مماتیوں کا تکفیری فتویٰ ……غور طلب پہلو

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

مماتیوں کا تکفیری فتویٰ ……غور طلب پہلو

مولانا محمد ارشد سجاد

مشہور مماتی عالم جناب شہاب الدین خالدی لکھتے ہیں:

جب یہ کہا جائے کہ فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی تو دراصل یہ فلاں کے حق میں ”کافر“ ہونے کا فتوی ہے، سیدھا سادا کفر کا فتوی نہ لگا یا اور چور دروازے سے نماز نہ ہونے کا فتوی جڑ دیا یہ کہنا کہ.....

جمعیت اشاعت التوحید والسنۃ والوں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی دراصل جمعیت والوں پر کفر کا فتوی لگانا ہے۔  امام الانبیاء سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کا فتوی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان  کو کافر کہے وہ خود کافر ہوجاتا ہے نماز نہ ہونے کا فتوی دے کر جن مفتیوں نے ہم پر اس آڑ میں کفر کا فتویٰ لگایا ہے تو یہ فتویٰ انہیں پر لوٹ گیا ہم پر کفر کا فتویٰ لگانے والے خود اس فتویٰ  کفر کے مصداق بن گئے۔

عقیدۃ الا مت ص 442

قارئین کرام! خالدی صاحب کی اس تحریر سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ جن مفتیان کرام نے منکرین حیات و عذاب قبر کے پیچھے نماز نہ ہونے کا فتویٰ دیا ہے وہ کافر ہیں ۔مفتیان کرام کے فتاویٰ جات نقل کرنے سے پہلے ہم اشاعت التوحید والسنۃ کے چند ایسے عقائد ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں جن کی وجہ سے مقتدر مفتیان کرام نے ان کے پیچھے نماز  پڑھنے سے منع کیا ہے۔

نوٹ:مندرجہ ذیل عقائد مماتیوں کی ویڈیوزاورمعتبر کتب میں مختلف مقامات پر موجود ہیں ۔ ہم  ان کے وہ الفاظ اور ان کی عبارات سے مفہوم  ہونے والے عقائد آپ کے سامنے پیش کرنے لگے ہیں۔

نمبر1: تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ نہیں ہیں اور نہ ہی حاضرین کا صلوٰۃ و سلام سنتے ہیں بلکہ قائلین حیات وسماع کافر اور مشرک ہیں۔

شرک کیا ہے؟ از عطاء اللہ بندیالوی مماتی

نمبر2: قبر میں نہ تو منکر نکیر آتے ہیں اور نہ ہی کسی مردہ سے سوال و جواب ہوتا ہے اور قبر میں کسی بھی شخص کے جسم کو عذاب نہیں ہوتا۔

ندائے حق از مولانا محمد حسین نیلوی مماتی

نمبر3:کسی بھی نبی یا ولی کے وسیلہ سے دعا کرنا شرک  و بدعت ہے ۔

وسیلہ کیا ہے ؟ از مولانا عطاء اللہ بندیالوی مماتی

قارئین کرام! مماتیوں کے ایسے چند عقائد و نظریات  جو اہل السنت والجماعت کے عقائد و نظریات کے بالکل برعکس ہیں چونکہ قرآن و سنت کی روشنی میں  علماء اہل السنت والجماعت کے نزدیک بالکل غلط ہیں اس لیے ہمارے اکابر و مشائخ نے مذکورہ عقائد کے حاملین کو اہل السنت والجماعت سے خارج قرار دیا ہے اور ایسے  عقائدکے حامل امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔

 لیکن جناب خالدی صاحب کہتے ہیں:نماز نہ ہونے کا فتوی دے کر جن مفتیوں نے ہم پر اس آڑ میں کفر کا فتویٰ لگایا ہے تو یہ فتویٰ انہیں پر لوٹ گیا ہم پر کفر کا فتویٰ لگانے والے خود اس فتویٰ  کفر کے مصداق بن گئے۔

 اب ہم آپ کے سامنے اہل السنت والجماعت کے مستند اور محقق مفتیان کرام کے چند فتاویٰ جات ذکر کرتے ہیں جن میں صراحت کے ساتھ مذکورہ عقائد کے حاملین کو اہل السنت والجماعت سے خارج بھی قرار دیا ہے اور ایسے عقیدہ رکھنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

1:دار العلوم دیو بند کا فتویٰ:

” یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے یہ عقیدہ بدعت سیئہ ہے سو ایسے عقیدہ رکھنے والے کے پیچھے نماز مکروہ ہے۔ “

اسمائے گرامی مفتیان کرام

1: حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمان ۔

2:مفتی زین الاسلام قاسمی ۔

2:جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن  کراچی کا فتویٰ:

”ایسے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے ورنہ نماز مکروہ تحریمی ہوگی کیونکہ اس امام کا عقیدہ صحیح نہیں ہے ۔“

اسماء گرامی مفتیان کرام:

1:مولانا مفتی عبد المجید دین پوری رحمہ اللہ ۔

2:مفتی عبد السلام ۔

3: مفتی انعام الحق ۔

3:جامعہ دار العلوم کراچی کا فتوی:

”سوال میں ذکر کردہ عالم صاحب کے نظریات قرآن وسنت اور علماء اہل السنت والجماعت کی تعبیرات کے خلاف ہیں لہٰذا ان کو اپنے اختیار سے امام مقرر کرنا مکروہ تحریمی ہے کسی صحیح العقیدہ شخص کو امام بنانا چاہیئے۔ “

اسماء گرامی مفتیان کرام:

حضرت مولانا مفتی محمود اشرف ۔

مفتی عبدالمنان ۔

مفتی عبدالمقدس ۔

4:جامعۃ الرشید کراچی کا فتوی:

”اگر کسی مسجد میں ایسا شخص امامت کے منصب پر فائز ہے تو انتظامیہ مسجد پر لازم ہے کہ اسے معزول کر کے کسی صحیح العقیدہ اور سلیم الطبع امام کا تقرر کرے عوام پر بھی لازم ہے کہ وہ اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون  کریں جو شخص ایسے امام کو معزول کرنے پر قادر نہ ہو اسے اگر دوسری مسجد میں صحیح العقیدہ و صالح امام  میسر ہو جہاں وہ نماز باجماعت ادا کرسکتا ہو تو ایسے فاسد العقیدہ اور فتین امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہ ہوگا دوسری مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنا لازم ہوگا۔ “

اسماء گرامی مفتیان کرام:

حضرت مولانا مفتی محمد ۔

مفتی ابو لبابہ شاہ منصور ۔

مفتی عابد شاہ ۔

5:جامعہ اشرف المدارس  کراچی کا فتویٰ:

امام صاحب اس مسئلے میں اہل السنت والجماعت کے اس متفقہ عقیدہ سے (جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے) خارج ہیں اور اگر مذکور امام صاحب اپنے اس نظریہ سے رجوع نہ کریں اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔

اسماء گرامی مفتیان کرام:

مفتی عبد الحمید ربانی ۔

مفتی اللہ نور ۔

6:جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا فتویٰ:

قال علیہ السلام الانبیاء احیاء فی قبورہم یصلون (الحدیث) لہذا جو شخص یہ عقیدہ نہیں رکھتا ہو یا اس میں کوئی شک و شبہ رکھتا ہو اس کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہے۔ “                                                         مفتی مختار اللہ حقانی

7:جامعہ اشرفیہ لاہور کا فتویٰ:

”بنا بر ایں اس کو امام بنانا مکروہ  تحریمی ہے جن لوگوں کو امام کے عزل و نصب [مقرر کرنے اور معزول کرنے ]کا اختیار دیا ہے  یا جن کو اچھا امام مل سکتا ہے ان کی نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی۔ “

اسماء گرامی مفتیان کرام:

حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جان ۔

 حضرت مولانا مفتی شیر محمد ۔

8:جامعہ خیر المدارس ملتان کا فتویٰ:

       ”ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے کسی صحیح عقیدہ والے شخص کو امام بنایا جائے۔“

اسماء گرامی مفتیان کرام:

مفتی اعظم مفتی عبدالستار رحمہ اللہ۔

مفتی عبدالحکیم ۔

9:جامعہ دار العلوم عید گاہ کبیروالا کا فتویٰ:

” یہ شخص بدعتی و گمراہ ہے ایسے شخص کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔ “

حضرت مولانا مفتی حامد حسن ۔

10:جامعہ عبداللہ بن عمر لاہور کا فتویٰ:

”مندرجہ بالا عقیدہ (عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی القبر ۔از ناقل) اہل السنۃ والجماعۃ  کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے اس کا منکر اہل السنت والجماعت (دیوبند) سے خارج اور گمراہ ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ “

حضرت  مولانا صوفی محمد سرور صاحب مد ظلہ

قارئین کرام! جناب خالدی صاحب اور ان کی جماعت اشاعت التوحید والسنۃ انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات فی القبور اور ثواب و عذاب قبر کی صحیح صورت کی منکر ہے اور منکرین کے متعلق آپ جماعت حقہ علماء دیوبند کے چند عظیم مدارس عربیہ کے ماہر اور نامور مفتیان کرام کے فتاویٰ جات ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ ایسے حامل عقیدہ امام کے پیچھے نماز نہیں ہوتی لیکن جناب خالدی صاحب لکھتے ہیں: جو شخص یہ کہے کہ اشاعت التوحید والسنۃ والوں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی وہ کافر ہے ۔

خالدی صاحب نے کسی قدر بے باکانہ جرأت کے ساتھ علماء اہل السنت والجماعت دیوبند کے ماہر اور نامور مفتیان کرام پر کفر کا فتویٰ لگادیا اور حیران کن بات یہ ہے کہ اشاعت التوحید والسنۃ اپنی نسبت اس جماعت حقہ اہل السنت والجماعت دیوبند کی طرف کرتی چلی آرہی ہے۔ جمعیت اشاعت التوحید کے سرکردہ علماء اور ذمہ داران کو چاہیے کہ اپنے ان چھوٹے اور جھوٹے مفتیوں کی دیکھ بھال کرتے رہا کریں ۔ ورنہ اس طرح کے فتویٰ جات آئے دن شائع ہوتے رہیں گے اور ان کے تکفیری قلم سے ہرروز علماء اہل السنت والجماعت احناف دیوبند کے مفتیان کرام  اور عوام الناس کافر بنتے رہیں گے ۔ العیاذ باللہ۔

اللہ رب العزت ہدایت عطا فرمائے (آمین)