علماء اجتماع کا ایک منظر

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

علماء اجتماع کا ایک منظر

عکاسی ……مولانا محمد کلیم اللہ

22 دسمبر اتوار کے روز صبح 9:00 بجے قرآن ، سنت اور فقہ کی اشاعت و تحفظ کے عالمی ادارے مرکز اہل السنت والجماعت 87 جنوبی سرگودھا میں دوسرے سالانہ علماء اجتماع کا انعقاد کیا گیا ۔

آغاز قاری مقصود احمد حنفی کی پرسوز اور پر تاثیر تلاوت سے ہوا ۔ جناب خضر حیات حیدری نے مرکز اہل السنت والجماعت کا ترانہ پیش کیا اور بعد ازاں علماء کے تربیتی بیانات......

کا باضابطہ سلسلہ شروع ہوگیاجو تقریباً 2:00 بجے تک مسلسل جاری رہا ۔

اجتماع میں مختلف شہروں اور ملک بھر سے دور دراز علاقوں سے علماء کرام  کثیر تعداد میں تشریف لائے ۔ جن میں متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن ]سرگودھا ]، قاضی ارشدالحسینی[اٹک]،قاضی نثارالحسینی[اٹک]،مفتی شاہد مسعود [سرگودھا] مولانا عبدالجبار [چوکیرہ]،مولانا ابو ایوب قادری[جھنگ] ، مفتی عبدالواحد قریشی[ ڈیرہ اسماعیل خان] ، مولانا عبدالقدوس گجر[ٹوبہ ٹیک سنگھ]، مولانا رضوان عزیز [عارف والا]، مفتی شبیر احمد حنفی[رحیم یار خان] ، مولانا مقصود احمد [ پاکپتن ] مولانا بشیر احمد کلیار ، مولانا محمد ممتاز کلیار ، مولانا احمد یار [لاہور] ، قاضی نوید حنیف [ اسلام آباد ] مولانا خالد زبیر ، امین برادران و دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔

مفتی عبدالواحد قریشی نے امت مسلمہ کے اجماعی اور اتفاقی عقیدہ "حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم '' پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ [ روضہ اقدس ] میں دنیاوی جسد مبارک کے ساتھ زندہ ہیں ۔ زائرین کا صلوٰۃ و سلام خود سماعت فرماتے ہیں اور جواب بھی مرحمت فرماتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمارے اعمال اجمالی طور پر پیش ہوتے ہیں اور قیامت کے روز آپ سب کے لیے شفاعت بھی فرمائیں گے اور آپ کی شفاعت کو قبول بھی کیا جائے گا ۔

جولوگ اس متفق علیہ عقیدے کے انکاری ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں ، اسلاف کی تحقیق کے مطابق وہ  اجماع امت اورراہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں۔ اس لیے ایسے گمراہ لوگوں کے باطل عقائد و نظریات اور مسائل سے عوام کو باخبر رکھنا اور بچانا علماء حق کی ذمہ داری ہے ۔

مولانا ابو ایوب قادری نے اپنے بیان میں علماء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھیں اسلام صرف اسی چیز کا نام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بتایا اورسکھلایا  اور صحابہ کرام سے فقہاء کرام نے لے کر ہم تک پہنچایا اس لیے نہ تو دین میں کسی حکم کو پرانا کہہ کر اس کا انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی طرح کے اضافے کی گنجائش ہے ۔ یہ دین اللہ حکیم و خبیر نے اپنے  عالمگیر نبی کو تاقیامت دیا  اس دین کی خصوصیت یہ ہے کہ آخری دین ہے اور زندگی بلکہ موت اور بعد الموت کسی بھی موڑ پر انسان کو تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ اس کی مکمل راہنمائی کرتا ہے ۔

پچھلی ایک دو صدی میں کچھ نادان،عیار اور چالاک  ۔۔۔ بدعتی ۔۔۔ نمودار ہوئے ۔ جن کی زنبیل سے نئی نئی ” عبادات “ برآمد ہوئیں ۔ یہ محض بھولے بھالے سے نظر آتے ہیں لیکن امت مرحومہ کے ایمان وعمل کو برباد کرنے کے لیے کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتے ۔ ان لوگوں کی دن رات کی محنت اکابر امت علمائے حق اہل السنت والجماعت کے سر پر کفر کے فتوے تھونپنا  ہے ۔ایمانیات اور عقائد میں رد وبدل اور ان کی غلط تشریح و تعبیر کر کے لوگوں کو اپنے دامن فریب میں پھانس لیتے ہیں ۔ اس لیے اے علماء کی جماعت ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی علمی محنت سے دین میں کمی کرنے والوں کی خواہشیں پوری نہ  ہونے دیں اور اضافہ کرنے والوں کی کوششوں  کو حسرت میں بدل ڈالیں ۔

مولانا محمد رضوان عزیز نے ترک تقلید کی کوکھ سے جنم لینے والے فتنے کےباطل عزائم سے علماء کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسلاف دشمنی کے نقصانات اس قدر ہیں کہ آج گلی گلی فتنوں کا بھوت منہ کھولے عوام الناس کو نگلے جا رہا ہے ۔ائمہ اسلاف سے بدگمانی سے بدزبانی کا مرض پروان پاتا ہے اور بدزبانی والا جرم ایسا ہے کہ حدیث قدسی کے مطابق جس نے میرے ولی کے ساتھ دشمنی کی تو اللہ اس کے ساتھ جنگ  کا اعلان کرتا ہے ۔ آخر کار یہ بد قسمت شخص ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔

مفتی شبیر احمد حنفی نے دور حاضر کے نام نہاد " اسکالرز " کے بارے میں علماء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی استعمار کے آلہ کار چند بے دین اور ناقص العقل ؛ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ٹی وی سکرین اور انٹر نیٹ پر اپنی سرگرمیاں دکھا رہے ہیں۔ ان لوگوں کی باتیں دین سمجھ کر سننا جرم ہے سلب ایمان کا خدشہ بھی ہے ۔ ان گمراہ گروں میں سر فہرست مرزائی ، روافض ، ڈاکٹر ذاکر نائیک ، جاوید غامدی ، الہدیٰ انٹر نیشنل کی سربراہ وغیرہ ہیں ۔یہ لوگ ٹی وی چینلز پر اپنے باطل عقائد کو اسلام کا روپ دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایسے متجددین کے بارے میں ہم اپنی وسعت اور بساط کے مطابق علمی انداز میں عقائداسلامیہ کی حفاظت برابر کرتے رہیں گے ۔علماء طبقے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان فتنوں کے بارے بھی لوگوں کو بتائے او ر اسلام کی صحیح ترجمانی کا فریضہ انجام دیں ۔

راقم  نے مرکز اہل السنۃ والجماعۃ کے شعبہ جات کا مختصر تعارف پیش کیا ۔

نوٹ : مرکز اہل السنت والجماعت کے تعلیمی طرز اور تحریکی منہج سے واقفیت کے لیے ماہنامہ فقیہ بابت ماہ جنوری 2014 کا اداریہ ضرور پڑھیے ۔

قاضی ارشد الحسینی نے اپنے بیان میں علماء کرام کی توجہ اس طرف مبذول کرائی کہ مسلک اور مذہب کی ترویج ، اشاعت اور اس کے دفاعی میدان میں رہتے ہوئے ذکر اللہ ، نوافل ، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں ہرگز کوتاہی نہ برتیں ۔

اجتماع کے آخر میں اس محفل کے روح رواں متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ نے تربیتی بیان کرتے ہوئے بہت قیمتی باتیں ارشاد فرمائیں ۔ جن کا مختصر خلاصہ قارئین کے  سامنے پیش کرنے لگا ہوں ۔

ہم عالمگیر نبی کے عالمگیر وارث ہیں ہماری محنت کا میدان محض اپنی مسجد اپنے مقتدی اپنا محلہ اپنا شہر اپنا علاقہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں سارے  عالم کی  فکر کرنا ہوگی ۔ ان کو ہدایت کی طرف لانا ہوگا ۔ ضلالت سے بچانا ہوگا ۔

آج ساری دنیا میں دارالعلوم دیوبند کا فیض بالواسطہ یا بلاواسطہ پھیلا ہوا ہے اور مزید بھی پھیل رہا ہے ۔ ہم اس کی بنیادی وجہ پر غور کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دارالعلوم کے بانیان میں خصوصاً شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے حکمت عملی سے ایسی پالیسیاں ، قواعد  وضوابط اس ادارے کے لیے وضع کیے کہ دارالعلوم دیوبند " ہندوستان " میں رہتے ہوئے مکمل آزادی کے ساتھ اسلام کی صحیح ترجمانی کر سکے ۔ اس حقیقت کو آج کھلی آنکھوں سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ آج تک دارالعلوم دیوبند پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے فرائض منصبی پورے کررہا ہے ۔

ہمارے اکابر نے جب دین کا کام کیا تو انہوں نے اپنے سامنے چند افراد کو ملحوظ رکھ کر نہیں کیا بلکہ ان کے دماغ میں ساری دنیا کے انسانوں کی فکر تھی اس بات کا اندازہ ان کی تحریر کردہ کتب سے بخوبی کیا جا سکتا ہے ۔

ہماری پالیسی ہے کہ ہم اپنی کسی جماعت کا کارکن توڑ کر اپنے ساتھ نہیں ملاتے ساری جماعتیں ہماری اپنی ہیں جو شخص کسی بھی ہماری جماعت سے وابستہ ہے اور مسلکی کام کر رہا ہے یا کرنے کا جذبہ رکھتا ہے ہماری ساری ہمدردیاں اس کے ساتھ ہیں ۔

چونکہ زمانہ نبوت سے ہم بہت دور ہیں اس لیے باہمی کمی کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا اور ان کو برداشت کرنے کی عادت بنانی چاہیے ۔

اللہ تعالیٰ نے اس امت کے ذمہ دو کام لگائے ہیں ایک طبقہ فضائل والی محنت کر کے لوگوں کو ایمان  وعمل پر لاتا ہے اور دوسرا طبقہ دلائل والی محنت سے مسلمانوں کے ایمان و عمل کو بچاتا ہے ۔ ہم اپنے اکابر کے طرز پر چلتے ہوئے دونوں کام کرتے ہیں اسلام کی اشاعت بھی کرتے اور تحفظ بھی ۔

مسلکی کام کرنے والے علماء کرام کے لیے دو چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔پہلا اکابر کا مسلک اور دوسرا اکابر کا مزاج ۔ جب تک دونوں سے واقفیت اور مکمل آگاہی نہیں ہوگی اس وقت تک محنت رنگ نہیں لا سکتی ۔ اس حوالے سے بطور خاص ہمیں چار شخصیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے ۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، حضرت مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ اور شیخ الہند مولانا محمود حسن  دیوبندی ۔ ان لوگوں نے صبح و شام فہم و بصیرت ، فراست و ذکاوت ، حکمت عملی اور عزیمت ؛ وقت کے تقاضوں کے مطابق اسلام کی اشاعت اور تحفظ کے لیے قابل قدر محنت کی ہے اور امت کے سامنے اسلام کی صحیح صورت پیش کی ۔

ہمارے اکابر نے خارجی فتنوں کا مقابلہ کرتے وقت داخلی فتنوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا ۔ اس کو سمجھنے کے لیے ادلہ کاملہ اور ایضاح الادلہ از حضرت شیخ الہند کا پس منظر دیکھ لینا چاہیے ۔

فروعی مسائل میں اختلاف کی صورت میں ہم ائمہ اربعہ کے اجتہادی فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور  اجتہاد میں اگر مجتہد خطا پر بھی ہو تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اجر اور جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ ہاں جو لوگ نہ تو اجتہادی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان میں بات سمجھنے کی اہلیت ہے ہماری تحقیق کے مطابق یہ شرارتی ٹولہ ہے ۔

ہم اپنے عقائد و نظریات اور مسائل کی مسلسل مثبت محنت کر رہے ہیں اور تادم زیست کرتے رہیں گے اگر کسی باطل نے ضد اور عناد کی بنیاد پر ہمارے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی تو علمی میدان میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا بھر پور جواب دینے کی توفیق  بخشی ہوئی ہے ۔

اس کے علاوہ بھی چند چیدہ چیدہ کارگزاریاں علماء کے سامنے پیش کیں ۔ تشریف لائے ہوئے معزز علماء کرام کے تاثرات خوب حوصلہ افزا تھے ۔ اللہ کریم اس اجتماع کو عالم انسانیت کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور اس کی بدولت ضلالت و گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

نوٹ:

2 مارچ 2014بروز اتوار  مرکز اہل السنت والجماعت میں ”سالانہ اجتماع “ ان شاء اللہ منعقد ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی بخیر و خوبی پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔