ایجاد بدعت میلاد

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

ایجاد بدعتِ میلاد 

?……مولانا محمد رضوان عزیز

سراغِ حقیقت:

انسانیت اپنی ترقی کے مدارج طے کرتی ہوئی یہ حقیقت بھول گئی کہ ہر چیز میں جدت کے شوق نے اسے حقیقت سے کتنا دور کردیا ہے۔ دیگر مذاہب جو کبھی آسمانی وحی کا مخاطب اول ہوا کرتے تھے آج فرسودہ خیالات وافکار کا ملغوبہ بن چکے ہیں۔دنیا میں جس قدر بھی گمراہیاں پھیلی ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ سابقہ اقوام کی جس قدر بربادی ہوئی ہے،اس کے بنیادی سبب دو ہیں، جنہوں نے انسان کی روحانیت کو تباہ کر کے شیطانی مکر وفریب کی چراگاہ بنا دی ہے یہی دو اسباب مذاہب سابقہ کی اخلاقی موت کا سبب بنے........

 

1:          کتاب اللہ سے دوری۔

2:           رجال اللہ سے نفرت۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہےکہ اس نے کبھی بھی کتاب کو بغیر صاحب کتاب  نازل نہیں فرمایا اس لیے کہ ہر کتاب ایک صاحبِ کتاب چاہتی ہے جو اس کے اسرار و  رموز سے لوگوں کو آشنا کرے۔اس کے مغلق اور پیچیدہ مباحث کو قلوب واذہان میں جاگزیں کرے۔

اقوام سابقہ کی یہی بدبختی تھی کہ ان میں سے بعض نے کتاب اللہ کا دامن تھاما اور رجال اللہ کو چھوڑ دیا اور بعض نے رجال اللہ کو تھام کر کتاب اللہ سے اعلان لاتعلقی کر دیا ،حالانکہ یہ دونوں چیزیں لازم وملزوم تھیں۔ پہلی جماعت جس نے کتاب اللہ[ دستورِ الٰہی] کو کافی سمجھا اور انبیاء علیہم السلام کو صرف اتنی اہمیت دی کہ وہ قاصد محض ہیں لہٰذا انبیاء علیہم السلام  کو قتل کرنے کے سنگین جرم میں ملوث ہوئے ،یہ یہود بےبہبود تھے جنہوں نے اپنی فہم وفراست کو معیار بنا کر انبیاء علیہم السلام اور اپنے اہل علم کی فہم وفراست اور تشریحات کو ماننے سے انکار کردیا اور الحاد کی راہ پر چل نکلے۔

دوسری سوختہ بخت قوم  نصاریٰ کی تھی جنہوں نے رجال اللہ کو ایسا تھاما ، کتاب اللہ سے روگردانی کی اور  حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی محبت میں اس قدر غلو کا شکار ہوئے کہ انہیں خدا کا بیٹا بنا  دیا  یہ دو حقیقی بدبختیاں تھیں ان اقوام کی جو راندۂ درگاہ ہوئے اورقرآن کی ابدی و ازلی  صراحت کے مطابق ضالین [گمراہ] اور بارگاہ الہٰی میں معتوب ومغضوب قرار پائے ۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے بارے میں لسانِ صادق سے خبرِ صادق دیتے ہوئےارشاد فرمایا: لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ سَلَكُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ۔

بخاریرقم:3456،باب ما ذكر عن بنی إسرائيل

تم پہلی امتوں کی پیروی کرو گے اور قدم بقدم ان کے نقش قدم پر چلو گے۔

آج یہ امت  اسی  المیہ سے دوچار ہے جس کی خبر پہلے سے دی گئی تھی بعض شوریدہ سر قرآن کی آڑ میں حدیث وسنت سے انکاری ہیں اور  پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننے کوبالکل  تیار نہیں ہیں اور قوم یہود کی طرح اپنے آپ کو عقل کل اور  چراغِ گل سمجھ کر چراغِ راہ گل کر رہے ہیں۔ الحاد کو تحقیق اور شبہات کو بیّنات سمجھ رہے ہیں۔ اسلاف پر بدگمانی سے تجاوز کر کے بدزبانی پر اتر آئے ہیں اور دوسرا طبقہ نصاریٰ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شخصیات کی محبت میں اس قدر غلو کا شکار ہوچکا ہے کہ کتاب اللہ اور احکام الہی کو پس پشت ڈال کر اپنی خود ساختہ عبادات کو ہی ضامن نجات سمجھ بیٹھا ہے۔

ربیع الاول کے مہینے میں بالخصوص اوربالعموم  کوئی  دن اس طبقہ نے ایسا نہیں چھوڑا جس میں یہ فرقہ اپنی بدعات کا سنگھاسن دوڑاتا نہ ہو ۔ہر دن طلوع آفتاب کے ساتھ عبادت کی تیاری سے نیا بچہ جمورا نکال لیتے ہیں۔دیگر خلاف شرع افعال کے ساتھ ساتھ ایک ایسی رسم جو پہلے ادوار میں نہ تھی، قرون اولیٰ میں ڈھونڈھنے سے بھی اس کی کوئی نظیر  نہیں ملتی وہ رسم عیسائیوں سے تحفے میں وصول کر کے دین اسلام میں اس کی پیوند کاری کر لی ہےاور آج بدقسمتی سےاسے دین سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے وہ رسم ”میلاد کے جلوس“ ہیں۔روڈ حادثات کا لفظ تو آپ نے بکثرت سنا ہوگا اب ”روڈ  عبادات“ کا یہ جو طرز چل نکلا ہے بس اللہ ہی اس سے حفاظت فرمائے۔؏

اس چمن کی بربادی نہ جانے کہاں تک جائے گی

بانی عید میلاد:

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان رسومات کو جاری کرنے والے کا نام عمر بن محمد موصلی ہے جو عراق کے شہر موصل کا رہائشی ہے سب سے پہلے اس نے یہ بدعت ایجاد کی اور پھر اس کو باضابطہ پذیرائی شاہ اربل ابن مظفر ابوسعید ابن زین العابدین بن علی کی وجہ سے ملی۔جس کی صراحت علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”حسن المقصد فی عمل المولد“ میں یوں فرمائی ہے:واول من احدث ذالک ابن المظفر ابوسعید بن زین العابدین بن علی احد الملوک الامجاد۔

بحوالہ تاریخ میلاد

گھر کی گواہی:

مولوی عبدالسمیع رامپوری مؤلف ”انوارِساطعہ“رقم طراز ہیں:بادشاہوں میں اول ابوسعید مظفر نے مولود شریف تخصیص وتعیین کے ساتھ ربیع الاول میں کیا، غرض اس بادشاہ نے شیخ عمر مذکور کی پیروی اس فعل میں کی۔

انوارِ ساطعہ ص160

یعنی اس بدعت کا بانی مبانی اور اس کی تشہیر کرنے والا دونوں حضرات کا تعلق قرون اولیٰ سے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رحلت فرماجانے کے تقریباً[600] چھ سو سال بعد یہ بدعت ایجاد ہوئی۔

مروجہ میلاد کے مختصر حالات:

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ترویج دینے والا مظفر الدین کو کبوری یا کوکری کی کنیت ابوسعید ہے قلعہ موصل میں شب شنبہ 27محرم 549ھ کو پیدا ہوا ، 14برس کی عمر میں اپنے والد کے انتقال پر اس کا جانشین بنا ۔  مگر اس کی تربیت کے لیے مقرر کیے گئے اتالیق مقرر کیا جو  منظم اربل تھا اس نے اس کے خلاف ایک محضر لکھوا کر اس کو عہدے سے سبکدوش کر دیا اور پہلے قلعہ میں قید کیا پھر ملک بدر کردیا۔  کوکبوری اربل سے بغداد گیا ، وہاں سے ناکام پھرتا ہوا ”موصل“ آیا ۔ یہاں کے بادشاہ سیف الدین اتابک نے اس کو حران  کی حکومت سونپی ۔ مگر یہاں بھی نہ ٹھہرا اور سلطان صلاح الدین کے پاس چلا گیا اور اس کی  بہن” ربیعہ“ سے شادی کی پھر خوب ترقی کی۔ انتہائی نڈر ،شجاع اور مخیر آدمی تھا اس کا سب بڑا کارنامہ عمر بن محمد موصلی کے ایجاد کردہ میلاد کی شاہی خرچ پر تشہیر کرانا ہے ۔شاہ اربل مظفر الدین کوکبوری 10 رمضان 630 ھ کو انتقال کر گیا اس نے حرم شریف میں دفن کی وصیت کی تھی جس پر بوجوہ عمل  نہ ہوسکا اور اسے کوفہ کے قریب مقام مشہد میں دفن کردیا گیا۔

مروجہ مولود کی پہلی کتاب:

جس مصنف نے سب سے پہلے کتاب تصنیف کی اس کا نام ابوالخطاب عمر بن حسن بن دحیہ کلبی اندلسی ہے  یہ 544ھ میں پیدا ہوا۔  علامہ ابن خلِکان کے بقول یہ بہت بڑے عالم فاضل تھے،  جب طلب علم کے اسفار میں موصل سے گزرے تو انہیں پتہ چلا کہ یہاں کا بادشاہ مولود شریف کا اہتمام کرتا ہے لہٰذا اس نے اس کی خوشنودی کے لیے ایک کتاب ”التنویر فی مولد السراج المنیر“  تصنیف کی اور بادشاہ کی خدمت میں پیش کی ۔سلطان نے خوش ہو کر اسے ایک ہزار اشرفی انعام میں دی ۔اس واقعہ کو علامہ سیوطی رحمہ اللہ  نے ”حسن المقاصد“ میں بھی نقل کیا ہے۔

کس کس کی بربادی میں تیرا ہاتھ نہیں:

شیطان نے بھی کیسی عجیب چال چلی کہ ترک تقلید کا فتنہ بپا کیا پھر دنیا میں کون سی گمراہی اور بےدینی ہے جس نے ترک ِتقلید کی کوکھ سے جنم نہ لیا ہو شاید آپ کو یہ سن کر حیرت ہو کہ میلاد شریف کی ایجاد وترویج اور سب منکرات وفواحش وغیرہ  سب کچھ غیرمقلدین کا کیا دھرا ہے۔یعنی یہ” روڈ عبادات کا فتنہ“ بھی غیرمقلدیت کا شاخسانہ ہے۔

اس لیے کہ بانی میلاد عمر بن محمد الموصلی مروج میلاد ابوسعید مظفرالدین کوکبوری شاہ اربل اور مصنف کتاب میلاد ابوالخطاب عمر بن حسن بن دحیہ کلبی یہ تینوں غیرمقلد تھے اور طرفہ تماشہ یہ کہ آج تک اس کو منانے والے ترویج دینے والے بھی بریلوی غیرمقلدین ہیں ۔ جو دعویٰ تو اتباع امام اعظم رحمہ اللہ  کا کرتے ہیں۔مگر مرضی اپنی کرتے ہیں میلاد کا جلوس امام اعظم  رحمہ اللہ کی فقہ سے کہاں ثابت ہے؟یہ خود ان کے فاسد اجتہاد کی کارستانی ہے اور مذکورتین لوگوں  کا غیرمقلد ہونا شبہہ سے بالا تر ہے۔ابن دحیہ بقول حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ظاہر المذہب تھے ائمہ کے بارے میں بدگوئی کرتے تھے اور شاہ اربل کے حالات میں مذکور ہے کہ وہ سب کو خود اجتہاد کرنے کا حکم دیتا تھا اور عمر بن محمد الموصلی کی غیرمقلدانہ طبیعت کا اندازہ میلاد کی ایجاد بےبنیاد سے ہی ہو جاتا ہے لہٰذا یہ تینوں ”محسنین فرقہ بریلویہ“ غیرمقلد ہی تھے۔

شرم تم کو مگر نہیں آتی

تلخ حقیقت:

کتنےافسوس کی بات ہے  کہ عاملین وشائقین میلاد جو 12 ربیع الاول کو مَرد  و زَن کے مخلوط اجتماع ، ناچ گانا اور دیگر قباحتوں کے ساتھ ذکر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہی وہ اپنے اس عمل کے لیے دلیل نہ قرآن وحدیث کو بناتے ہیں نہ خلفاء راشدین کو اور نہ ہی ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کو ۔ آپ ان کی اخلاقی پستی اور بیمار ذہنیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سلاطین اور بادشاہوں کی کفش برداری کو دین سمجھ رہے ہیں فرقہ بریلویہ  کےمعروف مذہبی پیشوا جناب عبدالسمیع رامپوری اپنی بےبسی کی عکاسی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”پس خوب سمجھ لو ہم اس میں تابع ہیں دستور العمل سلاطین روم اور فرمانروایانِ ملک شام اور ممالک مغربیہ اور اندلس اور مفتیان عرب کے۔“

انوارِ ساطعہ ص293 ضیاء القرآن لاہور

صحابہ کرام نے میلاد کیوں نہ منایا؟:

اگر ہم صرف اسی ایک حقیقت کی طرف توجہ کرلیں کہ بریلویت جس تزک واحتشام سے میلاد مناتی ہے کیا صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم نے بھی ایسا کیا؟  اگر نہیں کیا تو کیا ان کے عشق میں کمی تھی؟ اس حقیقت کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ملکہ برطانیہ کے پاس حلف وفاداری اٹھانے والے والے بریلویوں کے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری  رقم طرازہیں:”بشری تقاضوں کے مطابق قرن اول میں صحابہ کرام پر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم کے پہلوکا  زیادہ اثر تھا ولادت اوروفات کا ایک دن ہونے کے باعث جب یومِ میلاد آتا ہے تو ان پر غم کی کیفیات خوشی کی نسبت بڑھ جاتی تھیں۔

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص455

اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے صدمہ سے دل گرفتہ ہورہے تھے مگر آج کا کم عقل بدعتی کہتا ہے شیطان رو رہا ہے سب خوشیاں منا رہے ہیں۔تو معاذ اللہ ثم معاذاللہ کہیں ان کااشارہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف تو نہیں۔

فرقہ بریلویہ پر انگریزکی کرم نوازیاں:

اس نومولود فرقہ اہل بدعت وفساد پر انگریز کے احسانات اس قدر ہیں کہ ان کا ہر موئے بدن زبان ہوجائے تو بھی یہ حق شکر ادا نہیں کرسکتے۔ہندوستان میں سب سے پہلے اس 12 ربیع الاول کو جلوس میلاد کی بنیاد ڈالنے والا انگریز ہے۔خود ذرا ان کے گھر کی گواہی ملاحظہ فرمائیں:

جنگ آزادی 1857ء میں ماسوائے پنجاب تمام مسلمان؛ انگریز کے مخالف تھے اور جنگ آزادی میں فتح کے بعد انگریز حکومت 1857ء کے بعد مسلمانوں کی شدید مخالف رہی اور مسلمانانِ ہندوستان پر جو ظلم ڈھائے اس کے بعد ہمیشہ کی طرح مسلمان ہند نےاپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن مکرم میں ہی پناہ ڈھونڈی ہو گی۔ انگریز حکومت نے پنجاب میں اپنے مددگار مسلمان جاگیرداروں کے تالیف قلوب کے لیے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کو بارہ وفات سے موسوم کر کے 12 ربیع الاول کے دن تعطیل کا سرکلر جاری کیا۔

رسائل میلاد محبوب صلی اللہ علیہ وسلم صلاح الدین سعیدی فیضان ختم نبوت

شاید گم گشتہ راہ کے لیے یہ تحریر سرمۂ بصیرت بنے اور وہ اس حماقت کی دلدل سے نکل کر اتباع سنت کی حسین شاہراہ پر گامزن ہوں  تو میرے لیے باعث نجات ہوگا۔امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نام نہاد  نام لیواؤ!تم یہ شتر مرغ والی پالیسی چھوڑ دو۔یا تو خالص مقلد بنو اور یہ میلاد وبدعات وغیرہ چھوڑ دو یا پھر خالص غیرمقلد بن جاؤ۔

دو رنگی چھوڑ کر یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سراسر سنگ ہو جا

سانحہ راولپنڈی:

روڈ عبادات کا ایک المناک نتیجہ ”سانحہ راولپنڈی“بھی ہے جب  فطرت  یزید کو زندہ کرکے ماتم کرنے والے اچانک نمازیوں پر پِل  پڑے اور بےگناہ حفاظ طلبہ کرام کو بےدردی سے شہید کیا ، مسجد اور مدرسہ کا تقدس پامال کیا ۔ یہ انہیں جلوسوں کا نتیجہ ہے جب عوام الناس کو روڈ پر لاکر مذہبی اشتعال کو پھیلایا جائے گا اور ذکر جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس اور پاکیزہ عنوان کی آڑ میں کفر سازی کی  بھٹیاں گرم کرکے امت کے کچھ حصے کو گستاخ کہا جائے گا تو ملک کا امن کہاں تک درست رہ سکتا ہے؟اس لیے آسان طریقہ اور ملکی امن وامان کی حفاظت بھی اسی میں ہے کہ عبادات کو عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے۔ عجیب بات ہے کچھ لوگوں نے دس محرم کو پورا ملک جام کیا ہوتا ہے اور کچھ نے 12 ربیع الاول کو۔ حکومت کو اور سنجیدہ ارباب اقتدار کو اس پہلو پر مذہبی ومسلکی تعصب سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہیے اور ایسی قانون سازی کرنی چاہیے کہ وطن عزیز کا تحفظ بھی ہو اور کسی مسلمان کی دل آزاری بھی نہ ہو۔تاکہ ہر بار تعلیم القرآن راولپنڈی والی تاریخ نہ دھرائی جائے ورنہ کب تک مظلوم ظلم کو برداشت کریں گے؟ اگر فریق مخالف کی گنوں سے گولیاں نکلتی ہیں تو ہماری گنوں سے کب انگور نکلتے ہیں؟  اگر ہمارے معصوم بچوں کو بےدردی سے ذبح کیا جاتا ہے تو ان کے جسم کونسا خنجریا  بلٹ پروف میڑیل سے تیار ہوئے ہیں؟  ہماری مساجد نذر آتش کی جاتی ہیں تو تمہارے گھر اور پناہ گاہیں بھی فائر پروف نہیں ہیں؟  مگر اس سے سوائے دہشت گردی اور لاقانونیت کو فروغ ملنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

چند گزارشات:

1:          مذہبی جلسے جلوس کو مساجد اور امام باڑوں تک محدود کیا جائے۔

2:           اشتعال انگیز تقریر وتحریر پر پابندی عائد کی جائے۔

3:           غنیۃ الطالبین میں شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش 10 محرم لکھی ہے اس لیے مناسب ہوگا ناچنے کودنے اور ان رونے پیٹنے والوں کو ایک ہی دن 10 محرم کا پابند بنایا جائے تاکہ ایک ہی دن میں دونوں گھر اپنی خود ساختہ رسومات کو ادا کر لیں اور ملکی معیشت مسلسل ہڑتالوں سے تباہی کا شکار نہ ہو۔