حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا سینگیا ں لگوانا

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
بَابُ مَا جَاءَ فِي حِجَامَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگیا ں لگوانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ : سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، فَقَالَ : احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ ، وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ : إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ، أَوْ إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الْحِجَامَةَ.
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ سے سینگیاں لگوائیں اور اس کو دو صاع کھانا دینے کا حکم فرمایا۔ آپ نے ان کے مالکوں سے ان کی سفارش کی تو انہوں نے اس کے ذمہ جو محصول تھا اس میں کمی کرا دی۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایاکہ سینگی لگوانا بہترین دوا ہے۔
زبدۃ:
1: اس حدیث سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں:
(۱): ایک یہ کہ سینگی لگوانا جائز ہے۔
(۲): دوسرا یہ کہ سینگی میں خون چوسنا پڑتا ہے اور خون چوستے وقت حلق سے نیچے اتر جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں احتیاط کی بہت ضرورت ہے۔ احادیث میں بھی اسی بناء پراس پیشہ کی مذمت آئی ہےمگر اس کے باوجود اس پیشہ پر اجرت اور مزدوری لینا جائز ہے جیسا کہ اسی حدیث میں وارد ہے کہ آپ نے ابوطیبہ کو دو صاع اجرت عنایت فرمائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سینگی لگوائی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کی مزدوری ادا کروں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر سینگی پر اجرت حرام ہوتی تو حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ادا فرماتے؟
2: ابوطیبہ عبد ماذون تھے۔ عبد ماذون اس غلام کو کہتے ہیں کہ جس کا مالک یہ کہہ دے کہ روزانہ تم کما کر اتنی رقم ہمیں دیا کرو،باقی زیادہ سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ان کے مالک نے ان کا روزانہ کا محصول تین صاع مقرر کیا ہوا تھا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش فرماکران کا محصول تین صاع یومیہ کے بجائے دو صاع کروا دیا۔ ایک صاع تقریباً چار سیر کا ہوتا ہے۔
حدیث: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب کی رگوں اور دو شانوں کے درمیان میں سینگی لگواتے تھے۔ آپ عموماً چاند کی سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی کا استعمال فرماتے تھے۔
زبدۃ :
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت کثرت سے سینگی استعمال فرماتے تھے۔ جس کی وجہ یہ ہےکہ خیبر کے یہودیوں نےحضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر کھلادیا تھا۔آپ نے اگرچہ زہر والا گوشت سارا نہیں کھایا تھامگر جو تھوڑی مقدار حلق میں اتر گئی تھی وہ خاص طو ر پر گرمی میں اپنا اثر دکھاتی تھی اور بدن کے جس حصہ میں زہر کے مادہ کا زور ہوتا تھاآپ اسی طرف سینگی لگواتے تھے۔
زبدۃ:
جب انسانی جسم کے کسی حصہ میں فاسد خون جمع ہوکر درد یا ورم کا سبب بن کر تکلیف دیتا ہے تو ایسے خون کو جسم کے تکلیف زدہ حصےسے یا تو بالکل باہر نکال دیا جاتا ہے یا پھر اسے جسم کے دوسرے حصے کی طرف منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ علاج کوسینگی لگوانا، حجامہ، پچھنےلگوانایا فصد کھلوانا بھی کہتے ہیں۔
”سینگی“ ایک سینگ نما آلہ ہوتاہے جو کہ اندر سے خالی ہوتا ہےاور اسی کے ذریعہ سےجسم کے مطلوبہ حصہ سےخون کھینچ لیا جاتاہے۔گرم ملکوں میں خون کا دباؤ جسم کے بیرونی حصہ کی طرف ہوتا ہے۔لہذا وہاں حجام استرے سے پچھنے (یعنی ٹک) لگا کر خون کو باہر نکال دیتا ہے، پھر اس جگہ پر سینگی لگا کر خون کو چوستا ہے جس سے گندا خون باہر نکل جاتا ہےاور مریض کو افاقہ ہو جاتا ہے۔
دوسراطریقہ یہ ہے کہ خاص جگہ پر پچھنے نہیں لگائے جاتے بلکہ خاص سینگی لگا کرخون کو کھینچا جاتا ہےجس کے نتیجہ میں فاسد خون درد یاورم والی جگہ سے دوسری طرف منتقل ہوجاتا ہے اور مریض کو افاقہ ہو جاتا ہے۔
اب اس فن میں بھی بہت جدت آچکی ہے۔ مختلف مشینیں ایجاد ہوچکی ہیں اور دنیا بھر میں یہ طریقہ علاج تیزی کے ساتھ مقبول ہورہا ہے۔