ملفوظاتِ متکلم اسلام

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

ملفوظاتِ متکلم اسلام

مولانا محمد علی ڈیروی

متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن نے فرمایا:

آپ حضرات نے ہمیشہ سنا ہے کہ باقی حضرات نے کلمہ پڑھا ہے اور دلیل مانگی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نےبغیر دلیل ......

مانگے کلمہ پڑھا ہے ۔یہاں دلیل سے مراد ”معجزہ“ ہے، یعنی بغیر معجزہ مانگے کلمہ پڑھاہے، باقی معجزہ مانگتے تھے پھر کلمہ پڑھتے تھے۔یہ اصول اپنی جگہ ٹھیک ہے اور ابو بکر کا دلیل مانگنا اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ بسااوقات ایسے ہوتاہے کہ ایک اصول نہ سمجھنے کی وجہ سے بند ے کو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، اصول اپنی جگہ بجاہوتے ہیں اور نصو ص و معاملات اپنی جگہ درست ہوتے ہیں۔ میں اس پر مثالیں دیتا ہوں ۔

مثال نمبر1:

 مجھے ایک شخص کہنے لگا کہ ”ہدایہ“کامصنف صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم کا گستاخ ہے۔میں نے کہا: کیوں گستاخ ہے ؟ کہنے لگا کہ یہ لکھتاہے:عند ابی حنیفۃ رضی اللہ عنہ۔یہ گستاخی ہے۔ میں  نےپوچھا گستاخی کیسے ہے؟تو  وہ کہنے لگاکہ صحابی ہو تو رضی اللہ عنہ کہا جاتاہے اور غیر صحابی ہوتو رحمۃ اللہ علیہ،جو لقب صحابی کاتھا اس نے غیر صحابی کود ے کر صحابہ کی توہین کی ہے ۔ میں نے کہا کہ غیر صحا بی کو رضی اللہ عنہ کہنا صاحب ہدایہ کا طریقہ نہیں ہے خود قرآن کریم کاطریقہ ہے، اس کا جواب قرآن میں ہے۔ میں نے کہا،پارہ 11رکوع 2میں ہے:

 وَالسَّابِقُوْنَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ۔

[التوبۃ:100]

ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں۔

تو اللہ نے انصار ومہاجرین صحابہ  اور ان کے متبعین کو بھی”رضی اللہ عنہم“ فرمایا ہے، لہذا اب تو یہ بھی کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ گستاخ  ِصحابہ ہے معاذ اللہ ۔ا ب چپ ہو گیا۔

پھر مجھے کہنے لگاکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصول غلط ہے۔میں نے کہا: اصول بھی ٹھیک ہے ،وہ کہنے لگا:  پھر قرآن غلط ہے ؟ میں نے کہا:قرآن بھی ٹھیک ہے۔  کہنے لگا:آخر مطلب کیا ہے ؟   تو میں نے کہا: اسی مطلب اور سمجھنے کانام ”فقہ“ ہے، جس سے خدانے تمہیں محروم رکھاہے ۔ پھر میں نے کہا کہ علماء نے یہ ضابطہ کہ صحابی کو رضی اللہ عنہ او رغیر صحابی کو رحمۃ اللہ علیہ کہا جائے اس لیے بیان فرمایاکہ مثلاًایک نام کے تین آدمی ہیں؛ میں مثال کے طور پر کہتا ہوں کہ ”محمد “ ایک نام ہے، اس نام  کے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  بھی ہیں ،صحابی بھی ہیں او ربعد کے ولی بھی ہیں۔ محمدرسول اللہ نبی ہیں، محمد بن حنفیہ صحابی ہیں اور محمد بن حسن  الشیبانی آپ کو ولی مل جائیں گے ۔ اب اگر کوئی کہے کہ محمد نے فرمایا تو کیسے پتہ چلے کہ یہ کون سے محمد ہیں ؟ تو ضابطہ سے معلوم ہواکہ اگر ”صلی اللہ علیہ وسلم“ ہوگا تو سمجھو اللہ کے نبی ہیں،اگر ”رضی اللہ عنہ“ ہوگا تو صحابی ہیں اوراگر ”رحمۃ اللہ علیہ“ ہوگا تو سمجھو کہ اللہ کے ولی ہیں ۔ یہ  اصطلاحات اس لیے تاکہ بعد والے کو دھوکہ نہ ہو ۔ اگر رضی اللہ عنہ ہو گا تو  صحابی اور رحمۃ اللہ علیہ ہو تو بعد کے آدمی ہوں گے۔اب ”امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ“ کہا جا ئے تو کسی کے ذہن میں شک نہیں پڑتا کہ نبی ہوگا یا صحابی ہوگا ۔ لہذا  اگر غیر صحابی کی شہرت اتنی زیادہ ہوکہ اگر ”رضی اللہ عنہ“ کہہ بھی دیں تو شہرت  زیادہ ہونے کی وجہ سے پتہ چل  جائے گا کہ صحابی نہیں ہے ۔ ایسے شخص کو رضی اللہ عنہ کہنا بالکل صحیح ہے۔  اب قرآن، ضابطہ،ہدایہ سب ٹھیک ہیں ۔

مثال نمبر2:

  ایک شخص کہنے لگا کہ آپ یوں کہتےہیں کہ فقہ حنفی قرآن وحدیث کا مغزہے، یہ تو قرآن و حدیث کی توہین ہے ۔میں نےکہاکیسے؟ کہنے لگاکہ بادام میں ایک چھلکااور ایک مغز ہوتاہے، اصل چیز مغز ہوتاہے چھلکانہیں، تو تم نے قرآن و حدیث کا مغز فقہ حنفی کو کہہ کر قرآن وحدیث کو  چھلکاکہا اور فقہ کو مغز کہا ،یہ تم نے قرآن و حدیث کی توہین کی ہے ۔ میں نے کہا ا س کا نام توہین ہے توتم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  پر فتویٰ لگاؤ معاذ اللہ۔اس پر وہ مجھے کہنےلگاکہ وہ کیوں ؟ میں نےکہاکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”الدعاء مخ العبادۃ

[جامع الترمذی: ابواب الدعوات، باب فضل الدعوۃ]

کہ دعا عبادت کا مغز ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع، قیام ،سجدہ کو چھلکافرمادیا اور دعاکو مغز کہہ دیا ،تو تیرے اصول کے مطابق اللہ کے نبی نے رکوع، سجدے کی توہین کی ہے ۔ اب خاموش  ہو گیا کیونکہ جواب نہیں،میں نے کہا تم” الدعاء مخ العبادۃ“کو ہی نہیں سمجھے ۔ اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ اس عبادت سے مقصود اللہ سے کچھ لیناہے،  بالکل اسی طرح فقہ قرآن و حدیث کا مغز ہے،اس کامطلب یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے مقصود شریعت پر عمل کرنا ہے اور اسی کانا م ”فقہ حنفی“ ہے ۔

جاری ہے.....