ترک قراءت خلف الامام

User Rating: 3 / 5

Star ActiveStar ActiveStar ActiveStar InactiveStar Inactive
 
ترک قراءت خلف الامام
از افادات: متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
مذہب اہل السنت والجماعت احناف:
مقتدی کے لیے امام کے پیچھے سورت فاتحہ اور اس کے بعد والی سورت کی قراءت کرنا مکروہ تحریمی ہے، خواہ نماز جہری ہو یا سری بلکہ اسے خاموش رہنے کا حکم ہے۔
الدر المختار میں ہے: ( وَالْمُؤْتَمُّ لَا يَقْرَأُ مُطْلَقًا) وَلَا الْفَاتِحَةَ فِي السَّرِيَّةِ اتِّفَاقًا…… ( فَإِنْ قَرَأَ كُرِهَ تَحْرِيمًا )…… ( بَلْ يَسْتَمِعُ ) إذَا جَهَرَ (وَيُنْصِتُ ) إذَا أَسَرَّ•
(الدر المختار مع رد المحتارج2ص326، 327، کذا فی اللباب فی شرح الكتاب للميدانی ج1ص39)
مذہب غیر مقلدین:
امام کے پیچھے سورۃفاتحہ پڑھنا فرض ہے، بغیر سورت فاتحہ پڑھے نماز نہیں ہوتی اور اس کے بعد والی سورت پڑھنا منع ہے۔
٭ محمد رئیس ندوی۔ جامعہ سلفیہ بنارس (انڈیا) :
”امام کے پیچھے مقتدی کو صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض ہے ، اس سے زیادہ ممنوع ہے۔“
(مجموعہ مقالات پر تحقیقی سلفی جائزہ: ص388)
٭ حافظ محمد گوندلوی۔ شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ گوجرانوالہ:
” اور ہماری تحقیق میں فاتحہ خلف الامام ہر نماز میں جہری ہو یا سری ، فرض ہے اس کے چھوڑنے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔“
(خیر الکلام فی وجوب الفاتحۃ خلف الامام: ص33)
٭ ڈاکٹر شفیق الرحمٰن :
”جو شخص نماز میں اکیلا ہو یا جماعت کے ساتھ، امام ہو یا مقتدی ، مقیم ہو یامسافر ، فرض پڑھ رہا ہو یا نوافل، امام سورۃ فاتحہ پڑھ رہا ہو یا کوئی اور سورۃ، بلند آواز پڑ ھ رہا ہو یا آہستہ اگر اسے سورۃ فاتحہ آتی ہو یا پھر بھی نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔“
(نمازِ نبوی: ص150)
٭ فتاویٰ علماءِ حدیث؛ ترتیب وتالیف ابو الحسنات علی محمد سعید :
”امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنا فرض ہے ، بغیر سورۃ فاتحہ پڑھے نماز نہیں ہوتی۔ “
(ج3ص112)
دلائل اہل السنت والجماعت
قرآن کریم مع التفسیر:
قال اللہ عزوجل: وَإِذَا قُرئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ •
(سورۃ الاعراف :204)
اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔
قال أحمد: فالناس على أن هذا في الصلاة وعن سعيد بن الْمُسَيَّبِ و الحسن و إبراهيم و محمد بن كعب و الزهري أنها نزلت في شأن الصلاة وقال زيد بن أسلم و أبو العالية كانوا يقرأُوْن خلف الإمام فنزلت : (وَإِذَا قُرئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ) وقال أحمد في رواية أبي داؤد : أجمع الناس على أن هذه الآية في الصلاة ولأنه عام فيتناول بعمومه الصلاة۔
(المغنی لابن قدامۃ ج2ص117، مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ ج22ص150)
تفسیر نمبر 1:
قَدْ اخرج الامام المحدث أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي البيهقي م 458 ھ :أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيدا لصَّفَّارُ ، نا عبيد بن شَرِيكٍ ، نا ابن أبي مريم ، نا ابن لَهِيعَةَ ، عن عبد الله بن هُبَيْرَةَ ، عن عبد الله بن عباس ، « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرأ في الصلاة فقرأ أصحابه وراءه فخلطوا عليه فنزل (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا) فهذه في المكتوبة » ثم قال ابن عباس : « وإن كنا لا نستمع لمن يقرأ إنا إذًا لأجفىٰ من الحمير »
(کتاب القراءۃ للبیہقی ص109رقم الحدیث:255)
تحقیق السند: اسنادہ حسن ورواتہ ثقات۔
اعتراض :
اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن لھیعہ بن عقبہ ضعیف و مجروح ہے۔ لہذا یہ روایت حجت نہیں۔
جواب:
اولاً۔۔۔۔ امام عبد اللہ بن لھیعہ بن عقبہ بن فرحان (م174 ھ) صحیح مسلم ،سنن ابی داؤد ، جامع الترمذی ، سنن ابن ماجہ وغیرہ کے راوی ہیں، یہ مختلف فیہ راوی ہیں۔ بعض حضرات نے اگرچہ ان پر کلام کیا ہے لیکن بہت سے ائمہ نے ان
کو الحافظ،الامام الکبیر، عالم، محدث، العلا مۃ، محدث الد یار المصریۃ
قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں
: لم یکن بمصر مثل ابن لھیعۃ وکثرت حدیثہ و ضبطہ واتقانہ
(العِبَر فی خبر مَنْ غَبَر للذھبی ج؛ 1؛ ص؛135 ، تذکر ۃ الحفاظ للذھبی؛ ج؛ 1 ص؛174 ،سیر اعلام النبلاء للذھبی ج؛6؛ص284 ، التھذیب لابن حجر؛ ج3ص622 رقم الترجمہ 4134 ، التقریب لابن حجر :ص353 رقم الترجمہ3563)
محدثین کے ہاں جو راوی مختلف فیہ ہو اس کی روایات حسن درجہ کی ہو تی ہیں۔
(فتح المغیث للسخاوی : ج۳ ص۳۵۹، قواعد فی علوم الحدیث: ص75)
لہذا یہ روایت حسن ہے۔
امام ابو عیسی ترمذی رحمہ اللہ ایک حدیث کی سند نقل کرتے ہیں:
حدثنا قتیبۃ ثنا ابن لھیعۃ عن یزید بن ابی حبیب عن ابی الخیر عن عقبۃ بن عامر قال الخ
(جامع الترمذی؛ ج1ص؛288 باب ماجاء ما یحل من اموال اھل الذمۃ )
اس کے بعدفرماتے ہیں: '' ھذا حدیث حسن '' اور اس میں ابن لھیعۃ موجود ہے۔
اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کئی مقامات پر ابن لھیعۃ کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ مثلاً
1: وعن جابر رضي الله عنه قال : أمر النبي صلى الله عليه و سلم سُحَيْمًا أَنْ يُؤَذِّنَ في الناس أن " لا يدخل الجنة إلا مؤمن "
رواه أحمد وفيه ابن لهيعة وإسناده حسن
(ج1ص213 باب فی الاسلام و الایمان)
2: وعن عبد الله بن الحارث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لوددت أن بيني وبين أهل نجران حجابا من شدة ما كانوا يجادلونه.
رواه البزار والطبراني في الكبير وفيه ابن لهيعة وحديثه حسن
(ج1ص387 باب فی المعضلات و المشکلات)
3: وعن معاوية بن خديج قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : غدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها۔
رواه أحمد والطبراني وفيه ابن لهيعة وهو حسن الحديث وبقية رجاله ثقات
(ج3ص428 باب فضل الغدوة والروحۃ فی سبیل الله)
ثانیاً۔۔۔۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الحسن وھوفی الاحتجاج کالصحیح عند الجمہور
(اختصار فی علوم الحدیث لابن کثیر: ص 39النوع الثانی)
نیز حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بسند صحیح موقو فاً روایت مروی ہے جو اس کی موید ہے۔
أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي ، أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عَبْدُوس ، نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح ، حدثني معاوية بن صالح ، عن علي بن أبي طلحة ، عن ابن عباس ، في قوله : « (وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا) يعني في الصلاة المفروضة »
(کتاب القراءۃ للبیہقی :ص109 رقم الحدیث 254)
ایک مقام پرزبیر علی زئی غیر مقلد نے مر فو ع ضعیف کو بوجہ موقوف صحیح کے حسن قرار دیا ہے
(نورالعینین لعلی زئی ص333)
جبکہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاًضعیف نہیں بلکہ حسن ہے تو یہ موقوف صحیح کی وجہ سے مزید قوی بن جائے گی۔لہذا یہ روایت حسن لذاتہ ہے اور ترک قراءت خلف الامام پر واضح دلیل ہے۔
فائدہ: خود غیر مقلد عالم زبیر علی زئی صاحب نے جامع الترمذی کی ایک حدیث کو ”صحیح“ کہا ہے اور اس میں یہی ابن لھیعہ موجود ہے۔
(دیکھیے جامع الترمذی باحکام علی زئی: رقم1589 ص505)
تفسیر نمبر 2:
قال الامام الحافظ أبو محمد عبد الرحمن بن محمد أبي حاتم بن إدريس بن المنذر التميمي الحنظلي الرازي م 327 ھ: حدثنا يونس بن عبد الاعلى انبا ابن وهب ، ثنا أبو صخر عن محمد بن كعب القرظى : قال كان رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) إذا قرا في الصلاة اجابه من وراءه إن قال بسم الله الرحمن الرحيم قالوا مثل ما يقول حتى تنقضي الفاتحة والسورة فلبث ما شاء الله ان يلبث ثم نزلت : وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ فَقَرَاَ واَنْصَتُوا .
(تفسیر ابن ابی حاتم الرازی ج4ص259رقم9493)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم
اعتراض:
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ محمد بن کعب القرظی (م40ھ علی الاصح) تابعی ہیں صحابی نہیں، اور مرسل حجت نہیں۔
جواب:
مرسل عند الجمہور حجت اور قابل قبو ل ہے۔
1: قال الامام أبو جعفر مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِىُّ م 310ھ: واجمع التابعون باسر ھم علی قبول المرسل ولم یات عنھم انکارہ ولا عن احد من الائمۃ بعد ھم الی راس الماتین
(قواعد فی علوم الحدیث للعثمانی: ص 146 ،ص147)
2: قد قال الامام عبد الرحمن الشہیر بابن رجب الحنبلی م795ھ: قد استدل کثیر من الفقہا ء بالمرسل۔۔۔۔ و حُکِیَ الاحتجاج بالمرسل عن اھل الکوفۃ وعن اھل العراق جملۃً و حکاہ الحاکم عن ابراہیم النخعی و حماد بن ابی سلیمان وابی حنیفۃ و صاحبیہ
(شرح علل الترمذی لابن رجب ص244)
3: وقال الامام المحدث ظفر احمد العثمانی م1394ھ : اما الاجماع فھوان الصحابۃ والتابعین اجمعوا علی قبول المراسیل من العدل
(قواعد فی علوم الحدیث ص؛140 )
نیز اس مرسل کی تائید حدیث ابن عباس متصل مرفوع سے بھی ہوتی ہے [جو تفسیر نمبر1 کے تحت گزر چکی ہے] لہذا یہ مرسل حجت ہے۔
اعتراض:
عبدالرحمن مبارکپوری صاحب نے لکھا ہے کہ آیت ”واذا قرء القراٰن“ مکی ہے اور امام کے پیچھے قراءۃ کرنے کا حکم مدینہ طیبہ میں نازل ہوا ہے۔ لہذا متقدم حکم سے متاخر حکم کے خلاف استدلال درست نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی روایات موجود ہیں جو مدینہ میں قراءۃ خلف الامام کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً:
1: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو شخص امام کے پیچھےسورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی
(مؤطاامام مالک ص67)
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس پر اجماع ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ 7ھ میں مسلمان ہوئے تھے
(تلخیص الحبیر ص114)
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ مدنی ہیں اور انہوں نے قراءۃ خلف الامام کا ذکر کیا ہے
(تحقیق الکلام ج2ص28ملخصاً)
جواب:
یہ اعتراض درحقیقت کوئی وزن نہیں رکھتا۔
اولاً:۔۔۔ آپ کا عمل قراءت خلف الامام پر اس وجہ سے ہے کہ اس کے راوی صحابہ مدنی ہیں تو پھر وہ کثیر صحابہ کرام مثلاًحضرت ابوموسی اشعری، حضرت جابر بن عبداللہ ،حضرت انس بن مالک ،حضرت زید بن ثابت ، رضی اللہ عنہم جو مدنی ہیں ان سے (اور خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی) ترک قراءۃ خلف الامام کی روایتیں مروی ہیں ان پر آپ کا عمل کیوں نہیں؟
ثانیاً:۔۔۔ سورہ اعراف مدنی ہے۔جیسا کہ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر ج4ص254میں اور نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی تفسیر فتح البیان ج3ص393میں لکھتے ہیں کہ سورہ اعراف مدنی ہے۔ کیونکہ اس سورت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت یہود کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے اور ظاہر ہے کہ یہود کا مرکز مدینہ طیبہ میں تھا نہ کہ مکہ مکرمہ میں۔
نیز اس آیت کا شان نزول بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ (مدنی صحابی) سے یہی مروی ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی۔ پس ترک قراءت خلف الامام کا حکم مدنی ہی ہے۔
ثالثاً۔۔۔ لیجیے ہم یہ بھی تصریح پیش کر دیتے ہیں کہ خاص یہی آیت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے ایک روایت نقل کرتے ہیں :
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ رحمه الله أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ، نا إبراهيم بن الحسين ، نا آدم بن أبي إياس ، نا ورقاء ، عن ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عن مجاهد ، قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الصلاة فسمع قراءة فتى من الأنصار فنزل وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا
(کتاب القراءۃ للبیھقی؛ ص107رقم الحدیث 248)
اس روایت میں ذکر ہے کہ آپ صلى الله علیہ وسلم جب قراءت فرما رہے تھے تو ایک انصاری نوجوان کی قراءت سنی تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بات واضح ہے کہ انصار مدینہ منورہ ہی میں تھے۔
رابعاً۔۔۔ اگر آیت کو مکی بھی قرار دیا جائے تب بھی ہمارے مدعی پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ کئی آیات ایسی ہیں جن کا نزول مکرر ہوا ہے یعنی جو مکہ و مدینہ دونوں میں نازل ہوئیں اور مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ آیت مکہ و مدینہ دونوں میں نازل ہوئی، اس لیے کہ نماز جس طرح مدینہ میں مشروع تھی اسی طرح ابتداء اسلام میں مکہ میں بھی تو مشروع تھی۔ مکہ میں ترک قراءت کا مسئلہ سمجھانے کے لیے یہ آیت پہلی مرتبہ نازل ہوئی اور مدینہ میں یہی مسئلہ سمجھانے کے لیے دوبارہ نازل ہوئی[جیسا کہ مدنی صحابی سے مروی ہے]
احادیث مبارکہ
احادیث مرفوعہ:
دلیل نمبر1:
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا أبو أسامة حدثنا سعيد بن أبي عروبة ح وحدثنا أبو غسان المسمعي حدثنا معاذ بن هشام حدثنا أبي ح وحدثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا جرير عن سليمان التيمي كل هؤلاء عن قتادة في هذا الإسناد [عن يونس بن جبير عن حطان بن عبد الله الرقاشي] بمثله [ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبنا فبين لنا سنتنا وعلمنا صلاتنا فقال إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقولوا آمين] وفي حديث جرير عن سليمان عن قتادة من الزيادة وإذا قرأ فأنصتوا
[حاصل السند و المتن: حدثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا جرير عن سليمان التيمي عن قتادة عن يونس بن جبير عن حطان بن عبد الله الرقاشي قال صليت مع أبي موسى الأشعري صلاة۔۔۔۔۔۔ فقال أبو موسى أما تعلمون كيف تقولون في صلاتكم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبنا فبين لنا سنتنا وعلمنا صلاتنا فقال إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقولوا آمين]
(صحیح مسلم ج1ص174باب التشہد فی الصلاۃ)
اعتراض نمبر1:
اس کی سند ایک راوی سلیمان التیمی ہے جو کہ ”مدلس“ ہے اور مدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے منافی ہوتا ہے۔
جواب1:
امام سلیمان التیمی م 143 ھ صحیح البخاری وصحیح مسلم کے ثقہ بالاجماع ،حافظ، متقن اور ثبت راوی ہیں۔ ان کی تدلیس کی وجہ سے اس روایت کو ناقابل قبول قرار دینا درست نہیں۔ اس لیے کہ:
اولاً: اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ صحیحین کے مدلس کی تدلیس عند المحدثین صحت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ وہ دوسری جہت سے سماع پر محمول ہوتی ہیں۔ چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
واعلم أن ما كان فى الصحيحين عن المدلسين بعن ونحوها فمحمول على ثبوت السماع من جهة أخرى۔
(مقدمہ شرح صحیح مسلم للنووی ج1 ص18)
اور یہ روایت صحیح مسلم کی ہے ، لہذا تدلیس مضر نہیں۔
ثانیاً: امام سلیمان التیمی نے”حدثنا قتادۃ“ کے الفاظ سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ دیکھیے۔۔۔
1: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى(سليمان التيمي) حَدَّثَنَا قَتَادَةُ۔۔۔
(سنن ابی داؤد: ج1 ص148 باب التشہد)
2: حدثنا سليمان بن الأشعث السجستاني قال ثنا عاصم بن النضر قال ثنا المعتمر قال سمعت أبي (سليمان التيمي) قال ثنا قتادة۔۔۔
(مسند ابی عوانہ: ج1 ص360 رقم الحدیث 1339)
ثالثاً: عند الاحناف خیر القرون کی تدلیس صحتِ حدیث کے منافی نہیں۔
(قواعد فی علوم الحدیث:ص159)
لہذا اعتراض باطل ہے۔
اعتراض نمبر2:
اس روایت میں ''واذاقرءفانصتوا '' کی زیادت سلیمان التیمی کے علاوہ کسی اور راوی سے مروی نہیں، لہذا یہ زیادتی شاذہے۔ پس یہ روایت ناقابل قبول ہے۔
جواب:
یہ اعتراض بھی چند وجوہ سے باطل ہے۔
اولاً: امام سلیمان التیمی بالاجماع ثقہ ہیں اور ”وإذا قرأ فأنصتوا“ کے بیان کرنے میں یہ جماعتِ ثقات کی مخالفت نہیں کر رہے بلکہ ایک زائد چیز کو بیان کر رہے ہیں جو کہ ”شاذ“ نہیں بلکہ زیادتی ثقہ ہے اور جمہور فقہا ء و محدثین کے نزدیک زیادتی ثقہ مقبول ہے۔
1: والزیادۃ مقبولۃ،
(صحیح البخاری ج1ص201 باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری)
2:أن الزيادة من الثقة مقبولة
(مستدرک علی الصحیحین للحاکم ج1ص307 کتاب العلم)
لہذا امام سلیمان التیمی کا ''واذاقرءفانصتوا '' کی زیادت روایت کرنا ان کے ثقہ ہونے کی وجہ سے مقبول ہے، پس اعتراض باطل ہے۔
ثانیاً: ''واذاقرءفانصتوا '' کی زیادت بیان کرنے میں امام سلیمان التیمی منفرد نہیں بلکہ دیگر روات نے بھی ان کی متابعت تامہ کر رکھی ہے۔مثلاً
امام ابو عبید ہ الحداد :
روی الإمام أبو عوانة يعقوب بن إسحاق الاسفرائني م316ھ :حدثنا سهل بن بحر الجُنْدَيْسابُورِي قال ثنا عبد الله بن رشيد قال ثنا ابوعبيدة عن قتادة عن يونس بن جبير عن حطان بن عبد الله الرقاشي عن أبي موسى الأشعري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( إذا قرأ الإمام فأنصتوا وإذا قال: (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين) فقولوا أمين )
(مسند ابی عوانہ ج1ص360رقم1341بیان اجازۃ القراءۃ الخ، )
عمر بن عامر اور سعید بن ابی عروبہ:
حدثنا أبو حامد محمد بن هارون الحضرمي ثنا محمد بن يحيى القطعي ثنا سالم بن نوح ثنا عمر بن عامر وسعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن يونس بن جبير عن حطان بن عبد الله الرقاشي قال صلى بنا أبو موسى فقال أبو موسى : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعلمنا إذا صلى بنا قال إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا۔
(سنن الدار قطنی: ص217 رقم الحدیث 1235، السنن الکبریٰ للبیہقی: ج2 ص155 باب من قال یترک المامون القراءۃ الخ)
لہذا شاذ ہونے والا یہ اعتراض باطل ہے۔
اعتراض نمبر3:
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی سند میں دوسرا راوی ''قتادہ'' ہے جو کہ مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہے، مدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے منا فی ہوتا ہے۔
جواب:
امام قتادہ بن دعامہ م 117ھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کےثقہ بالاجماع راوی ہیں۔ ان کی تدلیس کی وجہ سے اس روایت کو ناقابل قبول قرار دینا درست نہیں۔ چند وجوہ سے:
اولاً: اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ صحیحین کے مدلس کی تدلیس عند المحدثین صحت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ وہ دوسری جہت سے سماع پر محمول ہوتی ہیں۔ (امام نووی رحمہ اللہ کا حوالہ گزر چکا ہے) اور یہ روایت صحیح مسلم کی ہے ، لہذا تدلیس مضر نہیں۔
ثانیاً: امام قتادہ بن دعامہ نے حدیث ابی موسی اشعری میں تحدیثاً سماع کی تصریح کی ہے۔ دیکھیے۔۔۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِى غَلاَّبٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِىِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ « فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا»
(سنن ابی داؤد ج1 ص147 باب التشہد ، صحیح ابی عوانہ ج1 ص360 رقم الحدیث 1339 )
ثالثاً: امام قتادہ کا شمار ان مدلسین میں ہوتا ہے جن کی تدلیس کسی بھی کتاب میں صحت حدیث کے منافی نہیں۔ امام حاکم فرماتے ہیں:
فمن المدلسين من دلس عن الثقات الذين هم في الثقة مثل المحدث أو فوقه أو دونه إلا أنهم لم يخرجوا من عداد الذين يقبل أخبارهم فمنهم من التابعين أبو سفيان طلحة بن نافع و قتادة بن دعامة وغيرهما۔
(معرفت علوم الحدیث: ص103)
علامہ ابن حزم محدثین کا ضابطہ بیان کرتے ہوئے ان مدلسین کی فہرست بتاتے ہیں جن کی روایتیں باوجود تدلیس کے صحیح ہیں اور ان کی تدلیس سے صحت حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
منهم كان جلة أصحاب الحديث وأئمة المسلمين كالحسن البصري وأبي إسحاق السبيعي وقتادة بن دعامة وعمرو بن دينار وسليمان الأعمش وأبي الزبير وسفيان الثوري وسفيان بن عيينة۔
(الاحکام لابن حزم ج2،ص141 ،142 فصل من یلزم قبول نقلہ الاخبار)
لہذا حدیث ابی موسی اشعری رضی اللہ عنہ بالکل صحیح اور حجت ہے۔
فائدہ: زبیر علی زئی غیر مقلد نے اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
(( صحیح))۔
(نصر الباری از علی زئی ص283 )
حدیث نمبر2:
قد روی الامام أبو عبدالله محمد بن يزيد ابن ماجۃ القزويني م 273ھ:حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة . حدثنا أبو خالد الأحمر عن ابن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبی صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( إنما جعل الإمام ليؤتم به . فإذا كبر فكبروا . وإذا قرأ فأنصتوا . وإذا قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقولوا آمين•
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم
(سنن ابن ماجۃ:ص61 باب اذا قرء الامام فانصتوا، ،سنن النسائی ج1ص146 باب تاویل قولہ عزوجل وذاقرء القران فاستمعوالہ وانصتوا)
اعتراض:
اس کی سند میں ایک راو ی محمد بن عجلان ہے جو کہ مدلس ہے اور یہ حضرت ابو ہریرہ کی روا یت میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، نیز ایک راوی ابو خالد الاحمر ”فاذا قرء فانصتوا“ کی زیادتی نقل کرنے میں منفرد ہے۔ لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
شق اول (تدلیس)کاجواب:
امام محمد بن عجلا ن المدنی م148ھ صحیح بخا ری معلقاً، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔ ثقہ عند الجمہور، فقیہ، صدوق اور کثیر الحدیث ہیں۔ (تہذیب لابن حجر ج5،ص442، 443 )ان کی تدلیس صحت حدیث کے منافی نہیں، چند وجوہ سے:
وجہ اول: امام بخاری رحمہ اللہ اور امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کیا اور صرف ابوخالد الاحمر کے تفرد کا تذکرہ تو کیا ہے لیکن محمد بن عجلان کی تدلیس کی وجہ سے حدیث کے ضعیف ہونے کا ذکر نہیں کیا۔
قال البخاری :ولا یعرف ھذا[فانصتوا]من صحیح حدیث ابی خالد الاحمر
(جزء القراءۃ للبخاری ص59رقم267)
قال ابوداؤد :وھذہ الزیادۃ ''واذا قرء فانصتوا'' لیست بمحفوظۃ ،الوھم عندنا من ابی خالد۔
(سنن ابی داؤد ج1ص96)
اگر محمد بن عجلان کی تدلیس صحت حدیث کے منافی ہوتی تو یہ حضرات اس کو ضرور ذکر فرماتے۔
وجہ ثانی: علامہ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ م748ھ محمد بن عجلان کی متعدد معنعن روایتوں کی تصحیح کرتے ہیں ، مثلاً
1:حدثنی ابن عجلان عن القعقاع ،
(تعلیقات الذہبی فی التلخیص ج1ص43)
2:ثنا ابن عجلان عن سعید المقبری ،
(تعلیقات الذہبی فی التلخیص ج1ص 185،131)
3:عن محمد بن عجلان عن سمی۔
(تعلیقات الذہبی فی التلخیص ج1ص 352)
4:عن ابن عجلان عن عیاض بن عبداللہ
(تعلیقات الذہبی فی التلخیص ج1ص 382)
شقِ ثانی (اختلاط)کاجواب:
جہاں تک اختلاط کے اعتراض کا تعلق ہے، تو یہ بھی چند وجوہ سے قابل التفات نہیں۔
وجہ اول:
اس لیے کہ اگرچہ بعض حضرات نے محمد بن عجلان کی ان روایات پر کچھ کلام کیا ہے جو بطریق سعید المقبری عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہیں اور ان روایات کی وجہ سے ہی ان کے اختلاط کا قول کیا ہے۔
(کتاب العلل للترمذی ج2ص716،تہذیب التہذیب ج5ص742)
لیکن امام ابن حبان اور علامہ ذہبی رحمہااللہ نے اس کی پر زور تردید فرمائی ہے۔
(تہذیب التہذیب ج5ص742،میزان الاعتدال ج4ص204)
بلکہ امام ابن حبان نے تو تصریح کی ہے:
فھذا مما حمل عنہ قدیما قبل اختلاط صحیفتہ،
(تہذیب التہذیب ج5ص742)
کہ ابن عجلان عن سعید عن ابیہ عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایات اس کے صحیفہ کے اختلاط سے پہلے کی ہیں۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اختلاط صحیفہ کا اعتراض سعیدمقبری کے طریق پر تھا جس کا جواب ائمہ نے دیا۔ لیکن ہماری پیش کردہ روایت تو سعید مقبری کے طریق سے نہیں بلکہ زید بن اسلم کے طریق سے ہے۔لہذا اعتراض باطل ہے۔
وجہ ثانی :
امام محمد بن عجلا ن المدنی کے دو متابع موجود ہیں:
1: خارجہ بن مصعب:
وَقَدْ رَوَاهُ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ أَيْضًا يَعْنِى عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
(السنن الکبری للبیہقی ج2ص157)
2: یحیی بن العلاء الرازی:
وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْعَلاَءِ الرَّازِىُّ كَمَا رَوَيَاهُ.
(السنن الکبری للبیہقی ج2ص157)
وجہ ثالث:
امام نووی رحمہ اللہ مختلط راوی کے متعلق ایک قاعدہ بیان کرتے ہیں :
وحكم المختلط أنه لا يُحتج بما روى عنه فى الاختلاط أو شك فى وقت تحمله، ويحتج بما روى عنه قبل الاختلاط، وما كان فى الصحيحين عنه محمول على الأخذ عنه قبل اختلاطه
.(تہذیب الاسماء واللغات للنووی: ج1ص242)
ہماری پیش کردہ روایت ابوخالد الاحمر عن ابن عجلان کے طریق سے ہے اور یہی طریق صحیح مسلم ج1ص216پر موجود ہے۔،جو دلیل ہے کہ ابن عجلان کی وہ روایات جو ابوالاحمر سے مروی ہیں، قبل الاختلاط مروی ہیں۔لہذا اعتراض باطل ہے۔
شق ثالث (تفرد) کا جواب:
اس روایت کے راوی ابو خالد الاحمر ”فاذا قرء فانصتوا“ کے جملے میں متفردبھی ہوں تب بھی روایت قابل قبول ہے، اس لیے کہ ابوخالد الاحمر صحاح ستہ کے ثقہ بالاتفاق راوی ہیں۔
(تہذیب التہذیب ج3ص20)
لہذا اصول حدیث کی رو سے ان کی زیادتی قابل قبول ہے( حوالہ جات پہلے گزر چکے ہیں۔)
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابوخالد الاحمراس زیادتی کے نقل کرنے میں متفرد نہیں، بلکہ محمد بن سعد الانصاری الاشھلی جو ثقہ ہیں، وہ بھی اس زیادتی کو نقل فرماتے ہیں :
أخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك قال حدثنا محمد بن سعد الأنصاري قال حدثني محمد بن عجلان عن زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنما الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا قال أبو عبد الرحمن كان المخرمي يقول هو ثقة يعني محمد بن سعد الأنصاري
(سنن النسائی ج1ص146باب تاویلہ قولہ عزوجل وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ)
حدیث نمبر 3:
اخرج الامام المحدث أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي البيهقي م 458 ھ :أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ، أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه ، أنا أحمد بن بشر بن سعد المرثدي ، نا فضيل بن عبد الوهاب ، نا خالد يعني الطحان ، ح قال أبو عبد الله : وأخبرني أبو بكر بن عبد الله ، نا الحسن بن سفيان ، نا محمد بن خالد بن عبد الله الواسطي ، نا أبي ، عن عبد الرحمن بن إسحاق ، عن سعيد المقبري ، عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « كل صلاة لا يقرأ فيها بأم الكتاب فهي خداج إلا صلاة خلف إمام »
(کتاب القراءۃ للبیہقی: ص195رقم433)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح ورواتہ ثقات
اعتراض :
اصل روایت میں”إلا صلاة خلف إمام“ کے الفاظ نہیں ہیں ، جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے عبد الرحمن بن یعقوب سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا موقوف اثر نقل کیا ہے:
عن أبي هريرة قال: كل صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب فهي خداج فقلت: وإن كنت خلف إمام؟ فقال: اقرأ في نفسك.
(کتاب القراءۃ للبیہقی: ص195 رقم الحدیث429)
اور اس میں یہ جملہ مذکور نہیں۔ یہ جملہ خالد الطحان کی خطا کی وجہ سے زائد ہو گیا ہے، لہذا قابل حجت نہیں۔
جواب اول :
امام خا لد الطحان صحیح بخا ری ،صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے ثقہ با لاجماع را وی ہیں۔
(تقریب التہذیب لا بن حجر:ص224 رقم 1647)
ان کا ”إلا صلاة خلف إمام“ کے الفاظ نقل کرنا خطا نہیں بلکہ زیادتی ثقہ ہےاور جمہور فقہا ء و محدثین کے نزدیک ثقہ کی زیادتی مقبول ہے۔ (حوالہ جات گزر چکے ہیں) پس حدیث کا یہ جملہ قابل حجت ہے۔
جواب ثا نی:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس مرفوع حدیث ”إلا صلاة خلف إمام“کے کئی مرفوع اور موقوف شواہد دیگر اسانید وکتب میں موجود ہیں۔مثلاً....
1: رواه الخلال بإسناده عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : [ كل صلاة لا يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج إلا أن تكون وراء الإمام ] وقد روي أيضا موقوفا عن جابر
(المغنی لابن قدامہ :ج:2:ص:118 مسألۃ القراءة خلف الإمام)
2: عن جابر مرفوعاً۔۔
( سنن الطحا وی :ج1،ص: 159،الفوائد لا بن مندہ :ج:2:ص:143)
3: عن جابر موقوفاً۔۔
( مو طا امام مالک :ص66 ،مؤطا امام محمد :ص:95، مسائل احمد بروایت عبد اللہ :ص78،سنن التر مذی :ج:1:ص:71 ،وقال التر مذی ھذا حدیث حسن صحیح)
لہذاثابت ہوا کہ حد یث ابی ہریرہ میں ”الا صلاۃ خلف امام“کے الفا ظ صحیح و ثابت ہیں۔
فائدہ: ہماری پیش کردہ مرفوع روایت میں ”الا صلاۃ خلف امام“ کے الفاظ ثابت ہیں وللہ الحمد، رہا مخالفین کی طرف سے پیش کردہ موقوف اثر اور اس میں یہ الفاظ ”اقرء فی نفسک“ کی مراد تو یہ غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات کے تحت (دلیل نمبر3 کے ذیل میں) آ رہا ہے۔
حدیث نمبر 4:
روی الامام ابو محمد یوسف بن یعقوب : عن ابیہ [ابی یوسف] عن ابی حنیفۃ عن موسی بن ابی عائشۃ عن عبد اللہ بن شداد بن الھاد اللیثی ابی الولیدعن جابر بن عبداللہ ان رجلا قرء خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الظہر او العصر قال قال: فاوما الیہ رجل فنھاہ فابی فلما انصرف قال اتنھانی ان اقرءخلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فتذاکرنا ذالک حتی سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم من صلی خلف امام فان قراءۃ الامام لہ قراءۃ.
(مسند ابی حنیفہ بروایۃ القاضی ابی یوسف: ص23رقم الحدیث 113)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم.
اعتراض:
یہ روایت موصول نہیں ہے بلکہ مرسل ہے۔ اس لیے کہ دیگر محدثین مثلاً جریر، سفیان اور شریک وغیرہ اسے مرسل روایت کرتے ہیں (یعنی عن جابر بن عبد اللہ کے واسطےکے بغیر) صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہی اسے موصولاً بیان کرتے ہیں۔ نیز حافظ ابن الہمام نے مسند احمد بن منیع کے جس نسخہ سے یہ روایت نقل کی ہے (فتح القدیر: ج 1ص 346) اس میں کاتب کی غلطی کی وجہ سے عبد اللہ بن شداد کے بعد ”عن جابر“ کا جملہ زیادہ ہو گیا ہے، حقیقۃً یہ روایت مرسل ہے۔
جواب شق اول:
یہ دعوی کہ دیگر محدثین اس روایت کو مرسل بیان کرتے ہیں اور صرف امام ابو حنیفہ ہی اسے موصولاً بیان کرتے ہیں ، باطل ہے۔ اس لیے کہ:
اولاً…… امام سفیان ثوری اورخود امام شریک نےامام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی متابعت تامہ کر رکھی ہے۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : أَنبَأَنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَبْدِ الله بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيه وسَلَّم : مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ .
وقال الامام البو صیری صحیح علی شرط الشیخین
(اتحاف الخیرہ المھرۃ للبوصیری ج:2 ،ص216 حدیث نمبر 1832 ، فتح القدیر لابن الہمام :ج1:ص:346)
لہذا یہ دعویٰ کرنا کہ اس روایت کو تنہا امام ابو حنیفہ ہی موصولاً بیان کرتے ہیں اور اس میں ان کا کوئی ساتھی نہیں ہے، محض باطل ہے۔
ثانیاً…… امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس روایت کو نقل کرنے والے بھی اس کو موصول ہی بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ امام بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
هذا حديث رواه جماعة من أصحاب أبي حنيفة رحمه الله عنه موصولا۔
(کتاب القراءۃ للبیہقی ص333)
اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِى حَنِيفَةَ مَوْصُولاً.
(السنن الکبری للبیہقی ج2ص159)
لہذا مرسل ہونے کا اعتراض باطل ہے۔
جواب شق ثانی:
اس روایت میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ صحیح اسانید میں موجود ہے، جیسا کہ امام احمد بن ابی بکر بوصیری م840ھ اور امام ابن الہمام م861ھ نے ذکر فرمایا ہے۔ ان کے دور سے اب تک کسی مشہور محدث نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ لہذا محض تخمینہ و گمان سےمحدثین پر یہ الزام کہاں درست ہے کہ انہوں نےیہ الفاظ اپنی طرف سے بڑھا دیے ہیں۔
احادیث موقوفہ
حدیث نمبر1:
عبد الرزاق عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه قال۔۔۔أخبرني أشياخنا أن عليا قال من قرأ خلف الإمام فلا صلاة له قال [عبد الرزاق] وأخبرني موسى بن عقبة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبو بكر وعمر وعثمان كانوا ينهون عن القراءة خلف الإمام۔
(مصنف عبدالرزاق ج2ص91،90رقم2813باب القراءۃ خلف الامام)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح و رواتہ ثقات
حدیث نمبر2:
روی الامام الحافظ المحدث أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة العبسي الكوفي م235ھ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن الأصبهاني ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ.
(مصنف ابن ابی شیبہ ج3ص278رقم الحدیث 3802باب من کرہ القراءۃ خلف الامام)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح ورواتہ ثقات
حدیث نمبر3:
عبد الرزاق عن منصور عن أبي وائل قال جاء رجل إلى عبد الله فقال: يا أبا عبد الرحمن! أقرأ خلف الإمام؟ قال: أنصت للقرآن فإن في الصلاة شغلا وسيكفيك ذلك الإمام•
(مصنف عبدالرزاق ج2ص89، 90رقم2806باب القراءۃ خلف الامام )
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم
اعتراض:
یہ اثر مطلق ہے اس میں فاتحہ کا بالخصوص ذکر نہیں۔
جواب:
مطلق کی نفی سے مقید کی نفی خود بخود ہوجاتی ہے۔ لہذا جب قراءت کی نفی ہوگئی تو فاتحہ اور فاتحہ کے بعد والی سورۃ کی نفی ہوگئی۔
حدیث نمبر 4:
مَالِك عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَنْ صَلَّى رَكْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا وَرَاءَ الْإِمَامِ۔
(مؤطا امام مالک ص66باب ماجاء فی ام القران ،مؤطا امام محمد ص95 باب القراءۃ فی الصلوۃ خلف الامام )
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم
حدیث نمبر5:
مَالِك عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ،كَانَ إِذَا سُئِلَ هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ خَلْفَ الْإِمَامِ فَحَسْبُهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ وَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيَقْرَأْ،قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ
(مؤطا امام مالک ص68باب ترک القراءہ خلف الامام ،مؤطا امام محمد ص95باب القراءۃ فی الصلوۃ خلف الامام)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم
اعتراض:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس اثر کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اُس اثر سے تعارض ہے جس میں انہوں نے امام کے پیچھے قراءت کی اجازت دی ہے، چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے سنت کے زیادہ بڑے عالم تھے، اس لیے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے اثر کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اثر پر ترجیح ہوگی۔
جواب:
اگر تعارض کا یہی مفہوم ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لاکھوں بلکہ کروڑوں درجے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سنت کے زیادہ عالم تھے، اس لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے پیچھے قراءت سے منع فرمایا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اثر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو ترجیح ہوگی۔ نیز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اثر کا جواب آگے آرہاہے۔
حدیث نمبر 6:
قال الامام الحافظ المحدث أبو محمد بدر الدين محمود بن أحمد بن موسى بن أحمد العينى م855ھ: وذكر الشيخ الإمام عبد الله بن يعقوب الحارني السيذموني في كتاب ( كشف الأسرار ) عن عبد الله بن زيد بن أسلم عن أبيه قال كان عشرة من أصحاب رسول الله ينهون عن القراءة خلف الإمام أشد النهي أبو بكر الصديق وعمر الفاروق وعثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وعبد الرحمن بن عوف وسعد ابن أبي وقاص وعبد الله بن مسعود وزيد بن ثابت وعبد الله بن عمر وعبد الله بن عباس رضي الله تعالى عنهم۔
(عمدۃ القاری للعینی ج4ص449باب وجوب القراءۃ للامام والماموم)
احادیث مقطوعہ
حدیث نمبر 1:
عن أبي إسحاق أن علقمة بن قيس قال وددت أن الذي يقرأ خلف الإمام ملىء فوه قال أحسبه قال ترابا أو رَضْفًا۔
(مصنف عبدالرزاق ج2ص90رقم2811باب القراءۃ خلف الامام ،کتاب الحجۃ لمحمد ج1ص90باب القراءۃ خلف الامام ،مؤطا امام محمد ص100باب القرءۃ فی الصلوۃ خلف الامام)
تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم۔
حدیث نمبر2:
روی الامام الحافظ المحدث أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة العبسي الكوفي م235ھ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ قَالَ : وَدِدْت أَنَّ الَّذِي يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مُلِئَ فُوهُ تُرَابًا.
( مصنف ابن ابی شیبۃ ج3ص279 رقم3810 من كره الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ. ، مصنف عبدالرزاق ج2ص90رقم2810 باب القراءة خلف الإمام)
اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ومسلم۔
حدیث نمبر3:
روی الامام الحافظ المحدث أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي شيبة العبسي الكوفي م235ھ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَارَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ، لاَ أَدْرِي ، كَمْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ كُلُّهُمْ يَقُولُ : لاَ يُقْرَأُ خَلْفَ إمَامٍ ، مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ.
( مصنف ابن ابی شیبۃ ج3ص280 رقم الحدیث3819من كره الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ. ،التعلیق الحسن للنیموی ص108)
تحقیق السند: اسنادہ حسن
جمہور کا موقف اور اجماع امت
1: روی الامام الحافظ المحدث أبو داؤد سليمان بن الأشعث السجستاني م 275ھ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِىُّ عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ « هَلْ قَرَأَ مَعِى أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا ». فَقَالَ رَجُلٌ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « إِنِّى أَقُولُ مَا لِى أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ». قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيمَا جَهَرَ فِيهِ النَّبِىُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
(سنن ابی داؤد ج1ص127باب من کرہ القرءۃبفاتحۃ الکتاب اذا جھر الاما م )
2: قال الامام الحافظ المحدث الفقیہ ابو الحسن علي بن أبي بكر بن عبد الجليل المرغینانی م593ھ: ولنا قوله عليه الصلاة والسلام من كان له إمام فقراءة الإمام له قراءة وعليه إجماع الصحابة رضي الله عنهم۔
(الہدایۃ شرح البدایۃ ج1ص121، 122فصل فی القراءۃ)
صاحب ہدایہ کے اس قول پر امام ابومحمد محمود بن احمدالعینی الحنفی م855ھ فرماتے ہیں:
قال صاحب ( الهداية ) من أصحابنا وعلى ترك القراءة خلف الإمام إجماع الصحابة فسماه إجماعاً باعتبار اتفاق الأكثر ومثل هذا يسمى إجماعا عندنا۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری للعینی ج4ص449باب وجوب القراءۃ)
ائمہ مجتہدین اور ترک قراءۃ خلف الامام
1: امام اعظم فی الفقہاء ابوحنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی م150ھ:
قال محمد رحمہ اللہ: لا قراءۃ خلف الامام فیما جھر فیہ ولا فیما لم یجھر بذ لک جاءت عامۃ الآثار و ھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی
۔ (مؤطا امام محمد: ص96،97 باب القراءۃ فی الصلوۃ خلف الامام،کتاب الحجۃ لمحمد ج1ص87 باب القراءۃ خلف الامام)
2: امام سفیان الثوری م161ھ :
قال الثوری رحمہ اللہ: ولا یقرء الماموم خلف الامام شیئا لا الفاتحۃ و لا السورۃ۔
(فقہ سفیان الثوری ص562تحت لفظۃ: صلاۃ، المغنی لابن قدامۃ ج2ص118 مسئلۃ نمبر 183)
3: امام مالک بن انس المدنی م179ھ:
جہری نمازوں میں قراءۃ خلف الامام کے قائل نہیں تھےاور سری نمازوں میں وجوب کے قائل نہیں تھے۔
وقال مالک: الامر عندنا انہ لا یقرء مع الامام فیما جھر فیہ الامام بالقراءۃ۔
(التمہید لابن عبدالبر ج4ص439 تحت رقم الحدیث 236 ، مؤطاامام مالک ص68 باب ترک القراءۃ خلف الامام فیما جھر فیہ)
قال محمد عبد الرحمن المبارکفوری: وکذلک الامام مالک و الامام احمد لم یکونوا قائلین بوجوب قراءۃ الفاتحۃ خلف الامام فی جمیع الصلوات۔
(تحفۃ الاحوذی ج2ص251 باب ما جاء فی ترک القراءۃ خلف الامام )
4: امام ابویوسف یعقوب القاضی م182ھ :
[ترک القراءۃ خلف الامام]و ھو قول ابی حنیفۃ و ابی یوسف و محمد رحمہم اللہ تعالی۔
(سنن الطحاوی ج1ص159باب القراءۃ خلف الامام ،فتح الملہم ج2ص20 المسئلۃ الثانیۃ)
5: امام محمد بن الحسن الشیبانی م189ھ :
قال محمد رحمہ اللہ: لا قراءۃ خلف الامام فیما جھر فیہ ولا فیما لم یجھر بذ لک جاءت عامۃ الآثار۔
(مؤطا امام محمد ص97 باب القراءۃ فی الصلوۃ خلف الامام ، سنن الطحاوی ج1ص159باب القراءۃ خلف الامام)
5: امام ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل البغدادی م241ھ :
جہری نمازوں میں قراءۃ خلف الامام کے قائل نہیں تھے اور سری نمازوں میں وجوب کے قائل نہ تھے۔
قال الامام عبد اللہ بن احمد بن حنبل: سمعت ابي سئل عن الرجل يصلي خلف الامام فلا يقرأ خلفه قال اعجب الي ان يقرا فإن لم يقرأ يجزئه۔
و قال ایضاً: سمعت ابي يقول اذا قرأ الامام فأنصت قلت فالركعتين الاخريين اذا لم يسمع الامام يقرأ فقرأ هو في نفسه قال نعم ان شاء قرأ وان شاء لم يقرأ۔
(مسائل احمد بروایۃ عبداللہ ص78،المغنی ج2ص118)
ابواب محدثین اور ترک قراءۃ خلف الامام
ائمہ محدثین رحمہم اللہ کی یہ عادت ہے کہ وہ پہلے ان احادیث کو ذکر کرتے ہیں جو ان کے نزدیک منسوخ ہوتی ہیں، پھر ان احادیث کو ذکر کرتے ہیں جو ان کے ہاں ناسخ ہوتی ہیں۔ چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ م676ھ اس قاعدہ کو یوں ذکر کرتے ہیں:
ذکر مسلم فی ھذاالباب الاحادیث الواردۃ بالوضوء مما مست النار ثم عقبھا بالاحادیث الواردۃ بترک الوضوء مما مست النار فکانہ یشیرالی ان الوضوء منسوخ وھذہ عادۃ مسلم وغیرِہ من ائمۃ الحدیث یذکرون الاحادیث التی یرونھا منسوخۃ ثم یعقبونھا بالناسخ۔
(شرح مسلم للنووی ج1ص156 باب الوضوء مما مست النار)
محدثین کرام رحمہم اللہ تعالی نے قر ءا ت کے مسئلہ میں بھی یہی اسلوب اختیار فرمایاہے کہ پہلےقراءت خلف الامام کی احادیث لائے ہیں اور بعد میں ترک قراءت خلف الامام کی، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ قراءت خلف الامام منسوخ ہے۔
1 :امام مالک بن انس المدنی م 179 ھ نے پہلے''القراءۃ خلف الامام فیما لا یجہر فیہ بالقراءۃ''اور بعد میں ''ترک القراءۃ خلف الامام فیما جہر فیہ ''کا باب باندھا ہے
(مؤطا امام مالک ص66 ،68 )
2:۔ امام محمد بن حسن الشیبانی م 189 ھ نے پہلے اثبات قراءۃ کی احادیث کو اور بعد میں ترک قراءۃ کی احادیث کو بیان کیا۔
(مؤطا امام محمد :ص94 تا ص 102 باب القراءۃ فی الصلوۃ خلف الامام)
3:امام عبد الرازاق بن الہمام م211 ھ نے پہلے قراءۃ خلف الامام کی احادیث اور بعد میں ترک کی احادیث کو ذکر کیا۔
(مصنف عبدالرازاق؛ ج2 ص 82 الی ص92 باب القراءۃ خلف الامام )
4:امام ابو بکر ابن ابی شیبہ م235 ھ نے پہلے ''من رخص فی القراءۃ خلف الامام '' کا باب باندھا اور بعد میں''من کرہ القراءۃ خلف الامام'' کا باب باندھا۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج3 ص 267، 273)
5: امام محمد بن اسمعیل البخاری م؛256 ھ نے اپنے جزء ''القراءۃ'' میں پہلے قراءۃ خلف الامام کی احادیث کو ذکر کیا اور آخر میں ترک قراءۃ کی احادیث کو بیان کیا۔
6: امام ابن ماجہ القزوینی م 273 ھ نے پہلے'' باب القراءۃ خلف الامام'' باندھا اور قراءۃ کی احادیث کو ذکر کیا ، بعد میں "باب اذا قرء الامام فانصتوا" باندھا اورترک قراءت کی احادیث کو بیان کیا۔
(سنن ابن ماجہ؛ ج؛1 ص 60 ،61 )
7:امام ابو داؤد و سلیمان الاشعث م 275 ھ نے پہلے'' باب من رای القراءۃ اذا لم یجہر '' باندھا اور قراءۃ کی احادیث کو ذکر کیا ، پھر''باب من لم یر القراءۃ اذا لم یجھر'' باندھا اور احادیث ترک کو بیان کیا۔
(سنن ابی داؤد؛ ج1؛ص127)
8: امام ابو عیسی التر مذی م؛279 ھ نے پہلے'' باب ما جاء فی القراءۃ خلف الامام " باندھااور قراءت کی احادیث کو ذکر کیا ، بعد میں ''باب ما جاء فی ترک القراءۃ خلف الامام اذا جھر بالقراءۃ''ترک کا باب باندھا اور احادیث کو بیان کیا۔
(جامع الترمذی؛ ج 1 ص 69، ص71)
9: امام ابو عبداللہ عبد الرحمن النسائی م 303 ھ نے پہلے ''ایجاب قراءۃ فاتحۃ الکتاب فی الصلوۃ'' کا باب باندھا اور قراءت کرنے کی احادیث کو ذکر کیا، بعد میں'' ترک القراءۃ خلف الامام فیما لم یجھر فیہ'' اور '' ترک القراءۃ خلف الامام فیما جھر بہ '' کے ابواب باندھےاور احادیث ترک قراءت کو بیان فرمایا۔
( سنن النسائی ج؛1ص؛145 ،146)
10 :امام ابو جعفر الطحاوی م؛ 321 ھ نے پہلے قراءت کی احادیث کو ذکر کیا ، بعد میں ترک قراءت کی احادیث کو بیان کیا۔
(سنن الطحاوی؛ ج؛1 ص157 تا 160 باب القراءۃ خلف الامام )
سوال: منسوخ حکم پر تو عمل جائز نہیں ، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر فقہاء تو اس کے قائل گزرے ہیں۔ اس کا مطلب کہ وہ ایک ناجائز کام کرتے تھے۔
جواب: اگر نسخ منصوص ہو تو اس پر عمل گناہ ہے اور اگر نسخ اجتہادی ہو تو مجتہد کے لیے گناہ نہیں بلکہ اجر واحد ہے، اور یہ نسخ بھی نسخ اجتہادی کی قسم میں سے ہے لہذا ان مجتہدین کے لیے گناہ نہیں۔
غیر مقلدین کے دلائل کے جوابات
دلیل نمبر 1:
قال تعا لٰی: وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ•
(سورۃ الاعراف :205)
حضرت زید بن اسلم تابعی نے اس آیت سے استدلال کیا ہےکہ مقتدی امام کے پیچھے ہو تو سورۃ فاتحہ کی قراءۃ آہستہ کرے۔
عبد العزيز بن محمد قال : سمعت زيد بن أسلم يقول : في قوله ( وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا) قال : « الذي يكون خلف الإمام قال الله : ( واذكر ربك في نفسك) » قال : « يقول : اذكر ربك وأنصت في نفسك » فأخبر بأنه مأمور بالإنصات والذكر معا فيكون الأمر بالإنصات راجعا إلى ترك الجهر دون ترك الذكر في النفس الذي هو دون الجهر من القول
( کتاب القراءۃ للبیہقی ص:121، 122 رقم الحدیث 293)
جواب اول:
اولاً:…… اس آیت سے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے پر استدلال کرنا باطل ہے۔ اس لیے کہ یہ تفسیر صحیح حدیث، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور محمد بن کعب القرظی کی صحیح تفسیر[جو کہ ماقبل میں گرز چکی ہیں] کے مخالف ہے۔ نیز اس آیت میں امام کا لفظ ہے نہ مقتدی کا، اسی طرح نہ قراءۃ کا اور نہ سورۃ فاتحہ کا۔تو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے پر استدلال کیسے درست ہوا؟؟
ثانیاً: …… حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ کا استدلال ذکر فی النفس کے متعلق ہے، اس میں فاتحہ کا ذکر ہی نہیں تو اس سے استدلال کیسے؟!
جواب ثانی:
اس روایت کی سند یوں ہے: أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحافظ نا أبو عمرو الْحَرَشِىّ نا الفضل بن محمد الشعراني نا إبراهيم بن حمزة نا عبد العزيز بن محمد قال : سمعت زيد بن أسلم الخ
اس سند میں ایک راوی فضل بن محمد شعرانی ہے۔ ائمہ نےا ن پر جرح کی ہے :تکلموا فیہ، فرماہ بالکذب ،انہ کان غالیاً فی التشیع.
(میزان الاعتدال للذہبی: ج3ص356 رقم6378، المغنی فی الضعفاء للذہبی ج:2:ص:195 رقم 4940)
دوسرا راوی عبد العزیز بن محمد ہے۔ گو بعض نے انکو ثقہ کہا ہے، لیکن بہت سے ائمہ نے ان پر جر ح بھی کی ہے۔ مثلاً:
اذا حدث من حفظہ یہم،لیس ھو بشئی ، اذا حد ث من حفظہ جاء ببواطیل ،لا یحتج بہ ،سیئی الحفظ ، وربما قلب ، فر بما حدث من حفظہ الشئی فیخطی ، لیس با لقوی ، وکا ن یخطئی ، انہ کثیر الوہم فجعل یلحن لحناً منکراً.
(میزا ن الاعتدال للذہبی :ج2ص553 رقم التر جمۃ 4781،تہذیب لا بن حجر :ج4ص204 رقم التر جمہ4830)
لہذا یہ روایت ضعیف ہے، قابل استدلال نہیں۔
دلیل نمبر 2:
حدیث: عبادہ بن صامت مر فو عاً :لا صلوۃ لمن لم یقراء بفاتحۃ الکتاب
(بخاری و مسلم )
اس حدیث کا عموم ہر اس نماز کو شامل ہے جو کوئی شخص اکیلے پڑھتا ہے، یا امام کے پیچھے پڑھتا ہے، اس کا امام قراءت بالسر کر رہا ہو یا قراءت بالجہر کرے۔
( نصر الباری از علی زئی غیر مقلد ص45، فا تحہ خلف امام از علی زئی غیر مقلد ص34)
لفظ من عام ہے جس میں امام، منفرد اور مقتدی سب داخل ہیں۔
(ابکار المنن ص120، تحقیق الکلام ج1ص11)
جواب اول :
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فر مایا : الحدیث اذا لم تجمع طر قہ لم تفہمہ والحدیث یفسر بعضہا بعضا ً
(الجا مع لاخلاق الرا وی للخطیب: ص370 رقم1651)
کہ جب تک حدیث کے طرق جمع نہ کر لیں اس وقت تک حدیث کا معنی نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کی تشریح کرتی ہے۔
اس اصو ل کے تحت ہم نے حدیث عبا دہ کے مختلف طرق جمع کیے، جن میں یہ الفا ظ آئے ہیں:
" لا صلوۃ لمن لم یقرء بفا تحۃ الکتا ب فصاعداً "
( خلق افعال العبا د للبخا ری ص67، صحیح مسلم ج1ص169، سنن ابی داؤد :ج1 ص126)
نیز اس روایت کے کئی شوا ہد بھی موجو دہیں۔
1: عن ابی ہریرۃ مرفوعًا: لا صلوۃ الا بقرءاۃ فا تحۃ الکتاب فما زاد•
(سنن ابی داؤد :ج1ص 126 با ب من تر ک القر ءاۃ فی صلوتہ ، صحیح ابن حبان :560رقم الحد یث 1788،کتا ب القراءۃ للبیہقی :ص13،14)
2: عن ابی سعید الخدری مرفوعاً: امر نا ان نقرء بفا تحۃ الکتا ب وما تیسر•
(سنن ابی داؤد :ج1ص 126 با ب من تر ک القراءۃ فی صلوتہ ، صحیح ابن حبا ن :560 رقم الحدیث 1788 ،کتا ب القراءۃ للبیہقی :ص15 رقم الحدیث32۔35)
3: عن أبي سعيد مرفوعا: لا صلاة لمن لم يقرأ في كل ركعة بالحمد لله وسورة في فريضة أو غيرها
(سنن ابن ماجۃ ص60 باب القراءۃ خلف الامام، کتا ب القراءۃ للبیہقی :ص:16، رقم الحدیث 37،36)
تمام طرق جمع کرنے سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا مخاطب وہ شخص ہے جو دو نو ں سورتیں [یعنی سورۃ فاتحہ اور دوسری سورت]پڑ ھتا ہے اور وہ امام یا منفرد ہوتا ہے مقتدی نہیں، لہذا مقتدی اس کا مخا طب نہیں۔ پس یہ روایت مقتدی پر وجوب قر ءاۃ کی دلیل نہیں۔
جواب ثا نی:
اولاً کلمہ ''من ''کے متعلق علماء اصول مثلاً امام سرخسی وغیرہ فر ماتے ہیں:
وھی عبارۃ عن ذات من یعقل وھی تحتمل الخصوص والعموم۔
(اصو ل السرخسی :ج1ص155، نور الانوا ر :ص84)
قرآن مجید میں بھی لفظ ''من'' کئی مقامات پر خصوص کے لیے آیا ہے۔ مثلاً۔۔
1: قال عز وجل: وَالْمَلَائِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِمَنْ فِي الْأَرْضِ۔
( سورۃ الشوریٰ:5)
اور دوسرے مقام پر تصریح فرما دی کہ فرشتے صرف مومنین کے لیے ہی دعا کرتے ہیں:
وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا الآیۃ۔
( سورۃ المؤمن:7)
معلوم ہوا کہ یہاں من یہاں عمو م کے لیے نہیں بلکہ خصوص کے لیے ہے۔
2: قال عز وجل: أَأَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ أَمْ أَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ
(الملک:17،16)
یہاں مَنْ ہے اور مراد صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔
لہذا اس حدیث میں لفظ ''مَنْ'' بھی خصوص کے لیے ہے جیسا کہ مشہور محد ث علامہ ابن عبد البر نے ”التمہید “ میں اس کی تصریح فر مائی ہے:
عن عبا دۃ رضی اللہ عنہ وھو محتمل للتاویل…… خا ص وواقع علی من صلی وحدہ او کا ن اماماً•
(ج:4ص448،449 )
لہذا لفظ ”مَنْ“کو عا م سمجھ کر اس سے مقتدی پر قرءات واجب کر نا باطل ہے۔
جواب ثالث:
اس حدیث کی مراد دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم و ائمہ حضرات سے یہی منقول ہے کہ یہ حدیث منفرد کے لیے ہے۔ مثلاً:
1: قال جا بر بن عبد اللہ: اذا کا ن وحدہ۔
(جا مع التر مذی:ج1ص71باب ماجاء فی تر ک القراءۃ خلف الامام )
2: سید نا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی فر ما یا کہ یہ حکم اکیلے آد می کیلئے ہے۔
( مؤطا امام مالک بحوا لہ احسن الکلام :ج2ص39)
3:۔امام سفیا ن بن عیینہ جو اس حد یث کے راوی ہیں فر ماتے ہیں: لمن یصلی وحدہ
(تفسیر سفیان بن عیینہ :ص202 ، سنن ابی داؤد :ج1ص126،التمہید لابن عبد البر:ج4ص449)
4:قال امام احمد بن حنبل: اذا کا ن وحدہ۔
(جامع الترمذی :ج1ص71 باب ماجاء فی تر ک قرءۃ خلف الامام )
5:امام ابوبکر اسماعیلی فر ما تے ہیں :کان وحدہ۔
(بذل المجہود الشیخ سہا رنپوری :ج2ص54 )
6: امام ابن عبد البر فر ماتے ہیں :
عن عبا دۃ رضی اللہ عنہ وھو محتمل للتاویل۔۔۔۔ خا ص وواقع علی من صلی وحدہ او کا ن اماماً
۔
(التمہید لا بن عبد البر :ج4ص448،449 ،الاستذکار :ج1ص470)
7:قال الامام ابن قدا مۃ المقدسی :فھو محمول علی غیر الماموم۔
(المغنی لابن قدا مہ :ج2ص118)
8:شیخ محدث سہا رنپوری نے بھی اس کی مراد: اذا کا ن وحدہ بیا ن فر مائی ہے۔
(بذل المجہود :ج2ص52)
9:امام اہل السنہ شیخ الحدیث مولانامحمدسرفراز خا ن صفدر رحمہ اللہ نے اس کی مراد اکیلا آدمی بیا ن کی ہے۔
(احسن الکلام :ج2ص40)
دلیل نمبر 3:
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج ثلاثا غير تمام فقيل لأبي هريرة إنا نكون وراء الإمام فقال اقرأ بها في نفسك.
(صحیح مسلم وغیرہ)
جواب حصہ اول :
اس حدیث کے مرفوع حصہ میں ''مقتدی'' کے لفظ نہیں ہیں،اور ائمہ حضرات نے تصریح کی ہے :
و کذلک حدیث ابی ہریرۃ[فھو محمول علی غیر الماموم ]۔
(المغنی لابن قدامۃ ج2ص118)
کہ یہ حد یث مقتدی کے علا وہ پر محمو ل ہے۔ نیز حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دیگر مفسر روایات میں بھی اس بات کی تصریح ہے کہ امام کی قراءت کے وقت مقتدی خاموش رہے۔ مثلاً
1: عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( إنما جعل الإمام ليؤتم به . فإذا كبر فكبروا . وإذا قرأ فأنصتوا . وإذا قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقولوا آمين
(سنن ابن ماجۃ: ص61 باب اذا قرء الامام فانصتوا )
2: عن أبي هريرة ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : « كل صلاة لا يقرأ فيها بأم الكتاب فهي خداج إلا صلاة خلف إمام »
(کتاب القراءۃ للبیہقی ص 171،170رقم404)
قاعدہ ہے کہ مبہم کے مقابلے میں مفسر حدیث کو دیکھا جائے گا۔
قال الامام البخا ری: والمفسر یقضی علی المبہم
( صحیح البخا ری :ج1ص201 )
قال ابن حجر العسقلانی: لا یقبل الحدیث المبہم۔
(شرح نخبۃ الفکر :ص98 )
لہذ ایہ روایت قر اءت خلف الا مام کی دلیل نہیں۔
جواب حصہ ثانی :
اولاً:۔۔۔اس حد یث میں'' اقرء بھا فی نفسک'' حضرت ابو ہریرہ کا موقوف قول ہے ،جیسا کہ امام بخا ری اور امام بیہقی رحمہما اللہ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
فقلت[أبو السائب] : يا أبا هريرة : فإني أكون أحيانا وراء الإمام قال : فغمز ذراعي ثم قال : اقرأ بها يا فارسي في نفسك۔
(جزء القرءۃ مترجم للبخا ری :ص:80)
وقال: يا ابن الفارسي: اقرأ بها في نفسك•
(کتا ب القر ءۃ للبیہقی :ص196 رقم431)
جبکہ غیر مقلدین کے نزدیک صحابی کا قول و عمل حجت نہیں ہے:
1: افعال الصحابۃ رضی اللہ عنہم لا تنتہض للاحتجاج بھا۔
(فتاوی نذیریہ بحوالہ مظالم روپڑی: ص 58)
2: صحابہ کا قول حجت نہیں۔
(عرف الجادی: ص 101)
3: صحابی کا کردار کوئی دلیل نہیں اگرچہ وہ صحیح طور پر ثابت ہوں۔
(بدور الاہلہ: ج 1 ص 28)
4:آثار صحابہ سے حجیت قائم نہیں ہوتی۔
(عرف الجادی: ص101)
5: خداوند تعالیٰ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو صحابہ کرام کے آثار کا غلام نہیں بنایاہے۔
(عرف الجادی: ص 80)
6: موقوفات صحابہ حجت نہیں۔
(بدورا لاہلہ: ص 129)
ثا نیا ً :۔۔۔فی نفسک کا معنی قر آن وحدیث میں منفرد واکیلے کے لئے بھی آیا ہے۔ مثلا۔۔۔
1: قال عز وجل: وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا
(النساء :63)
قال الامام المفسر أبو الفضل محمود الألوسي البغدادی: وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ أي قل لهم خاليا لا يكون معهم أحد
(روح المعانی ج 3ص69)
قال الامام المفسر علاء الدين علي بن محمد بن إبراهيم البغدادي الشهير بالخازن: وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ إذا خلوت بهم قَوْلًا بَلِيغًا
(تفسیر خازن ج 1ص398)
قال الامام المفسر أبو العباس أحمد بن محمد بن المهدي الشاذلي الفاسي: ( وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ ) ، أي : خاليًا بهم (قَوْلًا بَلِيغًا ) يبلغ إلى قلوبهم•
( البحر المديد للفاسي ج2 ص62)
2: حضر ت ابو ہریرہ سے حد یث قدسی مروی ہے :
فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ•
(صحیح البخا ری :ج:2:ص:1101 بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَيُحَذِّرُكُمْ اللَّهُ نَفْسَهُ ،صحیح مسلم :ج:2:ص:343 باب فضل الذكر والدعاء والتقرب إلى الله تعالى)
لہذا حضر ت ابو ہریرہ کی اس حدیث میں کا معنی'' اکیلا ومنفرد'' ہے ،یعنی حضرت ابو ہریرہ نے اپنے شا گرد أبو السائب کو فر مایا جب تم اکیلے ہو تو قر ءاۃ کر لیا کرو۔اس معنی سے یہ حدیث دیگر تفاسیر و احادیث سے متعارض نہیں ہوتی۔ اگر غیر مقلدین والا معنی مراد لیں تو ان میں باہم تعارض لازم آتاہے۔ پس اس روایت سے غیر مقلدین کا استدلال باطل ہے۔
ثالثاً۔۔۔ اقرء بھا فی نفسک کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ دل میں غور و فکر کر لیا کرو۔
دلیل نمبر 4:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى صَلاَةِ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ « لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ ». قُلْنَا نَعَمْ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ «لاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا».
(سنن ابی داؤد ج1ص 127 باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِى صَلاَتِهِ ،جامع التر مذی ج1ص70 باب ما جاء في القراءة خلف الإمام)
جواب نمبر 1:
اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحا ق بن یسار ہے ،جو عند الجمہور ضعیف، مجرو ح ، کذاب ، دجال ، شیعہ ، معتزلی اور قدری تھا۔
(میزان الاعتدال للذہبی :ج3ص152تا ص458، تہذیب التہذیب لابن حجر: ج5ص439، تقریب التہذیب لا بن حجر: ج2ص498)
نیز محمد بن اسحا ق بن یسار مدلس بھی تھا۔
(طبقات المدلسین :ص:132الطبقۃ الرا بعہ ، الفتح المبین لعلی زئی ص:72)
اور بتصریح علی زئی غیر مقلدمدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے منا فی ہو تا ہے
(نور العینین لعلی زئی ص:148 )
لہذا یہ روایت ضعیف و ناقابل حجت ہے۔
جواب نمبر2:
اس میں دوسرا را وی ”مکحو ل“ ہے۔ بتصریح ائمہ یہ بھی مدلس ہے
( طبقات المدلسین ص:113 المرتبۃ الثا لثہ، الفتح المبین لعلی زئی ص 64 )
نیز امام ابن سعد فرماتے ہیں: ضعفہ جماعۃ
(میزان الاعتدال ج4 ص378)
علامہ ذہبی فرماتے ہیں: قلت: ھو صاحب تدلیس و قد رمی بالقدر
۔(میزان الاعتدال ج4 ص378)
پس روایت ضعیف ہے۔
جواب نمبر3:
اس کی ایک دوسری سند میں ایک راوی نا فع بن محمود بن الربیع ہے ، ان سے خلف الامام کی روایت کےعلاوہ کوئی روایت مروی نہیں۔ امام ابن حبان نے انھیں ثقات میں شمار تو کیا ہے لیکن ساتھ یہ تصریح بھی کر دی ہے:حدیثہ معلل۔
(میزان الاعتدال للذہبی ج5ص7)
کہ اس کی حدیث معلول ہے۔
قال الطحاوی: لا یعرف فکیف یصح او یکون سندہ حسنا.
(الجوہر النقی علی البیہقی ج2ص165)
قال ابن عبد البر: نافع مجھول.
(تہذیب التہذیب ج6ص519)
قال ابن قدامۃ: فانہ غیر معروف.
(المغنی لابن قدامۃج2ص118)
قال ابن حجر: مستور من الثالثۃ.
(التقریب لابن حجر ص588)
ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ یہ راوی مجہول ہے۔ اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ مجہول کی روایت سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ چنانچہ مجہول کے متعلق امام نووی نے تصریح کی ہے: فالجمہور علی انہ لا یحتج بہ•
(مقدمہ شرح صحیح مسلم للنووی :ص17 )
امام بیہقی رحمہ اللہ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
ولم يكلفنا الله تعالى أن نأخذ ديننا عمن لا نعرفه•
( کتا ب القراءۃ للبیہقی :ص395)
لہذا یہ روایت قابل استدلال نہیں۔
جواب نمبر4:
یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا، بعد میں اس سے منع کر دیا گیا، جیسا کہ ہمارے دلائل میں محمد بن کعب القرظی کی تفسیر گزر چکی ہے۔
دلیل نمبر 5:
حدثنا محمود قال : حدثنا البخاري قال : حدثنا يحيى بن يوسف ، قال : أنبأنا عبد الله ، عن أيوب ، عن أبي قلابة ، عن أنس ، رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بأصحابه ، فلما قضى صلاته أقبل عليهم بوجهه ، فقال : « أتقرءون في صلاتكم والإمام يقرأ ؟ » فسكتوا فقالها ثلاث مرات ، فقال قائل أو قائلون : إنا لنفعل قال : « فلا تفعلوا وليقرأ أحدكم بفاتحة الكتاب في نفسه »
( جزء القراءۃ للبخاری مترجم: ص182 رقم الحدیث 255 ، السنن الکبریٰ للبیہقی :ج2 ص 166، کتاب القراءۃ للبیہقی :ص57،58)
جواب اول :
اس کی سند میں ایک راوی ابو قلابہ ہے۔ گو ثقہ تھا لیکن غضب کا مدلس تھا۔
(طبقات المدلسین لابن حجر 39 ، الفتح المبین لعلی زئی ص20)
قال العجلی: فیہ نصب یسیر
(تقریب لابن حجرص339 ) یعنی یہ ناصبی تھا۔
قال العلامۃ الذھبی: ثقہ فی نفسہ الا انہ یدلس عمن لحقھم و عمن لم یلحقہم و کان لہ صحف یحدث منھا و یدلس•
(میزان الاعتدال للذہبی: ج2ص383)
اور بتصریح علی زئی غیر مقلد مدلس کا عنعنہ صحت کے منافی ہوتا ہے
(نور العینین ص:148)
لہذا یہ روایت ضعیف و ناقابل حجت ہے۔
فائدہ: بعض الناس کا یہ کہنا کہ ”یہ پہلے طبقے کا مدلس ہے جس کی تدلیس کو برداشت کیا گیا ہے“ قطعاً باطل ہے، اس لیے کہ ابو قلابہ جب ”عمن لم یلحقہم“ سے بھی تدلیس کرتے ہیں تو پھر کسی طبقہ میں بھی ہوں تو کس طرح قابل برداشت ہوں گے؟! اس صریح عبارت کو بھی دیکھا جائے، نرا طبقہ ہی نہ دیکھا جائے۔
جواب ثانی:
اس کی سند میں اضطراب ہے۔مثلاً:
1:عن ابی قلابۃ عن انس.
(جزء القراءۃ للبخاری مترجم ص؛182 رقم الحدیث 255)
2:عن ابی قلابۃ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم.
( جزء القراءۃ للبخاری مترجم: ص183 رقم الحدیث 256، السنن الکبریٰ للبیہقی :ج2 ص 166)
3:عن أبي قلابة عن محمد بن أبي عائشة عن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم.
( سنن الدار قطنی: ص 223، السنن الکبریٰ للبیہقی :ج2ص166)
4:عن أبي قلابة عن ابی ھریرۃ
. (سنن الدار قطنی: ص 223)
امام سیوطی فرماتے ہیں: الاضطراب یو جب الضعف.
(تدیب الراوی للسیو طی:ج1ص223)
لہذا یہ روایت ضعیف اور نا قابل حجت ہے۔
جواب ثالث:
”فی نفسہ“ کا مطلب یہ ہے کہ جب اکیلے نماز پڑھو تو اسے پڑھا کرو۔ (اس معنی پر شواہد از قرآن وحدیث ماقبل میں گزر چکے ہیں)
دلیل نمبر6:
حدثنا محمود قال : حدثنا البخاري قال ، وقال لنا آدم : حدثنا شعبة ، حدثنا سفيان بن حسين ، سمعت الزهري ، عن ابن أبي رافع ، عن علي بن أبي طالب ، رضي الله عنه أنه كان يأمر ويحب أن يقرأ خلف الإمام في الظهر والعصر بفاتحة الكتاب ، وسورة سورة وفي الأخريين بفاتحة الكتاب۔
( جزء القراءۃ للبخاری مترجم ص67 رقم الحدیث 54، سنن الدار قطنی ص214 رقم الحدیث 1217، السنن الکبری للبیہقی ج2ص 168)
جواب نمبر 1:
اولاً۔۔۔ دلائل اہل السنت و الجماعت احناف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سند صحیح کے ساتھ گزر چکا ہے کہ آپ قراءت خلف الامام سے منع فرماتے تھے۔
ثانیاً۔۔۔ اس اثر کی سند میں سفیان بن حسین ہے۔ ائمہ نے ان پر کلام کیا ہے۔ مثلاً۔۔
قال أحمد: ليس بذاك في الزهري.
وقال عثمان ابن سعيد: سألت يحيى عنه فقال: ثقة، وهو ضعيف الحديث عن الزهري.
وروى ابن أبى خيثمة، عن ابن معين: ثقة في غير الزهري
وقال عثمان بن أبى شيبة: ثقة، لكنه مضطرب في الحديث قليلا.
وقال ابن سعد: ثقة يخطئ في حديثه كثيرا.
وقال أبو حاتم: صالح الحديث يكتب حديثه، ولا يحتج به
وقال النسائي: ليس به بأس إلا في الزهري.
وقال ابن حبان: يروى عن الزهري المقلوبات
وقال ابن عدى: هو... فی الزهري روى أشياء خالف الناس.
قال ابن معين: لم يكن بالقوى.
(میزان الاعتدال ج 2ص157 )
قال ابن حجر:ثقة في غير الزهري.
(تقریب التہذیب لابن حجر ص277)
اور یہ روایت بھی سفیان بن حسین عن الزہری کے طریق سے مروی ہے۔ لہذا ضعیف اور ناقابل حجت ہے۔
جواب نمبر 2:
اس روایت میں سورۃ فاتحہ اور دوسری سورت دونوں کے پڑھنے کا ذکر ہے۔ لہذا یہ اثر فریق مخالف کے لیے سود مند نہیں۔
دلیل نمبر 7:
وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ، أنا أبو بكر بن إسحاق ، أنا عبد الله بن محمد ، نا عمرو بن زرارة ، نا إسماعيل ، عن ليث ، عن عبد الرحمن بن ثروان ، عن الهذيل بن شرحبيل ، عن ابن مسعود ، رضي الله عنه أنه « قرأ في العصر خلف الإمام في الركعتين الأوليين بأم القرآن وسورة »
(کتاب القراءۃ للبیہقی ص196)
جواب1:
یہ اثر ضعیف ہے۔اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے۔ اس پر ائمہ نے جرح کی ہے۔ مثلاً۔۔
قال أحمد: مضطرب الحديث
وقال يحيى والنسائي: ضعيف.
وقال ابن حبان: اختلط في آخر عمره.
وقال ابن معين: ليث أضعف من عطاء بن السائب.
وقال مؤمل بن الفضل: سألت عيسى بن يونس عن ليث بن أبي سليم، فقال: قد رأيته وكان قد اختلط،
(میزان الاعتدال ج3ص414،413)
جواب نمبر 2:
اس کی سند میں ایک راوی عبد الرحمن بن ثروان ہے۔ اس پر امام احمد نے جرح کی ہے۔
قال عبدالله بن أحمد: سألت أبى عنه فقال: هو كذا وكذا - وحرك يده، وهو يخالف في أحاديث.
عن أحمد قال: لا يحتج به.
وقال أبو حاتم: لين.
(میزان الاعتدال ج2ص490)
پس اثر ضعیف ہے۔
جواب نمبر 3:
یہ اثر خود غیر مقلدین کےعمل کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ اس میں ظہرعصر کی نماز کی تخصیص ہے اور وہ بھی صرف پہلی دو رکعتوں میں اور فاتحہ کے ساتھ دوسری سورت کا بھی ذکر ہے جو غیر مقلدین کو کسی طرح بھی سود مند نہیں۔
دلیل8:
عن یزید بن شریک سالت عمر بن الخطاب: ٵَٵَقرَءُ خلف الامام؟ قال: نعم• قال: اِنْ قرٵتَ یا امیرَالمؤمنین؟ قال: وان قراءتُ•
(جزء القرءاۃ للبخاری ص65)
جواب نمبر1:
دلائل احناف کے تحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اثر گزر چکا ہے کہ وہ قراءت سے منع فرماتے تھے۔ اگر یہ پیش کردہ اثر صحیح بھی ہوجائے تب بھی غیرمقلدین کو سودمند نہیں۔ اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ اثر مختلف الفاظ سے کتب میں مذکور ہے۔ ان میں سورہ فاتحہ کے علاوہ قرآن کریم کے کسی حصہ کا ذکر بھی موجود ہے۔ مثلاً۔۔
فاتحۃ الکتاب وشیئا
(کتاب القراءۃ للبیہقی ص620)
بفاتحۃ الکتاب ومعھا
(کتاب القراءۃ ص61،السنن الکبریٰ للبیہقی ج2ص167)
بفاتحۃ الکتاب وشیئ معھا
(کتاب القراءۃ ص 61)
بفاتحۃ الکتاب ومعھا شیئ
(جامع المسانید ج1ص346)
ظاہر بات کہ غیرمقلد صرف فاتحہ کے وجوب کے قائل ہیں ،مازاد کے جواز کے بھی قائل نہیں۔ لہذا یہ اثر انھیں سود مند نہیں۔
جواب2:
اس اثر میں قراءت کی صرف اجازت واختیار کا ذکر ہے جبکہ فریق مخالف اسے واجب سمجھتا ہے۔
جواب3:
قراءۃ خلف الامام کے بارے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نہی بھی ثابت ہے (کما مر)اور یہاں فاتحہ ومازاد علی الفاتحہ کی اجازت بھی ثابت ہے تو قرین قیاس یہی ہے کہ یہ حکم آپ منفرد کو دینا چاہتے تھے،راوی سے غلطی ہوئی کہ اسے مقتدی کے حق میں نقل کردیا۔
غیر مقلدین کے چند شبہات کے جوابات
شبہ نمبر 1:
زبیر علی زئی غیر مقلد نے ملا جیون الحنفی رحمہ اللہ کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ اس آیت ”فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“(سورۃ المزمل :20) کے عموم سے مقتدی پر قراءت واجب ہے۔ چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:
”اس آ یت کے بارے میں ملا جیون حنفی (متوفی ۱۱۳۰ھ) لکھتے ہیں:
فا ن الاول بعمومہ یو جب القرءاۃ علی المقتدی۔
پس بے شک پہلی آیت(آیت مذکورہ بالا) اپنے عموم کے ساتھ مقتدی پر قراءت واجب کرتی ہے۔“
(فا تحہ خلف الامام از زبیر علی زئی:ص:32)
جواب:
اولاً۔۔۔۔ وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ والی آیت اوراس کے تحت تفاسیر صحیحہ ، احادیث مبارکہ ،فقہاء کرام خصوصا فقہاء احناف اور اجماع امت اکثری سے واضح ہوا ہےکہ مقتدی کوقراءۃ خلف الامام سے منع کر دیا گیا ہے۔
ثا نیا ً۔۔۔۔ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ کا شان نزول نماز تہجد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے:
قَالَ فِى الْمُزَّمِّلِ (قُمِ اللَّيْلَ إِلاَّ قَلِيلاً نِصْفَهُ) نَسَخَتْهَا الآيَةُ الَّتِى فِيهَا ( عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ) وَنَاشِئَةُ اللَّيْلِ أَوَّلُهُ وَكَانَتْ صَلاَتُهُمْ لأَوَّلِ اللَّيْلِ يَقُولُ هُوَ أَجْدَرُ أَنْ تُحْصُوا مَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ
(سنن ابی داؤد ج:1 ص 192 باب نَسْخِ قِيَامِ اللَّيْلِ وَالتَّيْسِيرِ فِيهِ ، اعلام المو قعین لابن القیم ج:2 ص 327 ، نیل الاوطار للشوکانی ص:243 )
اور نماز تہجد اکیلے پڑھی جاتی ہے ، جماعت کے ساتھ نہیں ، لہذا فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ سے مقتدی پرقراءت واجب کرنا باطل و مردود ہے۔
ثالثا ً۔۔۔۔۔ ملا جیون رحمہ اللہ م: 1130 ھ حنفی مقلد ہیں مطلق مجتہد نہیں۔ یہ شیخ ملا جیون رحمہ اللہ کا ذاتی تفرد ،سہو یا وہم ہے جو تفاسیر صحیحہ ، احادیث مبارکہ ،فقہاء کرام خصوصا فقہاء احناف کےخلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے۔ خود زبیر علی زئی نے ایک مقام پر لکھا: ”ہم ان حوالوں سے بری ہیں اور یہ حوالے ہمارے مفتیٰ بہا نہیں ہیں“
(الحدیث ش86 ص36 جولائی 2011ء)
شبہ نمبر2:
فاتحہ قراءۃ نہیں، بلکہ قراءۃ فاتحہ کے بعد والی سورتوں کی ہوتی ہے۔ لہذا فاتحہ پڑھنے سے ان احادیث کی مخالفت لازم نہیں آتی جن میں قراءت سے منع کیا گیا ہے۔
جواب:
فاتحہ قراءت ہے، احادیث ملاحظہ ہوں:
1:عن أَبی هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُتُ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ إِسْكَاتَةً۔۔۔۔ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ مَا تَقُولُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ۔
(صحیح البخاری ج1ص103 باب بَاب مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ)
غیر مقلدین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دعا تکبیر تحریمہ اور فاتحہ کے درمیان پڑھی جاتی ہے۔ لہذا یہاں فاتحہ ہی کو قراءت کہا گیا ہے۔ اگر غیر مقلد اس پر مصر ہوں کہ فاتحہ کے بعد والی سورت ہی قراءت ہے تو انھیں چاہیے کہ فاتحہ ختم کر کے تکبیر کہیں، پھر اللہم باعد والی دعا پڑھیں۔
2: امام بخاری رحمہ اللہ نے بَاب وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ قائم فرمایا ہے اور اس کے تحت لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ والی حدیث ذکر کی ہے۔ معلوم ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے ہاں فاتحہ قراءت ہے۔
3: عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم وأبو بكر وعمر رضي الله عنهما يستفتحون القراءة بالحمد لله رب العالمين۔
(سنن النسائی ج1 ص143 باب البداءة بفاتحة الكتاب قبل السورة)
4: عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستفتح الصلاة بالتكبير والقراءة بالحمد لله رب العالمين۔
(صحیح مسلم ج1ص194 باب أعضاء السجود والنهي عن كف الشعر)
شبہ نمبر3:
فاتحہ قرآن نہیں ہے۔ دلیل آیت:
﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾
(الحجر:87)
[ ہم نے آپ کو سبع مثانی یعنی سورۃ فاتحہ اور قرآن عظیم عطاء کیا] غیرمقلدین کہتے ہیں کہ آیت سے معلوم ہوتا ہے فاتحہ اور قرآن دونوں الگ الگ ہیں۔ لہذا قرآن کی قراءۃ کے وقت خاموش رہنے کا حکم ہے نہ کہ فاتحہ کی قراءت کے وقت۔
جواب1:
اگر فاتحہ کو قرآن نہ مانا جائے تو قرآن کی سورتوں کی تعداد 114 نہیں رہے بلکہ 113ہوجائے گی۔
حالانکہ قرآن کی 114سورتیں ہونے پر اجماع ہے۔
1: امام بدر الدين محمد بن عبد الله الزركشی رحمہ اللہ م 794ھ لکھتے ہیں:
واعلم أن عدد سور القرآن العظيم باتفاق أهل الحل والعقد مائة وأربع عشرة سورة كما هي في المصحف العثماني أولها الفاتحة وآخرها الناس۔
( البرهان في علوم القرآن ص251)
2: امام سیوطی رحمہ اللہ م 911ھ لکھتے ہیں:
أما سوره فمائة وأربع عشرة سورة بإجماع من يعتد به ،
(الاتقان فی علوم القرآن ج1 ص64)
3: علامہ عبد الرحمن بن محمد بن قاسم حنبلی رحمہ الله لکھتے ہیں:
أَجمَعوا على أنَّ القُرآنَ : مِئَةٌ وأربَعَ عَشَرَةَ سُورَةً
(مقدمۃ التفسير ص2)
اگر فاتحہ کو قرآن کی سورۃ شمار نہ کیا جائے تو اجماع کی مخالفت لازم آئیگی۔
جواب2:
سبعاً من المثانی (سورہ فاتحہ)قرآن مجید میں داخل تھی لیکن اسے علیحدہ ذکرکرنے کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کی عظمت وشان اجاگر ہوجائےیہی اسلوب قرآن کریم میں دیگر مقامات پر ہے مثلاً:
قال تعالی : تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ
(القدر :4)
یہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام ملائکہ میں داخل تھے لیکن انہیں علیحدہ ذکر صرف مرتبہ ومقام بتانے کے لیے کیا۔
شبہ نمبر 4:
اگر امام کا قر آ ن پڑھنا مقتدیو ں کے لئے کا فی ہے اور مقتدیو ں کو قر اءۃ منع ہے، تو پھر تشہد میں " رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ " امام بھی پڑھتا ہے اور مقتدی بھی پڑ ھتے ہیں۔ حالا نکہ یہ بھی تو قر آ ن ہے ؟
جواب :
تشہد میں" رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ "پڑھنے کی دو حیثیتیں ہیں :
(1) یہ قر آ ن ہے۔
(2) یہ دعا ہے۔
امام ومقتدی" رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ " دعا ہو نے کی حیثیت سے پڑھتے ہیں، نہ کہ قر آ ن وقراءۃ ہونے کی حیثیت سے۔
شبہ نمبر 5:
امام کی قراءت کےوقت اگر خا موش رہنا اور امام کی قرا ءۃ کو غور سے سننا ضروری ہے، تو آ پ لو گ فجر کی جماعت کے وقت سنتیں کیو ں پڑھتے ہیں؟ اس وقت بھی تو امام کی قراءۃ ہو رہی ہو تی ہے اور آپ لو گ سن رہے ہو تے ہیں۔
جواب:
اما م کی قر ءۃ کے وقت خا موش رہنا اور غور سے سننا ان نماز یو ں کے لئے ضروری ہے جو اس امام کی قتداء میں نماز پڑھ رہے ہو ں، ہر نمازی کے لئے ضروری نہیں۔ جمہور صحا بہ کرا م رضی اللہ عنہم سے یہی تفسیر منقول ہے۔ چنانچہ امام عبد اللہ بن احمد نسفی م 710ھ فر ما تے ہیں:
وجمہور الصحا بۃ علی انہ فی استماع المؤ تم
. ( مدار ک التنزیل للنسفی: ج2ص133)
با قی رہا فجر کی سنتیں پڑھنے والا نمازی، تو وہ امام کی اقتداء نہیں کر رہا ہو تا۔
شبہ نمبر 6:
فاتحہ دعا ہے۔ جب نمازی فا تحہ پڑھتا ہے تو اللہ تعا لی سے دعا کرتا ہے ،لیکن آپ لوگو ں کا امام تو فا تحہ پڑھتا ہے مقتدی نہیں پڑھتے۔ ان کی نماز اس دعا اور منا جات سے خا لی ہو تی ہے ؟
جواب:
قاعدہ ہے کہ انسان انفراداً انفراداً کسی کی خد مت میں حا ضر ہوں تو اپنا مدعا انفراداً بیا ن کرتے ہیں اور جب وفد کی صورت میں کسی کی خد مت میں اپنا مدعا بیان کریں تو ایک کو اپنا نمائندہ بنادیتے ہیں۔ وہی نمائندہ عرض ومعروض کرتا ہے۔ بعینہ اسی طرح جب نمازی الگ الگ نماز پڑھتے ہیں تو ہر ایک فاتحہ پڑھتا ہے اور جب جما عت سے پڑھتے ہیں تو ایک کو نمائندہ (امام )بنا دیتے ہیں۔ اس کا عرض ومعروض کرنا ( فاتحہ پڑھنا ) سب کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لئے ہر ایک کو علیحدہ پڑھنے کی ضرور ت نہیں۔