مسئلہ خلافت و امامت

User Rating: 1 / 5

Star ActiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مسئلہ خلافت و امامت
ازافادات:متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
اہل السنت کے ہاں امامت کا تصور:
اللہ رب العزت نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا جس کی پہلی کڑی حضرت آدم علیہ السلام اور آخری کڑی جناب خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد شریعت کے اجتماعی نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ عامۃ المسلمین اپنے میں سے کسی اہل اور با صلاحیت فرد کو اپنا رئیس مقرر کریں جو اجتماعی طور پر احکام شریعت کو نافذ کرے۔ اس فرد منتخب کو ”امیر المومنین“ کہا جاتا ہے، یہی ”امام“ بھی کہلاتا ہے اور اس کے اس منصب اقتدار کو ”امامت کبریٰ“ اور ”خلافت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ امیر المومنین، خلیفہ وقت اور امامت کبریٰ پر فائز یہ شخص شریعت خداوندی کو عوام پر نافذ کرتا ہے، سب کے سامنے ظاہر اور صاحب اقتدار ہوتا ہے۔ اہل السنت والجماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امامت کا منصب اسی تصور کے ساتھ مانتے ہیں جو ”خلافت“ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اہل تشیع کے ہاں امامت کا مفہوم:
اہل تشیع کے عقیدہ امامت کا خلاصہ یہ ہے کہ امت کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ امام کو متعین کریں۔ تو اللہ نے قیامت تک کے لیے بارہ امام متعین کردیے ہیں جن میں سے گیارہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ سب سے پہلے امام حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور آخری (بارہویں) امام ”امام غائب “ ہیں جن کو ”امامِ منتظر“ بھی کہا جاتا ہے جو ان کے عقیدہ کے مطابق ”سُرَّ مَنْ رَّاٰہُ“ شہر کے کسی غار میں موجود ہے، مرتبہ امامت؛ نبوت و رسالت کے برابر ہے بلکہ بعض مرتبہ بڑھ کر ہوتا ہے اور امام کو حلت و حرمت، ملک وقدرت اور دیگر وہ اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں جو خاصہ خداوندی ہیں۔
فریقین کے اختلاف کا خلاصہ:
عقیدہ امامت کا جو مفہوم فریقین کے ہاں ہے اس کے لحاظ سے مندرجہ ذیل فرق بطور نتیجہ ظاہر ہوتے ہیں:
فرق نمبر1:
اہل السنت کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد امت میں سلسلہ خلافت چلا ہے جس میں خلیفہ کا تقرر عامۃ المسلمین پر واجب ہے جب کہ اہلِ تشیع کے ہاں سلسلہ امامت چلا ہے جس کا تعین اللہ پر واجب ہے۔ سید عبداللہ شبرشیعی نے امام کے منصوص من اللہ ہونےکا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے :
والذی علیہ الفرقۃ المحقۃ والطائفۃ الحقۃ انہ یحب علی اللہ نصب الامام فی کل زمان.
(حق الیقین ص183)
وقال ایضآً: فکما لایجوز للخلق تعیین نبی فکذا لایجوز لھم تعیین امام.
(حق الیقین: ص185)
فرق نمبر2:
اہل السنت کے ہاں امامت کبریٰ پر فائز خلفاء کی تعداد متعین نہیں جب کہ اہل تشیع کے ہاں 12امام متعین ہیں جو یہ ہیں:
(1)حضرت علی رضی اللہ عنہ(2)حضرت حسن رضی اللہ عنہ(3)حضرت حسین رضی اللہ عنہ(4)حضرت زین العابدین رحمہ اللہ(5)حضرت محمد باقر(6)حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ(7)حضرت موسیٰ کاظم (8)حضرت علی رضا (9)حضرت محمد تقی (10)حضرت علی نقی(11)حضرت حسن عسکری(12)حضرت محمد مہدی
فرق نمبر3:
اہل السنت کے ہاں امام ایسا امتی ہوتا ہے جو باصلاحیت اور خلافت کا اہل تو ہوتا ہے لیکن معصوم نہیں ہوتا جب کہ اہل تشیع کے ہاں امام معصوم ہوتا ہے۔
سید عبداللہ شبر نے امام کی شرائط میں سے پہلی شرط ”عصمت“ کی لگائی ہے:
الاول العصمۃ کما تقدم لانہ حافظ للشرع قائم بہ فحالہ کحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم.
(حق الیقین ص187)
باقر مجلسی لکھتا ہے:
بداں کہ اجماع علماء امامیہ منعقد است بر آنکہ امام معصوم است از جمیع گناہان صغیرہ و کبیرہ از اول عمر تا آخر عمرخواہ عمدا وخواہ سہوا.
(حیوٰۃ القلوب ج5ص49)
فرق نمبر4:
اہل السنت کے ہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں جب کہ اہل تشیع کے ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں۔
فرق نمبر5:
خلیفہ کا وہ فیصلہ جو اجتہادی ہو، اجماعی نہ ہو اس سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے جبکہ امام کے کسی بھی فیصلہ سے اختلاف کی گنجائش نہیں۔
اس کے علاوہ کئی اور فرق پیش کیے جاسکتے ہیں۔
عقیدہ امامت کی تاریخ:
عقیدہ امامت کو امت میں متعارف کرانے والا پہلا شخص عبداللہ بن سبا یہودی تھا۔ علامہ محمد بن عبد الکریم شہرستانی لکھتے ہیں:
عبد الله بن سبأ... أنه كان يهوديا فأسلم... وهو أول من أظهر القول بالنص بإمامة علي رضي الله عنه.
(الملل والنحل : ج1ص172)
خود روافض کی کتب میں اس بات کی صراحت موجود ہےکہ حضرت علی کے وصی اورامام مفروض ہونے کا پہلا مدعی ابن سباتھا۔ چنانچہ ملاباقرمجلسی نے عبداللہ بن سبا کے بارے میں لکھا:
وکان اول من اشھر بالقول بفرض امامۃ علی علیہ السلام .
(بحارالانوار ج25ص152،153 ،رجال کشی ص85)
روافض کے ہاں امامت کی اہمیت:
شیعوں کے پانچ اصولِ دین یہ ہیں:
توحید، نبوت، معاد، امامت اور عدل۔
(اسلام کے بنیادی عقائدمصنف سید مجتبیٰ موسوی ، اردو ترجمہ شیخ روشن علی نجفی)
مسئلہ امامت ان کے ہاں اصولِ دین میں سے ہے جس کا منکر کافر ہے۔ چنانچہ ان کی کتب میں تصریح موجود ہے:
1: عن ابی عبداللہ ، نحن الذین فرض اللہ طاعتنا لایسع الناس الا معرفتنا... من انکرنا کان کافرا.
(اصول کافی ج1ص243کتاب الحجہ باب فرض طاعۃ الائمہ)
2: ہر کہ شک کند وتوقف نماید در امامت امام کافر است.
(حیوٰۃ القلوب ج5ص81 فصل چہارم در بیان وجوب معرفت امام است)
اہل تشیع کے ہاں امام کے اوصاف:
کتبِ روافض میں عقیدہ امامت کو بڑی بسط وتفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور ان لوگوں نے اس عقیدہ میں غلو کرتے ہوئے ائمہ کے لیے ایسے اوصاف بیان کیے ہیں جن کے ذریعے امام کا مقام حضرات انبیاء علیہم السلام سے بھی بلند اور خدا کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ ان کی کتابوں میں عموماً ائمہ کے اوصاف تین طرح کے بیان کیے گئے ہیں:
1: امام میں عام امتی سے امتیازی اوصاف کا وجود
2: امام میں اوصافِ نبوت کا وجود
3: امام میں خدائی اوصاف کا وجود
1: امام اور عام امتی میں فرق
[۱]: ملا باقر مجلسی نے اپنی کتاب ”حق الیقین “ میں امام کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:
پاکیزہ وناف بریدہ وختنہ کردہ متولد میشود چوں از شکم مادر بزیر می آید دستہارابر زمین میگزارد وصدابشہادتین بلند میکند.
(حق الیقین ص42)
اس عبارت سے امام کے یہ اوصاف ثابت ہوتے ہیں :
1:امام پاک صاف پیداہوتا ہے 2:ناف برید ہ ہوتا ہے 3:مختون پیداہوتا ہے 4:پیداہوتے ہی زمین پر ہاتھ رکھ کر کلمہ پڑھتا ہے۔
ایک جگہ لکھا : وسایہ ندارد.
(حق الیقین ص42)
کہ امام کا سایہ نہیں ہوتا۔
[۲]: عبداللہ شبر نے اپنی تصنیف ”حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین“ میں امام کے شرائط و اوصاف کو ذکر کرتے ہوئے لکھا:
الثانی ان یکون افضل من جمیع امتہ من کل جھۃ. .. الثالث: کونہ اشجع الامۃ... السادس: ان یکون ازھد الناس واطوعہم للہ واقربہم منہ.
(حق الیقین ج1ص187، 188)
2: امام میں اوصاف نبوت
[1]: امام منصوص من اللہ ہوتا ہے
سید عبداللہ شبر نے امام کے منصوص من اللہ ہونےکا ذکر ان الفاظ میں کیا :
والذی علیہ الفرقۃ المحقۃ والطائفۃ الحقۃ انہ یحب علی اللہ نصب الامام فی کل زمان.
(حق الیقین ص183)
[2]: امام معصوم ہوتا ہے
سید عبداللہ شبر نے امام کی شرائط میں سے پہلی شرط عصمت کی لگائی ہے:
الاول العصمۃ کما تقدم لانہ حافظ للشرع قائم بہ فحالہ کحال النبی صلی اللہ علیہ وسلم.
(حق الیقین ص187)
باقر مجلسی نے لکھا:
بداں کہ اجماع علماء امامیہ منعقد است بر آنکہ امام معصوم است از جمیع گناہان صغیرہ و کبیرہ از اول عمر تا آخر عمرخواہ عمدا وخواہ سہوا.
(حیوٰۃ القلوب ج5ص49)
[3]: امام مفترض الطاعۃ ہوتا ہے
کلینی نے اس کے متعلق مستقل باب قائم کیا ہے:
باب فرض طاعۃ الائمۃ.
(اصول کافی ج1ص241)
[4]:امام صاحبِ وحی ہوتا ہے
کلینی نے ایک باب قائم کیا ہے: ”باب الفرق بین الرسول والنبی المحدث“ اس کے تحت روایت نقل کی کہ رسول وہ ہوتا ہے جس کے پاس وحی لے کر جبرائیل امین تشریف لاتے ہیں، رسول جبرائیل کو دیکھتا بھی ہے اور اس کی بات کو سنتا بھی ہے اور نبی وہ ہوتاہے جو کبھی جبرائیل کو دیکھتا ہے کبھی صرف وحی سنتا ہے،
والامام ھو الذی یسمع الکلام ولا یری الشخص.
(اصول کافی ج1ص231)
[5]:امام کے پاس معجزات ہوتے ہیں
ملاباقر مجلسی نے امامت کی شرائط میں یہ شرط بھی بیان کی ہے:
آنکہ معجزہ ھاازاوظاھر شود کہ دیگران ازاوعاجز باشند.
(حق الیقین ص42)
[6]:امام کو احتلام نہیں ہوتا
(حق الیقین ص42)
[7]:امام کی آنکھ سوتی ہے دل جاگتا ہے
(حق الیقین ص42)
[8]: امام کے پاخانہ سے مشک کی خوشبو آتی ہے نیز اس کو زمین چھپالیتی ہے
(حق الیقین ص42)
ان عبارات سے ثابت ہوا کہ یہ لوگ اگر چہ علی الاعلان امام کو نبی نہیں کہتے لیکن در پردہ امام میں یہ اوصاف مان کر اس کو نبی کے برابر کھڑاکردیتے ہیں بلکہ ان کی بعض کتب سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ امام کو نبی کے برابر بلکہ اس سے بڑھ کر مانتے ہیں، مثلاً:
1: وحق ایں است کہ درکمالات وشرائط وصفات فرق میان پیغمبر وامام نیست.
(حیاۃ القلوب ج5ص18)
2: ان مرتبۃ الامامۃ کالنبوۃ۔۔۔ فکما لایجوز للخلق تعیین نبی فکذا لایجوز لھم تعیین امام.
(حق الیقین لعبد اللہ شبر: ص185)
3:مرتبہ امامت بالا تر از مرتبہ پیغمبر ایست.
(حیوٰۃ القلوب ج5 ص17)
3: امام میں خدا کے اوصاف
1: باب ان الائمۃ علیھم السلام یعلمون علم ماکان ومایکون وانہ لایخفیٰ علیھم الشئی صلوات اللہ علیھم.
(اصول کافی ج1ص319)
2: باب ان الائمۃ علیھم السلام اذاشآءوا ان یعلموا علموا.
(اصول کافی ج1ص316)
3: باب ان الائمۃ علیھم السلام یعلمون متیٰ یموتون وانھم لایموتون الا باختیار منھم.
(اصول کافی ج1ص317)
4: باب ان الارض کلھا للامام علیہ السلام.
(اصول کافی ج1ص470)
5: کلینی نے حضرت امام جعفر صادق کی طرف نسبت کرکے لکھا:
اما علمت ان الدنیا والآ خرۃ للامام یضعھا حیث یشاء ویدفعھا الیٰ من یشاء.
(اصول کافی ج1ص472)
بارہویں امام کے خواص:
[۱]: امام غائب کا نام لینا جائز نہیں
کلینی نے اصول کافی میں باب قائم کیا: باب فی النہی عن الاسم اور اس کے تحت امام ابو الحسن علی العسکری کا قول نقل کیا کہ انہوں نے بارہویں امام کے متعلق حکم دیا:
لا یحل لکم ذکرہ باسمہ فقلت [ای داؤد بن قاسم الجعفری] فیکف نذکرہ؟فقال قولوا الحجۃ من آل محمد صلو ات اللہ علیہ وسلامہ.
(اصول کافی ج1ص393 کتاب الحجہ)
اس کے بعد کلینی نے امام جعفر صادق کا یہ قول نقل کیا:
صاحب ھذا الامر لایسمیہ باسمہ الا کافر
(اصول کافی ج1ص394)
[۲]: جب امام غائب آئے گا تو سب سے پہلے اس کی پیروی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔
محمد بن ابراہیم بن جعفر نعمانی نے لکھا:
عن ابی حمزۃ الثمانی قال سمعت ابا جعفر محمد بن علی علیہ السلام یقول لو قد خرج قائم آل محمد علیہم السلام... اول من یتبعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعلی علیہ السلام الثانی.
(غیبت نعمانی المعروف کتاب الغیبۃ ص376 الباب الثالث عشر ماروی فی صفتہ وسیرتہ )
ملا باقر مجلسی نے اس بات کو یوں لکھا:
اول کسے کہ بیعت اور کند محمد باشد وبعد ازاں علی.
(حق الیقین ص 347)
[۳]: امام غائب جب ظاہر ہوگا تو بغیر گواہوں کے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام کی شریعت کے مطابق فیصلہ کرے گا
کلینی نے اس پر مستقل باب قائم کر کے حضرت امام محمد باقر کی طرف منسوب کر کے یہ روایت لکھی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
اذا قام قائم آل محمد علیہ السلام حکم بحکم داود وسلیمان لا یسئال بینۃ
(اصول کافی ج1 ص461)
[۴]: باقر مجلسی نے اپنے مہدی کی ایک عجیب علامت یہ بھی بیان کی ہے:
بدن برھنہ ای درپیش قرص آفتاب ظاھر خواھد شد .
(حق الیقین ص 347)
یعنی مہدی جب آئے گا تو جسم برہنہ ہوگا۔
دلائل اہل السنت علی ثبوت الخلافۃ
دلیل نمبر1:
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ•
(سورۃ النور:55)
تفسیر:
1: علامہ محمود آلوسی بغدادی فرماتے ہیں:
واستدل كثير بهذه الآية على صحة خلافة الخلفاء الأربعة رضي الله تعالى عنهم لأن الله تعالى وعد فيها من في حضرة الرسالة من المؤمنين بالإستخلاف وتمكين الدين والأمن العظيم من الأعداء ولا بد من وقوع ما وعد به ضرورة امتناع الخلف في وعده تعالى ولم يقع المجموع إلا في عهدهم فكان كل منهم خليفة حقا باستخلاف الله تعالى إياه حسبما وعد جل وعلا لا يلزم عموم الإستخلاف لجميع الحاضرين المخاطبين بل وقوعه فيهم كبنو فلان قتلوا فلانا فلا ينافي ذلك عموم الخطاب الجميع وكون من بيانية وكذا لا ينافيه ما وقع في خلافة عثمان وعلي رضي الله تعالى عنهما من الفتن لأن المراد من الأمن الأمن من أعداء الدين وهم الكفار کما تقدم۔
(روح المعانی:ج18ص208)
2: امام تفسیر امام نظام الدين حسن بن محمد بن حسين النيسابوري فرماتے ہیں:
قال أهل السنة : في الآية دلالة على إمامة الخلفاء الراشدين لأن قوله { منكم } للتبعيض وذلك البعض يجب أن يكون من الحاضرين في وقت الخطاب ، ومعلوم أن الأئمة الأربعة كانوا من أهل الإيمان والعمل الصالح ، وكانوا حاضرين وقتئذ وقد حصل لهم الاستخلاف والفتوح ، فوجب أن يكونوا مرادين من الآية .
(تفسیر النیشاپوری: ج6ص24)
3: امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ فرماتے ہیں کہ:
’’اس آیت میں استخلاف کا ربط سابقہ آیات سے یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں حق تعالیٰ نے کافروں اور منافقوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اپنے دلائل قدرت، وحدانیت بیان فرما کر ان کو ایمان لانے کی ترغیب دی ہے۔ یہ آیت استخلاف اس ترغیب کا تکملہ اور تتمّہ ہے کہ دیکھو! ایمان والوں کے لیے اس دنیا میں اِن اِن انعامات کا ہم نے وعدہ کیا ہے۔ اگر تم ایمان لاؤ تو ان انعامات سے تم بھی فیض یاب ہو گے۔ آیت استخلاف کے بعد خدا نے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے... اور ’’الّذین اٰمنوا وعملوا‘‘ دونوں صیغہ ماضی کے ہیں، پھر اس کے بعد لفظ ’’منکم‘‘ ہے جو ضمیر حاضر پر شامل ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ وعدہ ان لوگوں سے ہے جو نزولِ آیت کے وقت موجود تھے اور نزول سے پہلے ایمان لا چکے تھے۔ پس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت امام مہدی یا خلفائے بنی اُمیّہ و بنی عبّاس وغیرہ ’’موعود لہم‘‘ نہیں ہو سکتے۔ ’’موعود لہم‘‘ وہی صحابہ کرام مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم ہیں جو نزولِ آیت کے پہلے سے ان دونوں صفتوں کے ساتھ موصوف تھے ،خلفائے اربعہ بھی ان ہی میں ہیں۔
(تحفہ خلافت صفحہ109، 110۔ مطبوعہ تحریک خدّام اہل سنت جہلم)
دلیل نمبر2:
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث 7137)
دلیل نمبر3:
عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَإِنْ اسْتُعْمِلَ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث693)
دلیل نمبر4:
عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : « مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الإِسْلاَمِ مِنْ عُنُقِهِ ».
(سنن ابی داؤد: باب فى قتل الخوارج)
دلیل نمبر5:
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 1848)
دلیل نمبر6:
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ.
(صحیح البخاری: ح 3455، صحیح مسلم: ح1842)
دلیل نمبر7:
قَالَ الْعِرْبَاضُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقَالَ قَائِلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا فَقَالَ « أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِى فَسَيَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِى وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ».
(سنن ابی داؤد: کتاب السنۃ- باب فی لزوم السنۃ)
دلیل نمبر8:
عن حذيفة بن اليمان قلت: يا رسول الله إنا كنا بشر فجاء الله بخير فنحن فيه فهل من وراء هذا الخير شر قال نعم قلت هل وراء ذلك الشر خير قال نعم قلت فهل وراء ذلك الخير شر قال نعم قلت كيف قال يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي ولا يستنون بسنتي وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس قال قلت كيف أصنع يا رسول الله إن أدركت ذلك قال تسمع وتطيع للأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك فاسمع وأطع.
(صحیح مسلم: ح 1847)
اہل تشیع کے دلائل/ شبہات کے جوابات
قبل اس سے کہ اہلِ تشیع کے مزعومہ دلائل کو ذکر کر کے ان کا علمی تجزیہ کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس توجیہ کا جائزہ لیا جائے جو انہوں نے عقیدہ امامت کے صراحتاً قرآن میں نہ ہونے کے متعلق کی ہے۔ اہلِ تشیع کے نزدیک امامت عقائد دینیہ کا بنیادی جزء ہے جس پر ایمان لائے بغیر ایمان نامکمل ہے لیکن پورے قرآن مجید میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں امامت پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہو، یا امامت پر ایمان نہ رکھنے کو کفر و شرک قرار دیا گیا ہو، دور قریب کے معروف شیعی عالم خمینی صاحب نے اپنی کتاب ”کشف الاسرار“ میں امامت پر گفتگو کی ہے اور اس پر دلائل دینے کی کوشش کی ہے۔ قبل اس سے کہ اس کے دلائل کا جائزہ لیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خمینی صاحب کی اس توجیہ کا بھی جائزہ لیا جائے جو انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پیش کی ہے۔ اسی کتاب کے ص105 پر ایک سوال اٹھایا کہ:
چرا خدا چنیں اصل مہم را یک بارہم در قرآن صریح نہ گفت کہ ایں ہمہ نزاع و خونریزی برسر ایں کار پیدا نشود.
ترجمہ: کیوں اللہ تعالیٰ نے اس اہم اصل (بنیاد) کو قرآن میں صراحتاً ایک بار بھی بیان نہ فرمایا تاکہ اس سلسلہ میں جو اختلاف اور خونریزی ہوئی وہ پیدا ہی نہ ہوتی؟
اس سوال کے کئی جوابات جو خمینی صاحب نے دیے، ان میں سے ایک یہ ہے:
در صورتیکہ امام را در قرآن ثبت میکردند آنہائیکہ جز برائے دنیا و ریاست با اسلام وقرآن سروکار نداشتد و قرآن را وسیلہ اجراء نیات فاسدہ خود کردہ بودند آں آیات را از قرآن بر دارند و کتاب آسمانی را تحریف کنند.
(کشف الاسرار ص114)
ترجمہ: اس صورت میں کہ امام کا قرآن میں ذکر کردیا جاتا تو وہی لوگ جو دنیا طلبی کے سوا اسلام اور قرآن سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے اور قرآن کو اپنی فاسد نیتوں کا ذریعہ بنا رکھا تھا، ان آیات کو جن میں امام کا ذکر ہوتا قرآن سے نکال دیتے اور آسمانی کتاب میں تحریف کردیتے۔
تبصرہ:
ایک طرف اہلِ تشیع کا دعویٰ ہے کہ امامت کی تعیین اللہ تعالیٰ پر واجب ہے، دوسری طرف بزعم شیعہ حضرات اللہ تعالیٰ مخلوق کی مخالفت کے ڈر سے اس عقیدہ کا صراحتاً ذکر نہیں کر رہے۔ اس سے تو خدا پر یہ الزام آرہا ہے (معاذ اللہ) کہ اللہ تعالیٰ اپنے واجب کی ادائیگی سے قاصر ہے۔
دلیل نمبر1:
خمینی صاحب نے امامت کے اثبات کے لیے اس آیت سے استدلال کیا ہے، لکھتے ہیں:
اینک بذکر بعضی از آیات کہ در موضوع امامت وارد شدہ می پر دازیم واز خرد کہ فرستادہ نزدیک خدا است داوری میخواہیم.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ.
(کشف الاسرار ص137)
کہ ہم وہ آیات ذکر کرتے ہیں جو امامت کے موضوع پر نازل ہوئی ہیں اور عقل سے جو خدا کا قریب ترین فرستادہ ہے، انصاف چاہتے ہیں۔
خمینی صاحب کا کہنا ہے کہ ”اولی الامر“ سے بارہ ائمہ معصومین مراد ہیں۔
جواب:
1: محض عقلی قیاسات سے مذہب کا عقیدہ ثابت نہیں ہوتا جب کہ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو۔ اس سے ہر شخص آیت پڑھ کر اپنا مزعومہ نظریہ قرآن سے ثابت کرنے کی جرأت کرے گا۔
2: پوری آیت کو ملاحظہ فرمائیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا.
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تنازع اور اختلاف کے وقت اللہ اور رسول کا فیصلہ حرفِ آخر سمجھا جائے گا نہ کہ اولی الامر کا، اگر اولی الامر سے ائمہ معصومین مراد ہوتے تو ان کی رائے کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کا کیا معنیٰ؟
دلیل نمبر2:
خمینی صاحب نے عقیدہ امامت کے اثبات پر اس آیت سے بھی استدلال کیا ہے:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ.
(کشف الاسرار مترجم عربی ص149)
خمینی صاحب کا کہنا ہے کہ آیت میں جس چیز کے پہچانے کا ذکر ہے وہ عقیدہ امامت ہے۔
جواب:
اس آیت سے استدلال باطل ہے اس لیے کہ:
1: آیت میں تبلیغ کا حکم مطلق ہے جس سے مراد شریعت ہے، اسے ایک جز کے ساتھ بغیر دلیل کے مقید کرنا باطل ہے، کیونکہ قاعدہ ہے:
”العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص السبب“
2: آیت میں ”مَااُنْزِلَ“ کی تبلیغ کرنے کا حکم ہے، اور ”تبلیغ“ تصریح اور بیان کو کہا جاتا ہے۔ خمینی صاحب نے پہلے کہا کہ امامت کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ فاسد نیتوں والے کہیں اسے قرآن سے حذف نہ کردیں، سوال یہ ہے کہ اگر”ما انزل“ سے مراد امامت ہے تو اسے اللہ نے خود مخفی رکھا ہے تو اس کی تبلیغ اور تصریح اور بیان کا حکم دینا سوائے تضاد کے اور کیا ہے؟ جب کہ قرآن تضادات سے پاک ہے۔
دلیل نمبر3:
خمینی صاحب لکھتے ہیں کہ ہم قرآنی آیات ذکر کر رہے ہیں جن کی تفسیر میں اہل السنت کے حوالہ جات سے ثابت کریں گے کہ یہ آیات امامت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں:
اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِيْنًا.
(کشف الاسرار ص156 عربی مترجم )
اس آیت کے تحت خمینی صاحب لکھتے ہیں کہ ”غایۃ المرام“ میں باب سادس کے تحت چھ احادیث کتبِ اہلِ سنت سے ملتی ہیں جن میں یہ مضمون ہے کہ یہ آیت غدیر خم والے واقعہ کے دن نازل ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے چن لیا اور ان احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا :
اللہ اکبر علی اکمال الدین وتمام النعمۃ ورضا الرب برسالتی والولایۃ لعلی.
(کشف الاسرار ص156 عربی مترجم )
جواب:
اولاً…… خمینی صاحب نے استدلال میں کتب اہل السنت کے حوالے کے ضمن میں ”غایۃ المرام“ کا حوالہ دیا جس سے موصوف کے استدلال کی ساری قلعی کھل جاتی ہے اس لیے کہ غایۃ المرام سنی عالم کی نہیں بلکہ شیعی عالم کی کتاب ہے جن کا کام علماء اہل السنت پر کذب و افتراء کے علاوہ کچھ نہیں۔
(حاشیہ کشف الاسرار ص156)
ثانیاً…… غایۃ المرام جو ہاشم بن سلیمان البحرانی الشیعی کی کتاب ہے، اس میں جن چھ روایات کا ذکر ہے جو بزعم خمینی صاحب کتب اہل السنت سے لی گئی ہیں، ان تمام کا ماخذ جوینی کی کتاب”فرائد السمطین فی فضائل المرتضیٰ و البتول و السبطین“ ہے۔
(دیکھیے غایۃ المرام ص560، 572)
”جوینی“ نام کے کئی محدث و مؤلف ہیں:
1: الجويني: الإمام الكبير شيخ الإسلام أبو عمران موسى بن العباس الخراساني الجويني الحافظ مؤلف " المسند الصحيح " الذي خرجه كهيئة " صحيح " مسلم . توفي أبو عمران بجوين سنة ثلاث وعشرين وثلاث مئة
[سير أعلام النبلاء للذهبي الجزء15 صفحة235]
2: الجويني: شيخ الشافعية أبو محمد عبد الله بن يوسف بن عبد الله بن يوسف بن محمد بن حيويه الطائي السنبسي كذا نسبه الملك المؤيد الجويني والد إمام الحرمين.... توفي في ذي القعدة سنة ثمان وثلاثين وأربع مئة
[سير أعلام النبلاء للذهبي الجزء17 صفحة617]
3: الجويني: الإمام الكبير شيخ الشافعية إمام الحرمين أبو المعالي عبد الملك بن الإمام أبي محمد عبد الله بن يوسف بن عبد الله بن يوسف بن محمد بن حيويه الجويني ثم النيسابوري ضياء الدين الشافعي صاحب التصانيف . ولد في أول سنة تسع عشرة وأربع مئة.... توفي في الخامس والعشرين من ربيع الآخر سنة ثمان وسبعين وأربع مئة ودفن في داره ثم نقل بعد سنين إلى مقبرة الحسين فدفن بجنب والده.
[سير أعلام النبلاء للذهبي الجزء18 صفحة468]
یہ تین محدث ہیں جو اہل السنت کے جید ائمہ ہیں۔ ایک چوتھا آدمی بھی ”جوینی“ کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے حالات یہ ہیں:
الجويني (644 - 722 ه‍ = 1246 - 1322 م) إبراهيم بن محمد بن المؤيد أبي بكر بن حمويه الجويني صدر الدين أبو المجامع... من أهل (جوين بها رحل في طلب الحديث فسمع بالعراق والشام والحجاز وتبريز وآمل طبرستان والقدس وكربلاء وقزوين وغيرها وتوفي بالعراق ... جعله الأمين العاملي من أعيان الشيعة ولقبه بالحموئي (نسبة إلى جده حمويه) وقال : له (فرائد السمطين في فضائل المرتضى والبتول والسبطين) في طهران في 160 ورقة وقال الذهبي : شيخ خراسان كان حاطب ليل - يعني في رواية الحديث - جمع أحاديث ثنائيات وثلاثيات ورباعيات من الأباطيل المكذوبة.
[الأعلام لخير الدين الزركلي الجزء1 صفحة63]
اس سے معلوم ہوا کہ ”فرائد السمطین“ کا مصنف شیعہ ہے، شیعہ حضرات کا اسے ”شیخ الاسلام“ کے لقب سے ذکر کرنا کذب صریح ہے اس لیے کہ ”شیخ الاسلام“ تو موسى بن العباس الجويني کا لقب ہے نہ کہ ابراہیم بن محمد۔ مزید یہ کہ اس کتاب کے مطالعہ اور دیگر حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اثنی عشری شیعہ تھا، ثبوت پیش خدمت ہے:
1: یہ عصمت غیر انبیاء کا قائل تھا۔
(فرائد السمطين ج2 ص133)
2: مختلف دلائل دے کر بارہ اماموں کا اثبات کرتا ہے۔
(فرائد السمطين ج2 ص140 الباب الثاني والثلاثون)
3: یہ اس بات کا قائل تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بارہ ائمہ کی وصیت کی تھی۔
(فرائد السمطين ج2 ص136 الباب الثاني والثلاثون)
4: یہ عليّ بن موسى المعروف امام رضا کی عصمت کا قائل تھا اور انہیں آٹھواں امام کہتا تھا۔
(فرائد السمطين ج2 ص187 الباب التاسع والثلاثون)
5: اس کے کئی شیخ اور استاذ رافضی تھے۔
(دیکھیے: فرائد السمطين ج2 ص73 الباب السادس عشر، الذريعة لآقا بزرگ الطهراني الجزء2 صفحة442، )
6: کتب شیعہ کو بطور حجت پیش کرتا ہے۔ مثلاً
نقل من كتاب كمال الدين
[فرائد السمطين ج2 صفحات 140 و 142 و 147]
نقل من كتاب عيون أخبار الرضا
[فرائد السمطين ج2 صفحات 174 و179 و188 و191 و192 و200 إلخ]
7: شیعوں کا اعتراف ہے کہ یہ انہی میں سے تھا۔
(دیکھیے: ذيل كشف الظنون لآقا بزرگ الطهراني ص70، الذريعة لآقا بزرگ الطهراني الجزء8 صفحة126، موسوعة مؤلفي الإمامية - مجمع الفكر الإسلامي الجزء1 صفحة379 وغیرہ)
یہ تمام امور اس کے شیعہ ہونے پر دال ہیں۔ لہٰذا اس کو سنی کہنا اور اس کی روایت کو سنیوں پر بطور حجت پیش کرنا انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔
خمینی صاحب نے سنیوں کے حوالے سے ثابت کرنا تھا کہ آیت کا شان نزول امامت علی کے بارے میں ہوا لیکن افسوس کہ یہ لوگ تو شیعہ نکلے۔
ثالثاً…… شیعی مفسرین کا یہ دعویٰ کہ یہ آیت حجۃ الوداع سے واپسی کے موقعہ پر غدیر خم پر 18ذی الحجہ کو خطبہ کے بعد نازل ہوئی، غلط ہے اس لیے کہ جمہور مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں نازل ہوئی یعنی 9ذی الحجہ بروز جمعہ شام کے وقت۔ خود حضرت علی رضی االلہ عنہ کا قول ہے کہ یہ آیت عرفہ کی شام (یعنی 9ذی الحجہ) کو نازل ہوئی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں:
عن علي قال: نزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو قائم عَشِيَّةَ عرفة{ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ}
(تفسیر ابن کثیر: ج3 ص27)
امام بخاری حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مختلف نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ آیت یوم عرفہ کو نازل ہوئی مثلاً:
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ نَزَلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَاهَا عِيدًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ وَإِنَّا وَاللَّهِ بِعَرَفَةَ.
(صحیح البخاری: حدیث نمبر4606 تفسیر سورۃ المائدۃ)
رابعاً…… سنی مفسرین نے اس روایت کا صراحتا رد کیا ہے۔ لہٰذا اسے سنیوں کے سر تھوپنا غلط ہے:
قال الآلوسی البغدادی: وأخرج الشيعة عن أبى سعيد الخدرى أن هذه الآية نزلت بعد أن قال النبى صلى الله عليه و سلم لعلى كرم الله وجهه فى غدير خم : من كنت مولاه فعلى مولاه فلما نزلت قال عليه الصلاة و السلام : الله أكبر على إكمال الدين وإتمام النعمة ورضاء الرب برسالتى وولاية على كرم الله وجهه بعدى ولايخفى أن هذا من مفترياتهم وركاكة الخبر شاهدة على ذلك فى مبتدأ الأمر.
(روح المعانی: ج6 ص61)
کہ شیعوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ مذکورہ آیت (الیوم اکملت لکم دینکم) غدیر خم پر اس وقت نازل ہوئی جب نبی علیہ السلام نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا:” من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ پھر جب یہ آیت نازل ہوگئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ اکبر علی اکمال الدین واتمام النعمۃ ورضا الرب برسالتی وولایۃ علی کرم اللہ وجہہ بعدی“
یہ روایت شیعہ افتراءات کا ایک نمونہ ہے اور سند کے علاوہ اس روایت کے رکیک الفاظ بھی خود اس کے من گھڑت ہونے پر گواہ ہیں۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے دو شیعہ روایتیں نقل کر کے فرمایا:
ولا يصح هذا ولا هذا، بل الصواب الذي لا شك فيه ولا مرية: أنها أنزلت يوم عرفة، وكان يوم جمعة، كما روى ذلك أمير المؤمنين عمر بن الخطاب، وعلي بن أبي طالب، وأول ملوك الإسلام معاوية بن أبي سفيان، وترجمان القرآن عبد الله بن عباس، وسَمُرَة بن جندب، رضي الله عنهم، وأرسله [عامر] الشعبي، وقتادة بن دعامة، وشَهْر بن حَوْشَب، وغير واحد من الأئمة والعلماء.
(تفسیر ابن کثیر: ج3 ص26 تحت ھذہ الآیۃ)
ترجمہ: نہ یہ روایت صحیح ہے نہ وہ بلکہ حق بات جس میں ادنیٰ شک و شبہ کی گنجائش نہیں وہ یہ ہے کہ یہ آیت عرفہ 9 ذی الحجہ کو جمعہ کے دن نازل ہوئی جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ نیز امام شعبی، امام قتادہ ،امام شہر بن حوشب اور دیگر ائمہ اور علماء کا یہی قول ہے۔
علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ نے اس آیت سے شیعہ کے استدلال پر بہترین رد فرمایا، لکھتے ہیں:
المسألة الثالثة : قال أصحابنا : هذه الآية دالة على بطلان قول الرافضة ، وذلك لأنه تعالى بيّن أن الذين كفروا يئسوا من تبديل الدين ، وأكد ذلك بقوله {فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ } فلو كانت إماة علي بن أبي طالب رضي الله عنه منصوصاً عليها من قبل الله تعالى وقبل رسوله صلى الله عليه وسلّم نصاً واجب الطاعة لكان من أراد إخفاءه وتغييره آيساً من ذلك بمقتضى هذه الآية ، فكان يلزم أن لا يقدر أحد من الصحابة على إنكار ذلك النص وعلى تغييره وإخفائه ، ولما لم يكن الأمر كذلك ، بل لم يجر لهذا النص ذكر ، ولا ظهر منه خبر ولا أثر ، علمنا أن ادعاء هذا النص كذب ، وأن علي بن أبي طالب رضي الله عنه ما كان منصوصاً عليه بالإمامة.
(التفسیر الکبیر للرازی: تحت ہذہ الآیۃ)
ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ یہ آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم“ روافض کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے، اس لیے کہ اللہ نے اس آیت کی ابتداء میں فرمایا ہے ”اَلْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ“ (آج کے دن کافر ناامید ہوگئے تمہارےدین سے، سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو) جس نے واضح کردیا کہ کافر دین میں تبدیلی سے مایوس ہوگئے ہیں اور یہ بھی فرمادیا کہ اب ان سے مت ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اگر حضرت علی بن ابی طالب کی امامت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے منصوص ہوتی یعنی نص واجب الطاعۃ ہوتی تو اسے چھپانے اور اسے تبدیل کرنے والے کو اس آیت کے مطابق نا امید ہوجانا چاہیے تھا یعنی صحابہ میں سے کوئی بھی اس نص کے انکار، اس کی تبدیلی یا اس کے چھپانے پر قادر نہ ہوتا، اور جب ان میں سے کوئی بات پیش نہ آئی بلکہ اس نص امامت کا ذکر ہوا نہ اس کی خبر ظاہر ہوئی اور نہ اس کی کوئی روایت آئی تو ہمیں علم ہوگیا کہ کہ اس نص کا دعویٰ محض کذب ہے اور یہ کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یقیناً منصوص بالامامت نہیں تھے۔
دلیل نمبر4:
شیعہ حضرات نے اپنے دعوی پر ایک حدیث یہ بھی پیش کرتے ہیں:
من کنت مولاہ فعلی مولاہ .
کہ جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا علی مولا ہے۔
شیعہ کہتے ہیں کہ یہ روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل پر نص ہے اور عقیدہ امامت کی بنیاد ہے۔ ( اسی روایت کی وجہ سے یہ لوگ قرآنی آیات میں تاویلات بلکہ تحریفات کر گزرتے ہیں)
جواب:
اس حدیث کے متعلق چند بنیادی باتیں بیان کی جاتی ہیں تاکہ اصل مفہوم واضح ہو اور شیعہ استدلال کی قلعی کھل سکے۔
پہلی بات:
روایت کی اسنادی حیثیت
یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے ، بعض صحیح اور بعض حسن درجہ کے ہیں۔
1: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
واما حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ فقد اخرجہ الترمذی والنسائی وھو کثیر الطرق جدا وقد استوعبہا ابن عقدۃ فی کتاب مفرد و کثیر من اسانیدہا صحاح و حسان.
(فتح الباری: ج7س74)
2: حافظ ابن حجر مکی الہیثمی لکھتے ہیں:
وبیانہ انہ حدیث صحیح لا مریۃ فیہ وقد اخرجہ جماعۃ کالترمذی والنسائی و احمد وطرقہ کثیرۃ جدا.
(الصواعق المحرقہ ص42)
دوسری بات:
خطبہ غدیر کا وقت اور موقع محل
فتحِ مکہ کے بعد لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے (کما قال تعالیٰ: ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً) دین اسلام کی تکمیل ہورہی تھی یہاں تک کہ حجۃ الوداع جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری اور اہم سفر تھا، میں 9ذی الحجہ کو آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم الخ“ نازل ہوئی، اس سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں، امت کو پیش آنے والی گمراہیوں سے بچانے والی نصیحتوں اور ارشادات سے نوازا تاکہ امت باہمی اختلافات سے محفوظ رہ کر صراط مستقیم پر گامزن رہے۔
حجۃ الوداع سے واپسی پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ”حجفہ“ کے قریب ایک تالاب کے کنارے درختوں کے سائے میں آپ صلی علیہ وسلم نے پڑاؤ ڈالا، یہ جگہ ”وادی خم“ اور ”غدیر خم“ کے نام سے معروف ہے، نماز کا اعلان کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی اور اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہی خطبہ ”حدیث غدیر“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور ذی الحجہ کی 18 تاریخ تھی۔
(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر ج4ص414 )
تیسری بات:
خطبہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی:
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع کے موقعہ پر 4 ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ میں تشریف لائے، حرم مکہ پہنچ کر عمرہ کے ارکان ادا فرمائے، اور پھر چار دن تک مکہ میں قیام فرمایا، انہی چار دنوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ (جو رمضان 10ھ سے یمن تشریف لے گئے ہوئے تھے) واپس مکہ مکرمہ پہنچے اور وہ خمس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جسے لانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں یمن روانہ کیا تھا، اس سفر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعض ساتھیوں کو آپ رضی اللہ عنہ سے چند شکایتیں ہوگئی تھیں جن کا تذکرہ ان ساتھیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان شکایات کے ازالہ کے لیے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔
ان روایات کو حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ”باب بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن ابی طالب و خالد بن ولید رضی اللہ عنہما الی الیمن“ قبل حجۃ الوداع کے تحت جمع کیا ہے۔ چند روایات یہ ہیں:
1: عن ابی بريدة قال: أبغضت عليا بغضا لم أبغضه أحدا قط، قال: وأحببت رجلا من قريش لم أحبه إلا على بغضه عليا قال فبعث ذلك الرجل على خيل فصحبته ما أصحبه إلا على بغضه عليا قال فأصبنا سبيا قال فكتب (ای حاکم الیمن خالد بن الولید) إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أبعث إلينا من يخمسه قال فبعث إلينا عليا وفي السبي وصيفة من أفضل السبي. قال: فخمس وقسم فخرج ورأسه يقطر فقلنا: يا أبا الحسن ما هذا ؟ فقال ألم تروا إلى الوصيفة التي كانت في السبي، فإني قسمت، وخمست فصارت في الخمس، ثم صارت في أهل بيت النبي صلى الله عليه وسلم ثم صارت في آل علي ووقعت بها، قال، فكتب الرجل إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم فقلت أبعثني فبعثني مصدقا فجعلت أقرأ الكتاب وأقوله صدق قال: فأمسك يدي والكتاب فقال: " أتبغض عليا " قال: قلت نعم ؟ قال " فلا تبغضه وإن كنت تحبه فازدد له حبا فوالذي نفس محمد بيده لنصيب آل علي في الخمس أفضل من وصيفة " قال: فما كان من الناس أحد بعد قول النبي صلى الله عليه وسلم أحب إلي من علي.
(البدایۃ والنہایۃ: ج5 ص121)
2: عن خاله عمرو بن شاس الاسلمي وكان من أصحاب الحديبية. قال: كنت مع علي بن أبي طالب في خيله التي بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن فجفاني علي بعض الجفاء. فوجدت في نفسي عليه فلما قدمت المدينة، اشتكيته في مجالس المدينة وعند من لقيته، فأقبلت يوما ورسوله الله جالس في المسجد، فلما رآني أنظر إلى عينيه نظر إلي حتى جلست إليه فلما جلست إليه قال: " إنه والله يا عمرو بن شاس لقد آذيتني " فقلت: إنا لله وإنا إليه راجعون، أعوذ بالله والاسلام أن أوذي رسول الله. فقال: " من آذى عليا فقد آذاني "
(البدایۃ والنہایۃ: ج5 ص121)
3: عن أبي سعيد الخدري. أنه قال: بعث رسول الله علي بن أبي طالب إلى اليمن. قال أبو سعيد، فكنت فيمن خرج معه، فلما أخذ من إبل الصدقة، سألناه أن نركب منها ونريح إبلنا - وكنا قد رأينا في إبلنا خللا - فأبى علينا، وقال: إنما لكم فيها سهم كما للمسلمين. قال، فلما فرغ علي وانطفق من اليمن راجعا، أمر علينا إنسانا وأسرع هو وأدرك الحج، فلما قضى حجته، قال له النبي صلى الله عليه وسلم. " ارجع إلى أصحابك حتى تقدم عليهم " قال أبو سعيد: وقد كنا سألنا الذي استخلفه ما كان علي منعنا إياه ففعل، فلما عرف في إبل الصدقة أنها قد ركبت، ورأى أثر الركب، قدم الذي أمره ولامه. فقلت: أما أن الله علي لئن قدمت المدينة لاذكرن لرسول الله، ولاخبرنه ما لقينا من الغلظة والتضييق. قال: فلما قدمنا المدينة غدوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أريد أن أفعل ما كنت حلفت عليه، فلقيت أبا بكر خارجا من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رآني وقف معي، ورحب بي وساءلني وساءلته. وقال متى قدمت ؟ فقلت: قدمت البارحة، فرجع معي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل، وقال هذا سعد بن مالك بن الشهيد. فقال: ائذن له فدخلت، فحييت رسول الله وحياني، وأقبل علي وسألني عن نفسي وأهلي وأحفى المسألة، فقلت: يا رسول الله ما لقينا من علي من الغلظة وسوء الصحبة والتضييق، فاتئد رسول الله وجعلت أنا أعدد ما لقينا منه، حتى إذا كنت في وسط كلامي، ضرب رسول الله على فخذي، وكنت منه قريبا وقال: " يا سعد بن مالك ابن الشهيد: مه، بعض قولك لاخيك علي، فوالله لقد علمت أنه أحسن في سبيل الله ".
قال: فقلت في نفسي ثكلتك أمك سعد بن مالك - ألا أراني كنت فيما يكره منذ اليوم، ولا أدري لا جرم والله لا أذكره بسوء أبدا سرا ولا علانية.
(البدایۃ والنہایۃ: ج5 ص122)
4: عن يزيد بن طلحة بن يزيد بن ركانة قال إنما وجد جيش علي بن [ أبي ] طالب الذين كانوا معه باليمن، لانهم حين أقبلوا خلف عليهم رجلا، وتعجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: فعمد الرجل فكسى كل رجل حلة، فلما دنوا خرج عليهم علي يستلقيهم فإذا عليهم الحلل. قال علي: ما هذا ؟ قالوا: كسانا فلان: قال: فما دعاك إلى هذا قبل أن تقدم على رسول الله فيصنع ما شاء فنزع الحلل منهم، فلما قدموا على رسول الله اشتكوه لذلك، وكانوا قد صالحوا رسول الله، وإنما بعث عليا إلى جزية موضوعة.
(البدایۃ والنہایۃ: ج5 ص123)
5: عن عمران بن حصين قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم جيشا واستعمل عليهم علي بن أبي طالب فمضى في السرية فأصاب جارية فأنكروا عليه وتعاقد أربعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا إذا لقينا رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبرناه بما صنع علي وكان المسلمون إذا رجعوا من السفر بدءوا برسول الله صلى الله عليه و سلم فسلموا عليه ثم أنصرفوا إلى رحالهم فلما قدمت السرية سلموا على النبي صلى الله عليه و سلم فقام أحد الأربعة فقال يا رسول الله ألم تر إلى علي بن أبي طالب صنع كذا وكذا فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قام الثاني فقال مثل مقالته فأعرض عنه ثم قام الثالث فقال مثل مقالته فأعرض عنه ثم قام الرابع فقال مثل ما قالوا فأقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم والغضب يعرف في وجهه فقال ما تريدون من علي ؟ ما تريدون من علي إن عليا مني وأنا منه وهو ولي كل مؤمن بعدي.
(جامع الترمذی: باب مناقب علي بن أبي طالب رضي الله عنه)
ان مجموعہ روایات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مختلف حضرات خصوصاً جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفرِ یمن میں شریک تھے، ان کو حضرت علی کی طرف کچھ بد گمانی یا کدورت پیدا ہوگئی تھی، چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا شمار کبار صحابہ اور السابقون الاولون میں ہے اور مزید یہ کہ آئندہ چل کر اپنے وقت میں امت کی قیادت و امامت کے فرائض بھی آپ نے سر انجام دینے ہیں اس لیے ضروری تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کی براءت ظاہر کریں بلکہ امت کو یہ حکم بھی دیں کہ وہ حضرت علی کے ساتھ محبت وعقیدت کا تعلق رکھیں۔
چوتھی بات:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ غدیر خم میں کیا ارشاد فرمایا؟ مختلف روایات اس بارے میں ملتی ہیں۔ ان میں مسند احمد بن حنبل کی روایت تقریباً تمام روایات کی جامع ہے، ملاحظہ ہو:
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ فَنُودِيَ فِينَا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالُوا بَلَى قَالَ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ قَالُوا بَلَى قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ قَالَ فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ هَنِيئًا يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.
(مسند احمد: رقم الحدیث 18479)
خلاصہ کلام: اہل تشیع کا اس روایت سے امامت اور خلافت علی بلا فصل پر استدلال باطل ہے اس لیے کہ:
[1]: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت اور موالاۃ کا اظہار محض اس لیے تھا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کے بارے میں کوئی رنجش باقی نہ رہے، خلافت بلا فصل اور امامت کا اس میں دور دور کا تذکرہ نہیں۔
[2]: کتب اہل السنت میں جہاں حدیث غدیر خم موجود ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح اشارات بھی ہیں جن میں خلافت صدیق اکبر کا ذکر ہے یا خلفاء راشدین کی ترتیب کا ذکر ہے (گو اشارۃً ہی سہی) جس کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ حدیثِ غدیر خم ایک وقتی ضرورت کے پیش نظر وارد ہوئی نہ کہ مستقلاً اصول امامت یا خلافت کے لیے۔
[3]: اگر یہ حدیث مسئلہ امامت یا حضرت علی کے خلیفہ بلا فصل کے متعلق ہوتی تو اس کا محل اور مقام حجۃ الوداع کا اجتماع تھا جہاں قرب و بعد تمام جگہوں کے مسلمان جمع تھے جو ایک عالمی اجتماع تھا، جس کا مقصد ایک عالمی نظریہ امت کو دینا تھا لیکن یہ حدیث خم کے تالاب کے پاس بیان ہوئی ہے جو اس بات کی یقینی دلیل ہے کہ اس سے مقصود آفاقی اور اجتماعی فیصلہ کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ ایک وقتی ضرورت کا بیان کرنا تھا۔
دلیل نمبر5:
بعض شیعہ ویب سائٹس پر کتب اہل السنت سے امامت کا ثبوت کے عنوانات سے صحیحین کی روایات کو مستدل بنایا گیا ہے، جو ان الفاظ میں ہے۔
”ہم صحیحین سے اس بارے میں نقل شدہ روایات پیش کر نے پر اکتفا ء کرتے ہیں:
عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة؛ قال: سمعت النبی(ص)یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة،۔ لم اسمعھا،فقال ابی: انہ قال: کلھم من قریش•
[صحیح بخاری ج۹، کتاب الاحکام، باب(۵۲)”استخلاف“ حدیث۶۷۹۶۔ صحیح مسلم ج۶، کتاب الامارة، باب(۱۱)” الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش“حدیث ۱۸۲۱]
مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:
جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول(ص) اللّٰہ ومعی ابی، فسمعتہ، یقول: لایَزَالُ ہذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْہَا الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلھم من قریش•
[صحیح مسلم ج ۶ ،کتاب الامارہ ،باب۱حدیث۱۸۲۱۔(کتاب الامارة کی حدیث نمبر۹)]
اس حدیث کومختلف مضامین کے ساتھ اہل سنت کی اہم کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے اور یہ حدیث مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے بطلان اور مذہب شیعہ کے حق ہونے پر ایک محکم و مضبوط دلیل ہے، اس لئے کہ اس حدیث کا مضمون مذہب شیعہ کے علاوہ کسی اور فرقہ ٴ اسلامی کے رہنماؤں سے منطبق نہیں ہوتا،کیونکہ اہل سنت خلفائے راشدین (جو چار ہیں ) کے قائل ہیں ، یا پھر امام حسن مجتبی (ع) کی خلافت کو ملا دیں توپانچ ہوتے ہیں ، لیکن حدیث میں رسول(ص) نے بارہ فرمائے ہیں ، لہٰذا ان کے مذہب سے یہ حدیث منطبق نہیں ہوتی۔۔۔۔ لہٰذا صرف شیعہ اثنا عشریہ کے خلفاء کی تعداد سے منطبق ہوتی ہے، ان میں سر فہرست مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور آخر حضرت مھدی حجة ابن الحسن العسکری ارواحنا لہ الفداء ہیں۔ “
جواب :
یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ کتب اہل السنت میں آئی ہے، جن میں سے چند کتب کے الفاظ پیش ہیں تاکہ اس روایت کا مطلب واضح ہو:
صحیح مسلم(حدیث نمبر1821) میں یہ الفاظ ہیں:
لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا•
کہ جب تک بارہ خلفاء ہوں گے لوگوں کا معاملہ چلتا رہے گا۔
سنن ابی داؤد(حدیث نمبر4282) میں ہے:
لا يزال هذا الدين عزيزا إلى اثني عشر خليفة•
کہ یہ دین بارہ خلیفہ کے آنے تک غالب رہے گا۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر7222) میں یہ الفاظ ہیں:
يَكُونُ اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا••• كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ•
(کہ بارہ امیر ہوں گے، سب کے سب قریشی ہوں گے۔)
اس حدیث کا معنی و مطلب:
شیعہ حضرات کااس حدیث سے اپنے مزعومہ ائمہ مراد لینا کسی طرح درست نہیں اس لیے کہ ائمہ اہل السنت نے اس حدیث کے جو مطلب بیان کیے ہیں وہ شیعہ موقف کی واضح تردید کرتے ہیں اور اصول اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو روایت کتب اہل السنت میں ہے س کا معنی بھی اہل السنت کا بیان کردہ ہی معتبر ہو گا نہ کہ شیعہ فرقہ کا، اس لیے اس حدیث کے چند مطلب پیش خدمت ہیں:
مطلب نمبر1:
حافظ ا بن حجر عسقلانی رحمہ اللہ( م 852 ھ) نے اس حدیث پر طویل گفتگو فرمائی ہے اور جس تشریح کو راجح قرار دیاہے وہ علامہ ابن الجوزی اور قاضی عیاض مالکی کی تشریح ہے، جو کہ پیش خدمت ہے:
وينتظم من مجموع ما ذكراه (یعنی ابن الجوزی و القاضی عیاض) أوجه: أرجحها الثالث من أوجه القاضي (و ہو ان المراد ان يكون الاثنا عشر في مدة عزة الخلافة وقوة الإسلام واستقامة أموره والاجتماع على من يقوم بالخلافة) لتأييده بقوله في بعض طرق الحديث الصحيحة كلهم يجتمع عليه الناس• وإيضاح ذلك ان المراد بالاجتماع انقيادهم لبيعته والذي وقع ان الناس اجتمعوا على أبي بكر ثم عمر ثم عثمان ثم علي إلى ان وقع أمر الحكمين في صفين فسمى معاوية يومئذ بالخلافة ثم اجتمع الناس على معاوية عند صلح الحسن ثم اجتمعوا على ولده يزيد ولم ينتظم للحسين أمر بل قتل قبل ذلك ثم لما مات يزيد وقع الاختلاف إلى ان اجتمعوا على عبد الملك بن مروان بعد قتل بن الزبير ثم اجتمعوا على أولاده الأربعة الوليد ثم سليمان ثم يزيد ثم هشام …… فهؤلاء سبعة بعد الخلفاء الراشدين والثاني عشر هو الوليد بن يزيد بن عبد الملك اجتمع الناس عليه لما مات عمه هشام…… وانتشرت الفتن وتغيرت الأحوال من يومئذ ولم يتفق ان يجتمع الناس على خليفة بعد ذلك لأن يزيد بن الوليد الذي قام على بن عمه الوليد بن يزيد لم تطل مدته بل ثار عليه قبل ان يموت بن عم أبيه مروان بن محمد بن مروان ولما مات يزيد ولى أخوه إبراهيم فغلبه مروان ثم ثار على مروان بنو العباس إلى ان قتل ثم كان أول خلفاء بني العباس أبو العباس السفاح ولم تطل مدته مع كثرة من ثار عليه…… وانفرط الأمر في جميع أقطار الأرض إلى ان لم يبق من الخلافة الا الاسم في بعض البلاد…… ومن نظر في أخبارهم عرف صحة ذلك•
(فتح الباری شرح صحیح البخاری: ج13 ص263)
ترجمہ: ابن الجوزی اور قاضی عیاض نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کی چند توجیہات کی ہیں جن میں سے تیسری توجیح راجح ہے کہ ”بارہ سےمراد وہ اربابِ خلافت ہیں جو اس دور میں ہوں گے جس میں خلافت کی شان وشوکت ، اسلام کی قوت، اسلام کے امور کی طاقت عروج پر ہوگی اور لوگ ان خلفاء پر متفق اور مجتمع ہوں گے“ اس مطلب کی تائید بعض طرق سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کلھم یجتمع علیہ الناس“ [ کہ ان خلفاء پر لوگ متفق اور مجتمع بھی ہوں گے] لوگوں کے متفق اور مجتمع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سارے لوگ ان بارہ کی بیعت کے لیے متفق ہوں گے۔ جو کچھ اتفاق اس بارے میں پیش آیا وہ یہ ہے کہ لوگ پہلے پہل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے ، پھر حضر ت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے یہاں تک کہ واقعہ صفین میں حکم مقرر کرنے کا معاملہ پیش آیا جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خلافت کا نام دیا۔ پھر لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق ہوئے جب حضرت حسن بن علی کی نے دستبرداری کر کے صلح کرا دی تھی۔ پھر لوگ حضرت معاویہ کے بیٹے یزید کی خلافت پر متفق ہوئے۔ [بقول ابن الجوزی حدیث کی یہ پیشنگوئی استقامت سلطنت سے متعلق تھی باعتبار مدح خلیفہ کے نہیں تھی۔ بحوالہ كشف المشكل من حديث الصحيحين لابن الجوزی: ج1 ص289، لہذا اس سے یزید کی مدح و تعریف لازم نہیں آتی۔ از ناقل] حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ پر اتفاق ہو نہیں پایا تھا کہ آپ شہید ہوگئے۔ جب یزید کی وفات ہوئی تو خلافت کے معاملے میں اختلاف پڑ گیا یہاں تک کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے بعد عبد الملک بن مروان کی خلافت پر لوگ متفق ہوگئے۔ عبد الملک بن مروان کی وفات کے بعد ان کے چار بیٹوں ولید ، سلیمان ، یزید اور ہشام کی خلافت پر اتفاق پایا گیا، تو خلفاء راشدین کی بعد یہ سات حضرات ہیں۔ بارہواں خلیفہ ولید بن یزید بن عبدالملک ہے اس پر لوگوں کا اتفاق اس وقت ہوا تھا جب اس کا چچا ہشام بن عبدالملک فوت ہو ا تھا (تو لوگوں نے متفقہ طور پر ولید بن یزید بن عبدالملک کو خلیفہ نامزد کر دیا) اس کی وفات کے بعد سے اب تک فتنوں کا دور دورہ رہا اور حالات ابتر رہے۔ اس کے بعد خلیفہ کی نامزدگی پر کبھی (مجموعی) اتفاق نہیں پایا گیا۔ اس لیے کہ یزید بن ولید جو اپنے چچا ولید بن یزید پر قابض ہوا ، کی مدت حکومت زیادہ دیر نہ رہی بلکہ اس کےمرنے سے قبل اس کے باپ کا چچا زاد بھائی مروان بن محمد بن مروان اس پر مسلط ہوا۔ جب یزید فوت ہوا تو اس کا بھائی ابراہیم تخت نشین ہوا۔ جس پر مروان (مروان الحمار ) غالب ہوا پھر مروان الحمار پر بنو العباس حملہ آور ہوتے رہے یہاں کہ وہ قتل ہوگیا۔ بنو عباس کے پہلا خلیفہ ابو العباس السفاح تھا ، وہ بھی زیادہ مدت نہ ٹھہر سکا کیونکہ اس پر بھی فتنوں کا سیلاب امڈ پڑا اور معاملات ایسے چلتے رہے کہ صرف چند شہروں میں خلافت برائے نام رہ گئی ( اس کی حکومت کا استحکام اور اتفاقِ عوام ویسا نہ رہا جیسا کہ بنی عبدالملک بن مروان کے ادوار میں رہا) تو جو شخص ان ادوار کے حالات میں غور کرے تو اس پر بخوبی واضح ہو گا کہ یہ بارہ خلفاء کے تعین کے بارے میں یہ قول صحیح ہے۔
اس راجح تشریح سے واضح ہوا کہ بارہ خلفاء سے مراد وہ نہیں ہیں جن کے شیعہ قائل ہیں، لہذا شیعہ حضرات کا اس حدیث کو اپنے موقف پر دلیل سمجھنا سوائے بے خبری کے اور کچھ نہیں۔
مطلب نمبر2:
مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:
ان عدد الاثنی عشر مبنی علی الاقل و لا ینافی ان یکون الخلفاء اکثر منہ•
(تکملہ فتح الملہم للعلامۃ تقی العثمانی: ج3 ص285)
ترجمہ: خلفاء کی تعداد ”بارہ“ ہو یہ کم از کم عدد ہے بارہ سے زیادہ خلفاء ہونے کے منافی نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”بارہ خلیفہ“ کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی زینت اور طاقت ان خلفاء کے وجود تک رہے گی چاہے وہ 12 ہوں یازیادہ کیونکہ12 کہنے سے زائد کی نفی نہیں ہوتی۔ یہی بات علامہ عینی نے ان الفاظ میں لکھی ہے :
أنه لم يقل لا بلى إلا اثنا عشر وإنما قال يكون اثنا عشر فلا يمنع الزيادة عليه•
(عمدۃ القاری ج35ص328)
کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ”صرف بارہ خلیفہ ہوں گے“ بلکہ فرمایا: ”بارہ ہوں گے“ (یعنی بارہ کے عدد پر منحصر نہیں کیا) اس سے پتا چلا کہ بارہ سے زائد بھی خلفاء ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ کلام: 1: اس حدیث میں جن خلفاء کا ذکر ہے ان سے مراد وہ حضرات ہرگز مراد نہیں جن کے شیعہ قائل ہیں، اس لیے کہ اہل السنت و الجماعت (جن کی کتب میں یہ حدیث درج ہے) خود اس کی تشریح جن خلفاء سے کرتے ہیں وہی معتبر ہو گی نہ کہ شیعہ حضرات کی من چاہی تشریح، مزید یہ کہ دوسری توجیہہ کے مطابق تو یہ عدد حصر کے لیے ہے ہی نہیں تو ان سے حتمی طور پر بارہ مراد لینا کیسے درست ہو گا؟ البتہ اس دوسری توجیہہ کے مطابق اہل السنت والجماعت کے ہاں چونکہ ان بارہ مذکورہ حضرات کے علاوہ بھی خلفاء گزرے ہیں اس لیے ان کے ہاں ”بارہ“ کا عدد تکثیر کے لیے بھی ہو تب بھی ان کے خلفاء پر منطبق آتا ہے۔ لہذا شیعہ حضرات کا یہ کہنا ”ان (اہل السنۃ) کے مذہب سے یہ حدیث منطبق نہیں ہوتی“ باطل و مردود ہے۔
2: علماء اہل السنت و الجماعت نے ان کا مصداق جن خلفاء کو قرار دیا ہے ان کے نام ماقبل میں پیش کر دیے گئے ہیں۔
3: یہ حدیث ان خلفاء پر منطبق ہوتی ہے جن کے ہم اہل السنت و الجماعت قائل ہیں۔ تفصیل عرض کر دی گئی ہے۔