حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اسماء مبارک

User Rating: 0 / 5

Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 
بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب : حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اسماء مبارک کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمِي ، وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ.
ترجمہ: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بہت سے نام ہیں جن میں سے ایک محمد اور ایک احمد ہے اور میں ماحی ہوں، میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹاتا ہےاور میں حاشر ہوں کہ لوگ میرے سامنے قیامت کے دن جمع کیے جائیں گےاور میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
حدیث: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات مدینہ منورہ کے ایک بازار میں ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں محمد ہوں، احمد ہوں، نبی الرحمۃ، نبی التوبہ، مُقَفّٰی اور نبی الملاحم ہوں۔
زبدۃ:
(1): ”نبی الرحمۃ“کا معنی یہ ہےکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا۔
(2) ”نبی التوبۃ“ یعنی حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے جتنی مخلوق کی توبہ قبول کی ہےاتنی کسی اور نبی کی امت کی قبول نہیں کی۔
(3): ”اَلْمُقَفّٰی“ سب سے پیچھے آنے والا۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بھی سب نبیوں کے بعد تشریف لائے تھے۔
(4): ” نَبِیُّ الْمَلَاحِمِ“ سخت جنگوں والانبی۔ حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود تقریبا ستائیس جنگوں میں شرکت فرمائی ہے۔ جس قدر جہاد آپ کی امت نے کیاہےاور کسی امت نے نہیں کیا۔
زبدۃ:
حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارک بہت زیادہ ہیں۔ ہر نام کسی نہ کسی صفت کوظاہر کرتا ہے۔ کسی ایک روایت میں تمام ناموں کا یکجا تذکرہ بھی نہیں ہے۔ علامہ سخاوی علیہ الرحمۃ نے آپ کے چار سو، علامہ سیوطی علیہ الرحمۃ نے پانچ سو اور امام ابوبکر ابن العربی نے آپ کے ایک ہزار نام مبارک ذکر فرمائے ہیں۔
(جمع الوسائل مع الہامش: ج2 ص226)