حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
بَابُ مَا جَاءَ فِي عِبَادَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالاَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ : أَتَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ : أَفَلاَ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا.
ترجمہ:حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قدر لمبی نفل نماز پڑھی کہ آپ کے قدم مبارک میں ورم آگیا۔ آپ سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: حضرت! آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں اور مشقت برداشت فرماتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی لغزشیں تو معاف فرمادی ہیں۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنا بڑا احسان فرمایاہے) تو کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟
حضرت اسودبن یزیدفرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین امی عائشہ رضی اللہ عنہاسے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھاکہ رات کو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معمول تھا؟ تو (میری امی )حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ رات کے پہلے حصہ میں سو جاتے، پھر قیام فرماتے تھے،اس کے بعد جب سحری کا وقت قریب ہوتا تو آپ وتر ادا فرماتے، پھر آپ اپنے بستر پر تشریف لے آتے،پھر اگر آپ کو رغبت ہوتی تواپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت فرماتے،پھر جب اذان ہوتی توآپ تیزی سے اٹھتے،اگر آپ حالت جنابت میں ہوتےتوغسل فرماتےورنہ صرف وضو فرما لیتے۔
زبدۃ:
اطباء کے نزدیک بھی صحبت کا بہترین وقت اخیر شب ہےکیونکہ یہ اعتدال کا وقت ہے۔اول وقت میں پیٹ بھرا ہوتاہےاور ایسی حالت میں صحبت نقصان دہ ہوتی ہےاور بھوک کی حالت میں اور زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے۔ اخیر شب کا وقت اس لحاظ سے بھی بہتر ہوتاہےکہ اس میں خاوند اور بیوی دونوں کی طبیعت میں سوکر اٹھنے کے بعدخوب نشاط ہوتا ہے۔
لیکن یہ سب طبی مصلحتیں اور حکمتیں ہیں، شرعی طور پر ہر وقت جائز ہے۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اول شب اور دن کے مختلف اوقات میں بھی صحبت کرنا ثابت ہے۔البتہ علماء نے لکھاہےکہ عین نماز کے وقت صحبت کرنے سےاگر حمل ٹھہر جائےتو اولاد والدین کی نافرمان ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاَتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ.
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کو تہجد کے لیے اٹھو تو اول دو مختصر رکعتیں پڑھ لیا کرو۔
زبدۃ:
اس سے مراد تحیۃ الوضو کی دو رکعتیں ہیں جن کی ادائیگی سے نیند کا غلبہ دور ہوکر بدن میں چستی آجائے گی، پھر اس کے بعدمعمول کے مطابق تہجد کی نماز چار، آٹھ، بارہ رکعات حسبِ توفیق ادا کرے۔
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول دو رکعت تحیۃ الوضوء، آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر پڑھنے کا تھا مگر یہ ایسی خاص تحدید نہ تھی کہ کم وبیش نہ ہو بلکہ مختلف اوقات میں مختلف رکعتیں بھی منقول ہیں۔
مثلا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہےکہ آپ تیرہ رکعت پڑھتے تھے۔ حضرت ام المؤمنین(میری امی ) عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتیں پڑھنے کا تھا، آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔ حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی ایک روایت ہےکہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعت پڑھتے تھے۔ ایک روایت کی تصریح کے مطابق چھ رکعت تہجد اور تین رکعت پڑھتے تھے یعنی چھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔ حضرت ام المؤمنین میری امی عائشہ رضی اللہ عنہاہی کی ایک روایت میں ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد ادا نہ فرماسکتے تو دن کو بارہ رکعتیں ادا فرماتے تھے۔ نیز مختلف روایات سے دو رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، چار رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، چھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر، دس رکعت تہجد اور تین رکعت وتر بھی ثابت ہیں۔
زبدۃ:
وتروں کی ادائیگی میں احناف کا مذہب یہ ہے کہ تین وتر ایک سلام کے ساتھ ادا کرنے چاہییں جبکہ حضرت امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک تین وتر دو سلاموں کے ساتھ ادا کرنے چاہییں۔ امام مالک علیہ الرحمۃ دونوں طریقوں سے اجازت دیتے ہیں۔ اس لیے ہم تو احناف کے پابند ہیں۔ البتہ اس مسئلے میں جھگڑنا نہیں چاہیے کیونکہ دوسرا مسلک بھی ائمہ کا ہےاور بعض روایات میں وتروں کے بعد بھی دورکعت بیٹھ کر ادا فرمانے کا ذکر آیا ہے۔ اس حساب سے تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سترہ رکعات ثابت ہو گئیں؛ دو رکعت تحیۃ الوضوء، آٹھ رکعت تہجد، تین رکعت وتر، دو رکعت بیٹھ کر نفل اور دو رکعت فجر کی سنتیں۔
حدیث:
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے ”اَللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوْتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ“ فرمایا۔ پھر آپ نے سورت بقرۃ تلاوت فرمائی۔ پھر رکوع قیام کے برابر فرمایا۔ اس میں ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ“ ہی کہتے رہے۔ پھر آپ نے سر اٹھایااور قیام بھی رکوع کے برابر فرمایااور اس میں ”لِرَبِّیَ الْحَمْدُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ“ ہی پڑھتے رہے۔پھر آپ نے رکوع کے برابر سجدہ فرمایا۔ اس میں آپ ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی“ پڑھتے رہے۔ پھر آپ نے سر مبارک اٹھایا اور دوسجدوں کے درمیان بھی سجدہ کی مقدار کے برابر بیٹھے رہے۔ اس میں ”رَبِّ اغْفِرْلِیْ رَبِّ اغْفِرْلِیْ“ پڑھتے رہے۔ اسی طرح آپ نے ان میں سورۃ بقرہ ، آل عمران، سورہ نساء اور سورہ مائدہ یا سورہ انعام کی تلاوت فرمائی۔
حدیث: حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہےکہ ایک رات حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار تلاوت فرماتے رہے۔اس روایت میں اس آیت کا ذکر نہیں مگر دوسری روایت میں ہےکہ وہ آیت سورہ المائدۃ کی یہ ہے:
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ․
(سورۃ المائدۃ: 118)
اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو بے شک تو غالب ہے،حکمت والا ہے۔
حدیث: حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے قریب اکثر نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
زبدۃ:
عام امتیوں کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا آدھا ثواب ملتاہےلیکن حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل پڑھنے کا بھی اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا کہ آپ کو کھڑے ہو کر نفل پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نوافل پڑھنا ضعف اور کمزوری کی وجہ سے ہوتا تھا یا امت کو یہ تعلیم دینے کے لیے کہ بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے،نماز کے لیے طاقت سے زیادہ مشقت برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر بڑھاپے یا کسی عارضہ کی وجہ سے آدمی زیادہ دیر کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر بھی نماز پڑھ سکتا ہے مگر نفل نماز بغیر کسی عذر کے بھی بیٹھ کر پڑھ سکتا ہےبلکہ بیٹھا ہوا درمیان میں کھڑا ہوسکتا ہےاور کھڑا ہوا درمیان میں بیٹھ کر نفل نماز مکمل کرسکتا ہے۔
حدیث: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت ظہر سے پہلے، دو رکعت ظہر کے بعد، دو مغرب کے بعد اپنے گھر میں اور دو رکعت عشاء کے بعد بھی اپنے گھر میں پڑھی ہیں۔
زبدۃ:
دن رات میں فرائض کے علاوہ بارہ رکعت سنت مؤکدہ ہیں؛ دو رکعت نماز فجر سے پہلے، چار رکعت ظہر سے پہلے اور دورکعت ظہر کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جو شخص دن رات میں بارہ رکعات پابندی کے ساتھ ادا کرے حق تعالیٰ شانہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتے ہیں۔
شمائل ترمذی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں اگرچہ ظہر کی نماز سے پہلے دورکعت کا ذکر ہےمگر حضرت ام المؤمنین (میری امی) عائشہ اور (میری امی) ام حبیبہ رضی اللہ عنہما کی روایات اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت میں ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت کی تصریح ہے۔ فجر کی سنتوں کی بہت تاکید آئی ہےحتیٰ کہ ایک روایت میں ہے کہ اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں پھر بھی فجر کی سنتیں ہرگز نہ چھوڑو۔ فجر کی دو سنتیں حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت مختصر پڑھا کرتے تھے اور ان میں اکثر سورۃ الکافرون اور سورۃ اخلاص یعنی قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھا کرتے تھے۔