فرقہ اہل حدیث سابق اہل حدیث مسعود احمد کی نظر میں

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

فرقہ اہل حدیث

سابق اہل حدیث مسعود احمدB.S.C کی نظر میں

مولانا محمد نواز فیصل آبادی

گھر کے بھیدی:قسط نمبر 1

قارئین کرام !ہم چند ان فرقوں اور فتنوں کے بارے میں ایک سلسلہ بنام ” گھر کے بھیدی “ شروع کر رہے ہیں ۔ جنہوں نے ام الفتن غیر مقلدیت کی کوکھ سے جنم لیا  اس سلسلے کی پہلی کڑی

جناب مسعود احمد B.S.C کی روداد ہے ۔ آئیےملاحظہ کرتے ہیں

فرقہ اہل حدیث کے مقتداء اور پیشوا بسا اوقات عوام کو اپنے جال میں پھنسانے کےلیے یہ چال چلتے ہیں کہ فلاں آدمی پہلے ”حنفی“ تھا توبہ کرکے ”اہلحدیث“ ہو گیا جس سے ہمارے مذہب کے سچے ہونے کا ایک ثبوت ملتا ہے۔ اگر اہل السنت والجماعت کا مسلک سچا ہوتا تو وہ اس کو چھوڑ کر فرقہ اہل حدیث میں کیوں شامل ہوتا؟

 پھر اپنے جلسوں میں اس نئے غیر مقلد کو بڑی آن بان سے بلاکر اشتہار پر اس کا بڑا نام لکھ کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس نے سابقہ مسلک کو چھوڑ کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیاہے ، حالانکہ بہت سے افراد خود فرقہ اہل حدیث کو چھوڑ کر مسلک اہل السنت والجماعت کو اختیار کر رہے ہیں، ہمارے پاس کثیر حضرات کی لسٹ موجود ہے جو کہ فرقہ اہل حدیث کو چھوڑ کر راہ راست پر آگئے اور مسلک اہل السنت والجماعت کو قبول کر  لیا اور بہت سے ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے فرقہ اہل حدیث کو چھوڑ کر کسی الگ نئے گمراہ فرقے کی بنیاد رکھی ہے ۔

 مسعود احمد B.S.Cکا شمار بھی ایسے افراد میں ہوتا ہے جو کہ نہ صرف یہ فرقہ اہل حدیث کو چھوڑ چکے  بلکہ اس نےایک نئے گمراہ فرقے کی بنیاد ”جماعت المسلمین “کے نام سے ڈالی ہے  پھر تماشہ یہ کہ وہ اپنی تحریرات میں فرقہ اہل حدیث پر جا بجا ؛بجا تنقید کرتا نظر آتا ہے ۔ فرقہ اہل حدیث کے متعلق ان کی بعض تحریرات نقل کی جاتی ہیں :

پہلے مسعود احمدB.S.C کا تعلق فرقہ اہل حدیث کی ایک فرقی غربا ء اہل حدیث سے تھا پھر توبہ کرکے 1395ھ بمطابق1975ء میں فرقہ جماعت المسلمین کی بنیاد رکھی ۔ چنانچہ لکھتے ہیں :” ہمارا اُس جماعت سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک فرقہ کی ذیلی جماعت تھی اور اب ہم فرقہ واریت سے تائب ہوکر مسلم ہو چکے ہیں جس پمفلٹ کا محقق صاحب نے حوالہ دیا ہے وہ فرقہ واریت کےزمانہ کا پمفلٹ ہے لہذا کالعدم ہے  اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم نے 1395ھ میں اللہ تعالیٰ کی بنیاد ڈالی ہوئی جماعت المسلمین میں شامل ہوگئے ۔ مسلم بنتے رہتے اور جماعت ترقی کرتی رہی۔“

جماعت المسلمین کے متعلق غلط فہمیاں اور ان کا ازالہ اشاعت نمبر99

مندرجہ کتاب جماعت المسلمین کی دعوت اور تحریک اسلامی کی آئینہ دار ہیں ص555

مسعود احمد B.S.Cمسلک اہل حدیث کو فرقہ وارانہ نام قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:”اہل حدیث کیونکہ امتیازی ”فرقہ وارانہ“ نام ہے لہٰذا مسلک اہل حدیث سے فرقہ واریت عیاں ہے ۔ برخلاف اس کے ”دین اسلام“ کے الفاظ میں فرقہ واریت کا نام ونشان نہیں۔

مذہب اہل حدیث کی حقیت ص3

اہل حدیث کی تاریخی حیثیت واضح کرتے ہوئے موصوف  لکھتے ہیں :”اہل حدیث نام بعد میں اختیار کیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکھا ہوا نام نہیں ہے۔” اہل حدیث “ نام کس نے رکھا؟ کب رکھا؟ اور کیوں رکھا؟ ہم ہمیشہ پہلے دو سوال کرتے ہیں لیکن ہمارے سوالات کو بدل کر ہمیں اپنی طرف سے وضع کردہ تیسرے سوال کا جواب دیا جاتا ہے گویا پہلے دو سوالوں کا اہل حدیث کے پاس کوئی جواب نہیں۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص4

اہل حدیث کےمسلک کو ملاوٹی اور بدعتی قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں  :”اگر اہل حدیث کا اسلام جو بقول ایڈیٹر صاحب ابھی تک خالص ہے آئندہ کسی زمانے میں ملاوٹی ہو گیا تو سچے اہل حدیث اس وقت کیا کریں گے؟ بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اہل حدیث کا اسلام ملاوٹی ہوچکا ہے ۔ اس میں تصوف وپیری مریدی آچکی ہے ، علما کی تقلید آچکی ہے ،بدعات آچکی ہیں، بدعتیوں میں شادی بیاہ جاری ہے ، بدعتیوں کے پیچھے نمازیں پڑھی جاتی ہیں تو اب بتائیے کہ اور امتیازی نام رکھ لیا جائے یا نہیں؟“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص5

اہل حدیث نام کو فرقہ بندی کا ذمہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں :”اہل حدیث نام قرآن وحدیث میں نہیں، صرف گنجائش نکلتی ہے ۔مزید برآں یہ گنجائش بھی ایڈیٹر صاحب کے نزدیک نکلتی ہے ہمارے نزدیک تو گنجائش بھی نہیں نکلتی البتہ قرآن وحدیث کی رو سے یہ نام مزید تفریق وفرقہ بندی کا ذمہ دار ہے۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص8

اسی حوالے سے مزید لکھتے ہیں :”ہم نے ائمہ حدیث کو فرقہ وارانہ نام کی حیثیت سے ا ستعمال نہیں کیا ہمارے نزدیک پوری امت مسلمہ کانام ائمہ حدیث نہیں ہے یہ صرف علماء کا لقب ہے ۔ برخلاف اس کے اہل حدیث حضرات اہل حدیث نام کو ”فرقہ وارانہ“ نام کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ان کے نزدیک اہل حدیث صرف علماء کےلیے مخصوص نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا نام ہے۔

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص8

موصوف مسعود احمد B.S.Cاپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر موصوف فرقہ اہلحدیث کے افراد کو مقلد سمجھتا ہے جبکہ فرقہ اہلحدیث کے افراد اپنے آپ کو تقلید کا منکر کہتے ہیں،چنانچہ موصوف لکھتے ہیں :”ہم اپنے علم اور تجربہ کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اہل حدیث میں تقلید موجود ہے کئی گروہ بھی اہل حدیثوں میں موجود ہیں جن کے مابین عقائد میں بھی اختلاف ہے کوئی تعویذ گنڈے کو جائز ہی نہیں بلکہ اس کا  کاروبار کرتا ہے اور کوئی اسے شرک کہتا ہے ۔ کوئی پیری مریدی کرتا ہے اور کوئی اسے بدعت کہتا ہے ۔ کوئی تصوف کے ساتھ مسنون کا لفظ لگا کر تصوف کو مسنون قرار دیتا ہے اور کوئی اسے خلاف شرع سمجھتا ہے ۔ کوئی امامت کا داعی اور کوئی امامت کا منکر ، کسی کے ہاں ذکر کے حلقے اور کوئی اس کا منکر۔غزنویہ ثنائیہ، روپڑیہ، غرباء یہ تنظیمی نہیں ہیں بلکہ مکتب فکر کے خاندانی نام ہیں۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص9

فرقہ اہل حدیث کے فتو ےکے متعلق لکھتے ہیں :”علمائے اہل حدیث بعض مواقع پر بالکل بے بنیاد فتوے دیتے ہیں۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص10

فرقہ اہل حدیث کی ذیلی فرقوں اور سنت کے متعلق ان کے موقف کے متعلق لکھتے ہیں:”یہ ایڈیٹر صاحب کے ذاتی عقائد ہیں، جماعت اہل حدیث کے عقائد نہیں ، اگر ایڈیٹر صاحب کا بیان صحیح ہے تو براہ کرم اہل حدیث کے تمام فرقے غزنویہ ، ثنائیہ، روپڑیہ اور صدوریہ(غرباء) کے بڑے بڑے علماء او ر مشائخ سے اس پر دستخط کروا دیں ورنہ اگر ہمیں وقت ملا تو ان شاء اللہ علمائے اہل حدیث کے نزدیک ترک سنت گناہ نہیں اور یہ کہ اہل حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل میں تضاد تسلیم کرتے ہیں۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص11،10

فرقہ اہل حدیث سے الگ ہونے کی وجہ  ذکر کرتے ہوئے لکھتےہیں  :” قرینہ صارفہ کی عدم موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو فرض نہ ماننا بے دینی ہے ۔ اسے علمی اختلاف کہہ کر ٹالنا قطعاً صحیح نہیں، ترک سنت کو جائز سمجھنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو بغیر کسی قرینہ صارفہ کے استحاب پر محمول کرنا( اگر چہ ذاتی طور پر ایڈیٹر صاحب اس کے قائل نہ ہوں) اور فرقہ وارانہ نام رکھنا یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ہم اہل حدیث سے علیحدہ ہونے پر مجبور ہوئے۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص11

اہل حدیث نام کی قدر وقیمت کےحوالے سے ایک فرقہ اہل حدیث کے عالم کی تحریر ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :” اس سلسلے میں ہم ایڈیٹر صاحب کو ”ماہنامہ محدث“کے دو اقتباسات کے طرف توجہ دلاتے ہیں، جناب عزیز زبیدی صاحب لکھتے ہیں: یہ تلمیحی نام ایسی شئی نہیں ہے کہ اس سے کوئی بدلے لیکن اس کےباوجود اگر کوئی فرقہ اپنے اپنے فرقہ کی شخصی نسبتوں سے دستبرداری کےلیے ہم سے اس جائز نسبت کے ایثار کا مطالبہ کرتا ہے تو ہم اسے بھی خوش آمدید کہیں گے (ماہنامہ محدث لاہور بابت ماہ جمادی الاول والاخریٰ1400ھ ص226) جناب عزیز زبیدی صاحب اسی ماہنامہ میں اس صفحہ پر اور جگہ لکھتے ہیں : گو اہل حدیث کوئی شخصی نسبت نہیں ہے جیسا کہ دوسرے فرقوں کی بات ہے تاہم اگر اس نسبت کی قربانی دے کر دوسری فرقہ وارانہ نسبتوں کاخاتمہ کیاجاسکتا ہے تو ذاتی طوپر مجھے اہلحدیث کہلانے پر اصرار نہیں۔“

اہل حدیث حضرات !کیا یہی ہے اہل حدیث نام کی قدر وقیمت؟“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص12

فرقہ اہلحدیث کے عالم عزیز زبیدی صاحب سے مسعود احمد اہلحدیث کو تحریک کے بجائے فرقہ ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :”ہم اہل حدیث کو فرقہ سمجھتے ہیں، مولوی عزیز زبیدی صاحب بھی ہماری تائید کرتے ہیں، زبیدی صاحب فرماتے ہیں: جیسا کہ اب موجودہ جماعت اہل حدیث کا حال ہے کہ اب وہ تحریک کی بجائے ایک فرقہ بن کر رہ گئی ہے ۔“

)ماہنامہ محدث بابت ماہ جمادی الاولیٰ والاخریٰ 1400 ھ ص 226(

زبیدی صاحب کی مذکورہ بالا تائید کی روشنی میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ”فاعتزل تلک الفرق کلھا“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم) کی تعمیل میں ہم فرقہ اہل حدیث سے علیحدہ ہونا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ایڈیٹر صاحب الاعتصام آپ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو فرض سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا اس عقیدہ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے آپ فرقہ اہلحدیث سے علیحدہ ہوجائیں۔“

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص12،13

 اہلحدیث کے ایک عالم ”ابو الاشبال شاغف“ کے ایک حوالے کی تردید میں فرقہ اہلحدیث کو حدیثیں گھڑنے والا قرار دیتے ہوئے مسعود احمد لکھتے ہیں :”مولوی ابو الاشبال شاغف صاحب تحریر فرماتے ہیں: یہ نام من جانب اللہ ہمیں دربار رسالت سے ملا ہے ، صحابہ وتابعین اور تبع تابعین سب اہل حدیث کہلاتے تھے۔

)الاعتصام مورخہ 5محرم 1401ھ ص10(

جواب:    سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ پہلے زمانہ میں بعض دشمنان اسلام نے حدیثیں گھڑیں لیکن ہماری حیرت کی کوئی انتہاء نہیں کہ اس زمانہ میں بھی حدیثیں گھڑی جارہی ہیں ۔ کیا ایڈیٹر صاحب ہفت روزہ الاعتصام وہ حدیث پیش فرمائیں گے جس میں دربار رسالت سے اس نام کا ثبوت ملتا ہے یا صحابہ کرام سے۔؟ “

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص14

اس کے بعد فرقہ اہل حدیث کے افراد کے مقلد ہونے پر مشہور غیر مقلد عالم عبد العزیز نورستانی کی تحریر کو گواہ بناتے ہوئے لکھتے ہیں :” ہم کہتے ہیں اہلحدیث مقلد ہیں ایڈیٹر صاحب اس کا انکار کرتے ہیں اور عام اہل حدیث بھی بگڑ جاتے ہیں لہٰذا ہم انہی کے ایک محقق عالم کا قول پیش کرتے ہیں ، سنیئے مولوی ابو عمر عبد العزیز نورستانی مدرس الجامعۃ الاثریہ پشاور تحریر فرماتے ہیں: جب کسی فعل کا ثبوت نماز کے اندر ثابت نہیں ہے اس کو نہیں کرنا چاہیے لیکن ہمارے اہلحدیث بعض وقت ایسی اندھی تقلید کرتے ہیں کہ مقلدین سے بھی ان کی تقلید بد تر ہوجاتی ہے ۔ اناللہ ونا الیہ راجعون۔“

کتاب الوتر ص115

جب ہم اہلحدیث کی بدعت وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں تو بعض حضرات اور خود ایڈیٹر صاحب الاعتصام یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ انفرادی غلطیاں ہیں ۔ اس کو پوری جماعت کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں۔ ہم کہتے ہیں جب اہل حدیث عوام اکثریت بلکہ علماء بھی اس بدعت میں مبتلا ہوں تو ہم کیوں نہ اس کو پوری جماعت کی طرف منسوب کریں۔ ہمیں تو تعجب ہے کہ بعض اہل حدیث حضرات جو بدعت کو بدعت تسلیم کرتے ہیں پھر کیسے وہ ان بد عتیوں کو اہل حدیث سمجھتے ہیں ، ان کے پیچھے نماز بھی پڑھتے رہتے ہیں اور ان کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے؟

مذہب اہل حدیث کی حقیقت ص14

…………)جاری ہے(