں دے تو ایکسیڈنٹ کا خطرہ نہیں ہوتا۔ جب آدمی کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دے دے اور پھر دیکھے اللہ اس کو ایکسیڈنٹ سے کیسے بچاتا ہے؟ ہماری آپ سے گزارش ہے کہ جس شیخ سے بھی تعلق ہو اس کے اذکار کی پابندی کرو، ان سے تعلق رکھو اور اپنے احوال ان کے سامنے رکھو۔ اللہ مجھے بھی اور آپ کو بھی ولایت کاملہ عطا فرمائے،ولایت کا اعلیٰ درجہ ایمان اور تقویٰ ہے اور ولایت کا ادنیٰ درجہ ایمان اور اعمال میں کمی ہے۔اللہ ہمیں ایمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائے اور محبت کے ساتھ ساتھ اعمال کی بھی پابندی کرتا رہے۔ اللہ مجھے بھی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو بھی توفیق عطا فرمائے۔[آمین]وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ