دوامِ رفع یدین اورجھوٹی روایت کا سہارا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

دوامِ رفع یدین اورجھوٹی روایت کا سہارا

مفتی شبیر احمد حنفی

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے:

مَنْ يَّقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ•

صحیح البخاری: ج1 ص21باب اثم من كذب على النبی صلى الله عليہ وسلم

ترجمہ: جو شخص مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک ”جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں بنا لے“ بقول حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے متواتر ہے۔

فتح الباری: ج1 ص269 باب اثم من كذب على النبی صلى الله عليہ وسلم

اس متواتر حدیث کے باوجود بعض الناس حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹ بولنے سے باز  نہیں آتے۔ اپنی تحریر، تقریراور روزمرہ کی گفتگومیں موضوع و مردود روایات بڑی ”جرأت“اور ”وثوق“سے پیش کرتے ہیں۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی تحاریر و تقاریر جھوٹ کا معجون مرکب ہوتی ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ رفع یدین حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری عمل تھا، ایک روایت بیان کرتے ہیں، حالانکہ یہ روایت تحقیق کی رو سے من گھڑت اور جھوٹ ہے۔ ان لوگوں کی عبارات ملاحظہ ہوں:

1: غیر مقلد عالم صادق سیالکوٹی لکھتے ہیں:

”رسولؐ اللہ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب اٹھاتے سر اپنا رکوع سے اور سجدوں میں رفع یدین نہ کرتے۔ اللہ تعالےٰ سے ملتے دم تک آپؐ کی نماز اسی طرح رہی۔“

صلوٰۃ الرسول: ص233 ط نعمانی کتب خانہ

2: محمد رئیس ندوی غیر مقلد لکھتے ہیں:

”ابن عمر نے کہا کہ تحریمہ کی طرح رفع الیدین آپؐ بوقت رکوع بھی تا زندگی کرتے رہے حتی کہ آپؐ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔“

رسول اکرم کا صحیح طریقہ نماز: ص331 ط صہیب اکیڈمی شیخوپورہ

3: ابو خالد نو ر گرجاکھی لکھتے ہیں:

”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سنت کے پروانے نے (کَانَ یَرْ فَعُ یَدَیْہِ) فرما کر اور موجب روایت بیہقی آخر میں (حَتّٰی لَقِیَ اللہ) لا کر یہ ثابت کر دیا کہ رسول اللہ  ابتدائے نبوت سے لے کر اپنی عمر کی آخری نماز تک رفع الیدین کرتے رہے۔“

اثبات رفع الیدین: ص20 ط دار التقویٰ

4: عبد المتین میمن جونا گڑھی بھی  اپنی کتاب ”حدیثِ نماز“ (ص125ط مکتبہ عزیزیہ لاہور) میں یہی روایت لائے اور لکھا:

حَتّٰی لَقِیَ اللہ آپؐ کی نماز ہمیشہ اسی طرح رہی یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔“

غیر مقلدین کی بیان کردہ یہ روایت ”عبد الرحمٰن بن قریش بن خزیمۃ الہروی عن عبد اللہ بن احمد الدمجی عن الحسن بن عبد اللہ بن حمدان الرقی ثنا عصمۃ بن محمد الانصاری“ کی سند سے شیخ ابن دقیق العید الشافعی کی کتاب ”الامام“ میں ہے۔ 

بحوالہ نصب الرایۃ: ج1 ص483

یہ روایت موضوع، من گھڑت اور کذب محض ہے کیونکہ اس میں دو راوی ہیں جو سخت مجروح اور حدیث گھڑنے والے ہیں۔ ان روات کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل کی آراء ملاحظہ فرمائیں:

راوی نمبر۱: عبد الرحمٰن بن قریش ابن خزیمۃ الہروی

[۱]: ابو الفضل احمد بن علی بن عمروالسلیمانی:اتهمہ السليمانى بوضع الحديث

میزان الاعتدال: ج2ص513رقم الترجمہ4692

کہ محدث سلیمانی نے اس راوی کو حدیثیں گھڑنے کے ساتھ متہم کیا۔

[۲]:ابو بکرالخطیب البغدادی(قال): في حديثه غرائب

تاریخ بغداد ج8ص300

کہ اس کی بیان کردہ حدیثوں میں غرابت (اوپرا پن) ہے۔

راوی نمبر۲:عصمہ بن محمد انصاری

[۱]: ابن سعد (قال): وکان عندھم ضعیفا فی الحدیث [محدثین کے ہاں یہ راوی حدیث میں ضعیف ہے]

طبقات ابن سعد ج7ص239، تاریخ بغداد ج10ص210

[۲]: یحیی ابن معین(قال):  کان کذاباً،یروی احادیث کذبا…… من اکذب الناس……یضع الحدیث[یہ جھوٹا تھا، جھوٹی احادیث روایت کرتا تھا، سب سے زیادہ جھوٹ بولتا تھا اور جھوٹی حدیثیں گھڑتا تھا]

تاریخ بغداد ج10ص210، میزان الاعتدال ج3ص75، الضعفاء الکبیر للعقیلی ج3ص340

[۳]: ابوحاتم الرازی(قال) :لیس بالقوی [یہ قوی راوی نہیں ہے]

میزان الاعتدال ج3ص75

[۴]: العقیلی(قال): یحدث بالاباطیل عن الثقات [ثقہ راویوں کی طرف منسوب کر کے باطل حدیثیں بیان کرتا تھا]

الضعفاء الکبیر للعقیلی ج3ص340، میزان الاعتدال ج3ص75

[۵]: ابن عدی (قال): كل حديثه غير محفوظ وهو منكر الحديث [اس کی تمام حدیثیں غیر محفوظ ہیں اور یہ منکر الحدیث تھا]

الکامل لابن عدی ج7ص89، میزان الاعتدال ج3ص76

[۶]: الدارقطنی (قال):متروک [یہ متروک ہے]

تاریخ بغداد ج10ص210، میزان الاعتدال ج3ص75

خلاصہ: اس روایت میں کذاب، وضاع اور مجہول روات ہیں اور یہ موضوع اور من گھڑت روایت ہے۔ محدثین حضرات کا یہی فیصلہ ہے:

(۱): مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: کذب [یہ روایت جھوٹی ہے]

نیل الفرقدین: ص36

(۲): محدث محمد بن علی النیموی:  ہو حدیث ضعیف بل موضوع [یہ روایت (انتہائی)ضعیف بلکہ موضوع ہے]

آثار السنن: ص107

غیر مقلدین نے امانت و دیانت کا جنازہ نکالتے ہوئے اس روایت سے استدلال کیا ، حیرت ہے کہ اس کے متعلق جھوٹ بولنے، غلط بیانی کرنے اور بد دیانتی سے کام لینے سے بھی نہیں ہچکچائے۔ بطورِ مثال دو حوالے پیش خدمت ہیں:

۱: غیر مقلدین کے پیشوا مولوی نور حسین گرجاکھی نے کیا خوب کارنامہ سر انجام دیا کہ اس روایت کے کذاب اور وضاع راویوں کے بجائے اس پر بخاری و مسلم کے روایان  فٹ کر دیے۔ موصوف لکھتے ہیں:

”رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم کا وفات تک رفع یدین کرنا۔ 13۔كان رسول الله صلى الله عليه و آلہ و سلم یرفع يديه اذا افتتح الصلاة  وإذا  کبر للركوع وإذا رفع رأسه من الركوع فما زالت تلك صلاته حتى لقي الله تعالٰى۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ و سلم نماز شروع کرنے اور رکوع جانے اور رکوع سے  سر اٹھانے کے وقت رفع یدین کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ملتے دم تک آپ کی نماز اسی طرح رہی یعنی اپنی عمر کی آخری نماز تک آپ رکوع جانے اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین کرتے رہے۔ دراسات لبیب……… 14 سبحان اللہ یہ کیسی پیاری اور عمدہ حدیث (جس کو چھیالیس) ائمہ نے نقل کیا ہے اور اس  کا اسناد کتنا عمدہ ہے۔ (۱) امام مالک تو وہ تمام عالموں اور محدثوں کے پیشوا ہیں اور وہ اس کو (۲) ابنِ شہاب زہری سے روایت کرتے ہیں جو اہل مدینہ کے بڑے مشہور عالم اور امام تھے اور امام زہری (۳) سالم بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں جو بڑے تابعی اور فقیہ ہیں اور سالم (۴) حضرت عبد اللہ بن عمر  سے روایت کرتے ہیں جو بڑے قدیم الاسلام، متبع سنت اور عالم اور بڑے درجے والے جو کان (کان یرفع یدیہ) سے حدیث نقل کر رہے ہیں اور آخر میں (فما زالت تلک صلوٰتہ حتی لقی اللہ تعالیٰ) لا کر ثابت کرتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم اپنی عمر کی آخری نماز تک رکوع جانے اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین کرتے رہے۔“

قرۃ العینین فی اثبات رفع الیدین: ص8، 9 بحوالہ حدیث اور اہل حدیث:431، 432

قارئین! اس من گھڑت روایت کی سند کا حال آپ پیچھے ملاحظہ فرما چکے، لیکن موصوف کی تحریف بھی دیکھیے کہ بخاری و مسلم کے روات کا تذکرہ کر کے یہ باور کرا رہے ہیں کہ آخری عمر تک رفع یدین کرنے کی روایت (فما زالت تلک صلوٰتہ حتی لقی اللہ تعالیٰ) بخاری کے روات سے مروی ہے۔ تف ہے اس علمی بد دیانتی اور کذب بیانی پر لیکن  ہمیں حیرت ہے کہ اتنی تحریف کے بعد بھی یہ لوگ ”اہل حدیث“ ہی بنے رہتے ہیں۔

ع        زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

۲: محمد یوسف صاحب  غیر مقلد کی ”صداقت“ بھی ملاحظہ فرمائیں، موصوف فقہ حنفی کی مشہور ومعتبر کتاب ”الہدایۃ“ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

”بیہقی کی روایت میں ابن عمر سے جس کے آخر میں ہے کہ یہی آپ کی نماز رہی یہاں تک کہ  اللہ تعالیٰ سے ملاقی ہوئے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ ہدایہ ج۱ص۳۸۶“

حقیقۃ الفقہ: ص194

قارئین کرام!ہمیں ہدایہ کے پورے متن میں یہ الفاظ نہیں ملے کہ مذکورہ روایت صحیح الاسناد ہے۔ جھوٹی اور من گھڑت روایت کو ثابت کرنے کے لیے غیر مقلدین کے ان ”بزرگوں“ کی ”کوششیں“ آپ نے ملاحظہ فرما لیں کہ یہ فرقہ کس طرح اپنے مسائل کو ثابت کرنے کے لیے ان روایات کا سہارا لیتا ہے۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے ”شیخ الحدیث“محمد اسماعیل سلفی کی ڈھٹائی بھی ملاحظہ فرمائیے، موصوف لکھتے ہیں:

”آج کل کے بعض حنفیہ کا اسے موضوع کہنا تعصب ہے اور جرأت الخ“

رسول اکرم کی نماز: ص51

خلاصہ کلام: موضوع روایت کو اس طرح جزماً پیش کرنا اور اپنے مسئلے کی بنیاد رکھنا یقیناً جرم عظیم  اور بہت بڑا جھوٹ ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹ بولنے والا شخص جہنم میں جائے گا۔ و ما علینا الا البلاغ

نوٹ: آپ صلی اللہ علیہ و سلم  آخری زندگی میں صرف شروع کے رفع یدین پر قائم رہے، لہذا صرف شروع نماز کا رفع یدین ہی کیا جائے اور رکوع کو جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدوں وغیرہ کا رفع یدین نہ کیا جائے۔ اس پر دلائل کیلیے استاذ مکرم متکلمِ اسلام مولانا محمد الیاس گھمن کی کتاب ”نماز اہل السنت و الجماعت“ کا مطالعہ فرمائیں۔