امام محمد بن سیرین﷬

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
تذکرۃ المحدثین:
……مولانامحمدارشد سجاد
امام محمد بن سیرین﷬
امت مرحومہ میں بے شمار ایسی شخصیات گزری ہیں جن کو قدرت نےاسرار کائنات کے علم سے نوازا ہے۔ ان برگزیدہ شخصیات میں سے ایک ہستی جلیل القدر تابعی امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی ہے۔
آپ کی ولادت کے بارے میں کتب تاریخ میں کوئی حتمی رائےنہیں ملتی کہ کس سن؟کس ماہ؟ اور کون سے دن پیدا ہوئے؟البتہ اتنا ضرور ملتا ہے کہ آپ خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کے آخری دوسالوں میں پیدا ہوئے اور ایسے گھرانے میں پرورش پائی جس میں تقویٰ وپاکیزگی کی خوشبو چار اطراف میں پھیلی ہوئی تھی یہی وجہ تھی کہ اللہ رب العزت نے آپ کو علم وحکمت کا مخزن اور بحر ذخار بنایا۔اور مقام ولایت کے ساتھ ساتھ خوابوں کی تعبیر کا بھی غیر معمولی جوہر عطاء کیا۔ جس کی وجہ سے آپ فن تعبیر کے امام کہلائے گئے۔
مقام ومرتبہ :
جب صحابی رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ جب میں فوت ہوجاؤں تو مجھے محمد بن سیرین غسل دیں اور وہی جنازہ پڑھائیں۔ )سیر تابعین ص 146(
علم حدیث میں بلندمقام :
اگرچہ آپ کی شہرت اور مقبولیت فن تعبیر رویا )خوابوں کی تعبیر ( میں بہت زیادہ تھی اور آپ اس فن کے بلا شرکت غیرے امام کہلائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اللہ کریم نے علم حدیث میں خوب ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آنموصوف نے روایت حدیث ،تحقیق وتنقیح میں اور ثقاہت کا ایک عمدہ معیار قائم کیا ہے کہ صرف جماعت حقہ اہل السنت والجماعت ہی سے روایت لی جائے۔ روافض، خوارج ، معتزلہ اور دوسرے بدعتی فرقوں کی مرویات سے کوئی سروکار نہ رکھا جائے۔
ابن سیرین اور سند حدیث:
اسی سلسلہ میں امام شمس الدین ذھبی رحمہ اللہ اپنی شہرت یافتہ کتاب ”میزان الاعتدال فی نقد الرجال“ کےمقدمہ میں ان ثقہ راویوں کا تذکرہ کرتے ہوئے جن کی احادیث قابل استناد نہیں سمجھی گئیں، لکھتے ہیں:
”روی عاصم الاحوال عن ابن سیرین قال لم یکونوا یسئالون عن الاسناد وحتی وقعت الفتنۃ فلما وقعت نظروا من کان من اھل السنۃ اخذوا حدیثہ ومن کان من اھل البدعۃ ترکوا حدیثہ۔“
) مقدمہ میزان الاعتدال ج1ص47(
ترجمہ : امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اوئل میں حدیث کی روایت میں اسناد کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا، انجام کار فتنے اٹھنے لگے اور صالحین امت کی طرح اہل بدعت نے بھی روایتِ حدیث شروع کر دی تو ہم نے حق وباطل میں امتیاز کرنے کےلیے یہ معیار مقرر کیا کہ صرف اہل السنت والجماعت سے حدیث لی جائے اور اہل بدعت کی روایت کردہ حدیث چھوڑ دی جائے۔

تنقیح روایت کا بہت عمدہ اور معیاری اصول حضرت امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے اختیار فرمایا ورنہ آج اصل ونقل ، صحیح وموضوع میں تمیز کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
ابن سیرین اور مورق عجلی :
حضرت مورق عجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” میں نے ورع وتقویٰ میں اور فقہ میں محتاط محمد بن سیرین سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔“
)تہذیب التہذیب ج5ص628(
ابن سیرین اورابو قلابہ :
حضرت ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :” اے لوگو! تم جس حیثیت سے چاہو امام محمد بن سیرین کو جانچ لو ! انہیں ورع وتقویٰ میں اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ کنٹرول کرنے والا پاؤ گے۔ “
)تہذیب التہذیب ج5ص628(
ابن سیرین اور ابن عون :
حضرت ابن عون رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے دنیا میں تین اشخاص بے مثال دیکھے۔ عراق میں محمد بن سیرین ، حجاز میں قاسم بن محمد اور شام میں رجاء بن حیوۃ پھر ان تینوں میں ابن سیرین بے مثال تھے۔ “
)تہذیب التہذیب ج5ص628(
ابن سیرین اور عثمان بتی :
حضرت عثمان بتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:” بصرہ میں محمد بن سیرین سے بڑھ کر عہدہ قضاء کو کوئی جاننے والا نہیں گزرا۔“
)تہذیب التہذیب ج5ص628(
آج کا زمانہ اور خوابوں کی دنیا:
آج کل مسلمان اپنی عملی زندگی میں مسلسل پیچھے کی جانب جا رہا ہے ، ایمان و عقیدہ میں انحطاط کا شکار ہے ، اہل حق علماء سے جس قدر دور ہو رہا ہے اسی قدر جعلی پیروں فقیروں کے جھنجھٹ میں پڑ کر جہاں اپنی عاقبت خراب کر رہاہے وہاں اپنی دنیا بھی لٹوائے جا رہاہے۔ بالخصوص مسلمانوں کی خوابوں کی دنیا ایسی آباد ہوئی ہے کہ حقیقت کی دنیا فراموش ہو کر رہ گئی ہے۔ بات بات پر یہی سننے کو ملتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ یوں کر لیں تو فائدہ ہو گا اور یوں کر لیں تو نقصان ہوگا ، اتنی بات یقینی ہے کہ خواب کا آنا ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن تعبیر خواب کے حوالہ سے یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ خواب اچھا ہو یا برا ہر آدمی کے سامنے بیان نہ کرے۔ کیونکہ حدیث مبارک میں آتا ہے کہ : خواب بندے اور اس کی تعبیر بتانے والے کے درمیان لٹکا رہتا ہے جو تعبیر بتلائے گا ویسا ہی ہوگا اس لیے آدمی کو چاہیے کہ اپنا خواب نیک ،متقی ، عالم باعمل اور اپنے قریبی دوست سے بیان کرے تاکہ وہ اچھی تعبیر بتائے۔
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی کتاب تعبیر الرویا کے مقدمے میں حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے نقل کیاگیا ہے، وہ فرماتے ہیں: چار قسم کے لوگوں سے خواب کی تعبیر پوچھناجائز نہیں ہے :

1.

بے لوگوں سے جو شریعت کے پابند نہ ہوں۔

2.

عورتوں سے۔

3.

جاہلوں سے۔

4.

دشمنوں سے۔
)تعبیر الرؤیا ص 47(
وفات :
9 شوال 110ھ کو یہ علم و فضل کا بے تاج بادشاہ ، علم حدیث و تعبیر کا ماہر زندگی کی 77 بہاریں دیکھ کر دار آخرت کی چل دیا۔ آج بھی دنیا ان کے علم و فن سے فائدہ اٹھا ر ہی ہے۔ بالخصوص خوابوں کی تعبیر دینے میں ان کی کتاب تعبیر الرویا بنیادی نصاب کی حیثیت رکھتی ہے۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون)