منکرین حیاتِ قبر کا ایک اور مغالطہ....... بجواب :اکابر کا باغی کون؟

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

منکرین حیاتِ قبر کا ایک اور مغالطہ....... بجواب :اکابر کا باغی کون؟

……?مولانا   نور محمد تونسوی

قسط نمبر 04:

منکرین  حیات قبرکا مشہور مصنف  مبلغ اور مناظر سادہ لوح  عوام  کو مغالطہ  دیتے  ہوئے لکھتا ہے:”اطلاع ضروری  اے  حضرات! اتنا آپ  صاحبان کو  سمجھانا  ضروری  ہے  کہ  بعض  حضرات علماء  حنفیہ کی طرف سماعت  اموات  کے مسئلہ  کی نسبت   یہ ارشاد  کرتے  ہیں کہ  یہ مسئلہ اختلافی  ہے  اس کا یہ مطلب  نہیں  ہے کہ ...........

مذہب  حنفیہ    میں  سماعت  اموات  کا مسئلہ  اختلافی  ہے۔ بلکہ  حنفی  مذہب میں  مردوں کا نہ سننا  اتفاقی مسئلہ ہے تمام  فقہ  حنفیہ  میں  اس مسئلے  کو صاف  طور پر  لکھا ہے  بلکہ  مراد سماعت موتیٰ کےمسئلہ  کے  اختلافی  ہونے  سے  یہ ہے کہ  مذہب  حنفیہ  اور مذہب شافعیہ  کا باہم  اختلاف ہے ۔ بعضے شافعی  مذہب والے  سماع  اموات کے  قائل  اور جمہور  فقہائے  حنفیہ عدم سماعت کے قائل ہیں اورشافعیوں  کا حنفیوں  سے  اختلاف کرنا  حنفیوں  کو کچھ مضرت  نہیں  پہنچاتا۔ اگر شافعی  اور حنفی  کا اختلاف کچھ  مضرت  پہنچانے  والا قرار دیا جائے  پھر  تو ہزار ہا مسائل میں  حنفیہ ، شافعیہ  کا اختلاف ہے  ان  سارے مسئلوں  میں  آپ  کیا کہیں گے؟ کیا ان  مسائل کو اختلافی  کہہ کر  حنفی  مذہب  کی تقلید چھوڑ کر شافعی  مذہب  اختیار  کرنے  یا غیر مقلد  ہونا پسند  کریں گے؟

 ہرگز  نہیں  !حنفی  مذہب   کہ بالکل  اس طرف  سے بالکل  مطمئن ہوا بیٹھا ہے  اور علی  الاعلان  عدم  سماعت  کا حکم  جاری  کرتا ہے ۔ حنفیوں  کا جس کو قبول  کرنا  لازم  ہے   ہاں  غیر  مذہب قبول کرے نہ کرے  اسے اختیار ہے،  اب  بعض  مقد س علماء  کی مہریں  جو  بالتصریح عدم سماعت  موتیٰ کو حنفی مذہب  فرما کر  حنفی مذہب  کی اسی عدم  سماعت کے  قائل  ہیں  ان کے اسمائے گرامی ،ان  کی پاک مہریں، ا ن کے  متبرک  دستخط آپ  کے سامنے  بغرض زیارت  پیش کئے جاتے  ہیں  اور یہ  مہریں  اور دستخظ بہت  ہی کم  نہایت  قدر  قلیل  درج  ہوتی  ہیں۔“

اکابر کا باغی کون؟ ص120،121

قارئین کرام !مناظر  صاحب  کا یہ  طویل  اقتباس  کئی  مغالطوں  بلکہ  کذب  بیانیوں پر مشتمل ہے  مثلاً: مناظر صاحب  کا یہ کہنا  مسئلہ  سماع موتیٰ  حنفیہ  کے مابین  مختلف  فیہ   نہیں ہے  بلکہ  حنفیہ  عدم  سماع  موتیٰ  پر متفق ہیں۔ اختلاف  حنفیہ  اور شوافع کا ہے  کہ حنفیہ  عدم سماع  کے  قائل  ہیں  اور شوافع  سماع موتیٰ کے  قائل  ہیں  ۔

گھر کی گواہی:

مناظر  صاحب  نے یہ ایک  سفید جھوٹ بولا ہے کہ  حنفیہ  عدم سماع  پر  متفق ہیں  حقیقت  یہ ہے  کہ  خود علماء احناف میں  اختلاف ہے  بعضے  احناف  عدم سماع  موتیٰ  کے قائل  ہیں  اور بعضے  سماع موتی ٰ کے قائل  ہیں  ۔ سب سے پہلے  ہم  منکرین  حیات قبر کے  گھر کی شہادتیں  پیش کرتے  ہیں  جس سے مناظر  صاحب  کا جھوٹ واضح ہو جاتا ہے۔ چنانچہ  منکرین  حیات قبر کے مشہور  شیخ الحدیث  والتفسیر  حضرت مولانا  محمد حسین  نیلوی  اپنی کتاب  ندائے حق میں  لکھتے  ہیں :”البتہ  بعض حنفیہ  جو  دوسرے  ائمہ  کے مقلدین  کی کتب بینی  کر کے  ان  کے مسلک  کے ہمنوا  ہیں  اور دوسرے  ائمہ  کے مقلدین  سماع عند القبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے  قائل ہیں  اس کی  وجہ  دراصل  یہ ہے کہ  ان کا اپنا مسلک  یہ ہے کہ میت کوئی  بھی اس کی قبر  پر جا کر  السلام  علیکم  کہا جائے  تو میت  سنتی ہے  خواہ اس کی سننے کی کیفیت  کچھ بھی ہو  تو  اس عموم  کے تحت  سب ہی  اموات  آجاتے  ہیں خواہ  عامی  ہو یا خواص، خواص میں سے  خواہ صوفی ہوں ، عالم ہوں، فاضل ہوں، اولیاءاللہ  اور صالح ہوں، شہید ہوں  یا صدیق ہوں  یا پیغمبر ہوں کچھ  فرق نہیں ۔  جب قاعدہ کلیہ  ہوگا  تو اس میں  یہ سوال پیدا ہونے کاامکان   ہی نہیں کہ شوافع ،  مالکیہ ، حنابلہ، سماع  عند القبر النبی  کے  کس طرح  قائل ہوگئے؟ اس کی اصل  وجہ یہ ہے کہ  وہ مطلقاً سماع موتیٰ  کے قائل  ہیں  تو اس  کلیہ  میں  انبیاء کرام  علیہم السلام   بھی آجاتے  ہیں  جب  دوسرے  اموات  سنتے  ہیں  ایسے  ہیں انبیاء  کرام  علیہم السلام  بھی سنتے  ہیں  یہی وجہ  ہے  کہ  ابن  تیمیہ  رحمہ اللہ  ابن قیم  رحمہ اللہ ،  ابن عبد الہادی ہوں  یا ابن  حجر رحمہم اللہ ، سیوطی نووی  عیاض ، یا شیخ عبد الحق محدث  دہلوی ،ملا علی قاری  رحمہم اللہ  وغیرہ ہوں سب سماع  عند قبرالنبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قائل  ہیں  کہ وہ مطلقاً سماع موتیٰ  مانتے ہیں۔

ندائے حق  ج1جز ثانی  ص84،85

قارئین کرام!

              دیکھیے  مماتیوں  کا شیخ  فرماتا ہے  کہ بعض  احناف  جو شوافع  کی کتب بینی  کرتے  ہیں  وہ سماع  موتیٰ کے قائل ہیں  جس سے ثابت  ہوتا ہے  کہ سماع موتیٰ مسئلہ  احناف  میں  باقاعدہ  مختلف فیہ  ہے ۔ بعضے سماع  کے قائل ہیں  اور بعض  انکار کرتے  ہیں  جب کہ مماتیوں   کے مناظر کا کہنا ہے کہ سماع موتیٰ  کا مسئلہ احناف  میں مختلف فیہ  نہیں ہے  بلکہ سارے  احناف  عدم سماع  موتیٰ کے  قائل  ہیں ۔ ظاہر   کہ  یہ دونوں  باتیں  بیک وقت  سچی  نہیں  ہو سکتیں اگر شیخ  صاحب  نے سچ بولا  ہے  تو یقیناً مناظر صاحب جھوٹے ثابت ہوں گے اور اگر مناظر  صاحب   نے سچ  بولا ہے تو شیخ  صاحب یقیناً جھوٹے ثابت ہوں گے،اور یہ بات  بھی  ملحوظ خاطر رہے  کہ اس قسم  کی باتوں کو   مماتی مناظر  بغاوت  قرار دیتا ہے ۔ لہٰذاہم  مناظر صاحب   سے سوال کرتے  ہیں  کہ آپ باغی  ہیں  اپنے شیخ  کے  یا شیخ باغی  ہے آپ کا ؟ اور  اگر یوں  کہہ دیا جائے  آپ دونوں  ایک دوسرے  کے باغی ہیں  تو  کیا  یہ  بات بے جا تو نہ ہوگی ؟ نیز مماتیوں  کے  شیخ  نے  قائلین  سماع موتیٰ  کی فہرست  پیش کی ہے  ان میں  شیخ  عبد الحق محدث  دہلوی رحمہ اللہ  اور ملا علی قاری رحمہ  اللہ   وغیرہ شامل ہیں۔

 بندہ عاجز  مماتیوں  کی خدمت میں  عرض  گزار ہے  کہ مذکورہ  بالا دونوں  بزرگ  مسلکاً حنفی ہیں  اور  آپ کے شیخ  ان دونوں  بزرگوں  کو قائلین سماع موتیٰ میں  سے بتارہے  ہیں  اب میری گذارش یہ ہے  کہ واقعی  یہ  دونوں  بزگ  سماع موتیٰ  کے  قائل ہیں  اگر  واقعی یہ بات درست ہے  تو  مناظر صاحب   نے صاف  جھوٹ بولا ہے  کہ  احناف میں  کوئی  اختلاف  نہیں  سب کے سب  عدم سماع  کے  قائل ہیں اور اگر مماتی  مناظر  اپنی  بات پے اڑے  ہوئے  ہیں  کہ احناف  میں  سماع موتی  کا مسئلہ  مختلف فیہ  نہیں  ہے  تو یقیناً مماتیوں   کے شیخ  نے صریح جھوٹ بول کر اپنے مناظر کی  بغاوت کی  ہے ،نیز مماتیوں کے  شیخ نیلوی لکھتے  ہیں :”  حضرت  الشیخ  مولانا  قاسم  نانوتوی  رحمہ اللہ  نے  جو سماع  کا قول فرمایا ہے۔“

ندائے  حق  جدید  ص 85جز اول  جز ثانی

اس عبارت میں  شیخ  نیلوی نے صاف لفظوں میں   لکھ دیا ہے  کہ  حجۃ السلام  حضرت مولانا  محمد قاسم  نانوتوی رحمہ اللہ  حضرات  انبیاء کرام  کے سماع  کے قائل ہیں ۔ اب ہمیں  بتایا جائے  کہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ  حنفی  ہیں  یا نہیں؟ اگر یہ حنفی  ہیں  تو  مماتی  مناظر کا دعویٰ  بالکل  جھوٹا ہے  کہ  احناف  میں مسئلہ  سماع  مختلف فیہ  نہیں ہے  بلکہ  سارے  احناف  عدم سماع  موتیٰ  پر متفق ہیں،نیز نور الایضاح  کے مصنف   الفقیہ  النبیل  حسن بن علی الشر نبلالی نور اللہ  مرقدہ  اس کی شرح   مراقی الفلاح  اور  اس کے  حاشیہ  الطحطاوی  میں  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات  قبر  اور  آ پ کے سماع  عند القبر الشریف  کے تصریح   موجود ہے  کیا یہ حضرات  آپ کے نزدیک  حنیفہ  میں  ہیں، یا نہیں ؟ اگر ہیں اور یقیناً ہیں  تو آپ کے مناظر کس منہ سے  کہتے  ہیں  کہ حنفیہ  اس مسئلہ میں مخلتف فیہ  نہیں  ہیں  بلکہ  سب  کے سب  عدم سماع  کے  قائل ہیں ؟ نیز  ہدایہ  کے مشہور شارح شیخ  امام کمال  الدین  محمد بن  عبد الواحد  المعروف  امام ابن  الھمام  الحنفی رحمہ اللہ  لکھتے  ہیں ”ثم یسا ل النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  الشفاعۃ فیقول یا رسول اللہ اسالک الشفاعۃ یا رسول اللہ  اسالک الشفاعۃ واتوسل  بک الی اللہ فی ان اموت  مسلما علیٰ ملتک و سنتک ۔“(فتح القدیر  ج3ص95) نیز  اسی صفحہ  پر  لکھتے   ہیں ”ولیبلغ سلام من اوصاہ بتبلیغ سلامہ فیقول السلام علیک یا رسول اللہ من فلان بن فلان او فلان بن فلان یسلم علیک یا رسول اللہ ۔

ہر صاحب  علم  اس بات  کو بخوبی  سمجھتا ہے  کہ امام ابن  ھمام نے  جو یہ فرمایا  کہ زائرین عند القبر  الشریف  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں  یہ عرض کریں کہ  اے اللہ  کے رسول  !آپ  اللہ تعالیٰ  کی خدمت میں  ہمارے لیے  سفارش فرمائیں اور جس شخص  نے  حاجی صاحب  کو حج پر جاتے  ہوئے  یہ کہا  کہ  تو جب  روضہ اقدس  پر حاضر  ہو تو میری طرف سے رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت  میں سلام  عرض کرنا تو  حاجی صا حب کو چاہیے  جب  روضہ  اقدس  پر حاضر  ہو تو  یوں  کہے اے اللہ   کے رسول!  فلاں بن فلاں  آپ کی خدمت  میں  سلام عرض  کرتا ہے ۔

اب ظاہر  ہے کہ جو شخص  یہ مشورہ  دیتا ہے  کہ اللہ کے  رسول کی خدمت میں  جا کر  طلب  شفاعت  کی جائے  اور  سلام  دینے  والوں   کے سلام  آپ کی خدمت میں پہنچائے  جائیں  وہ شخص  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم   کے  سماع عند القبر  الشریف  کا قائل ہے۔ اگر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم   نہیں  سنتے  تو طلب  شفاعت  ایک فضول  عمل  رہ  جائےگا ۔

اب مماتیوں  کے  مناظر بتائیں کہ امام الھمام  ہدایہ  حنفی  ہیں  یا  نہیں ؟ اگر یہ حنفی  ہیں تو آپ  نے  کیسے لکھ دیا  کہ حنفیہ  کا اس مسئلہ میں  کوئی اختلاف  نہیں  ہے  اور حقیقت  یہ ہے کہ  حنفیہ  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے  سماع  عند القبر کے  عقیدہ پر متفق ہیں ۔ چنانچہ  حضرت مولانا  رشید احمد  گنگوہی  رحمہ اللہ  لکھتے  ہیں ”مگر انبیاء علیہم السلام  کے سماع میں  کسی کو اختلاف نہیں  اسی وجہ سے  ان  کو مستثنیٰ  کیا ہے  اور دلیل جواز  یہ ہے  کہ فقہائے نے بعد سلام  کے  وقت  زیارت قبر  مبارک کے  شفاعت   مغفرت کا عرض  کرنا لکھا ہے  پس  یہ جواز کے  واسطے  کافی  ہے  اور جس کو  قاضی صاحب  نے  منع لکھا ہے  وہ دوسری  نوع کی  استعانت ہے۔“

فتاویٰ  رشیدیہ  ملحق  تالیفات  رشیدیہ  ص134

قارئین کرام!

              آپ نے  دیکھ لیا  کہ حضرت گنگوہی  رحمہ اللہ انبیاءکرام  علیہم السلام  کے سماع عند القبور  کو متفق علیہ  عقیدہ  بتاتے  ہیں  اور دلیل یہ دے رہے  کہ  سب علماء  فرماتے  ہیں  بوقت  زیارت  قبر  النبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے شفاعت   کی جائے ۔ حضرت گنگوہی  رحمہ اللہ  یہ ایک معقول  دلیل ہے  جس  سے ثابت ہوتا ہے  کہ حضرات  انبیاء کرام  علیہم السلام  کے  سماع میں  کسی کو کوئی اختلاف  نہیں ہے  یہ  حضرت گنگوہی  رحمہ اللہ کا فیصلہ  ہے۔  اس کے برعکس  مماتی مناظر کہتا ہے  کہ تمام احناف عدم سماع  پر متفق  ہیں ۔ احناف میں  اس مسئلہ  میں  کوئی  اختلاف  نہیں ہے  اب یہ فیصلہ  علماء حق کریں گے  کہ سچی بات کس  کی  ہے  اور جھوٹا کون ہے؟

              میری دانست  کے مطابق  مماتی مناظر نے  جو جھوٹ بولا ہے شاید  اس کی نظیر  دنیا میں نہ ملے نیز  حضرت گنگوہی  رحمہ اللہ  اسی کتاب کے مذکورہ  بالا صفحہ  پر لکھتے  ہیں کہ  عام  موتیٰ کے سماع میں  حنفیہ مختلف ہے  جب کہ مماتی مناظر کہتا ہے  حنفیہ  عدم سماع پر متفق ہیں  یہاں  بھی  اہل علم  خود فیصلہ  فرماکر  جھوٹے  کا تعین کا فیصلہ  فرمالیں گے  اور  اب یہ فیصلہ  کرنا بھی آسان  ہوجاتا ہے  کہ اکابر کا باغی کون ؟

              نیز فتاویٰ عالمگیریہ المعروف فتاویٰ ہندیہ  جس کو سلطان  عالمگیر  رحمہ اللہ نے  تقریباً پانچ صد علماءسے لکھوایا تھا میں لکھا ہے ” بمثل صورتہ الکریمۃ البہیۃ کانہ نائم فی لحدہ عالم بہ یسمع کلامہ کذا فی الاختیار شرح المختار

فتاویٰ عالمگیریہ ج1ص265

اس عبارت میں  تصریح  کی گئی ہے  کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زائرین کا سلام  وکلام   سماعت  فرماتے  ہیں ۔ اب سوال  یہ ہے  کہ ”فتاویٰ  عالمگیریہ“ فقہ  حنفیہ  کی کتاب ہے یا نہیں؟ اور اس فتاویٰ کےمؤلفین علماء حنفیہ  میں سے ہیں یا نہیں؟ ظاہر  بات ہے فتاویٰ  عالمگیریہ  فقہ  حنفی  کی کتاب ہے  اور  اس کے مؤلف  فقہاء احناف  ہیں  اور آج تک  کسی حنفی  عالم نے  اس تحقیق سے  اختلاف  نہیں  اور نہ ہی  کسی عالم  دین نے  اس تحقیق کی وجہ سے  فتاویٰ  پر  تکفیر فرمائی ہے۔

 معلوم ہوا کہ  علماء احناف  سب کےسب  انبیاء  کرام  علیہم السلام  کے  سماع پر  متفق ہیں ۔ آج تک کسی حنفی عالم نے  انبیاء  کے  سماع میں  اختلاف نہیں کیا  اگر  کسی نے  اس مسئلہ میں  اختلاف  کیا ہے تو  اس کا نام  پیش کیاجائے۔ یہ وہ  چیلنج  ہے جو امام اہل سنت  حضرت مولانا  سرفراز خان صفدر  صاحب رحمہ اللہ  نے  اپنی کتاب ”تسکین الصدور“ میں پیش کیا  اور عنایت اللہ گجراتی  کی ذریت  آج تک  کسی  ایک عالم  دین کا نام پیش  کر کے  چیلنج  کا  جواب نہیں  دے سکی  اور نہ ہی  قیامت تک پیش کر سکتی ہے۔

نہ خنجر  اٹھے گا  نہ تلوار ان سے
یہ بازور میرے  آزمائے ہوئے  ہیں