تابعیتِ امام اعظم ابو حنیفہ اور صاحبِ مشکوٰۃ کا تسامح

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 

تابعیتِ  امام  اعظم ابو حنیفہ اور صاحبِ  مشکوٰۃ کا تسامح

متکلمِ اسلام  مولانا محمد الیاس گھمن

ہمارے  دینی جامعات اور بالخصوص وفاق المدارس  العربیہ کے نصاب میں شامل حدیث پاک کی معروف  کتاب مشکوٰۃ  المصابیح پڑھائی جاتی ہے ۔صاحبِ مشکوٰۃ  المصابیح   شیخ ولی الدین  ابو  عبد اللہ  محمد بن عبد اللہ   الخطیب کی کتاب ”اکمال فی اسماءالرجال“ [ملحق  بالمشکوٰۃ :ص624 ] میں  امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ   کے  حالات  میں  لکھا ہے  کہ  امام صاحب  کے دور میں  چار صحابہ   رضی اللہ عنہم   موجود تھے”ولم  یلق  احداً منھم ولا اخذ عنہ“ امام صاحب  رحمہ اللہ نے  ان میں  سے  کسی سے بھی  ملاقات  نہیں  کی اور نہ ان سے  روایت  لی  ہے ۔سچی بات یہ ہے کہ ہم صاحب مشکوٰۃ کے اخلاص ان کے علم اور حدیث سے قلبی لگاؤ کے معترف ہیں لیکن اس مقام پر جو ان سے تسامح ہوا ہے اس کا دیانتدارانہ تجزیہ پیش کرنا اپنا علمی واخلاقی فرض سمجھتے ہیں ۔چنانچہ  پیش خدمت ہے۔

 

امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ   کی صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم   سے ملاقا ت اور احادیث  مبارکہ  کی روایت ثابت ہے۔ بعض حضرات  جنہوں نے  ملاقات کاانکار کیا ہے  یا ملاقات مان کر  روایات کا انکار کیا ہے،  ان کا قول  درست نہیں۔ کئی  روایات  اور  محققین کی تصریحات   سے  ثابت ہے  کہ امام صاحب  نے صحابہ  رضی اللہ عنہم سے ملاقات  بھی کی ہے   اور  روایت  بھی لی ہے۔

[1]:امام  موفق المکی  رحمہ اللہ  نے امام  محمد بن عمر  الجعابی رحمہ اللہ  (م355ھ) کی سند سے روایت  کیا ہے :عن  ابی حنیفۃ [ رحمہ اللہ ] قال رایت  انس بن مالک  فی المسجد قائما یصلی.

مناقب موفق المکی  :ج1ص24 ،25 ،مسند  ابی حنیفہ  لابی نعیم:ص24

ترجمہ:امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ کو مسجد میں نماز پڑھتے دیکھا۔

[2]:امام ابو نعیم  ا صبہانی رحمہ اللہ  (م430ھ)  اپنی سند سے  روایت  کرتے ہیں:  عن ابی حنیفۃ سمعت  انس بن مالک یقول: سمعت  رسول صلی اللہ علیہ وسلم  یقول:  طلب العلم  فریضۃ  علی کل مسلم۔

مسند  ابی حنیفۃ لابی نعیم :ص24

ترجمہ:امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے  ہیں  کہ  میں نے  حضرت انس  بن مالک  رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے  کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  کو یہ فرماتے  سنا کہ  علم حاصل  کرنا ہر مسلمان  پر فرض ہے۔

[3]:فقیہ وقاضی  ابو عبد اللہ  حسین  بن علی  الصیمری (م 436ھ) اپنی سند  سے بیان کرتے ہیں:عن ابی حنيفة انہ قال حججت مع أبي سنة ست وتسعين ولي ست عشرة سنة فإذاانا  بشيخ قد اجتمع الناس عليه فقلت لأبي من هذا الرجل؟ فقال هذا رجل قد صحب محمداً صلى الله عليه وسلم يقال له عبد الله بن الحارث بن جزء، قلت لأبي: أي شيء عنده؟ قال: أحاديث سمعها من النبی صلى الله عليه وسلم فقلت: قدمني إليه حتى اسمع منه فتقدم بين يدي فجعل يفرج عنی  الناس حتى دنوت منه فسمعته يقول سمعت  رسول الله صلى الله عليه  وسلم یقول: من تفقه فى دين الله كفاه الله همه ورزقه من حيث لا يحتسب.

اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ للصیمری: ص18

ترجمہ:امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ 96ھ میں میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ حج کیا، اس وقت میری عمر سولہ سال تھی۔ میری نظر ایک شیخ پر پڑی جس  کے گردلوگوں کا ہجوم تھا۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ بزرگ  کون ہیں؟ جواب دیا:یہ وہ شخص ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت اختیار کی ہے ان کانام ”عبداللہ بن حارث بن جزء“ ہے۔ میں نے کہا: ان کے پاس کیاہے؟ جواب دیا کہ ان کے پاس  احادیث ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنی ہیں ۔میں نے کہا: مجھے آگے لے چلیے تاکہ میں ان سے احادیث سنوں۔ میرے والد نے لوگوں کو ہٹا کر  مجھے قریب کیا تو میں نے سنا، آپ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کا فرمان ہے: جو اللہ کے دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتا ہے اللہ اس کی ضروریات کے خود کفیل بن جاتے ہیں، اسے وہاں سے رزق دیتے ہیں جہاں سے اس گمان بھی نہیں ہوتا۔

[4]:امام محمد بن الحسن الشیبانی  (م189ھ) امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں:اخبرنا ابو حنیفۃ قال حدثنا عبد اللہ بن ابی حبیبۃ قال سمعت ابا الدرداء یقول کنت ردیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا ابا الدرداء! من شھد ان لا الہ الا اللہ مخلصاً وجبت لہ الجنۃ.

کتاب الآثار بروایۃمحمد: ص77  رقم الحدیث373، مسند ابی حنیفۃ لابی نعیم: ص175

ترجمہ:امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ  فرماتے ہیںکہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن ابی حبیبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوالدرداء  رضی اللہ عنہ سے سنا،فرمارہے تھے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے سواری پربیٹھاتھا۔ آپ  نے فرمایا: اے ابو الدرداء!جس شخص نے اخلاص کے ساتھ ”لا الہ الا اللہ“ کی گواہی دی تواس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔

نوٹ: حضرت عبد اللہ بن ابی حبیبہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں۔ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:عبد الله بن أبي حبيبة واسمه الأدرع بن الأزعر۔۔۔ قال بن أبي داؤد شهد الحديبية وذكره البخاري وابن حبان وغيرهما في الصحابة وقال البغوي كان يسكن قباء.

الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ: ج2 ص1029 رقم الترجمۃ4622

ترجمہ:عبد اللہ بن ابی حبیبہ کا نام الادرع بن الازعر ہے۔ ابن ابی داؤد فرماتے ہیں کہ یہ صلح حدیبیہ میں موجود تھے۔ امام بخاری، علامہ ابن حبان وغیرہ نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مقام  قباء  میں رہتے  تھے۔

دیگر محدثین اور ائمہ اسماء الرجال نے بھی ان کا شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کیا ہے ۔ چنانچہ

امام ابن سعد رحمہ اللہ  نے اپنی طبقات ج8ص334 میں

امام ابن قانع  رحمہ اللہ نے معجم الصحابہ ج2ص92 میں

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے تاریخ الصحابہ ص  157 میں

امام ابن اثیر رحمہ اللہ نے اسد الغابہ ج3ص115 میں

تنبیہہ:مسند ابی حنیفۃ لابی نعیم میں  ان صحابی کا نام ”عبد اللہ بن ابی حنیفۃ“غلط چھپ گیا ہے، صحیح ”عبداللہ بن ابی حبیبۃ“ ہے۔ وللہ الحمد

تصریحات محققین:

[1]: امام ابو القاسم علی بن کاس النخعی  رحمہ اللہ (م324ھ):ومن فضائلہ- ای ابی حنیفۃ- انہ روی عن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، فان العلماء اتفقوا علی ذلک.

رسالۃ فی مناقب الائمۃ الاربعۃ بحوالہ مقدمۃ مسند ابی حنیفۃ لابی نعیم: ص132

ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔

[2]:امام محمد بن اسحاق المعروف بابن ندیم رحمہ اللہ  (م380ھ): وكان من التابعين لقي عدة من الصحابة.

الفہرست لابن نديم :ص342

ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تابعین میں سے تھے، آپ نےکئی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی ہے۔

[3]:امام ابن عبدالبر المالکی رحمہ اللہ (م463ھ): قال أبو عمر: ذكر محمد بن سعد كاتب الواقدي أن أبا حنيفة رأى أنس بن مالك، وعبد الله بن الحارث بن جزء.

جامع بيان العلم وفضلہ: ص54

ترجمہ:     ابوعمر ابن عبد البررحمہ اللہ  کہتے ہیں: محمد بن سعد  جو امام واقدی کے کاتب ہیں، فرماتے ہیں کہ  امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ  نے حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزء رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے۔

[4]:       امام ابو معشر عبد الکریم الطبری المقری الشافعی رحمہ اللہ  (م478ھ):قد الف الامام ابو معشر عبد الکریم بن عبد الصمد الطبری المقری الشافعی جزءا فیما رواہ الامام ابو حنیفۃ عن الصحابۃ، ذکر فیہ: قال ابو حنیفۃ لقیت من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سبعۃ ۔۔الخ۔ 

تبییض الصحیفۃ للسیوطی: ص61

ترجمہ:      امام ابو معشر عبد الکریم بن عبد الصمد الطبری المقری الشافعی  رحمہ اللہ نے ایک جزء جمع کیا ہے جس میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی وہ روایات لائے ہیں جو امام صاحب نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہیں، اس  جزءمیں یہ مذکور ہے: امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے سات  حضرات سے ملا ہوں الخ۔ (پھر ان سات کے نام بھی ذکر کیے ہیں)

اوربتصریح علامہ حسن سنبھلی اس جز ء میں انہوں نے روایات پر کسی قسم کی جرح  و قدح نہیں کی۔

تنسیق النظام: ص11

[5]:علامہ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ  (م748ھ): رأى أنس بن مالك غير مرة لما قدم عليهم الكوفة.

تذكرة الحفاظ: ج1ص126،الکاشف: ج3ص191

ترجمہ:     آپ[ رحمہ اللہ ] نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کئی مرتبہ زیارت کی جب وہ  کوفہ تشریف لاتے۔

[6]:حافظ ابو الفداء اسماعیل ابن کثیر شافعی رحمہ اللہ (م774ھ): لانه أدرك عصرالصحابة، ورأى أنس بن مالك.

البدایۃ والنہایۃ: ج5 ص527

ترجمہ:امام ابوحنیفہ  رحمہ اللہ نے  حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا زمانہ پایا ہے اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے۔

[7]:حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی رحمہ اللہ (م852ھ): رأى انسا.

تہذیب التہذیب: ج6ص55

ترجمہ:     امام صاحب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے۔

[8]:علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمہ اللہ (م855ھ): ابن أبي أوفى اسمه عبد الله۔۔۔ وهو أحد من رآه أبو حنيفة من الصحابة.

عمدة القاری: ج2ص505

ترجمہ:حضرت  ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کا نام ”عبد اللہ“ہے، یہ ان صحابہ میں ہے ہیں جن کو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے دیکھاہے۔

[9]:امام ابن العماد حنبلی رحمہ اللہ (م1089ھ): رأى أنساً وغيره.

شذرات الذهب: ج1ص372

ترجمہ:امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ  اوردیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے۔

[10]:علامہ حسن سنبھلی رحمہ اللہ  (م1305ھ):والثانی: مقام روایتہ- ای ابی حنیفۃ- عن بعض الصحابۃ وھو ایضاً ثابت عند ارباب الانصاف بوجوہ.

تنسیق النظام: ص11

ترجمہ:دوسری بات امام صاحب کی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے حدیث روایت کرنے کا مقام ہے اور ارباب انصاف کے ہاں یہ بات کئی وجوہ سے ثابت ہے۔

پھر متعدد وجوہ سے اس دعوی روایت کو ثابت بھی کیا ہے۔مذکورہ روایات  اور محققین کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو صحابہ رضی اللہ عنہم کی زیارت و ملاقات کا شرف اور ان سے  روایت کی سعادت بھی حاصل ہے ۔ وللہ الحمد

صاحب ِ مشکوٰۃ  کا تسامح:

صاحبِ مشکوٰۃ   شیخ ولی الدین محمد بن عبداللہ  ا لخطیب  کی نقل کردہ  عبارت  دراصل  ان کی اپنی  نہیں ہے  بلکہ  اس کا پس منظر  یہ ہے کہ  شیخ   ابو اسحاق شیرازی  شافعی (م 476ھ) نے”طبقات الفقہاء“کے  نام سے  ایک کتاب لکھی ، اس میں  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ترجمہ میں  یوں لکھا:وقد كان في أيامه أربعة من الصحابة: أنس بن مالك وعبد الله بن أبي أوفى الأنصاري وأبو الطفيل عامر بن واثلة وسهل بن سعد الساعدي وجماعة من التابعين كالشعبي والنخعي وعلي بن الحسين وغيرهم، وقد مضى تاريخ وفاتهم، ولم يأخذ أبو حنيفة عن أحد منهم.

طبقات الفقہاء: ص86

ترجمہ:  آپ  کے زمانے  میں  چار  صحابہ  موجود تھے؛ حضرت انس  بن مالک ،حضرت عبداللہ  بن ابی اوفیٰ الانصاری، حضرت ابو الطفیل  عامر بن واثلہ  اور حضرت سہل بن سعد الساعدی ، نیز  حضرات  تابعین  کی ایک جماعت   بھی موجودتھی  جیسے امام  شعبی ،امام نخعی  اور  امام علی  بن حسین وغیرہ ، ا ن حضرات  کی تاریخ  وفات گزر چکی ہے ، لیکن  امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  نے  ان میں  سے  کسی  سے  بھی روایت نہیں کی۔

لیکن  یہ موصوف  کا محض دعویٰ ہے  جس کی حقیقت  کچھ نہیں،  اس لیے  کہ

 اولاً: محققین کی تصریحات  کے مطابق امام صاحب کے زمانہ میں اکیس صحابہ رضی اللہ عنہم موجود  تھے ۔

اتحاف الاکابر  بحوالہ  امام ابو حنیفہ  رحمہ اللہ کی تابعیت  ص 18،57

 علامہ حسن سنبھلی رحمہ اللہ نے اس فہرست کے علاوہ نو صحابہ رضی اللہ عنہم مزید گنوائے ہیں۔

 تنسیق النظام  ص 10،9

مزید جستجو کی جائے تو ممکن کہ اس تعداد میں اضافہ ہوجائے۔ لہٰذا شیخ ابو اسحاق شیرازی کا یہ دعویٰ کہ ”آپ کے زمانے میں چار صحابہ موجود تھے“ باطل ہے۔

ثانیاً:موصوف  نے یہ دعویٰ  کیا کہ ”امام ابو حنیفہ نے ان میں سے کسی سے بھی روایت نہیں کی“ لیکن  اس پر کوئی دلیل  نہیں دی۔ لہذا یہ دعویٰ بلا دلیل ہونے کیوجہ سے غیر مقبول ہے۔ ہمارے ماقبل کے دلائل (روایات اور تصریحات ائمہ) اس دعویٰ کی تردید کے لیے کافی ہیں۔

ثالثاً: شیخ  ابو اسحاق  شیرازی  کا یہ قول  بھی  جائے تعجب  ہے کہ  امام صاحب  نے  کبار تابعین  مثلاً شعبی  وغیرہ  سے روایت  نہیں لی  حالانکہ  کبار تابعین  میں سے  کئی  ہستیوں  سے  امام صاحب  کی روایت  ثابت ہے ۔ مثلاً انہی میں سے  اول ہستی  یعنی  امام  عامر بن شراحیل  شعبی   تو امام صاحب  کے کبار  شیوخ  میں سے  ہیں۔علامہ  ذہبی رحمہ اللہ لکھتے  ہیں: وھواکبر  شیخ  لابی  حنیفۃ.

تذکرۃ  الحفاظ: ج1 ص63

 کہ امام شعبی  امام  ابو حنیفہ  رحمہ اللہ کے  بڑے  استاد وشیخ  ہیں۔

نیز کبار تابعین کی بہت بڑی تعداد سے امام صاحب کی روایت ثابت ہے جیسا کہ کتب اسماء الرجال سے واضح ہوتا ہے۔

 ان وجوہ سے شیخ ابو اسحاق شیرازی کا دعویٰ بے بنیاد اور باطل محض ہے۔ امام صاحب کی رؤیت و روایت دونوں ثابت ہیں۔

شیخ ابواسحاق شیرازی کے اس دعویٰ کو علامہ مجدالدین بن الاثیر الجزری م606ھ  نے ”ولا یثبت ذلک عند  اھل  النقل“ کہہ کر مدلل کرنے کی کوشش کی ہے، موصوف لکھتے ہیں:وكان في أيام أبي حنيفة أربعة من الصحابة : أنس بن مالك بالبصرة ، وعبد الله بن أبي أوفى بالكوفة ، وسهل بن سعد الساعدي بالمدينة ، وأبو الطفيل عامر بن واثلة بمكة ، ولم يلق أحدا منهم ولا أخذ عنه ؛ وأصحابه يقولون:  إنه لقي جماعة من الصحابة وروى عنهم ،ولا يثبت ذلك عند أهل النقل.

جامع الاصول فی احادیث الرسول : ج12 ص952

ترجمہ:امام ابو  حنیفہ  کے زمانے  میں  چار صحابہ  موجود  تھے  ، انس بن  مالک  بصرہ  میں ، حضرت   عبد اللہ بن  ابی اوفیٰ  کوفہ میں ، حضرت سہل  بن سعد الساعدی  مدینہ میں  اور حضرت  ابو طفیل  بن واثلہ  مکہ میں، امام صاحب  کی ان  چاروں  میں سے  کسی  ایک  سے  ملاقات  ہوئی  نہ  انہوں  نے  ان سے کوئی  روایت  کی۔ امام صاحب کے  شاگرد  کہتے  ہیں  کہ ”امام صاحب نے  صحابہ  کی ایک جماعت  سے ملاقات  کی ہے  اور  ان سے  روایت  بھی لی ہے“  مگر یہ بات  اہل نقل  کے  نزدیک  ثابت  نہیں۔

علامہ  مجدالدین  ابن الاثیرنے بھی  وہی بات  دہرائی جو  شیخ ابو  اسحاق  شیرازی  نے  کی البتہ  انہوں نے  ”اہل  نقل“ کا تذکرہ  کرکے  مزید  یہ دعویٰ  تو کیا  لیکن  نہ ہی  ان  اہل نقل  کے  اسماء  وحوالہ جات  پیش  کیے  اور  نہ ان کے موقف  کے دلائل  کاتذکرہ  کیا ۔ لہٰذا  موصوف کا عدم ثبوت  کا دعویٰ  کالعدم ہے ۔

اس کے بعد  قاضی  ابن  خلکان  (م681ھ) نے  ”وفیات  الاعیان“  میں  علامہ  ابن  اثیر   رحمہ اللہ کی اسی بات  کو دہرایا  ہے۔

دیکھیے  وفیات  الاعیان: ج5ص406 بیروت

 اور علامہ ابو محمد بن عبد اللہ  بن اسعد یافعی رحمہ اللہ (م767ھ) نے ابن خلکان کی اس بات کو ”مراٰۃ الجنان“ میں نقل کر دیا ہے۔

دیکھیے  ج1ص310

 بلا تحقیق نقل در نقل  کا نتیجہ  یہاں تک  پہنچا کہ  صاحب مشکوٰۃ  ولی  الدین  ابو عبدا للہ  رحمہ اللہ  نے  بھی  ”جامع الاصول“  کو  اپنا ماخذ بنایا   اور ان کی  عبارت  یوں نقل  کردی :وكان في أيامہ أربعة من الصحابة : أنس بن مالك بالبصرة ، وعبد الله بن أبي أوفى بالكوفة ، وسهل بن سعد الساعدي بالمدينة ، وأبو الطفيل عامر بن واثلة بمكة ، ولم يلق أحدا منهم ولا أخذ عنه.

اکمال فی اسماء الرجال لولی الدین: ص624

ترجمہ:امام  ابو حنیفہ رحمہ اللہ  کے دور میں  چار صحابہ موجود تھے، بصرہ میں حضرت انس بن مالک، کوفہ میں عبد اللہ  بن ابی اوفیٰ، مدینہ میں سہل بن سعد الساعدی اور مکہ میں ابو الطفیل عامر بن واثلہ لیکن امام ابو حنیفہ نے ان میں سے کسی  ایک سے بھی روایت نہیں  لی۔

وہ تسامح یا غلطی جو شیخ  ابو اسحاق  شیرازی سے  چلی تھی اور صاحبِ مشکوٰۃ سمیت کئی حضرات نے نقل کی، محققین  نے   اس کا رد  کیا ہے ، علامہ  عینی  رحمہ اللہ  لکھتے  ہیں:وأما قول ابن الأثير، وابن خلكان ومن سلك مسلكهما من أنه كان فى أيام أبى حنيفة أربعة من الصحابةأنس بن مالك بالبصرة، وعبد الله بن أبى أوفى بالكوفة، وسهل بن سعد الساعدى بالمدينة، وأبو الطفيل عامر بن واثلة بمكة، و لم يلق أحدًا منهم، ولا أخذ عنه، وأصحابه يقولون إنه لقى جماعة من الصحابة و روى عنهم، ولا يثبت ذلك عند أهل النقل، فذاك من باب التعصب المحض؛ لأن ما نقله أصحابه أولى من غيرهم، والرجوع إلى ما نقلوا أولى مما نقله غيرهم؛ لأنهم أعرف بحاله من غيرهم.

مغانی الاخیار فی شرح اسامی رجال معانی الآثار: ج5 ص140

ترجمہ :     علامہ  ابن اثیر، علامہ  ابن  خلکان  اور  جو حضرات  ان کی    روش پر چلے  ہیں  ان کا یہ کہنا کہ ”امام ابو  حنیفہ  کے زمانے  میں  چار صحابہ  موجود  تھے  ، انس بن  مالک  بصرہ  میں ، حضرت   عبد اللہ بن  ابی اوفیٰ  کوفہ میں ، حضرت سہل  بن سعد الساعدی  مدینہ میں،  اور حضرت  ابو طفیل  بن واثلہ  مکہ میں، امام صاحب  کی نہ ان  چاروں  میں سے  کسی  ایک  سے  بھی ملاقات  ہوئی  اور نہ  انہوں  نے  ان سے کوئی  روایت  کی۔ امام صاحب کے  شاگرد  کہتے  ہیں  کہ امام صاحب نے  صحابہ  کی ایک جماعت  سے ملاقات  کی ہے  اور  ان سے  روایت  بھی لی ہے  مگر یہ بات  اہل نقل  کے  نزدیک  ثابت  نہیں“  یہ  بات محض تعصب  کی بنیاد پر کہی گئی ہے ۔ اس لیے  کہ جو بات  امام صاحب  کے شاگر  نقل کرتے  ہیں  ان پر اعتماد  کرنا  دوسروں  کی بیان کردہ  نقول سے بہتر ہے، اس لیے  کہ یہ شاگرد  دوسروں کی  بنسبت  امام صاحب کے احوال  زیادہ جانتے  ہیں۔

خود  شارح مشکوٰۃ  ملا علی قاری  (م1014ھ) نے   مقدمہ  ہی  میں  اس  بات کا رد ان  الفاظ  میں کیا ہے :وقيل ولم يلق أحدا منهم قلت لكن من حفظ حجة على من لم يحفظ والمثبت مقدم على النافي.

مرقاۃ الفاتیح: ج1ص78 خطبۃ الکتاب

ترجمہ:     بعض نے کہا  کہ ”امام ابو حنیفہ   کی  ان چار  صحابہ  میں سے  کسی سے  بھی  ملاقات ثابت  نہیں“،  میں کہتا ہوں  کہ جس نے  یاد رکھا  اس کی بات  اس  شخص پر حجت  ہے  جس  نے یاد  نہ رکھا  اور ثابت  کرنے  والا  نفی  کرنے  والے  پر  مقدم  ہوتا ہے ۔

اس تفصیل سے  معلوم  ہو اکہ  صاحب مشکوٰۃ  رحمہ اللہ نے مذکورہ  حضرات  کی  جن  عبارتوں  کو بنیاد  بنایا ہے  وہ قطعاً بے بنیاد  اور دعویٰ  محض   ہیں جو کہ  مذکورہ  تصریحات  اور محققین کی تحقیقات  کی روسے  بالکل باطل ہیں ۔نتیجۃً صاحب  مشکوٰۃ  کی عبارت  تسامح  اور  غلط ہے ۔ لہٰذا امام صاحب  کی رؤیت  اور روایت  ہی راجح ہے ۔