مسئلہ آمین بالسر

User Rating: 5 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar ActiveStar Active
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ آمین بالسر
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت:
جب کوئی شخص سورۃ فاتحہ پڑھنے سے فارغ ہو جائے تو آمین کہے ۔آمین آہستہ کہنا سنت ہے، چاہے وہ شخص امام ہو ،مقتدی ہو یامنفرد۔
(الدر المختار علی حامش رد المحتار ج2ص237 ، فتاوی العالمگیریہ ج1ص82)
مذہب غیر مقلدین:
آمین سورۃ فاتحہ کے تابع ہے۔ جب فاتحہ آہستہ پڑھی جائے تو آمین بھی آہستہ کہی جائے اور جب فاتحہ بلند آواز سے پڑھی جائے تو آمین بھی بلند آواز سے کہی جائے۔ امام اور مقتدی کا یہی حکم ہے ،البتہ اکیلے نماز پڑھنے والا آمین آہستہ کہے گا۔ لہذا ظہر اور عصر میں آمین آہستہ کہی جائے اور فجر، مغرب اور عشا ء میں بلند آواز سے۔ آہستہ آمین کہنے کی کوئی صحیح صریح حدیث نہیں ۔
(صلاۃ الرسول از صادق سیالکوٹی ص164،158 ، نبی کریم ﷺکی نماز ازابو حمزہ ص183، صلاۃ المصطفی ٰ از محمد علی جانبازص171 وغیرہ)
فائدہ: بعض غیر مقلدین نےاپنی کتب میں بلند آواز سے آمین کہنے کا اثبات کرتے ہوئے باقاعدہ عنوان قائم کیے ہیں کہ ”یہودی آمین سے چڑتے ہیں۔“
(صلاۃ المصطفیٰ از محمد علی جانبازص169)
دلائل اہل السنت والجماعت
قرآن کریم:
دلیل : آمین دعا ہے یا اللہ تعالیٰ کا نام، ہر دو صورت میں آہستہ کہنا چاہیے۔
٭ آمین دعا ہے:
(1):قال عزوجل : قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ•
)سورۃ یونس:89)
تفسیر:اخرج ابو الشیخ عن ابی ہریرۃ قال کان موسیٰ علیہ السلام اذا دعا امن ھارون علیہ السلام علیٰ دعائہ یقول اٰمین۔
(تفسیر الدرالمنثور للسیوطی ج3 ص 567)
(2):قال عطا٫ آمین دعا
(صحیح البخاری ج1ص 107)
اوردعا میں اصل یہ ہے کہ آہستہ کی جائے:
قال عزوجل : اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً•
(سورۃ الاعراف:55)
٭ ”آمین“ اللہ تعالیٰ کا نام ہے :
عن ابی ہریرۃ ومجاہد وحکیم ابن جعفر وھلال بن یساف قالوا اٰمین اسم من اسما٫ اللہ تعالیٰ ٫
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص 316 رقم:18،17،16،15 ماذکروا فی آمین و من کان یقولھا،مصنف عبدالرزاق ج2ص 64رقم:2653،2652،باب آمین)
ذکر اللہ میں اصل سر ہے:
قال عزوجل :وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ•
(سورۃ الاعراف:205)
فائدہ: جو بات ہم نے بیان کی ہے یہی بات امام فخر الدین الرازی الشافعی رحمہ اللہ م 606ھ نے فرمائی ہے، فرماتے ہیں:
قال ابوحنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ اخفاء التأمین افضل ،وقال الشافعی رحمۃ اللہ علیہ اعلانہ افضل ،واحتج ابوحنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ علیٰ صحۃ قولہ قال فی قولہ اٰمین وجہان ؛احدھما: انہ دعاء ،والثانی: انہ من اسماء اللہ تعالیٰ ،فان کان دعاء وجب اخفاءہ لقولہ تعالیٰ اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً الخ وان کان اسما من اسماء اللہ تعالیٰ وجب اخفاءہ لقولہ تعالیٰ: وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً الایۃفان لم یثبت الوجوب فلا اقل من النَدبیۃ ونحن نقول بھذا القول•
(التفسیرالکبیر:ج14ص131 تحت قولہ:اُدْعُوا رَبَّكُمْ)
احادیث مبارکہ
احادیث مرفوعہ:
دلیل1:
قدروی الامام الحافظ المحد ث ابوداؤد الطیالسی م204 ھ قال : حدثنا شعبة ، قال : أخبرني سلمة بن كهيل ، قال : سمعت حجرا أبا العنبس ، قال : سمعت علقمة بن وائل ، يحدث عن وائل ، وقد سمعته من وائل ، أنه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فلما قرأ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ) قال : « آمين » خَفَضَ بها صوته۔
) مسند ابوداؤد الطیالسی ج1ص577 رقم: 1117،مسند احمد ج14 ص285 رقم: 18756 (
وقال الحاکم: ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ•
قال الذهبي: على شرط البخاري ومسلم •
(مستدرک علی الصحیحین ج2ص608رقم:2968باب قرا٫ ۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم)
اعتراض:
غیرمقلدین کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ ،امام ابوذرعہ رازی ، امام دار قطنی ،امام بیہقی وغیرہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ کیونکہ امام شعبہ اس حدیث میں غلطی کا شکار ہوئے ہیں کہ اس میں راوی حجر ابو السکن ہے لیکن امام شعبہ رحمہ اللہ نے حجر ابو العنبس بیان کیا ہے۔
ھکذا قال الترمذی فی جامعہ
(ج1 ص168باب ماجاء فی التامین)
جواب نمبر1:
امام شعبہ صحیحین اور سنن اربعہ کے حافظ،متقن ،امیرالمؤمنین فی الحدیث اورثقہ بالاجماع راوی ہیں۔
(التقریب لابن حجر ص301 رقم الترجمہ 2790 وغیرہ)
اور ثقہ راوی کی زیادتی فی السند والمتن عندالجمہور فقہاء ومحدثین مقبول ہے۔
والزیادۃ مقبولۃ،
(صحیح البخاری ج1ص201 باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری)
أن الزيادة من الثقة مقبولة
(مستدرک علی الصحیحین ج1ص307 کتاب العلم)
لہذا امام شعبہ رحمہ اللہ کا حجر ابو العنبس کہنا زیادتی ثقہ ہونے کی وجہ سے مقبول ہے،غلطی نہیں ہے۔
جواب نمبر2:
امام حجر ابو العنبس الکوفی رحمہ اللہ کی دو کنیتیں ہیں۔1 :ابو العنبس 2:ابوالسکن
(1)قال الامام ابن ابی حاتم رازی م327 ھ: حجر بن عنبس ابو السکن ویقال ابو العنبس شیخ کوفی مشہور.
(الجرح والتعدیل: ج3 ص 278رقم الترجمہ3483)
(2)قال الامام ابن حبان م354ھ :حجر بن العنبس ابوالسکن الکوفی وھوالذی یقال لہ حجر ابو العنبس یروی عن علی ووائل بن حجر روی عنہ سلمۃ بن کہیل•
(کتاب الثقات لابن حبان ج4ص177)
(3)قال الامام ابن حجر العسقلانی م852ھ : حجر بن العنبس الحضرمی ابو العنبس ویقال ابو السکن الکوفی•
قلت[ابن حجر]: وبھذا جزم ابن حبان فی الثقات ان کنیتہ کاسم ابیہ ولکن قال البخاری ان کنیتہ ابوالسکن ،ولا مانع ان یکون لہ کنیتان•
(تہذیب التہذیب ج1ص677، التلخیص الحبیر ج1 ص237)
لہذا امام شعبہ پر وہم کا اعتراض باطل ہے۔
جواب نمبر3:
امام شعبہ ”حجر ابو العنبس“ کہنے میں منفرد نہیں بلکہ امام سفیان ثوری بھی ان کی متابعت تامہ کررہے ہیں۔امام سفیان الثوری بھی سلمۃ بن کھیل سے روایت کرتے ہوئے حجر ابو العنبس کہتے ہیں۔ امام ابو داؤد رحمہ اللہ سند بیان کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ حُجْرٍ أَبِى الْعَنْبَسِ الْحَضْرَمِىِّ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
(سنن ابی داؤد ج1ص142،141باب التامین وراء الامام)
تنبیہہ: امام بخاری رحمہ اللہ نے امام داؤد والی سند سے اس حدیث کو تخریج کیا ہے جو ایک طریق سے سفیان ثوری سے روایت ہے۔لیکن یہاں پر انہوں نے تدلیساً ابوالعنبس کو گرادیاہے۔چنانچہ بیان کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ و قبیصۃ قالاحدثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ حُجْرٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الخ
(جزء القراۃ للبخاری مترجم از مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی ص171رقم الحدیث235)
لہذا یہ اعتراض باطل ہے۔
دلیل2:
وقد روی الامام الحافظ المحدث ابوداؤد السجستانی م 275ھ قال حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ تَذَاكَرَا فَحَدَّثَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَكْتَتَيْنِ سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ)
(سنن ابی داؤد: ج1ص113باب السکتۃ عند الافتتاح،جامع الترمذی ج1 ص59 باب ماجا٫ فی السکتتین،سنن ابن ماجہ ص61 باب ماجا٫ فی سکتتی الامام)
اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین•
احادیث موقوفہ و مقطوعہ:
دلیل نمبر1:
قد روی الامام الحافظ المحدث الفقیہ ابوجعفر الطحاوی م321ھ: قال حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ قَالَ: ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَا يَجْهَرَانِ بِ { بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } وَلَا بِالتَّعَوُّذِ وَلَا بِالتَّأْمِينِ•
(سنن الطحاوی ج1 ص150 باب قراءۃ بسم اللہ فی الصلاۃ ،تہذیب الآثار لابن جریر بحوالہ الجوہر النقی علی سنن البیہقی ج2 ص58باب جہر الامام بالتامین)
اسنادہ حسن ورواتہ ثقات•
دلیل نمبر2:
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ:كَانَ عَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ لا يَجْهَرَانِ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلا بِالتَّعَوُّذِ وَلا بِآمِينَ.
(المعجم الکبیر ج4ص567،566رقم9201، ،الجوہر النقی علی سنن البیہقی ج2ص58باب جہر الامام بالتامین،المحلی بالآثار ج2ص280مسئلہ نمبر363)
اسنادہ حسن ورواتہ ثقات•
دلیل3:
قد روی الامام الحافظ المحدث الفقیہ محمد بن حسن الشیبابی قال اخبرنا ابوحنیفۃ عن حماد عن ابراہیم النخعی قال: اربع یُخَافِتُ بِھِنَّ الامامُ؛ سبحانک اللھم وتعوذمن الشیطان وبسم اللہ واٰمین•
(کتاب الآثار بروایۃ محمد ج1ص162 رقم83باب الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم ،کتاب الآثار بروایۃ ابی یوسف ص22،21 رقم106باب افتتاح الصلوٰۃ ،مصنف عبدالرزاق ج2 ص 57رقم2599 باب ما یخفی الامام(
اسنادہ صحیح ورواتہ ثقات•
اکثر صحابہ کا عمل:
قد قال الامام الحافظ المحدث علاء الدین بن علی بن عثمان ابن الترکمانی م745ھ : والصواب ان الخبر بالجهر بها والمخافة صحيحان وعمل بكل مِّنْ فِعْلَيْهِ جماعةٌ من العلماء وان كنتُ مختاراً خفضَ الصوتِ بها إذ كان اكثرُ الصحابةِ والتابعينَ على ذلك•
( الجوہر النقی علی سنن البیہقی: ج2ص58 باب جہر الامام بالتامین)
ائمہ مجتہدین:
یہ حضرات مجتہدین رحمہم اللہ آمین بالسر کے قائل تھے۔
1: امام اعظم ابوحنیفہ 150ھ:
اربع یخافت بھن الامام سبحانک اللھم ،وتعوذمن الشیطان ،وبسم اللہ واٰمین قال محمد: و بہ ناخذ و ھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ.
) کتاب الآثار بروایۃ محمد ج1ص162 رقم83باب الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم (
2: امام سفیان الثوری م161ھ :
قال الامام سفیان الثوری رحمہ اللہ:ثم یقول اٰمین سراً سوا ء کان اماماً اوماْموماً او منفرداً.
(فقہ سفیان الثوری ص561 باب افعال الصلوۃ)
3: امام محمد بن الحسن الشیبانی م189ھ :
اربع یخافت بھن الامام سبحانک اللھم ،وتعوذمن الشیطان ،وبسم اللہ واٰمین قال محمد: و بہ ناخذ.
) کتاب الآثار بروایۃ محمد ج1ص162 رقم83باب الجہر ببسم اللہ الرحمن الرحیم (
4: امام محمد بن ادریس الشافعی م204ھ :
قال الشافعی فی الجدید ان المنفرد والامام والمأموم کل منھم یسر باٰمین جہریۃً کانت الصلوۃ اوسریۃً.
(السعایۃ بحوالہ اوجز المسالک ج2 ص145 باب ماجاء فی التامین خلف الامام)
دلائلِ غیر مقلدین اور ان کا جواب
دلیل1:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَوَلَا الضَّالِّينَ قَالَ آمِينَ وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ•
(سنن ابی داؤد ج1ص134، 135باب التامین)
جواب 1:
اس حدیث کی سند میں ایک راوی سفیان ثوری ہے جو کہ بقول زبیر علی زئی غضب کا مدلس ہے اور مدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے لئے مانع ہے۔اور مدلس کا حکم یہ ہے کہ اس کی روایت بغیر تصریح سماع کے قابل عمل نہیں
نور العینین ص138،139،148
لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
جواب 2:
اس روایت کے ایک راوی امام سفیان ثوری ہیں اور آپ اخفاءِ آمین کے قائل تھے۔
(فقہ سفیان الثوری: ص561)
اور اصول حدیث کا قاعدہ ہے:
عمل الراوی بخلاف روایتہ بعد الروایۃ مما ہو خلاف بیقین یسقط العمل بہ عندنا۔
(المنار مع شرحہ ص194)
کہ راوی کا اپنی روایت کے خلاف عمل کرنا اس روایت سے عمل کو ساقط کر دیتا ہے۔ لہذا یہ روایت منسوخ ہے۔
جواب3:
آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ عمل برائے تعلیم تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دائمی عادت نہ تھی، جیسا کہ اس روایت سے واضح ہوتا ہے:
روی الامام الحافظ المحدث ابو بشر الدولابی الحنفی م310ھ: قال حدثنا الحسن بن علی بن عفان قال حدثنا الحسن بن عطیۃ قال أنبأنا یحییٰ بن سلمۃ بن کہیل عن ابیہ عن ابی السکن حجر بن عنبس الثقفی قال سمعت وائل بن حجر الحضرمی یقول رأیت رسول اللہ ﷺ حین فرغ من الصلوۃ حتی رأیت خد ہ من ھذا الجانب ومن ھذاالجانب وقرأ غیر المغضوب علیھم ولاالضالین فقال اٰمین یمد بھا صوتہ،ما اراہ الا یعلمنا•
(الکنیٰ والاسماء للدولابی ج1ص442،441رقم:1558)
اسنادہ حسن ورواتہ ثقاۃ •
جواب 3 پراعتراض:
اس کی سند میں یحییٰ بن سلمۃ بن کہیل ضعیف راوی ہے ۔
جواب:
امام یحییٰ بن سلمۃ بن کہیل الکوفی م172او179ھ جامع الترمذی اور صحیح ابن خزیمہ کا مختلف فیہ راوی ہے۔ بعض ائمہ نے جرح کی ہے تو بعض نے ان کی توثیق وتعدیل بھی کی ہے۔ تعدیل و توثیق پیش خدمت ہے:
1: امام ابن حبان: ذکرہ فی الثقات•
(کتاب الثقات لابن حبان ص655 رقم الترجمہ11630)
2: امام ابن خزیمہ:” صحیح ابن خزیمہ“ میں ان کے طریق سے مروی روایت سے وضع اليدين قبل الركبتين کے نسخ پر احتجاج کیا ہے۔
(صحیح ابن خزیمہ ج1 ص243 رقم628 باب ذكر الدليل على أن الأمر بوضع اليدين قبل الركبتين عند السجود منسوخ)
معلوم ہوا کہ یہ راوی امام ابن خزیمہ کے ہاں بھی ثقہ ہے۔
3: امام حاکم: قال ہذا حدیث صحیح الاسناد•
(و فیہ یحیی بن سلمۃ بن کھیل). (المستدرک علی الصحیحین: ج2 ص608 تحت رقم الحدیث 2928)
٭ خود غیر مقلدین کے ناصر الدین الالبانی نے ترمذی کی ایک روایت کو ”صحیح“ کہا ہے اور اس میں یہی ”یحیی بن سلمۃ بن کھیل“ موجود ہے۔
(راجع جامع الترمذی باحکام الالبانی: تحت رقم الحدیث3805)
محدثین کے ہاں جو راوی مختلف فیہ ہو اس کی روایات حسن درجہ کی ہو تی ہیں۔(فتح المغیث: ج3 ص359، قواعد فی علوم الحدیث: ص75)
لہذا یہ روایت حسن ہے۔
دلیل 2:
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ عَنْ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ { غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقَالَ آمِينَ فَقَالَ النَّاسُ آمِين.
) سنن النسائی ج1 ص144 قِرَاءَةُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (
جواب 1:
اس کی سند میں محمد بن عبد اللہ بن عبد الحکم ہے، امام ربعی بن سلیما ن الشافعی نے اسے” کذاب“ کہا ہے ۔
(تہذیب التہذیب :ج5ص671)
جواب 2:
اس روایت میں جہر کے الفا ظ نہیں اور ”قال“ ،”قیل“ اور ”قول“ وغیرہ سے جہر ثا بت نہیں ہوتا۔اگر ان الفا ظ سے جہر ثا بت ہو تا تو کیا:
أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَقُولُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ.
(صحیح البخاری :ج1ص110 بَاب يَهْوِي بِالتَّكْبِيرِ حِينَ يَسْجُدُ)
اس روایت سےجہر ثا بت ہوتا ہے، کیا غیر مقلدین ’’ربنا لک الحمد‘‘ میں جہر کرتے ہیں؟ لہذا یہ روایت آمین با لجہر کی دلیل نہیں ۔
دلیل 3:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ تَرَكَ النَّاسُ التَّأْمِينَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ{ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ }قَالَ آمِينَ حَتَّى يَسْمَعَهَا أَهْلُ الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَيَرْتَجُّ بِهَا الْمَسْجِدُ•
(سنن ابن ماجہ :ص62 باب الجہر بآمین )
کہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ عوام الناس نے آمین چھوڑ دی ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ کہتے تو آمین اتنی بلند آواز سے کہتے کہ پہلی صف کے نمازی آپ کی آواز سن لیتے۔ پس مسجد اس آواز سے گونج اٹھتی۔
جواب 1:
اس کی سند میں ایک راوی بشر بن را فع ہے ، ائمہ حد یث نے اسے ضعیف ومجرو ح قرار دیا ہے۔مثلاً:
یحدث بالمنا کیر ، لیس بشئی ،ضعیف فی الحد یث ،لا یتا بع فی حد یثہ ،یضعف فی الحد یث ،منکر الحد یث، لا نریٰ لہ حدیثاً قائماً، اتفقوا علیٰ انکا ر حد یثہ، طرح ما رواہ ، ترک الاحتجاج بہ ، لا یختلف علماءُ الحد یث فی ذلک•
اور بتصریح ابن حبان ان سے موضو ع حدیث بھی آ ئی ہے ۔
(تہذیب لابن حجر :ج1 ص421 رقم الترجمہ 825)
لہذا یہ روایت سخت ضعیف ہے ۔
جواب 2:
مسجد نبوی کی چھت چھڑیو ں کی تھی اور ایسی مسجد میں آواز گو نجا نہیں کرتی ۔ تو یہ الفاظ بھی اس کے ضعف پر دلالت کرتے ہیں۔
جواب 3:
اس روا یت میں”تر ک الناس التا مین“ کا جملہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آمین بالجہر متروک ہے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو صحابہ اور تابعین کیسے چھوڑ سکتے تھے؟!رہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عمل کو پیش کرنا تو یہ بیان واقعی کے لیے تھا اور اس میں بھی جو آ مین جہرا ً کا ذکر ہے وہ بطور تعلیم کے ہے۔
(جیسا کہ الکنیٰ و الاسماء للدولابی کے حوالے سے گزر چکا ہے)
دلیل 4:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ابْنُ الْعَلاَءِ الزُّبَيْدِيُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ ، قَالَ : آمِينَ. ‘‘
۔(صحیح ابن خزیمہ :ج1ص313 باب الجہر بآمین عند انقضاء فاتحۃ الكتاب)
جواب1 :
اس روایت میں ایک راوی اسحا ق بن ابرا ہیم الزبیدی ہے ۔ ائمہ نے اس پر جرح کی ہے۔ مثلاً:
لیس بثقہ ، یکذب ، لیس بشئی ، کذبہ محد ث حمص محمد بن عوف الطا ئی•
(تہذیب التہذیب: ج1ص205رقم التر جمہ 406،میزان الاعتدال:ج1ص190رقم الترجمہ691، المغنی فی الضعفاء:ج 1 ص106 رقم الترجمہ540)
لہذا یہ روایت ضعیف ہے ۔
جواب 2:
اس روایت کی سند میں دوسرا راوی امام زھری ہے جو کہ بقول زبیر علی زئی کے مدلس ہے۔
( نور العینین : ص 118، الحدیث ش32ص23)
اور مدلس بھی طبقہ ثالثہ کاہے ۔
( طبقات المدلسین لابن حجر :ص: 109)
اور زبیر علی زئی نے تصریح کی ہے کہ مدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے منافی ہوتا ہے۔
(نور العینین :ص:168)
خود زبیر علی زئی نے اس حدیث کے تحت لکھا:”میری تحقیق میں راجح یہی ہے کہ امام زہری مدلس ہیں۔ لہذا یہ سند ضعیف ہے“
(القول المتین: 26)
جواب 3:
صحیح ابن خزیمہ کے حاشیہ پر مشہورغیر مقلد ناصر الدین البانی کے حوالہ سے لکھا ہے :اسنادہ ضعیف•
(صحیح ابن خزیمہ :ج1ص313 باب الجہر بآمین عند انقضاء فاتحۃ الكتاب)
دلیل نمبر 5:
أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا أبو سعيد الجعفي حدثني ابن وهب أخبرني أسامة - وهو ابن زيد - عن نافع عن ابن عمر كان : إذا كان مع الإمام يقرأ بأم القرآن فأمن الناس أمن ابن عمر ورأى تلك السنة•
(صحیح ابن خزیمہ :ج1 ص313، ص314 رقم الحدیث 572)
جواب 1:
اس روایت کی سند میں راوی ابو سعید یحیی بن سلیمان الجعفی ہے .اس پر ائمہ نے جر ح کی ہے ۔
قال النسائی: لیس بثقۃ ،و قال ابن حبان: ربما اغرب ، و قال ابن حجر :صدوق یخطی ولہ احادیث مناکیر
(تہذیب لابن حجر:ج7ص54 رقم الترجمہ8858 ، تقریب لابن حجر :ص620 رقم التر جمہ7564 ، المغنی فی الضعفأ :ج2 ص518 رقم الترجمہ 6984)
اور دوسرا راوی اسامہ بن زید اللیثی ہے۔ یہ بھی مجروح ہے۔
قال الامام احمد بن حنبل: لیس بشی ،احادیثہ مناکیر ، وقال یحیی بن معین : ضعیف ،وقال ابو حاتم: لا یحتج بہ، وقال النسائی: لیس بقوی ، وقال ابن حبان :یخطی ٔ ،وترکہ ابن القطان ۔
( تہذیب لابن حجر :ج1 ص199 رقم الترجمہ 392)
لہذا یہ روایت ضعیف ہے ۔
جواب2:
مشہور غیر مقلدناصر الدین البانی نے حاشیہ ابن خزیمہ پر تصریح کی ہے:
قال الألباني : إسناده ضعيف أبو سعيد الجعفي اسمه يحيى بن سليمان صدوق يخطئ وأسامة بن زيد إن كان العدوي فضعيف وإن كان الليثي فهو صدوق يهم وكلاهما يروي عن نافع وعنهما ابن وهب
(حاشیہ ابن خزیمہ :ج:2 :ص:287 )
خلاصہ یہ کہ روایت ضعیف ہے ۔
جواب 3:
یہ روایت موقوف بھی ہے اور موقوفات صحابہ غیر مقلدین کے نزدیک حجت نہیں ۔
1:و قول صحابی حجت نباشد
(عرف الجادی :ص38، فتاوی نذیریہ:ج:1 :ص:340 ،622)
2: و فعل الصحابی لا یصلح للحجۃ
(التاج المکللل از نواب صدیق حسن خان :ص:207)
3: افعال الصحابۃ رضی اللہ عنہم لا تنتہض للاحتجاج بھا۔
(فتاوی نذیریہ بحوالہ مظالم روپڑی: ص 58)
4: صحابہ کا قول حجت نہیں۔
(عرف الجادی: ص 101)
5: صحابی کا کردار کوئی دلیل نہیں اگرچہ وہ صحیح طور پر ثابت ہوں۔
(بدور الاہلہ: ج 1 ص 28)
6:آثار صحابہ سے حجیت قائم نہیں ہوتی۔
(عرف الجادی: ص 80)
7: خداوند تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو صحابہ کرام کے آثار کا غلام نہیں بنایاہے۔
(عرف الجادی: ص 80)
8: موقوفات صحابہ حجت نہیں۔
(بدورا لاہلہ: ص 129)
دلیل نمبر 6:
حدثنا العباس بن الوليد الخلال الدمشقي . حدثنا مروان بن محمد وأبو مهر قالا حدثنا خالد بن يزيد بن صبيح المرمي حدثنا طلحة بن عمرو عن عطاء عن ابن عباس قال : - قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( ما حسدتكم اليهود على شيء ما حسدتكم على آمين . فأكثروا من قول آمين )
(سنن ابن ماجہ :ص:62 باب الجہر بآمین)
جواب 1:
اس حدیث کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو المکی جو عندالجمہور سخت ضعیف ہے ائمہ نے اسے
”لا شی ، مترک الحدیث، لیس بشی، ضعیف ، لیس بالقوی عند ھم، لیس بالحافظ، وعامۃ ما یرویہ لا یتابعہ علیہ، وکان ممن روی عن الثقات ما لیس من حدیثھم لا یحل کتب حدیثھم من روایتہ عنہ الا علی جہۃ التعجب“ قرار دیا ہے۔
(تہذیب التہذیب:ج3ص300 رقم الترجمۃ3522،میزان الاعتدال:ج2 ص311 رقم الترجمہ 3812،المغنی فی الضعفاء :ج1ص502 رقم الترجمۃ 2975)
جواب2:
سیدہ عا ئشہ صدیقہ ؓ سے مرفوعاًصحیح سند کے ساتھ یو ں الفا ظ بھی آئے ہیں:
ان الیہود قَوْم حَسَدٍ وہم لا یحسدو ن علیٰ شئی کما یحسدو ن علی السلام وعلیٰ آ مین.
(صحیح ابن خزیمہ :ج1ص315رقم الحد یث:574 باب الجهر بآمين عند انقضاء فاتحۃ الكتاب في الصلاة)
اور ایک روایت میں ’’ اللہم ربنا لک الحمد ‘‘ پر حسد کے جملے بھی آئے ہیں ، مثلاً:
عَائِشَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَمْ يَحْسُدُونَا الْيَهُودُ بِشَىْءٍ مَا حَسَدُونَا بِثَلاَثٍ: التَّسْلِيمِ ، وَالتَّأْمِينِ ، وَاللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ .
(السنن الکبریٰ للبیہقی :ج:2:ص:56 باب التَّأْمِينِ)
تو کیا سارے غیر مقلدین مخا لفت یہود کرتے ہوئے نماز میں ”اللہم ربنا لک الحمد“اور ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“جہرا ً کہتے ہیں ؟
دلیل7:
أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ وَمَنْ وَرَاءَهُ حَتَّى إِنَّ لِلْمَسْجِدِ لَلَجَّةً
(صحیح البخا ری :ج1ص107 بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
جواب 1:
امام بخا ری نے اس کی سند بیا ن نہیں کی بلکہ تر جمۃ الباب میں لا ئے ہیں اور بقول زبیر علی زئی کے ”بے سند بات قابل حجت نہیں ۔“
(الحدیث شمارہ 59:ص:33)
جواب 2:
یہ روایت ان کتب میں موجود ہے:
[۱]: مصنف عبد الرزاق میں ”عن ابن جریج عن عطاء“ کے طریق سے
اس میں پہلا راوی عبد الرزاق ہے۔ زبیر علی زئی اس کے بارے میں لکھتے ہیں:
”اور مصنف عبد الرزاق والی روایت میں عبد الرزاق مدلس اور روایت معنعن…… لہذا یہ سند بھی ضعیف ہے“
(ضرب حق: ش33 ص16)
اور خیر سے عبد الرزاق کی یہ روایت بھی معنعن ہے۔
[۲]: مسند الشافعی میں ”مسلم بن خالد عن ابن جریج عن عطاء“ کے طریق سے
اولاً….. اس میں پہلا راوی امام شافعی ہے، آپ خود فرماتے ہیں:
وَلَا اُحِبُّ اَنْ یَّجْہَرُوْا بِہَا•
(کتاب الام: ج1 ص277 باب التامین عند الفراغ من قراءۃ ام القرآن)
میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ (مقتدی) بلند آواز سے آمین کہیں۔
جب راوی کا عمل و فتویٰ اپنی مروی کے خلاف ہو تو یہ اس کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ اصول حدیث کا قاعدہ ہے:
عمل الراوی بخلاف روایتہ بعد الروایۃ مما ہو خلاف بیقین یسقط العمل بہ عندنا•
(المنار مع شرحہ ص194)
لہذا یہ روایت ساقط العمل ہے۔
ثانیاً….. دوسرا راوی امام شافعی کا استاذ ”مسلم بن خالد“ ہے۔ یہ ضعیف عند الجمہور ہے:
1: امام ابو داؤد: ضعفہ لکثرۃ غلطہ.
(الکاشف للذہبی: ج3 ص121 رقم 5480)
2: امام ابو حاتم الرازی: لیس بذاک القوی، منکر الحدیث……لا یحتج بہ
. (الجرح و التعدیل: ج8 ص210 رقم 800)
3: امام بخاری: منکر الحدیث•
(التاریخ الکبیر: ج7 ص138 رقم 1097، الضعفاء الصغیر: ص485)
4: امام نسائی: مسلم بن خالد الزنجی ضعیف.
(الضعفاء المتروکین للنسائی: ص219)
وقال ایضاً: لیس بالقوی فی الحدیث.
(تسمیۃ فقہاء الامصار: ص127)
5: امام علی بن المدینی: لیس بشئی.
(الجرح و التعدیل: ج8 ص210 رقم 800)
وقال ایضاً:منکر الحدیث.
(الکامل لابن عدی: ج8ص7)
6: امام ساجی: کثیر الغلط، کان یری القدر
(میزان الاعتدال:ج4 ص323)
7: امام ابن سعد: وکان کثیر الغلط و الخطاء فی حدیثہ
(الطبقات الکبریٰ: ج5 ص449)
8: امام ابن حبان: کان مسلم یخطئی احیانا
(کتاب الثقات: ج7 ص448)
9: امام عثمان الدارمی: لیس بذاک فی الحدیث
(تہذیب التہذیب: ج6 ص256)
10: امام یحیٰ بن معین: فما انکرو ا علیہ حدیثہ عن ابن جریج عن عطاء•
(تہذیب التہذیب: ج6ص256)
کہ اس کی روایت ”عن ابن جریج عن عطاء“ منکر ہوتی ہے اور زیر نظر روایت بھی اسی طریق سے ہے۔
11: علامہ عینی: ضعیف
(البنایۃ شرح الہدایۃ: ج1 ص635)
12: امام ابو زرعہ الرازی: منکر الحدیث
(الضعفاء و المتروکین لابن الجوزی: ج3ص117)
٭ حتیٰ کہ زبیر علی زئی نے لکھا ہے: ” مسلم بن خالد عند الجمہور ضعیف تھے “
(القول المتین: ص48)
لہذا یہ سند ضعیف ہے۔
جواب 3:
حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور دیگر لو گ سب امتی ہیں اور غیر مقلدین کے نزدیک ان کے افعا ل واقوال حجت نہیں ۔ (کما مر)
جواب4:
اس اثر میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ سورۃ فاتحہ کے بعد والی آمین ہے۔ ممکن ہے کہ یہ آمین قنوت نازلہ فی الفجر والی ہو۔ چنانچہ خاتم المحدثین علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
و لعلہ حین کان یقنت فی الفجر علی عبد الملک وکان ہو یقنت علی ابن زبیر و فی مثل ھذ ہ الایام تجری المبالغات.
(فیض الباری ج2ص290 باب جہر الامام بالتامین)
جواب 5:
صحیح بخاری کے اس اثر میں أَمَّنَ ابْنُ الزُّبَيْرِ (فعل ماضی) کا ذکر ہے ، اس سے دوام اور تکرار ثابت نہیں ہوتا۔
جواب6:
حضرت ابن زبیر صغار صحابہ میں سے ہیں۔ ہجرت کے بعد اول مولود فی المدینۃ کہلائے۔ آپ نے آمین بالجہر کا عمل کیا جبکہ کبار صحابہ مثلاً حضرت عمر، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت علی کے ہاں اس طرح کی آمین کا ثبوت نہیں ملتا۔اس سے صاف معلوم ہوا کہ ان تمام حضرات کے خلاف یہ عمل اختیار کرنے میں ضرور کوئی مصلحت ہے اور وہ تعلیم ہی ہو سکتی ہے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن زبیر ہی سے بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً پڑھنے کا اثر منقول ہے۔ علامہ زیلعی نے اس کی مصلحت یہ بیان فرمائی ہے:
قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْهَادِي: إسْنَادُهُ صَحِيحٌ، لَكِنَّهُ يُحْمَلُ عَلَى الْإِعْلَامِ بِأَنَّ قِرَاءَتَهَا سُنَّةٌ، فَإِنَّ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ كَانُوا يُسِرُّونَ بِهَا، فَظَنَّ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ أَنَّ قِرَاءَتَهَا بِدْعَةٌ، فَجَهَرَ بِهَا مَنْ جَهَرَ مِنْ الصَّحَابَةِ لِيُعْلِمُوا النَّاسَ أَنَّ قِرَاءَتَهَا سُنَّةٌ، لَا أَنَّهُ فِعْلُهُ دَائِمًا
( نصب الرایۃ: ج 1ص435 باب صفۃ الصلاۃ)
یہی بات ہم آمین بالسر میں کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر نے آمین جہراً کہ کر لوگوں کو تعلیم دی کہ اس مقام پر آمین کہنا سنت ہے۔
دلیل نمبر8:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ آمِينَ۔
(صحیح البخا ری: بَاب جَهْرِ الْإِمَامِ بِالتَّأْمِينِ)
غیر مقلد کہتے ہیں کہ مقتدی کو پابند کیا گیا ہے کہ جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو۔ ظاہر ہے مقتدی کو آمین کا پتا اس وقت چلے گا جب امام زور سے آمین کہے۔
جواب1:
یہ بات طے شدہ ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پر آمین کہنا ہے۔ اس لیے جب مقتدی غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ سنتا ہے تو اس کو علم ہو جاتا ہے کہ امام اب آمین کہے گا، لہذا اس سے جہر ثابت نہیں ہوتا۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری فرماتے ہیں:
موضعہ معلوم فلا یستلزم الجہربہ.
( بذل المجہود ج2ص105باب التامین وراء الامام )
جواب 2:
دیگر روایات مثلاً:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ{غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ}فَقُولُوا آمِينَ۔
صحیح البخاری ج1ص 108
میں مقتدی کے ”آمین“ کہنے کو امام کے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کہنے پر معلق کیا گیا ہے کہ جب مقتدی ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ سنے تو آمین کہے، تو یہ دلیل ہے کہ آمین آہستہ کہی جائے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا فرماتے ہیں:
بل ہو یدل علی الاسرار و الا فلا یحتاج الی التقدیر ولا الضالین۔
(حاشیۃ بذل المجہود ج2ص104 باب التامین وراء الامام)
جواب3:
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے آمین کہتے ہیں لیکن ان کی آمین ہمیں سنائی نہیں دیتی۔لہذا ان کی موافقت اسی صورت میں ہے کہ جب آمین آہستہ کہی جائے

۔

Download PDF File