منتخب عوامی نمائندوں کے نام

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
منتخب عوامی نمائندوں کے نام!!
مولانا محمد کلیم اللہ حنفی
ہم جمہوری دور سے گزر رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہماری جغرافیائی اور نظریاتی شناخت ہے۔ اس کے ادارے بالخصوص سینٹ ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں قابلِ صد احترام ولائق تکریم ہیں۔یہ وہ فورم ہیں جہاں عوام کے منتخب نمائندے عوام کے حقوق کی موثر منصوبہ بندی اور قانون سازی کرتے ہیں تاکہ اندرونی و بیرونی سازشیں ،معاشرتی بدامنی ، معاشی عدم استحکام ، کرپشن ، بے روزگاری ،مہنگائی اور دیگرقومی و ملی مشکلات کو دور کیا جا سکے اور اہلیان ِوطن کومحفوظ ، خوشحال،باعزت اورپرسکون زندگی مل سکے۔
یہ ادارے قوم کے مقتدر اور مقدس ادارے کہلاتے ہیں۔ چنانچہ اپنی امتیازی حیثیت کے باعث ان کے آداب بھی دیگر اداروں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمارے معزز ممبران کو اپنی حیثیت اور اپنی اداروں کی حیثیت کا احساس کرنا چاہیے۔
ان کے سامنے یہ حقیقت ہر وقت ملحوظ رہنی چاہیے کہ وہ قوم کے مینڈیٹ اور اعتماد کے بل بوتے یہاں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پہنچے ہیں۔
یہ ذمہ داری بہت نازک اور حساس ہوتی ہے اس کو نبھانے کے لیے سنجیدگی ، متانت ، برداشت ، تحمل، رواداری اور وسعت ظرفی ناگزیر ہے ورنہ محض سیٹ پر چمٹے رہنے سے ملک و قوم کو قطعاً کوئی فائدہ نہیں پہنچےگا۔
لیکن!قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوری روایات ، سیاسی ضابطہ اخلاق، سنجیدگی ، متانت ،برداشت،تحمل و رواداری اور آداب ِاختلاف کا بحران ہے۔
ہمارے بیچ تنگ نظری اور تنگ دلی فروغ پا رہی ہے۔ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کا سینہ فراخ نظر نہیں آتا۔ بجا تنقید کو سہنے اور اپنی غلط پالیسیوں پر نظر ثانی یا تبدیل کرنے کو اپنی ہتک اور اپنے لیے باعث عار سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست کو ملک اور قوم کا مسئلہ سمجھنے کی بجائے اپنی پارٹی اور اناکا مسئلہ تصور کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہم جمہوری سطح پر ترقی نہیں کر پا رہے۔
ملک کی تقدیر بدلنے اور اسے صحیح رخ پر لے کر چلنے کے لیے اپوزیشن جماعت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہوتی ہے۔ حکومت کے غلط فیصلوں پر موثر احتجاج واک آؤٹ وغیرہ کرنا ، ناانصافی پر اپنی آواز بلند کرنا اس جماعت کا اخلاقی و سیاسی فریضہ ہوتا ہے اس لیے دنیا کے کسی ملک میں اس کی اہمیت و افادیت کا انکار نہیں کیا گیا۔لیکن…………
اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ دیانت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے ، ہر حکومتی فیصلے پر خواہ وہ قوم اور ملک کے حق میں مفید بھی ہو اس کو اعتراض و تنقید کی بھینٹ چڑھانا بھی کسی طور پر روا نہیں۔ یہ انصاف کے خون کرنے کے مترادف ہے جسے اب یہ ملک اور قوم مزید سہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔
اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں درست حکومتی فیصلوں کا تہہ دل سے خیر مقدم کرے۔ ان کا یہ رویہ وسیع الظرف ہونے کا پتا دے گا۔
جبکہ ہمارے اداروں میں نہ تو حکومتی جماعت اور نہ ہی اپوزیشن مذکورہ بالا قوانین کی پاسداری کرتے ہیں۔ ایوانِ اقتدار کے اجلاسوں کی کاروائیاں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں یقین جانیے کہ جو پورے ملک کے شہہ دماغ کہلانے والے لوگ ہیں بعض اوقات ان کی سیاسی گفتگو اتنی سطحی قسم ہوتی ہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا یہ معزز ارکان پارلیمنٹ ہیں ؟؟
چنانچہ پچھلے دنوں اس قسم کی بعض نامناسب باتیں دیکھی اور سنی گئیں ، پارٹی بازی کی بنیاد پر دوسرے فریق کی ہتک عزت کرنا کہاں کی دانشمندی کہلاتی ہے۔ ؟
میرے ملک کے معزز ارکان پارلیمان! ذرا سنجیدگی سے کام لینے کی کوشش فرمائیں آپ کے اس غیر سنجیدہ ،غیر سیاسی اور غیر اخلاقی طرزِ عمل سے ساری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی الگ ہوتی ہے ، ہماری سیاسی ساکھ کمزور ہوتی ہے ، اہلیان وطن کی دل آزاری بھی ہوتی ہے اور سب سے بڑھ پر پاکستان کا امیج بہت خراب ہوتا ہے۔
افراط و تفریط کا شکار ہونے سے خود بھی بچیں اور اپنی قوم کو بھی اس سے بچائیں اعتدال کو مضبوطی سے تھامیں اور پاکستانی قوم کو اپنے عمل سے اعتدال کا سبق دیں۔ عالمی حالات جس ڈگر پر جا رہے ہیں اس کا اندازہ مجھ جیسے عام شہری کی بنسبت آپ جیسے معزز رکن پارلیمنٹ کو زیادہ ہوگا۔
مغربی استعمار ہماری چولہیں ہلا رہا ہے۔ امریکہ اور ہمارے ہمسایہ ممالک کا گٹھ جوڑ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔
ہماری ایٹمی قوت کو بے اثر کرنے کے تانے بانے بنے جا رہے ہیں۔ ہم نے یہ ملک اور اس کی آزادی و خود مختاری جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کی تھی ، ہمارا دشمن پھر ہم سے ملک اور آزادی کو چھیننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔
خدارا !اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔ اپنوں کے ساتھ لڑنے کے بجائے دشمن سے لڑنے کی منصوبہ بندی کرو۔
آپ کے دم قدم سے اس ملک کی آزادی ، خود مختاری ، سالمیت اور بقاء جڑی ہوئی ہے اپنی حیثیت کا خیال رکھو۔
ورنہ خاکم بدہن یہ ملک مزید عدم استحکام کی دلدل میں دھنستا چلا جائے گا اور ہم اپنے ہاتھوں خود شکار ہوجائیں گے۔