فقہ اسلامی کا انکار۔۔۔۔۔۔ نتائج اور انجام

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

فقہ اسلامی کا انکار……نتائج اور انجام

مولانامحمد اشفاق ندیم

اسلام دنیا میں اتحاد واتفاق کا پیغام لے کر آیا ہمارے برصغیر پاک وہند میں اسلام لانے والے، پھیلانے والے اور اسلام قبول کرنے والے سب اہل السنت والجماعت حنفی تھےاور ہزار سال سے زائد عرصہ گزرگیا کہ مسلمانوں میں اتحاد واتفاق

تھا  پھر جب انگریز تجارت  کی غرض سے بر صغیر میں آیا اور اس پر غاصبانہ قبضہ کرلیا انگریز کا اپنا دین تو کوئی تھا ہی نہیں اور اگر تھا بھی تو وہ تحریف شدہ تھا اس کی منشاء اور آرزو یہ تھی کہ اسلام کی شکل بھی مسخ کردی جائے اور اس کے اصل الاصول کو کسی طریقے سے کھوکھلا کیا جائے ،چنانچہ اس نے تحقیق اور ریسرچ کے نام پر مسلمانوں میں دین بیزاری اور مذہبی بے راہ روی  کی داغ بیل ڈالی اس کے ساتھ ساتھ خواہش پرستی اور اسلاف دشمنی  کی مہم  کو کامیاب کرنے کے لیے چند بکاؤ اشخاص کا انتخاب کیا اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار،فرقہ واریت اور تفرقہ بازی کوہوادی۔ اس کی پالیسی یہ تھی کہ لڑاؤاور حکومت کرو۔

برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ نے مذہبی آزادی کی مہم کا اشتہار دیاتو چند لوگ اس کے دام میں آگئے اور غیر مقلد  ہوکر اس کے دست و بازو بن گئے ، مسلمانوں کے گھروں اور مساجد میں فتنہ پروری کا شور اٹھنے لگا،ہر گھرمیں لڑائی، ہرمسجد میں فساد برپاہوگیا۔ والفتنۃ اشد من القتل جیسی صریح نص قرآنی کے مقابلے میں ملکہ وکٹوریہ کے مذہبی اشتہار پر لوگوں کا رجحان بڑھتا گیا اور آپ علیہ السلام کے فرمان : لعن آخر ہذہ الامۃ اولھا۔)ترمذی( کے مصداق بنتے چلے گئے۔

 اکابراور سلف صالحین کے خلاف بدزبانی اور بدگمانی کی مہم کا آغاز کردیا۔ابتداء میں چند فقہی اور فروعی  اختلاف کو ہوا دے کر فقہ اسلامی کا انکار کیا گیا پھر احادیث مبارکہ کے اختلاف کو اچھال کراحادیث کا انکار کردیا اورپھر اجماع امت کا انکار کیا گیا۔ فقہ،حدیث اور اجماع کے انکار کے بعد قرآن پاک میں تفسیر بالرائے کا دروازہ کھولاگیا،جس کی واضح اور جیتی جاگتی مثال مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تفسیر القرآن بکلام الرحمٰن ہے۔

فقہ اسلامی کا انکار کرکے اپنی تحریفات اور ناقص آراء اور خواہش پرستی کو قرآن وحدیث کانام دیدیا، دین میں بلاشبہ کتاب وسنت اصل ہیں اس کا کوئی منکر نہیں مگراس کےباجود ہم  نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یکسر نظر انداز کر سکتے ہیں اور  نہ تابعین، ائمہ دین، فقہاء اسلام اور محدثین کرام رحمہم اللہ کو۔  کتاب وسنت کا صحیح مفہوم معلوم کرنے کے لئے بہر حال ہمیں ان کی رہنمائی کی ضرورت ہے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین وائمہ دین اور فقہاء اسلام رحمہم اللہ  نے دین کو جس طرح سمجھاہے اور اس کے بارے میں جو ان کی رہنمائی ہے وہی اصلِ دین ہے،  اس کے برعکس جو مفہوم ومعنیٰ ہم اپنی رائے سے  متعین کریں گے وہ دین نہیں کہلائےگا بلکہ اسلاف سے ہٹ کراگر ہم نے اپنی عقل سے دین کو سمجھنے کی کوشش کی تو دین کا تماشا بن جائےگا۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسا آدمی بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوگیا کہ جو سنت، حدیث ، اقوال صحابہ رضی اللہ عنہم، اقوال تابعین رحمہم اللہ وغیرہم سے باخبر نہ ہوگا وہ دین کو صحیح نہیں سمجھ سکتا، اس وجہ سے کہ سلف نے قرآن پاک کی کیا تفسیر کی ہے اور خالص سنت کیا ہے اس کا علم انہی سے حاصل ہوگا۔

منہاج السنۃ: ج 3 ص 71

بخاری، بخاری کانام لینے والے اگر بخاری شریف پڑھ لیتے تو فقہاء کرام پر اعتراض نہ کرتے خود امام بخاری رحمہ اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین، فقہاء،محدثین رحمہم اللہ  کے اقوال ذکر کرکے  شرعی مسئلہ ثابت کرتے ہیں۔واقعات اور مثالیں توبہت ہیں لیکن صرف سمجھانے کے لئے دو مثالیں عرض خدمت ہیں۔

1:          مثلاً بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم دورکعت فجر سے پہلےاور دورکعت عصر کے بعد کبھی نہیں چھوڑتےتھے۔

بخاری شریف: ص 83

 اگر صرف حدیث ہی کودیکھ کر کسی نےدین سیکھناہے تو وہ دورکعت عصر کے بعد پڑھے حالانکہ کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے اس لئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے معلوم ہواکہ  یہ آپ علیہ السلام کی خصوصیت تھیاور یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ  عنہ کے دور میں جولوگ حقیقت سے واقف نہیں تھے انہوں نے جب عصر کے بعد ان دورکعتوں کا معمول بنایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان پر سختی کرنی پڑی۔

چنانچہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نمازپڑھنے والوں کو سزا دیتے تھے، حالانکہ ایک جماعت کا اس پر عمل رہا ان کی دلیل تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد {دو رکعت} نماز پرہمیشگی کی ہے لیکن چونکہ یہ آپ علیہ السلام کی خصوصیت تھی اور آپ نے فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایاتھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو عصر کے بعد نماز پڑھتاتھا اس کو سزادیتے تھے۔ 

مجموع الفتاوی: ج 20 ص 168

              حالانکہ نبی علیہ السلام سے کہیں یہ منقول نہیں ہے کہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعتوں کو اپنی خصوصیت فرمایا ہو مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اور خصوصاً جو صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم آپ کے بہت قریب تھے ان کو معلوم ہوتاتھا کہ آپ کا کون سا کام محض اپنے لئے ہے اور کون سا کام تمام امت کے لئے ہے۔ اس لئے ان کی رہنمائی کے بغیر صحیح سنت کا علم ہو ہی نہیں سکتا۔

2:           بخاری ومسلم کی روایت ہے آپ علیہ السلام  نے فرمایا: لیس  علی المسلم فی فرسہ ولا عبدہ صدقۃ۔

بخاری: ج 1 ص 197

مسلمان کے گھوڑے اور اس کے غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

 اب ظاہر حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ مسلمان کے کسی بھی طرح کے گھوڑے اور غلام ہوں ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ حالانکہ کسی نے بھی اس کا یہ مطلب نہیں لیا بلکہ جمہور اہل السنۃ کا مسلک یہ ہے کہ اگر گھوڑے اور غلام تجارت کے لئے ہوں  تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ غیر مقلد عالم مبارکپوری فرماتے ہیں: ان زکوٰۃ التجارۃ ثابتۃ بالاجماع ۔۔۔فیخص بہ عموم ہذالحدیث

تحفۃ الاحوذی: ج 3 ص 308

             یعنی گھوڑےاور غلام اگر تجارت کے لئے ہوں تو اس میں زکوٰۃ اجماع سے ثابت ہے پس اجماع سے حدیث عام کا مفہوم خاص کیا جائےگا۔ اجماع سے حدیث عام کو خاص کرنا پڑا۔ اجماع؛ نہ تو  کتاب اللہ ہے اور نہ ہی  سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  یہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم وتابعین رحمہم اللہ  وغیرہم کے قول وعمل کے اتفاق کانام ہے۔آج کل غیر مقلدین کا طبقہ سلفیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے امت کے نوجوانوں کو اسلاف سے بد ظن کررہاہے یہ ریسرچ اور تحقیق کے نام پر وقت حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے اللہ پاک سب کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔تقلید میں دین وایمان کی سلامتی ہے عدم تقلید کا راستہ نہایت خطرناک ہے اور یہی وجہ ہے مذہب اربعہ کے مدون ہوجانے کے بعد ساری امت نے اس تقلید کے راستہ کو ختیار کیاہے۔ ہمارے اور آپ کے بھی دین کی سلامتی کا واحد ذریعہ اور خصوصاً اس زمانہ میں تقلید اور اسلاف پر اعتمادہے۔