دو ہاتھ سے مصافحہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دو ہاتھ سے مصافحہ
از افادات متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اہل السنت و الجماعت کا موقف:
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ.
(الدر المختار: ج9 ص629 باب الاستبراء و غیرہ)
ترجمہ: دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔
غیر مقلدین کا موقف:
ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا سنت ہے اور دو ہاتھ سے مصافحہ کرنے والے ناواقف لوگ ہیں۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ از عبد الرحمن مبارکپوری: ص6ملخصاً،
التحفۃ الحسنیٰ ااز حکیم محمد اسرائیل سلفی)
دلائل اہل السنت و الجماعت:
دلیل نمبر1:
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”الصحیح “ میں ایک باب قائم فرمایا ہے:
”باب المصافحۃ“ [مصافحہ کرنے کا باب]اور اس کے تحت حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد نقل کیا ہے:
عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ وَكَفِّي بَيْنَ كَفَّيْه.
(صحیح البخاری: ج2 ص926)
ترجمہ:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے التحیات اس حالت میں سکھائی کہ میرا ہاتھ نبی علیہ السلام کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب میں ثابت کیا کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا تعلق مصافحہ کے ساتھ ہے، اس کے متصل بعد ایک اور باب قائم فرمایا: ”باب الأخذ باليدين“ [(مصافحہ کرتے وقت)دو ہاتھوں سے پکڑنے کا باب] اور اسی حدیث کودوبارہ اس باب میں ذکر فرمایا ہے، جس سے امام بخاری رحمہ اللہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا ثابت ہے۔ نیز مصافحہ دونوں ہاتھوں سے اس طرح کیا جائے کہ ہاتھوں کو پکڑا جائے نہ یہ کہ آدمی اپنے ہاتھ دوسرے کے ہاتھ پر رکھ دے۔ لفظ ”اخذ“ کا یہی مفہوم ہے۔
اعتراض نمبر1:
حکیم محمد اسرائیل لکھتے ہیں:
اس حدیث کا مصافحہ سے ذرا بھی تعلق نہیں۔
(التحفۃ الحسنیٰ: ص39)
مزید لکھتے ہیں:
سخت تعجب ہے ان مقلدین احناف پر کہ جو احادیث صحیحہ سے مصافحہ ثابت ہوتا ہے اس کے انکاری ہیں اور جو حدیث سے ثابت نہیں ہوتا اسے ثابت کرنے کی سعی لا حاصل کرتے ہیں اور بخاری شریف کی دہائی دے کرجاہل عوام کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں مگر ان کو معلوم رہے کہ یہ حدیث دانی اور حدیث فہمی نہیں بلکہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک مذاق ہے۔
(التحفۃ الحسنیٰ: ص38)
جواب:
غیر مقلدین بظاہر تو احناف سے عناد، بغض اور مخالفت ظاہر کرتے ہیں لیکن دراصل یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو کھر ی کھری سنانے کے مترادف ہے۔ ”باب المصافحۃ“ قائم کرنے اور اس کے تحت حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ لانے کے سرخیل تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ہیں تو ثابت یہی ہوا کہ غیر مقلدین کا روئے سخن احناف کی طرف نہیں بلکہ بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف ہے۔ معلوم ہوا ان غیر مقلدین کا امام بخاری سے تعلق ہے نہ صحیح بخاری سے۔
لہذا ہم غیر مقلدین سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ :
امام بخاری رحمہ اللہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مصافحہ ثابت کرتے ہیں اور آپ اس کے منکر ہیں، آپ بتائیں کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل کون؟!
اعتراض نمبر2:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فقط ایک ہتھیلی آن حضرت کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھی۔ تو ظاہر ہے کہ اس دلیل سے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرنے والوں کا دعویٰ کسی طرح ثابت نہیں ہوسکتا۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ: ص44)
جواب:
اولاً۔۔۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تو دوہاتھ تھے، لہذا ہمیں سنت نبویہ اختیارکرنی چاہیے۔
ثانیاً۔۔۔ جب دوہاتھوں سے مصافحہ کیاجائے تودرمیان میں ایک ہاتھ آتاہے، دوسراباہرکی جانب رہتاہے، اس لیے دوہاتھ سے مصافحہ کرنے والاکہہ سکتاہے کہ میراہاتھ اس کے دوہاتھوں کے درمیان تھا، یہی کچھ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ لہذا اس سے یہ تو ثابت ہو ا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا مگر یہ ہرگز ثابت نہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا صرف ایک ہاتھ تھا۔ اور یہ کیسے ہوسکتاہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہاتھ ہوں اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کاایک ہاتھ ہو؟ کیونکہ بڑے چھوٹے کے حوالےسے بھی اس صورت کودیکھاجائےتوبڑی بے ادبی اورگستاخی ہے کہ بڑاآدمی دوہاتھ سے مصافحہ کرے اورچھوٹاایک ہاتھ سے اور یہاں توامتی اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کامعاملہ ہے!
ثالثاً۔۔۔ باقی رہی یہ بات کہ حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ کاذکر کیوں فرمارہے ہیں تو یہ اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے ایک ہاتھ سے مصافحہ کیاتھا بلکہ اس وجہ سے کہ دوہاتھ سےمصافحہ کرتے وقت آپ کا جوہاتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہاتھوں کے درمیان آیاتھا آپ بطورِاظہارِمسرت کے اپنے اس ہاتھ کی خصوصیت بتارہے ہیں کہ میرایہ ہاتھ اتنا خوش نصیب ہےجوسردارعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہاتھوں کے درمیان آیاہے۔
اعتراض نمبر3:
عبد الرحمن مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں:
امام بخاری کی مجرد تبویب سے دونوں ہاتھوں کے مصافحہ کا ثابت نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ مصنفین کی تبویب ان کا دعویٰ ہوتا ہے، جو بلا دلیل کسی طرح قابلِ قبول نہیں۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ: ص52)
جواب:
محترم! یہ مجرد دعویٰ نہیں بلکہ ترجمۃ الباب ہی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث اور امام حماد بن زید اور امام عبد اللہ بن مبارک تبع تابعین حضرات کا عمل مبارک بھی نقل فرمایا ہے اور سے ترجمۃ الباب کا حصہ بنایا ہے۔یاد رہے کہ تبع تابعی بھی اس دور کا ہے جس کے خیر القرون ہونے کی گواہی خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دی ہے اگرچہ تابعی کا عمل فنِ حدیث کی روشنی میں بھی خود حدیث ہے، کیونکہ حدیث کی تعریف ہے:
الحدیث ہو قول النبی صلی اللہ علیہ و سلم والصحابی والتابعی و فعلہم و تقریرہم.
(خیر الاصول فی حدیث الرسول للشیخ خیر محمد الجالندھری: ص7. مترجم عربی)
ترجمہ: حضرت رسول اللہ خدا صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین کے قول و فعل و تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔
مزید اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل لائے تو اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے؟!
دلیل نمبر2:
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسی”باب الأخذ باليدين“ میں دو مشہور محدثین کا عمل ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَصَافَحَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِيَدَيْهِ
(صحیح البخاری ج2 ص926)
ترجمہ:امام حماد بن زید نے حضرت عبد اللہ بن مبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
استدلال:
الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:
قولہ صَافَحَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِيَدَيْهِ: اشارۃ الی ان ذلک ہو المعروف بین الصحابۃ و التابعین۔
(ج37 ص364 تحت العنوان: مصافحہ)
ترجمہ: امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ فرمانا کہ”حماد بن زید نے ابن مبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا“ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ میں معروف و مشہور عمل تھا۔
فائدہ: امام حماد بن زید اور امام عبد اللہ بن مبارک تبع تابعین ہیں، معلوم ہوا کہ دورِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے دو ہاتھ سے مصافحہ دورِ تابعین تک متوارث چلا آ رہاہے اور یہ متوارث عمل دلیل ہے کہ مصافحہ دو ہاتھ سے کرنا سنت ہے۔
تعریف سنت :
1:امام ابوبکر محمد بن احمد السرخسی الحنفی فرماتے ہیں:
واما السنۃ فھی الطریقۃالمسلوکۃ فی الدین.
( اصول سرخسی ج 1 ص113)
ترجمہ: سنت دین میں جاری طریقہ کو کہتے ہیں۔
2: شیخ عبد الحق الحقانی فرماتے ہیں:
السنۃ الطریقۃالمسلوکۃفی الدین سواء سلکہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم اوالصحابۃ.
۰النامی بشرح الحسامی)
ترجمہ: سنت دین میں جاری طریقہ کو کہتے ہیں چاہے اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جاری فرمایا ہو یا آپ کے صحابہ نے۔
اعتراض:
حکیم محمد اسرائیل سلفی لکھتے ہیں:
جب صحابی کا قول ہی حجت نہیں ہوتا تو تابعین اور تبع تابعین کے اقوال کیونکر حجت ہو سکتے ہیں؟
(التحفۃ الحسنیٰ)
جواب:
1: قول صحابی حجت نہ ہو تو حدیث کا وجود ختم ہو جائے گا۔
2: قول صحابی حجت نہ ہو تو دین پر اعتبار ختم ہو جائے گا۔
3: یہ اعتراض امام بخاری رحمہ اللہ پر ہے کہ وہ غیر حجت کے فعل و عمل کو صحیح بخاری میں کیوں لائے۔
4: یہ محض عملِ تابعی نہیں بلکہ عملِ رسول کے توارث کی ایک شکل ہے۔
5: امام حماد بن زید اور امام عبد اللہ بن مبارک دونوں بزرگ دو ہاتھوں سے مصافحہ کر رہے ہیں، کیا یہ حضرات آپ کے موقف کے مطابق ناواقف ہیں؟؟ نیز بتائیں کہ یہ حضرات دو ہاتھ سے مصافحہ کر کے سنی رہے یا بدعتی ٹھہرے؟!
فائدہ: امام بخاری رحمہ اللہ کے والد سے بھی دو ہاتھ سے مصافحہ نقل کرنا ثابت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اپنی تاریخ میں اپنے والد محترم کے حالات میں لکھتے ہیں:
رای حمادَ بنَ زید، صافح ابنَ المبارک بکلتا یدیہ۔
(التاریخ الکبیر للبخاری: ج1 ص323 تحت ترجمۃ اسماعیل بن ابراہیم )
ترجمہ: حضرت اسماعیل (والد امام بخاری) نے حضرت حماد بن زید کو دیکھا کہ انہوں نے عبد اللہ بن مبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔
تبع تابعین کے اس فعل کو پیش کر کے مشرک ہوئے یا سنی رہے؟؟
دلیل نمبر3:
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بیعت کے وقت بھی مصافحہ فرمایا ہے جیسا کہ روایت میں تصریح ہے:
اخرج ابو نعیم فی کتاب المعرفۃ من حدیث لہیۃ بنت عبد اللہ البکریۃ قالت: وفدتُّ مع ابی علَی النبی صلی اللہ علیہ و سلم فبایع الرجال و صافحہم و بایع النساء و لم یصافحہن
(التعلیق الممجد لعبد الحی اللکھنوی: ص394 باب ما یکرہ من مصافحۃ النساء)
ترجمہ: ابو نعیم نے کتاب المعرفۃ میں لھیعہ بنت عبد اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں سے بیعت لی اور ان سے مصافحہ کیا اور عورتوں سے بیعت لی لیکن ان سے مصافحہ نہیں کیا۔
اور یہ مصافحہ دو ہاتھ سے ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن رزين فرماتے ہیں:
مررنا بالربذة فقيل لنا ها هنا سلمة بن الأكوع فأتيته فسلمنا عليه فأخرج يديه فقال بايعت بهاتين نبي الله صلى الله عليه و سلم.
(الادب المفرد للبخاری:ص289 رقم الحدیث973 باب تقبیل الید)
ترجمہ: ہم مقامِ ربذہ کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ رہتے ہیں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم سب نے ان کو سلام کیا۔ (دورانِ گفتگو) انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ نکالے (یعنی ہمیں دکھائے) اور فرمایا: ان دونوں ہاتھوں سے میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیعت کی ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت آتی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ بِقَوْلِ اللَّهِ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ } قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَايَعْتُكِ كَلَامًا وَلَا وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ مَا يُبَايِعُهُنَّ إِلَّا بِقَوْلِهِ قَدْ بَايَعْتُكِ عَلَى ذَلِكِ
(صحیح البخاری:ج2 ص726 باب إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات)
ترجمہ:آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جو عوررتیں آتیں آپ ان کا امتحان اس آیت کے مطابق لیتے
﴿ يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَـيْـــــًٔـا﴾
[ترجمہ:اے پیغمبر ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے]حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جو عورتیں یہ شرائط قبول کر لیتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے زبانی بیعت کر لی۔بخدا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کسی عورت کے ہاتھ سے مس نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں بیعت کے وقت صرف زبان سے بیعت فرماتے تھے۔
اور بیعت کا مصافحہ دونوں ہاتھوں سے فرماتے تھے۔ چنانچہ اس روایت کے لفظ ”قَدْ بَايَعْتُكِ كَلَامًا“ کے تحت علامہ عینی فرماتے ہیں:
(قد بایعتک کلاما)... كان يبايع بالكلام ولا يبايع باليد كالمبايعة مع الرجال بالمصافحة باليدين.
(عمدۃ القاری شرح البخاری:ج13 ص396 کتاب التفسیر، تحت سورۃ الممتحنۃ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں کو زبانی بیعت کرتے تھے، ہاتھ کے ساتھ بیعت نہیں کرتے تھے جیسے مردوں کو دو ہاتھ کے مصافحہ کے ساتھ بیعت کرتے تھے۔
علامہ قسطلانی فرماتے ہیں:
(قد بایعتک کلاما) ای بالکلام لا بالید کما کان یبایع الرجال بالمصافحۃ بالیدین.
(ارشادالساری: ج7 ص 380 کتاب التفسیر، تحت سورۃ الممتحنۃ)
ترجمہ: یعنی زبانی بیعت مراد ہے نہ کہ ہاتھ کے ساتھ جیسے مردوں کو دو ہاتھ کے مصافحہ کے ساتھ بیعت کرتے تھے۔
اور بوقتِ بیعت دونوں ہاتھوں کا تذکرہ دلیل نمبر3 کے تحت آ چکا ہے۔ لہذا مباکپوری صاحب کی یہ کہنا کہ ”ان دونوں صاحبوں کا یہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے ، انہوں نے اس دعویٰ کی کوئی دلیل نہیں لکھی ہے“ بالکل باطل ہے۔ (ایک ہاتھ سے مصافحہ: ص59) وللہ الحمد
دلیل نمبر4: تصریحات فقہاء کرام:
1: در مختار میں علامہ علاء الدین الحصکفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
السنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ.
(الدر المختار: ج9 ص629 باب الاستبراء وغیرہ)
ترجمہ: دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔
2: مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں علامہ عبد الرحمن بن محمد بن سلیمان رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
والسنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ.
(مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر: ج4 ص204 کتاب الاضحیۃ)
ترجمہ: دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔
3: الفقہ الاسلامی و ادلۃ میں علامہ الشیخ الدکتور وہبۃ الزہیلی فرماتے ہیں:
والسنۃ فی المصافحۃ بکلتا یدیہ.
(الفقہ الاسلامی و ادلۃ: ج4 ص2660 تحت لفظۃ: اللمس)
ترجمہ: دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا سنت ہے۔
اعتراض:
درمختار میں یہ مسئلہ کتاب ”قنیہ“ سے نقل کیا گیا ہے۔۔ اس کتاب کا مصنف مختار بن محمود الزاہدی اعتقاداً معتزلی تھا۔۔ قنیہ غیر معتبر اور غیر مستند ہے۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ: ص12)
جواب:
قنیہ اتنی بھی غیر معتبر نہیں جتنا غیر مقلدین نے سمجھ رکھا ہے بلکہ قنیہ کا صرف وہ حوالہ غیر معتبر ہو گا جس کی تائید دیگر کتب سے نہ ہوتی ہو۔ چنانچہ علامہ عبد الحئی لکھنوی لکھتے ہیں:
و تصانیفہ غیر معتبرۃ ما لم یوجد مطابقتہا لغیرہا
(الفوائد البہیۃ لعبد الحئی اللکھنوی: ص213)
اسی طرح وہ حوالہ بھی غیر معتبر ہو گا جو دیگر کتب سے ٹکرائے۔ چنانچہ علامہ عبد الحئی لکھنوی ہی ایک مقام پر لکھتے ہیں:
لا عبرۃ لما یقولہ الزاہدی اذا خالف غیرَہ.
(النافع الکبیر لعبد الحئی اللکھنوی: ص31)
مسئلہ مذکورہ کی تائید مذکورہ احادیث و آثار اور فقہ کی دیگر کتب سے ہوتی ہے۔ پس موصوف کا شبہ باطل ہے۔ و للہ الحمد
غیر مقلدین کے دلائل
دلیل نمبر1:
احادیث میں مصافحہ کی روایات میں ہاتھوں یا ہتھیلیوں کے لیے مفرد کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ مثلاً
1: حضرت عبد اللہ بن بسر کہتے ہیں:
ترون یدی ہذہ؟ صافحت بہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم.
(مسنداحمد: رقم الحدیث17686)
ترجمہ: تم لوگ میرے اس ہاتھ کو دیکھتے ہو؟ میں نے اسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مصافحہ کیا ہے۔
2: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
صافحت بکفی ہذہ بکف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فما مسست خزا و لا حریرا الین من کفہ.
(کتاب العجالۃ فی ا لاحادیث المسلسلۃلابی الفيض الفادانی: ص12)
ترجمہ: میں نے اپنی اسی ہتھیلی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مصافحہ کیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہتھیلی سے زیادہ نہ کسی خز (ریشم اور اون سے بنُا ہوا کپڑا)کو اور نہ کسی ریشمی کپڑے کو پایا۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ از عبد الرحمن مبارکپوری: ص15)
جواب:
اولاً۔۔۔ مفرد کا صیغہ دو طریقوں سے استعمال ہوتا ہے:
1: بطورِ معنی مفرد یعنی اکیلے معنیٰ کے لیے
2: بطورِ معنی جنس یعنی کئی افراد کے معنیٰ کے لیے
معنی مفرد کی مثال:
حدیث مبارک میں ہے:
عن جابر بن عبد الله قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بسارق فقطع يده.
(سنن الدار قطنی: ص562 رقم الحدیث3356 کتاب الحدودو الدیات و غیرہ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ نے اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا۔
اس حدیث میں”یدہ“ سے مراد ایک ہاتھ ہے۔
جنس کی مثال:
1: حدیث مبارک میں ہے:
اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِى قَلْبِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى لِسَانِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى سَمْعِى نُورًا وَاجْعَلْ فِى بَصَرِى نُورًا
(سنن ابی داود: ج1 ص192 باب فی صلاۃ اللیل)
ترجمہ: اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری زبان میں نور پیدا فرما، میری آنکھوں میں نور پیدا فرما، میرے کانوں میں نور پیدا فرما، میری آنکھوں میں نور پیدا فرما۔
2: حدیث مبارک میں ہے:
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ.
(صحیح البخاری: ج 1ص6 باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ويده)
ترجمہ: کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
3: حدیث مبارک میں ہے:
مَنْ رَأى مِنْكُمْ مُنْكَراً فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ ، فَإنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ ، فَإنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ ، وَذَلِكَ أضْعَفُ الإيمَانِ
(صحیح مسلم: ج1 ص51 باب بيان كون النہی عن المنكر من الايمان الخ)
ترجمہ: جو تم میں سے برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے ، یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے۔
4: اردو زبان میں بھی بعض مرتبہ صیغہ مفرد سے معنی جنس مراد ہوتا ہے۔ جیسے ”میں نے اسے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے“ اور ”میں نے اپنے کان سے تمہاری بات سنی ہے“ وغیرہ۔
ان احادیث میں اعضاء جسم میں سے بصر ( یعنی آنکھ)، سمع (یعنی کان) اور ید (یعنی ہاتھ) اگر مفرد استعمال ہوئے ہیں لیکن ان سے مراد دونوں آنکھیں، دونوں کان اور دونوں ہاتھ ہیں۔
اس تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ مذکورہ احادیث جو غیر مقلدین پیش کرتے ہیں، ان میں ”ید“ یا ”کف“ سے مراد معنی مفرد نہیں بلکہ معنی جنس ہے، یعنی اس سے مراد دونوں ہاتھ ہیں۔ اس پر کئی قرائن ہیں:
قرینہ 1:
امت کا متوارث عمل دونوں ہاتھ سے مصافحہ کا ہے جیسا کہ دلائل اہلسنت و الجماعت (دلیل نمبر1) میں گزرا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت حماد بن زید، حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہم اللہ کا عمل مبارک دو ہاتھ سے مصافحہ تھا۔
قرینہ2:
فقہاء و محدثین کی تصریحات
(دلائل اہلسنت و الجماعت کی دلیل نمبر4)
قرینہ3:
حدیث میں ہے:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِىَ اللّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلاَّ غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا
(جامع الترمذی:ج2 ص102 باب ما جاء فی المصافحۃ)
ترجمہ:حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بھی دو مسلمان ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے الگ ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔
تو کیا صرف ایک ہاتھ سے گناہ جھاڑنے کی ضرورت ہے اور دوسرے ہاتھ سے گناہ جھاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں؟!
دلیل نمبر2:
کئی احادیث میں ہے کہ صحابی کہتے ہیں کہ ہم نے ایک ہاتھ سے بیعت کی اور خود تصریح کرتے ہیں کہ یہ داہنا ہاتھ تھا۔ مثلاً:
1: حضرت عمرو بن العاص سے روایت میں ہے:
فلما جعل الله الإسلام في قلبي أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اُبسط يدك لأبايعك فبسط يمينه فقبضت يدي فقال ( ما لك يا عمرو ) فقلت أردت أن أشترط فقال ( تشترط ماذا ) قلت يغفر لي قال ( أما علمت يا عمرو أن الإسلام يهدم ما كان قبله وأن الهجرة تهدم ما كان قبلها
(صحیح ابی عوانۃ: رقم الحدیث200)
ترجمہ: حضرت عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام کی حقانیت کو ڈالا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! اپنے ہاتھ کو بڑھائیے ،میں آپ سے بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نےاپنے داہنے ہاتھ کو بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا۔ آپ نے فرمایا: اے عمرو!تجھے کیا ہوا ہے؟میں نے کہا: میری ایک شرط ہے۔ آپ نے فرمایا: کس بات کی ؟ میں نے عرض کی کہ اس بات کی کہ میری مغفرت کی جائے۔ آپ نے فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام سے پہلے جتنے گناہ ہوتے ہیں اسلام لانے سے وہ سارے ختم ہو جاتے ہیں اور ہجرت پہلے گناہوں کا ختم کر دیتی ہے۔
2: ربيعة بن كلثوم حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيةَ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَقُلْتُ لَهُ بِيَمِينِكَ قَالَ نَعَمْ
(مسند احمد: رقم20666)
ترجمہ: ربیعہ بن کلثوم کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ میں نے ابو غادیہ سے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی ہے۔ میں نے ابو غادیہ سے کہا: کیا آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
معلوم ہوا مصافحہ ایک ہاتھ سے ہے۔
جواب:
اولاً۔۔۔ بیعت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول دو ہاتھ سے مصافحہ کا تھا:
1: عبد الرحمن بن رزين قال : مررنا بالربذة فقيل لنا ها هنا سلمة بن الأكوع فأتيته فسلمنا عليه فأخرج يديه فقال بايعت بهاتين نبي الله صلى الله عليه و سلم
(الادب المفرد للبخاری: ص289 باب تقبیل الید ، رقم الحدیث973)
ترجمہ: حضرت عبد الرحمن بن رزين فرماتے ہیں کہ ہم مقامِ ربذہ کے قریب سے گزر رہے تھے کہ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ رہتے ہیں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم سب نے ان کو سلام کیا۔ (دورانِ گفتگو) انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ نکالے (یعنی ہمیں دکھائے) اور فرمایا: ان دونوں ہاتھوں سے میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیعت کی ہے۔
2:علامہ بدر الدین عینی (م855ھ) فرماتے ہیں:
(قد بایعتک کلاما)۔۔۔ كان يبايع بالكلام ولا يبايع باليد كالمبايعة مع الرجال بالمصافحة باليدين
(عمدۃ القاری شرح البخاری: ج13 ص396کتاب التفسیر، تحت سورۃ الممتحنۃ)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں کو زبانی بیعت کرتے تھے، ہاتھ کے ساتھ بیعت نہیں کرتے تھے جیسے مردوں کو دو ہاتھ کے مصافحہ کے ساتھ بیعت کرتے تھے۔
3: علامہ احمد بن محمد بن ابی بکر القسطلانی (م923ھ):
(قد بایعتک کلاما) ای بالکلام لا بالید کما کان یبایع الرجال بالمصافحۃ بالیدین
(ارشادالساری: ج7 ص 380 کتاب التفسیر، تحت سورۃ الممتحنۃ)
ترجمہ: یعنی زبانی بیعت مراد ہے نہ کہ ہاتھ کے ساتھ جیسے مردوں کو دو ہاتھ کے مصافحہ کے ساتھ بیعت کرتے تھے۔
باقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ”یمین“ (دائیں ہاتھ) کا ذکر کرنا اس وجہ سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ”یمین“ (دائیں ہاتھ) کو صحابی کے دونوں ہاتھوں نے پکڑا تھا۔
لہذا مندرجہ بالا روایات میں بھی مصافحہ بیعت سے مراد دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہے، دایاں ہاتھ بطورِ تبرک ذکر کیا۔
دلیل نمبر3:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ چلے جانے کے بعد بیعۃ الرضوان ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ میرا داہنا ہاتھ عثمان کا ہاتھ ہے، پھر آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کے لیے ہے۔
اس حدیث سےبھی ایک ہاتھ کا مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ آپ کا ایک داہنا ہاتھ تو بجائے ایک ہاتھ عثمان کے تھا اور دوسرا خود آپ کا۔ فتفکر۔
(ایک ہاتھ سے مصافحہ از عبد الرحمٰن مبارک پوری:ص24)
جواب:
بیعت کے لیے کیا جانے والا مصافحہ دو ہاتھ سے ہوتا ہے، دلائل گزر چکے ہیں۔ رہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک ہاتھ سے بیعت کا اظہار کرنا تو وہ اس وجہ سےنہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہاتھ سے مصافحہ بیان کرنا چاہتے تھے بلکہ وجہ یہ تھی کہ ہاتھ بھی دو اور آدمی بھی دو، اب ایک ہاتھ ایک ہی آدمی کی طرف سے ہونا تھا۔
آپ ایک ہاتھ سے بیعت کر کے انتقامِ قتل پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نمائندگی کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔
کیا غیر مقلدین کے نزدیک ایک فوت شدہ آدمی کی طرف سے بیعت کی جا سکتی ہے؟ کیونکہ اس وقت خبر یہی مشہور تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے ہیں۔
فائدہ: ہمارے بعض مشائخ کی کتب میں روحانی فیض، فوت شدہ پیر سے بیعت وغیرہ کا ذکر ملتا ہے تو غیر مقلد تڑپ اٹھتے ہیں، لیکن یہاں ایک فوت شدہ آدمی سے ایک شرعی مسئلہ کے ثابت کرنے کے درپے ہیں۔ فوا اسفا
دلیل نمبر4:
لغت میں مصافحہ کا معنی ہے:
1: المصافحۃُ ہی الافضاء بصفحۃ الید الی صفحۃ الید
(المرقاۃ: ج8 ص458 باب المصافحۃ و المعانقۃ)
ترجمہ: مصافحہ کا معنی ہے: ایک ہتھیلی کو دوسری ہتھیلی سے ملانا۔
2: ہی مفاعلۃ من الصفحۃ، و المراد بہا الافضاء بصفحۃ الید الی صفحۃ الید
(فتح الباری: ج11 ص66 باب المصافحۃ)
ترجمہ: مصافحہ کا لفظ ”صفح“ سے ہے، اس سے مراد ایک ہتھیلی کو دوسری ہتھیلی سے ملانا۔
لہذا یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب انسان ایک ہاتھ سے مصافحہ کرے۔
جواب:
1: مصافحہ کا لغوی معنی کچھ بھی ہو ہم شرعی احکام میں معنی شرعی کے پابند ہیں نہ کہ معنی لغوی کے اور شرعی معنی دو ہاتھ سے مصافحہ کرنا ہے۔ لہذا لغوی معنی کاسہارا لے کر شرعی معنی کو نہیں چھوڑاا جا سکتا۔
2: اگر محض ہتھیلی کا ہتھیلی سے رکھنا مراد ہو تو پھر پکڑنا نہیں چاہیے بلکہ ہتھیلی کو ہتھیلی سے ملانا ہی کافی ہونا چاہیے۔
3: محض ہاتھ کا تذکرہ ہے تو اس میں ”دایاں“ کا معنی زیادہ کرنا کون سا لغوی معنی پر عمل کرنا ہے۔
4: لغوی معنی مراد لینا ہے تو حدیث میں مصافحہ کے لیےایک لفظ ”ید“ ملتا ہے اور لغت میں ”ید“ انگلیوں سے لے کر کندھے تک کو کہتے ہیں۔ چنانچہ المعجم الوسیط میں ہے:
الید: من اعضاء الجسد وھی من المنکب الی اطراف الاصابع
(المعجم الوسیط: ص1122)
کہ”الید“ (ہاتھ)جسم کا ایک عضو ہے اور یہ کندھے سے لے کر انگلیوں کے کناروں تک ہوتا ہے۔
اور القاموس الوحید(اردو) میں ہے:
الید:ہاتھ، اس کا اطلاق مونڈھے سے انگلیوں کے کنارے تک ہوتا ہے، مونث ہے۔
(القاموس الوحید: ص924)
پھر غیر مقلدین کو چاہیے کہ صرف ہاتھ نہ ملائیں بلکہ پورا بازو ملائیں تاکہ بتا چلے کہ عمل بالحدیث ہو رہا ہے۔
5: دو ہاتھ ملانے میں بھی تو ایک ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ سے مل جاتی ہے تو دو ہاتھ سے مصافحہ میں بھی تو یہی لغوی معنی پایا جا رہا ہے تو غیرمقلدین کو ایک ہاتھ پر ہی اصرار کیوں؟

!

Download PDF File