نومبر

حشر کا تصور

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
حشر کا تصور
عائشہ ملک
میں راستے میں ہی تھی جب مغرب کی اذان ہوئی۔ آج جاب سے آتے وقت کافی دیر ہو چکی تھی میں جیسے ہی گھر پہنچی مغرب کا وقت تقریبا ختم ہی ہو چکا تھا میں نے جلدی جلدی وضو کیا اور ویسے ہی گیلے ہاتھ پاؤ ں لے کر جانماز پر نیت باندھ کر کھڑی ہو گئی میرے چہرے سے بار بار پانی ٹپک رہا تھا میں بار بار آستین سے صاف کرتی اور نماز جاری رکھتی نماز کے دوران ہی مجھے یاد آیا کہ میں امی کی دوائیاں لانا بھول گئی تهی آج آفس میں بہت کام تھا کھانا کھانے کا بھی وقت نہیں ملا۔میں بہت تھک چکی تھی سجدے میں جاتے ہی میں نے نماز میں دھیان لگانے کی بہت کوشش کی لیکن مجهے لگا میں ایک ایسے میدان میں تھی جہاں پر بہت سارے لوگ جمع تھے سب کے ہاتھ میں ایک ایک کتاب تھی۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تبھی کسی نے ایک کتاب میرے ہاتھ میں بھی تھما دی جس پر میرا نام لکھا تھا میں نے کتاب کھولی جس میں میرے اچھے برے اعمال لکھے ہوئے تھے میرا دل بیٹھ گیا میں نے سوچا یاﷲ کیا میں مر گئی ہوں ؟میں نے سب طرف نظریں گھمائیں سب ایک لائن میں کھڑے اپنی اپنی کتاب جمع کرا رہے تھے
Read more ...

خواتین پر تشدد

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
خواتین پر تشدد
شمس تبریز قاسمی
کائنات کی زیب وزینت کا سہرا عورت کے سر جاتا ہے۔ وہ معاشرے کی حقیقی معمار ہوتی ہے۔معاشرے میں نکھار پیدا کرنے اور اسے خوبصورت بنانے کا فن صرف عورت ہی جانتی ہے اوران ہی کے اچھے کردار کی وجہ سے ایک تہذیب یافتہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
جیسے کہ اگر ایک مرد کو تعلیم یافتہ کر دیا جائے تو ممکن کہ اس کا فائدہ صرف اس کی ذات تک ہی محدود رہے لیکن ایک عورت کو تعلیم دینے سے مراد ایک پوری نسل کو تعلیم دینا ہے۔
یوں اب عورت جس روپ یا رشتے میں ہو وہ اپنے کچھ حقوق رکھتی ہے۔کیونکہ عورت صرف جنس نہیں انسان ہے وہ بھی احساس و جذبات رکھتی ہے۔اپنی خواہشات رکھتی ہے۔
لیکن افسوس کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہاں ہر مرد ہی عورت پر غالب آنا چاہتا ہے۔فرسودہ روایات کے مارے ہوئے اور پسماندہ ذہنیت رکھنے والے لوگ آج بھی عورت کو حقیر ہی جانتے ہیں۔
Read more ...

تہمت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive

">تہمت

منزہ آصف
عفیفہ بہت شریف لڑکی تھی۔ باوقار،دیندار، عفت و حیا جیسی صفات کا پیکر تھی۔اپنے نام کی طرح پاک دامن تھی۔وہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتی تھی اور اس تعلیم نے اسے صحیح معنوں میں مسلم اخلاق و شعار عطا کئے تھے۔
یوں تو وہ مدرسہ کے ہوسٹل میں رہائش پذیر تھی۔۔مگر کبھی کبھی اسکی خالہ اسے چھٹی کے دن اپنے پاس لے آتی تھی اس سے عفیفہ کی بھی دلجوئی ہوجاتی اور خالہ کی بھی۔۔۔
ادھر خالہ کے گھر میں انکی شادی شدہ نند رہتی تھی۔وہ ذرا تیکھے مزاج تھی۔۔۔بات بات پہ بگڑنا انکی دیرینہ عادت تھی۔
اس جمعرات کو اسکی خالہ اسے لینے مدرسہ آئی ، عفیفہ نے سارے اسباق کی کتابیں، دھونے والے کپڑے ساتھ لیے۔اور لاہور کی چاند گاڑیوں میں سوار ہو کر گھر پہنچ گئے۔
عفیفہ نے سب کو سلام کیا،
Read more ...

جھوٹ کی پھیلتی امر بیل

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
جھوٹ کی پھیلتی امر بیل
محمد ہاشم
جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے ،جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ،جھوٹ بدترین گناہ ہے ،کسی بارے میں خلاف حقیقت خبر دینے کو جھوٹ کہا جاتا ہے۔ یہ سبق زندگی کے تدریسی عمل کے دور میں ہمیں اساتذہ دیا کرتے تھے اور تقریباً روزانہ ہمیں اُن واقعات سے گزرنا پڑتا تھا جس میں تھوڑا بہت، ہم سمیت ہماری جماعت کے ساتھی، ہمارے دوست جھوٹ بولنے میں ملوث ہو جایا کرتے تھے ،کبھی سبق یاد نہ کرنے کی صورت میں ،کبھی گھر کا کام مکمل نہ ہونے کے باعث تو کبھی تاخیر سے اسکول پہنچنے کی وجہ سے ، لیکن جھوٹ بولتے ہوئے ہمارے انگ انگ سے یہ اظہار ہو جایا کرتا تھا کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ زندگی بھر کا مشاہدہ ہے کہ جھوٹ کی وجہ سے کبھی کامیابی کا سامنا نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ خفت وشرمندگی کا ہی سامنا کرنا پڑا۔یہ سوال ہمارے ذہن کے ننھے دریچوں میں ہمیشہ کلبلاتا رہتا تھاکہ آیا جھوٹ کے ذریعے کامیابی حاصل کیوں نہیں ہو تی ،کیوں ہمیشہ جھوٹ بولنے کے بعد شرمندگی اور خجالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
Read more ...

دل کا پردہ

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
دل کا پردہ ؟؟
نگہت قیوم
کافی عر صہ کے بعد آج ایک شادی میں جانے کا اتفاق ہوا۔
اتفاق اس لیے کہ میں ایسی تقریبات میں جانے سے ذیادہ تر گریز کرتی ہوں جہاں مرد و زن میں اختلاط کے بسبب پے پردگی کا احتمال ہو.
لیکن یہ شادی قریب میں ہی تھی کہ جب چاہوں گهر واپس آ جاتی اور جس لڑکی کی شادی ہو رہی تھی اسی کے اصرار پہ حامی بھرنا پڑی کیونکہ اس نے یقین دلایا تھا کہ آپ کے لیے پردے کا احتمال ہو گا۔
جب وہاں پہنچی تو کافی گہما گہمی تهی۔
سب گھر کی میزبان خواتین سے ملنے کے بعد میں نے دلہن کے بارے میں دریافت کیا ربیعہ کہاں ہے؟
تو بلا توقف مجھے اس کے پاس پہنچا دیا گیا۔
Read more ...
Page 1 of 2