غیر مقلدین کے”عمل بالحدیث“ کا معیار

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

غیر مقلدین کے”عمل بالحدیث“  کا معیار

……?مفتی محمد یوسف

ہمارے غیرمقلدین بھائی بھی بادشاہ لوگ ہیں۔باور تو یہی کراتے ہیں کہ ہم صرف صحیح صریح احادیث پر عمل کرتے ہیں ضعیف حدیث ہمارے نزدیک قابل حجت نہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ

یہ لوگ احادیث کے قبول اور رد کرنے کے بارے میں کسی ضابطہ اخلاق کے پابند نہیں۔ ان کا اپنا معیار ہے کہ جو حدیث ان کے مخصوص نظریات کے موافق ہو اسے ہر حال میں [ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ] قبول کرتے ہیں،اگرچہ حقیقت میں وہ ضعیف ہو اور محدثین نے اس کے راویوں پر شدید جرح بھی کی ہواور جو حدیث ان کے مذہب کے خلاف ہو اسے کسی نہ کسی طرح ضعیف قرار دے کر ہی دم لیتے ہیں اگرچہ وہ حدیث محدثین کرام کے ہاں صحیح کیوں نہ ہو۔ بطورنمونہ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

مثال نمبر1:احناف کا مذہب یہ ہے کہ اقامت کے کلمات دوہرے کہے جائیں اس بارے میں علامہ عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے سیدنا عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کی درج ذیل حدیث صحیح سند کے ساتھ بیان کی ہے:کان عبداللہ بن زید الانصاری موذن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یشفع الاذان والاقامۃ۔

مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص321رقم 2151

حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  کے موذن تھے وہ اذان اور اقامت کے الفاظ دہرے دہرے ادا کرتے تھے۔

حافظ ابن حزم رحمہ اللہ  اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں :ہذا اسناد فی غایۃ الصحۃ۔

المحلیٰ بالآثار ج2ص191

یہ سند انتہائی درجہ کی صحیح ہے۔مگر غیرمقلدین کے نامور عالم عبدالرحمان مبارکپوری اس صحیح سند والی روایت کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:قلت لاشک ان رجالہ رجال الصحیح لکن فی صحۃ اسنادہ نظر وان زعم ابن حزم انہ فی غایۃ الصحۃ لان فیہ الاعمش وہو المدلس۔

ابکار المنن ص292

یعنی میں کہتا ہوں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث کے رواۃ؛ صحیح[صحیح سے مراد بخاری شریف ہے۔از راقم]کے رواۃ ہیں۔اگرچہ ابن حزم نے اس کو انتہائی صحیح حدیث قرار دیا ہے مگر اس کی صحت محل نظر ہے کیوں کہ اس میں ایک راوی اعمش ہے اور وہ مدلس ہے۔

جناب اگر ذرا دیر کے لیے یہ بات تسلیم بھی کرلیں کہ اعمش راوی مدلس ہیں اس لیے ان کی یہ صحیح حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔مگر یہ تو بتایا جائے کہ اس کا احساس امام بخاری وامام مسلم کو کیوں نہیں ہوا؟آخر انہوں نے اسی اعمش [جو کہ آپ کے نزدیک مدلس ہیں]کی روایات کو کثیر تعداد میں اپنی اپنی کتابوں میں کیوں ذکر کیا ہے؟

مثال نمبر2:امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کے بہت سے دلائل ہیں ان میں سے ایک حدیث مبارک یہ ہے :من کان لہ امام فقراءۃ الامام لہ قراءۃ۔

شرح معانی الآثار ج1ص159

یہ حدیث متعدد سندوں سے مروی ہے اس کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ہے اس کے بارے میں غیرمقلدین کے مشہور محدث ناصر الدین البانی مرحوم تحریر کرتے ہیں:والحاصل:ان طرق الحدیث بعضہا صحیحۃ او حسنۃ وبعضہا ضعیفۃ ینجبرضعفہا بغیرہا من الطرق الکثیرۃ فالقول بانہ حدیث غیرثابت او غیرمحتج بہ ونحو ذالک غیرمعتدبہ

اصل صفۃ صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ج1ص358

ترجمہ:اور حاصل کلام یہ ہے کہ اس حدیث کے بعض طرق صحیح یا حسن ہیں اور بعض طرق [اس قدرخفیف درجہ کے]ضعیف ہیں کہ ان کے ضعف کی وجہ سے جو کمی آتی ہے وہ دیگر کثیر طرق کی وجہ سے پوری ہوجاتی ہے لہذا اس حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ ثابت نہیں ہے یا اس کو بطور دلیل پیش نہیں کیا جاسکتایا اس طرحکی  کوئی اور بات کہنا ناقابل اعتماد اور بےوزن ہے۔

مذکورہ عبارت اس پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ زیر بحث حدیث البانی صاحب کے نزدیک ثابت اور صحیح ہے چونکہ یہ حدیث امام کے پیچھے قراءت نہ کرنے کی ایک روشن دلیل تھی اس لیے مبارکپوری صاحب اسے ہضم نہ کرسکے اور حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے یہ فیصلہ صادر فرمایا:ان ہذا الحدیث ضعیف بجمیع طرقہ

ابکار المنن ص519

یہ حدیث اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔

انصاف کیجیے!ایک طرف تو البانی صاحب کا فیصلہ ہے،جنہوں نے واضح لفظوں میں تنبیہہ کی ہے کہ اس حدیث کو ضعیف تو دور کی بات ہے کوئی غیر ثابت یا غیرمحتج بہ کہے گا تو اس کی یہ بات بےوزن اور ناقابل اعتبار متصور ہوگی اور دوسری طرف مبارکپوری صاحب ہیں کہ جنہوں نے کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے” ضعیف“ تک لکھ دیا ہے۔واضح رہے کہ البانی صاحب غیرمقلدین کے ہاں کوئی معمولی حیثیت کے حامل نہیں بلکہ بہت بڑا مقام رکھتے ہیں،  زبیر علی زئی نے انہیں ”مشہور محدث اور شیخ“ کے لقب سے یاد کیا ہے اور ان کی تحقیق کو بطور حجت کے پیش کیا ہے۔ 

نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص41

مثال نمبر3:فرقہ غیرمقلدیت سے وابستہ افراد  نماز میں بلند آواز سے آمین کہتے ہیں۔اس بارے میں وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں نے  آمین کہنا چھوڑ دیا ہے حالانکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ پڑھتے تو آمین اتنی اونچی آواز سے کہتے کہ پہلی صف والے سن لیتے اور اس کے ساتھ مسجد گونج اٹھتی۔                                                                  

سنن ابن ماجہ ص62

یہ روایت سخت ضعیف ہے اس میں ایک راوی بشر بن رافع ہے جس پر محدثین کرام نے شدید جرح کی ہے۔مثلاً:

  1. امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:لیس بشئی ضعیف فی الحدیث

حدیث میں ضعیف ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔

  1. امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یضعف فی الحدیث ۔

حدیث کے معاملے میں اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں :لایتابع فی حدیثہ

حدیث کے معاملہ میں اس کی پیروی نہ کی جائے ۔

  1. امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ضعیف الحدیث،منکر الحدیث،لانریٰ لہ حدیثا قائما

حدیث کے معاملہ میں ناقابل اعتبار اس کی کوئی حدیث ہم نے مضبوط نہیں دیکھی

  1. امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ہوضعیف عندہم ،منکر الحدیث ۔ ۔ اتفقوا علیٰ انکار حدیثہ وطرح ماراوہ وترک الاحتجاج بہ،لایختلف علماء الحدیث فی ذالک۔

محدثین کرام رحمہم اللہ کے ہاں حدیث کے معاملے میں ناقابل اعتبار اور ضعیف ہے ۔۔۔ اس بات پر محدثین کرام نے اتفاق کیا ہے اس کی بیان کردہ حدیث میں غیر مانوسیت  ہوتی ہے اور اس کی روایت کردہ حدیث اس قابل نہیں  کہ ا سے بطور  دلیل مان لیا جائے ان  باتوں میں کسی محدث کا اختلاف نہیں ۔

  1. امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ضعیف ۔[ بشر بن رافع ضعیف ہے ۔]

تہذیب التہذیب ج 1 ص421،422، تہذیب الکمال ج 2 ص 52

یہ روایت چونکہ غیرمقلدین کے مذہب کے موافق ہے۔اس وجہ سے وہ اس کو قبول کرتے ہیں چنانچہ مبارک پوری تحریر کرتے ہیں : قلت ھذا الحدیث وان کان اسنادہ ضعیفاً لکنہ منجبر بتعدد طرقہ

ابکار المنن ص 616

یہ احادیث اگرچہ ضعیف ہیں مگر متعدد طرق کی وجہ سے یہ ضعف والا نقصان پورا ہو جاتا ہے۔

لمحہ فکریہ!:

مذکورہ بالا مثال نمبردو میں البانی صاحب نے امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کی روایت کے بارے میں واضح طور پر لکھا تھا کہ اس حدیث کے صحیح طرق بھی ہیں اور حسن طرق بھی۔ البتہ جو اس کے بعض طرق ضعیف ہیں وہ بھی نقصان دہ نہیں کیونکہ دیگر کثیر طرق اس ضعف کو ختم کر دیں گے مگر اس مقام پر مبارک پوری صاحب نے البانی صاحب  کی یہ بات  ٹھکرا دی تھی اور بڑی بے باکی سے کہا تھا کہ ”یہ روایت تمام طرق سے ضعیف ہے۔“ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے کہ  روایت کے ضعیف ہونے کا اعتراف بھی ہے اور ساتھ عمل بھی۔  وجہ صرف  اور صرف یہی ہے کہ یہ اپنے مذہب کی دلیل ہے۔

مثال نمبر4:غیر مقلدین کی عادت ہے کہ نماز فجر اندھیرے میں پڑھتے ہیں اور بطور دلیل ابو داؤد شریف ص57  رقم الحدیث 394 پیش کرتے ہیں حالانکہ اس کی سندمیں اسامہ بن زید لیثی  ضعیف راوی ہے اس کے بارے میں محدثین کرام کی کیا آراء ہیں ملاحظہ  کیجیے ۔

  1. امام احمدرحمہ اللہ  فرماتے ہیں:لیس بشئی۔۔۔ان تدبرت حدیثہ فستعرف  فیہ النکرۃ ۔

حدیث میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اگر آپ اس کی بیان کردہ روایات میں غور و فکر سے کام لیں تو اس میں آپ کو غیر مانوس قسم کی احادیث ملیں گی ۔

  1. امام یحیٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اشھدوا انی قد ترکت حدیثہ تم میرے اس کام کے گواہ رہو کہ میں نے اس سے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا ہے ۔
  2. امام دارقطنی  رحمہ اللہ فرماتے ہیں من اجل ھذا ترکہ البخاری۔

 اسی وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے روایت لینا چھوڑ دیا ہے ۔

  1. امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ۔ اس کی حدیث لکھ لینے کی گنجائش ہے مگر اس کو بطور دلیل بیان نہیں کیا جاسکتا۔
  2. تہذیب التہذیب ج1ص 198-199، تہذیب الکمال ج 1 ص 351

اتنی شدید جروحات کے باوجود بھی غیر مقلدین نے اس روایت کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا اور محدثین کرام کی تمام جروحات کو پس پشت ڈال دیا محض اس وجہ سے کہ یہ روایت ان کے مسلک کے ہم آہنگ وموافق ہے۔چنانچہ وکیل غیرمقلدین مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں:قلت اسامۃ بن زید اللیثی وان اختلف فی توثیقہ وتضعیفہ لکن الحق انہ ثقۃ صالح للاحتجاج

ابکار المنن ص51

یعنی اسامہ بن زید لیثی کی صحت وضعف کے بارے میں  اگرچہ محدثین کا اختلاف ہے کوئی اس کو ثقہ کہتا ہے اور کوئی ضعیف قرار دیتا ہے مگر حق بات  یہ ہے کہ وہ ثقہ ہے اور اس سے دلیل لی جاسکتی ہے۔

سوچنے کے بات یہ ہے کہ اگر یہی معاملہ احناف کے حق میں ہو تا تو نام نہاد اہل حدیث برملا کہتے کہ تعدیل پر  جرح مقدم ہوتی ہے اس لیے تمہاری یہ روایت  مجروح ہے ناقابل عمل ہے اور ضعیف ضعیف[ دعیف دعیف]  کا شور بلند کرتے مگر یہاں معاملہ چونکہ اپنے بارے میں ہے اس لیےمکمل خاموشی سادھ لی  ہے ۔

خلاصہ کلام:

ہم نے بطور نمونہ چار مثالیں پیش کی ہیں: پہلی اور دوسری مثال یہ بتانے کے لیے کہ اس میں جو احادیث درج کی گئی ہیں ان کی صحت میں کوئی شبہ نہیں خود غیرمقلدین کے اکابر نے اسے تسلیم کیا ہے مگر  اس کے باوجود غیرمقلدین ان پر عمل نہیں کرتے بلکہ عاملین کو برا بھلا کہتے ہیں ۔تیسری اور چوتھی مثالیں یہ سمجھانے کے لیےذکر کی ہیں کہ یہ احادیث ضعیف ہیں ۔ خود ان  کے بزرگوں نے اسے ضعیف تسلیم کیا ہے مگر غیرمقلدین ان پر سختی سے کاربند  ہیں شاید ضعیف احادیث پر عمل کر کے وہ اپنے ضعیف اہل حدیث ہونے کا ثبوت فراہم کرنا چاہتے ہوں؟

 بہرحال!جو بھی وجہ ہو، وہی بہتر سمجھتے ہیں البتہ ہمیں افسوس اور حیرت اس بات پر ہے کہ یہ دوہرے پیمانے انہوں نے کیوں مقرر  کر رکھے  ہیں؟ایک کام ہم کریں تو غلط، وہ خود کریں تو ٹھیک۔ ہم کریں تو ”مخالفت بالحدیث“اور  وہ خود کریں تو ”عمل بالحدیث “ فیاللعجب !!