مقتدی؛ امام کے پیچھے قرأت نہ کرے

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

مقتدی؛ امام کے پیچھے قرأت نہ کرے!!(2)

……?مولانا عبدالرحمٰن سندھی

ہم نے پچھلی قسط میں وہ دلائل بیان کیے تھے جن میں مقتدی کو امام کے پیچھے خاموش رہنے کا حکم دیا گیا ہے اب آپ کے سامنے وہ دلائل تحریر کرنے لگے ہیں جن میں امام کی قرأت کو مقتدی کے لیے کافی قرار دیا گیا ہے۔.......

عن جابر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کان لہ امام فقرائ ۃ  الامام لہ قرأۃ۔

سنن ابن ماجہ ص61

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام کی قرات مقتدی کی قرأت ہے ۔

یعنی مقتدی کو الگ سے قرأت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

عن عبداللہ بن شداد بن الھاد اللیثی قال صلی اللہ علیہ وسلم الظہر او العصر فجعل رجل یقرأ خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم ورجل ینہاہ فلما صلی قال یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنت اقرأ وکان ھذا ینھانی۔ فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کان لہ امام فان قراۃ الامام لہ قراۃ۔

مصنف عبدالرزاق ج 2 ص88

حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کر رہا تھا تو دوسرے شخص نے انہیں منع فرمایا ۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو عرض  کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں قرأت کر رہا تھا اور یہ مجھے قرأت سے روک رہے تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی مقتدی کی قرأت ہے ۔

محولہ بالا کتب کے علاوہ اسی مضمون کی دیگر روایات بھی کتب حدیث میں مختلف روایان سے مروی ہیں ۔

عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔ شرح معانی الآثار ج 1 ص 159
عن ابن عمر رضی اللہ عنہما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شرح معانی الآثار ج 2 ص 161
عن  جابر رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسند احمد رقم الحدیث 14643
عن جابر رضی اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسند عبد بن حمید ج 1 ص 320
عن عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ج 1 ص 376
عن جابر رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ج 1 ص 377
عن جابر رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتحاف الخیرۃ المہرۃ رقم 1264 ج2 ص 168

نبوت کا اپنا عمل:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری نماز مرض الوفات میں پڑھائی پہلے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے لیے حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی افاقہ ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو صحابہ حضرت ابن عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے سہارے مسجد میں پہنچے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ امامت پرتشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کو وہاں سے شروع فرمایا  جس جگہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چھوڑا تھا۔

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال لما مرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرضہ الذی مات فیہ ۔۔۔۔۔۔ قال ابن عباس واخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من القراۃ من حیث کان بلغ ابو بکر۔

سنن ابن ماجہ ص88

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرض الوفات کے تذکرے کو بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر ذکر  فرماتے ہیں  کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرأت کو اسی جگہ سے شروع کیا جہاں سے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ چھوڑا تھا۔

عن ابن عباس عن العباس بن عبدالمطلب ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی مرضہ  مروا ابا بکر فلیصل بالناس فخرج ابو بکر فکبر و وجدالنبی صلی اللہ علیہ وسلم راحۃ فخرج یھادی بین رجلین فلما راہ ابو بکر تاخر فاشار الیہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکانک ثم جلس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی جنب ابی بکر فاقترأ من المکان الذی بلغ ابو بکر من السورۃ۔

مسند احمد ج 2 ص388

حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کی حالت میں فرمایا ابو بکر سے  کہہ دو کہ وہ لوگوں کی امامت کرائیں ۔ پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز پڑھانے کے لیے تکبیر کہی ۔ ادھر دوسری طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوآدمیوں کے سہارے نماز  کے لیے تشریف لائے ۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو آپ کے تشریف لانے کا علم ہوا تو مصلے سے پیچھے سرکنے لگے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ سے اپنی جگہ پر قائم رہنے کا حکم دیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے  اور اس جگہ سے قرأت شروع کی جس جگہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے چھوڑی تھی ۔

ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیاوی زندگی کی آخری نمازمیں امام کی پڑھائی ہوئی فاتحہ کو اپنے لیے کافی سمجھا ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے سرے سے قرأت نہیں فرمائی ۔جس سے واضح ہوتا ہے امام کی قرأت مقتدی کے لیے کافی ہوتی ہےاس لیے  مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت نہیں کرنی چاہیے ۔

آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:

عن عطاء بن یسار انہ سال زید بن ثابت عن القراۃ مع الامام ؟ فقال لا ۔  قراءۃ مع الامام فی شیئ۔

صحیح مسلم ج 1 ص 215

حضرت عطا بن یسار فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ امام کے پیچھے کسی نماز میں قرأت نہیں کرنی چاہیے ۔

عن موسیٰ بن عقبۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و ابو بکر و عمر و عثمان کانوا ینھون عن القرأۃ خلف الامام۔
مصنف عبدالرزاق ج 2 ص91

حضرت موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت بوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع فرماتے تھے۔

عن عبداللہ بن ابی لیلیٰ اخی عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ ان علیا کان ینھی عن القراۃ خلف الامام۔

مصنف عبدالرزاق ج 2 ص90

حضرت عبداللہ بن ابی لیلیٰ  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع فرماتے تھے۔

عن ابی وائل قال جاء رجل الی عبداللہ فقال یا ابا عبدالرحمان أقرأ خلف الامام؟ قال انصت للقرآن فان فی الصلاۃ شغلا و سیکفیک ذالک الامام

مصنف عبدالرزاق ج 2 ص90

حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے پھر عرض کیا اے ابو عبدالرحمان! میں امام کے پیچھے قرأت کروں ؟ فرمایا :قرآن کے لیے خاموشی اختیار کرو کیونکہ آپ کا یہ کام نماز میں اضافہ ہے بس تجھے امام کی نماز ہی کافی ہے۔

عن نافع ان عبداللہ بن عمر کان اذا سئل ھل یقرأ احد خلف الامام قال اذا صلی احدکم خلف الاما م فحسبہ قرأۃ الامام واذا صلی وحدہ فلیقرأ ۔ قال وکان عبداللہ بن عمر لا یقرأ خلف الامام۔

موطا امام مالک ص68 موطا امام محمد ص95

ترجمہ:امام مالک رحمہ اللہ حضرت نافع سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب امام کے پیچھے قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ آپ میں سے کوئی امام کے پیچھے نماز پڑھے یعنی مقتدی ہو تو اس کے لیے امام کی قرأت کافی ہے اور اگر اکیلا نماز پڑھے تو پھر قرأت کرے ۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرأت نہیں فرماتے تھے۔

عن عبیداللہ بن مقسم قال سالت جابر بن عبداللہ أتقرأ خلف الامام فی الظہر او العصر شیئا فقال لا۔
مصنف عبدالرزاق ج 2 ص92

حضرت عبیداللہ بن مقسم فرماتے ہیں: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ ظہر یا عصر کی نماز میں امام کے پیچھے قرأت کرتے ہیں ؟ تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔

جاری ہے........